اسلام اور پاکستان, کیا یہ دونوں جدا ہیں؟ — بلال شوکت آزاد

کچھ دن قبل میری ایک مشاورتی واٹس ایپ گروپ میں کسی ایکٹیوسٹ بھائی سے یونہی گپ شپ ہورہی تھی۔دوران گپ شپ ہماری گفتگو کا رخ تحریکی عوامل اور مقاصد کی طرف چلا گیا, مطلب محترم بھائی کا کہنا تھا کہ “سب سے پہلے اسلام” (حالانکہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کو کہنے اور مسلط کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن چلیں برسبیل تذکرہ اس کو بشمول میرے ہم یہی کہتے ہیں۔)۔

جبکہ میں بھی اسی کا حامی ہوں پر میں اس پر حمایت کا نقطہ نظر کچھ اور رکھتا ہوں اور وہ بھی قطعی “سب سے پہلے پاکستان” ہرگز نہیں بلکہ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ سب “سے پہلے اسلام” اور “سب سے پہلے پاکستان” دو الگ نظریات اور مقاصد ہیں ہی نہیں تو ہم انہیں جدا کرکے کسی بھی طرح کی مسلکیت اور عصبیت کو فروغ کیوں دیں؟

وہ کیسے؟

جی وہ ایسے کہ ہم بطور مسلمان اور پاکستان کنوئیں کے مینڈک بن کر دو ہی سمتوں میں دیکھتے اور سوچتے ہیں جبکہ طاغوت ہمارے مقابلے  میں چاروں سمتوں اور ہر جہت پر سوچتا اور دیکھتا ہے۔اگر ہم راسخ العقیدہ اور کٹر مسلمان ہیں تو ہمارا سیاسی نظریہ اور مقصد ہوگا “سب سے پہلے اسلام” (یہ الگ بات ہے کہ ہر مسلک کا اپنا اسلامی نظریہ ہے تو کونسا اسلام؟)۔

اور اگر ہم پرجوش اور محب وطن پاکستانی مسلمان ہیں تو ہمارا سیاسی نظریہ اور مقصد ہوگا “سب سے پہلے پاکستان” (یہ الگ بات ہے کہ ہر صوبے کا اپنا سیاسی نظریہ ہے تو کونسا پاکستان؟)۔

خیر یہ دونوں جملہ نما سیاسی نظریے اور مقاصد میری نظر میں ناکام اور فقط جذباتیت سے پُر نعرے ہیں اور ان کی حقیقت کوئی نہیں۔تو پھر کیا نقطہ نظر اور سیاسی نظریہ ہو کہ ہمارے یہ دونوں مقاصد بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں اور طاغوت کو اسی کی زبان میں جواب دیا جاسکے؟۔۔اس کا سادہ سا کلیہ ہے کہ ہم بطور مسلمان اور پاکستانی اسی  نظریہ اور مقصد کیوں نہ فروغ دیں جو ہمارا دشمن طاغوت دیکھتا اور سمجھتا ہے ہمارے متعلق؟

طاغوت اسلام کو ہی حتمی طور پر پاکستان سمجھتا اور مانتا ہے اور پاکستان کو ہی حتمی طور پر اسلام سمجھتا اور مانتا ہے۔مطلب یہ سکےکہ دو رخ ضرور ہیں پر ہیں ایک ہی سکہ۔تصویر کا منظر پاکستان ہے اور پس منظر اسلام۔جب یہ حقیقت دشمن سمجھ گیا ہے تو ہمیں کیا تردد ہے اس کو سمجھ کر اپنانے میں؟۔۔پاکستان کی حفاظت اور طاقت ہی اسلام کی حفاظت اور طاقت ہے, “سب سے پہلے اسلام” کا مطلب بھی “سب سے پہلے پاکستان ہے” اور “سب سے پہلے پاکستان” کا مطلب بھی “سب سے پہلے اسلام” ہے۔

غزوہ ہند کی پیش گوئیاں, خراسان کی فوج کا خروج بجانب شام, عرب کی حفاظت پر معمور عجمی طاقتور فوج کے متعلق نشانیاں اور پیشن گوئیاں اور مشرق و ہند کی جانب سے ٹھنڈی ہواؤں کا تذکرہ اور بہت سی ایسی روایات جن کا تعلق اخیر ازمنہ میں اسلام اور امت مسلمہ سے ہے یہ سمجھانے کو کافی ہے کہ اسلام اور پاکستان (ہند و خراسان کا مرکز) تذکرہ اسلام میں قطعی الگ نہیں اور یہ آج سے نہیں بلکہ چودہ سو سال قبل سے منسلک اور مربوط ہیں بطور “سب سے پہلے”۔

تو ان باتوں کی روشنی میں کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اسلام اور پاکستان کو دو الگ نظریات کی صورت بیان کرنے سے احتراز برتیں اور دشمن کی سوچ کو سمجھ کر اتنے بڑے تفرقے سے بچیں کہ اسلام اور پاکستان دو الگ باتیں تو ہرگز  نہیں ہیں۔ورنہ قیام پاکستان کا بنیادی نظریہ دوقومی نظریہ نہ ہوتا, اقبال کا خواب الگ اسلامی ریاست نہ ہوتا اور جناح کی محنت و کوشش طاقتور اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ ہوتا بلکہ مذکورہ رہبر و رہنما وطنیت کو بت اور باطل سمجھ کر اور قرار دیکر متحدہ ہندوستان کی حمایت جاری رکھتے اور آج یہ ہوتا کہ کہیں گائے رکھشا کے نام پر کٹتے مسلمان ہوتے, کہیں مسلم شہروں کے نام بدلتا دیکھتے, کہیں چلتی ٹرینوں میں مسلم خواتین کی عصمت دری دیکھتے اور کہیں کشمیر کی طرح خون کی بہتی ندیاں دیکھتے۔

قدرت مطلب اللہ نے 70 سال قبل پاکستان کو اسلامیان ہند کی محنت و مشقت اور قربانی کے نتیجے میں وجود بخش کر یہ باور کروادیا کہ یہ وطن, یہ ریاست اور یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے تو مطلب یہ اسلام کی بقاء کا ضامن اور محافظ ہے۔جب اللہ نے ہی اسلام اور پاکستان کو لازم و ملزوم بنادیا تو پیچھے کیا رہ گیا ہے کہ ہم ان کو جدا تشخص دیکر خود بھی گمراہ ہوں اور دیگر کی گمراہی کا سبب بھی بنیں؟

خوارج اور کلاب النار کا کیا نعرہ تھا اور ہے؟یہی کہ “سب سے پہلے اسلام۔”جبکہ ملحدین اور لبرلز کا کیا نعرہ ہے؟۔۔۔یہی کہ “سب سے پہلے پاکستان۔”تو پھر بہتر اور مفید کون ہوئے؟۔وہ جو اسلام اور پاکستان دونوں کو متوازی چلانے والے نظریہ یعنی “نظریہ پاکستان” کے حامی اور مبلغ ہیں, جن کا ماننا ہے کہ “نظریہ پاکستان” ہی بقائے اسلام و پاکستان ہے۔

جی ہاں “دو قومی نظریہ” قیام پاکستان کے بعد “نظریہ پاکستان” کہلایا اور لکھا گیا کیونکہ “دوقومی نظریہ” کی ضرورت قیام پاکستان سے قبل “ہندو” اور “مسلم” کی تفریق بیان کرنے کے لیئے تھی جبکہ “نظریہ پاکستان” کی ضروت قیام پاکستان سے ابتک اور ابد تک “طاغوت” اور “اسلام” کی تفریق کرنے کے لیئے ہے اور ہوگی, ان شاء ﷲ۔

خدارا اسلام اور پاکستان کو جدا کرکے طاغوت کو دعوت عام مت دیں ان دونوں کے بخیے ادھیڑنے کی۔”نظریہ پاکستان” ہی بقائے اسلام و پاکستان ہے, یہ بات سمجھ لیں کیونکہ ہمارا دشمن یہ سمجھ چکا ہے اور وہ اس کی بنیاد پر ہر چال چلتا ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *