• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خداسے زیادہ رابطے میں رہنے والا زیادہ مصائب سےدوچار ہوتا ہے؟۔۔۔سیدہ ماہم بتول

خداسے زیادہ رابطے میں رہنے والا زیادہ مصائب سےدوچار ہوتا ہے؟۔۔۔سیدہ ماہم بتول

شیطان، فرزندان آدم (؏) کا قسم خوردہ دشمن ہے کہ اس نے خدا کی عزت و جلال کی قسم کھائی ہے کہ فرزندان آدم (؏) کو ہر گز نہ چھوڑے گا، یہاں تک کہ انہیں گمراہ کردے گا، وہ صرف مخلص انسان پر تسلط کی طاقت نہیں رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ شیطان کی ریشہ دوانیوں سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔
قرآن حکیم میں اس کا ذکر اس طرح سے ہے:
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِيَنَّہُمْ اَجْمَعِيْنَ۝۸۲ۙ
ترجمہ: کہنے لگا (ابلیس): مجھے تیری عزت کی قسم! میں ان سب کو بہکا دوں گا۔
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِيْنَ۝۸۳
ترجمہ: ان میں سے سوائے تیرے خالص بندوں کے۔ (1)
مومن انسان بلاؤں سے دوچار ہوتے ہیں:
* جیسا کہ لغت شناسوں نے کہا ہے کہ: بلاء، امتحان و آزمائش کے معنی میں ہے, اس بنا پر امتحان ہمیشہ انسان کے مصیبت سے دوچار ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ (2)
* دنیا امتحان گاہ ہے اور انسانوں میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا امتحان نہ لیا جائے، منتہی یہ کہ امتحانات مختلف افراد کے بارے میں مختلف، یعنی شدید اور ضعیف ہوتے ہیں اور ظرفیتوں اور درجات کے مطابق امتحان لئے جاتے ہیں۔ ان طالب علموں کے مانند جو پرائمری، مڈل، ہائرسیکنڈری، کالج اور یونیورسٹی کے مراحل طے کرتے ہیں، فطری بات ہے کہ ہر ایک اپنے مرحلہ کا امتحان طے کرتا ہے، یعنی یونیورسٹی کا طالب علم پرائمری سکول کا امتحان نہیں دیتا ہے اور پرائمری سکول کا طالب علم یونیورسٹی کا امتحان نہیں دیتا ہے۔
قرآن حکیم:
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝۰ۭ
ترجمہ: اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے کون بہتر ہے۔ (3)
* امتحان کے مواقع میں سے ایک، مشکلات و مصیبتوں سے دوچار ہونا ہے اور یہ صرف مومنوں سے مخصوص نہیں ہے، اگر چہ شاید ان کے امتحانات سخت تر ہوں۔ لیکن اس کےیہ معنی نہیں ہیں کہ دوسرے لوگوں کا بلاؤں اور مصیبتوں سے امتحان نہیں لیا جائے گا، بلکہ ممکن ہے گناہگار انسان بھی بلاؤں سے دوچار ہو جائیں، یعنی بہت سے ایسے گناہ ہیں کہ ان کا مرتکب ہونے والا اسی دنیا میں سزا پائے گا۔
وَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:
خداوند اپنے کسی بندے کو دوست رکھتا ہے اسے سختیوں اور مصائب سے دوچار کرتا ہے اگر اس نے صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کیا اسے انتخاب کرتا ہے اور اگر خوشحال ہوا تو اسے اپنے لئے معین کرتا ہے۔ (4)
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (؏):
قَالَ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ ع ثَلَاثُ خِصَالٍ لَا يَمُوتُ صَاحِبُهُنَّ أَبَداً حَتَّى يَرَى وَبَالَهُنَّ الْبَغْيُ وَ قَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَة۔ (5)
* تقرب الہی، کمال کا ایک درجہ ہے، کہ ممکن ہے بندہ اس تک پہنچے، اس لحاظ سے ان کے امتحان کا مرتبہ گزشتہ مراحل کی بہ  نسبت سخت تر و اہم تر ہو۔ پس اگر کوئی کمال کے بلند تر درجات تک پہنچنا چاہتا ہو، تو اسے سخت تر امتحان کے لئے آمادہ رہنا چاہئیے ورنہ اسی پر اکتفا کرے جو اسے ملا ہے۔
نتیجتاً، جو شخص کمال کے بلند درجہ پر پہنچنا چاہتا ہے یا پہنچتا ہے، اسے سخت تر امتحان کے لئے آمادہ رہنا چاہئیے، نہ غذاب و شدید تر مصیبت کے لئے۔ پس خدا پر توکل اور اس سے مدد طلب کرکے ترقی اور کمال کی راہ پر گامزن ہو جائیے۔
مزید وضاحت:
شیطان کی ریشہ دوانیوں سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہئیے، کیونکہ اس نے جو قسم کھائی ہے، اس کے مطابق ہمیشہ انسانوں میں وسواس ڈالنے کی کوششوں میں ہوتا ہے اور قابل توجہ ہے کہ شیطان اس راہ سے داخل ہوتا ہے جہاں سے انسان کو غافل کرسکے اور بظاہر قابل توجیہ بہانوں سے مومن انسان کی عبادتوں کی راہ سے کمال تک پہچنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
📚حوالہ جات:
(1) سورہ ص، آیت نمبر 82 تا 83۔
(2) ابن منظور محمد بن مکرم، جلد14، صفحہ83۔
(3) سورہ الملک، آیت نمبر 2۔
(4) مستدرک الوسائل، جلد2، صفحہ427، حدیث نمبر 2368۔
(5) کلینی، کافی، جلد2، صفحہ347، دارالکتب الاسلامیہ، تہران، حدیث نمبر4۔

سیدہ ماہم بتول
سیدہ ماہم بتول
Blogger/Researcher/Writer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *