بلوچستان کے بچے اور حصولِ علم کا سوال۔۔۔۔ شبیر رخشانی

ہم روز مشاہداتی عمل سے گزرتے ہیں۔ ہمیں آئے روز نئی کہانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسی کہانیاں جو گمشدہ نہیں ہیں ہمارے سامنے ہیں ہم منہ پھیر لیتے ہیں ان کہانیوں کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ نہیں رکھ پاتے یا ہم ان کہانیوں کا بنیادی مقصد ہی سمجھ نہیں پاتے۔ یہ کہانیاں گمشدہ نہیں ہوتیں۔ یہ ہر وقت زندہ رہتی ہیں۔ یہ کہانیاں اشکال مختلف انداز میں بدل کر سامنے آتی ہیں اور اپنا ردعمل پیش کرتی ہیں۔ یہ وہ ردعمل ہوتا ہے جس کا خمیازہ اُس سوسائٹی کو بھگتنا پڑتا ہے جو بیگانگیت کا شکار ہے۔ آخر وہ کونسی چیزیں ہیں جو ہمیں بیگانگی کی طرف لے جا رہی ہیں۔

میری آج کی کہانی کا بنیادی مقصد و  محور وہ بچے ہیں جو چاہت کے باوجود علم کی تشنگی دور نہیں کرپاتے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی تعلیم حاصل کریں اچھے اچھے اسکولوں میں جائیں۔ ان کے خواب ہوتے ہیں ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے نہ جانے وہ کون کون سے  خواب نہیں دیکھتے لیکن اکثر خواب ٹوٹا کرتے ہیں۔ میری نظروں کے سامنے ایسی کئی کہانیاں ہیں جن کے سپنے پورے ہوئے انہوں نے اپنے خوابوں کو تکمیل کے مراحل سے گزارا۔ مگر بہت سے ایسے ہیں جن کے خواب اب بھی مقید ہیں علم کی جستجو انہیں نہ جانے کہاں کہاں نہیں لے جا رہی ہے۔ کیا تکمیل پائیں گے وہ خواب؟ یہ وہ سوال ہے کئی حساس لوگوں پہ حملہ آور ہوتا  ہے اور سوئی کی  طرح ان کے جسم میں چبھتا  رہتا  ہے۔۔

ایسے بے شمار بچے اور بچیاں ہیں جن کی آنکھوں میں حسرت اور زبان پہ سوال ہیں یہی حسرتیں اور سوال لیے نہ جانے وہ کہاں کہاں نہیں بھٹکتے  پھرتے۔ حصولِ علم کے پیاسے ہیں۔ لیکن بلوچستان کے ادارے ان کی تشنگی دور نہیں کرپاتے یا وہ جس مقام تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ذرائع معدوم ہیں۔ ایک طبقاتی نظامِ تعلیم میں یہ اپنے ان خوابوں کو کامیابی کے زینے پہ چڑھانے سے قاصر ہیں۔  میرے پاس اگر اختیار ہے تو فقط ایک کاغذ کو سیاہ کرنے کا اختیار۔ مگر میرے حرف شاید ہی ان کے دل کی تشفی کر پائیں۔

ہمارے ہاں نظامِ تعلیم مکمل طور پر کارپوریٹ بن چکا ہے۔ سرکاری اداروں میں تعلیم کا نظام معیاری یا یکساں  نہیں رہا۔معاشی قلت لوگوں کو پرائیوٹ اداروں تک رسائی نہیں دلا سکتی ۔ موجودہ تعلیمی نظام نے طبقاتی نظام کو اس قدر مضبوط کیا ہے کہ ایک غریب کا بچہ چاہ کر بھی اس مقام کو نہیں پہنچ پاتا جو ایک امیر گھرانے کا بچہ پہنچ پاتا ہے۔ غیرمنصفانہ معاشی نظام نے عام آدمی کا وہ استحصال کر دیا ہے۔ جس کا گمان شاید کم محسوس کیا جا رہا ہے۔
ملکی سطح پر اسکالرشپ کا نظام جس طریقے سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس اسکالرشپ سے آخر کتنے غریب گھرانے استفادہ حاصل کریں گے یا وہ بچے جنہیں علم کی چاہ ہے اس تک پہنچ پائیں گے۔ اگر اسکالرشپ کا نظام موجود بھی ہے کیا وہ منصفانہ بنیادوں پہ دی جا رہی ہے کہ نہیں۔اس کا چیک اینڈ بیلنس موجود ہے کہ نہیں۔

ایک بچی ہے جس کا  تعلق  جعفرآباد سے ہے ۔ غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے لیے ٹیسٹ دے چکی ہیں۔ ایک دوست کے توسط سے معلوم ہوا کہ وہ بچی اب اس خوف کا شکار ہے کہ اگر ان کا داخلہ ہوا بھی تو وہ یونیورسٹی کی فیس کیسے ادا کریں گی۔ ان کا گھر بمشکل ان کے والد کی کمائی سے چلتا ہے۔ جب قصہ میرے سامنے بیان ہوا تو میں نے یونیورسٹی کے ایک عہدیدار سے مسئلے سے متعلق بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پاس فیس کی  مد میں اس طرح کا میکنزم موجود ہی نہیں کہ وہ لڑکی کو اسکالرشپ دے یا اس کی فیس معاف کرے۔۔

اچھا سنیں گزشتہ دنوں کی ہی خبر ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کا طالبعلم دو سمسٹر کی فیس جمع نہ کرانے کی وجہ سے یونیورسٹی سے نکالے گئے۔ جس کے نتیجے میں انہوں نے خودکشی کی۔ خودکشی کے محرکات واضح ہیں۔ خودکشی کا مقدمہ کس پہ درج کیا جائے۔ ادارے کے سربراہ کے خلاف، غریب والدین کے خلاف یا ریاست کے خلاف جس کے متعارف کردہ نظام کا نوجوان شکار بنا۔
میرے ایک دوست سرکاری ملازم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی تنخواہ اتنی ہے کہ بمشکل ان کے گھر والوں کا گزر بسر ہوتا ہے۔ وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانی ہے۔ اچھی تعلیم کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اگر وہ کرپشن سے کام نہ لے تو کیا کرے۔ استحصالی نظام میں تو یہی ہوتا ہے یہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

تمام تر صورت حال کا جب تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے ریاستی لاتعلقی ہی نظر آتی ہے۔ بھلے پرائیوٹ ادارے موجود ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں سرکاری ادارے موجود ہیں سرکاری اداروں کا ڈھانچہ موجود ہے۔ لیکن یہ سب ہوتے ہوئے وہاں تعلیم کا نظام کمزور کیوں ہے۔ اگر نظام موجود ہے تو ہر بچہ اسکول میں کیوں نہیں۔ جعفر آباد کی بچی کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ اسے تعلیمی اداروں تک رسائی اور اس کے اخراجات کا  ذمہ دار کون ہے؟
ساری زمہ داری ریاست پہ آتی ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے  کہ پورے ملک میں یکساں نظامِ تعلیم، ہر بچہ اسکول میں اور فری تعلیمی نظام ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ ان بچوں کی کیریر کونسلنگ ۔ اب بھلا یہ کام کون کرے ایک فرد یا ایک ادارے کا کام نہیں ریاست کا ہی کام ہے۔ ریاست ہی اپنا بنیادی کام کرے۔ باقی مسئلے مسائل خود حل ہوں گے۔۔
ہمارا کام تھا الفاظ جھاڑنا۔ باقی نظام کی ڈوری ریاست کے ہاتھ میں ہے یہ اس کی مرضی جس طرف اس    کو ہانکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *