انتہا پسندی اور ردِ عمل کی نفسیات ۔قسط7

اس طالب علم کی گزشتہ گزارشات کے شائع ہونے کے بعد جہاں چند احباب کو یہ تسلی ہوئی کہ ان مضامین کا مقصد مذہبی اصولوں کو نشانہ بنانا نہیں ہے وہیں کچھ اور سوالات بھی اٹھائے گئے، سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اگر مذہب نرگسیت کا سبب نہیں ہے تو پھر مذہبی ذہن کی نرگسیت کہاں سے آتی ہے؟ اس سوال سے ایک اور سوال کا پھوٹنا لازمی ہے کہ پھر مذہب اور مذہبی ذہن میں کیا فرق ہے؟ یہ تفریق کب اور کیسے پیدا ھوتی ہے؟ اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

میں اس ضمن میں چند بنیادی باتیں اجمالاً عرض کرچکا ہوں ،دوبارہ اپنے موقف کا اعادہ اور وضاحت کرتا ہوں۔ مذہبی ذہن کی دو خصوصیات کو دوبارہ دیکھیں۔ ایک خو دراستی اور دوسرے جس بات کو درست جانیں اس کے اجتماعی نفاذ پر اصرار۔
مذہبی ذہن کی خود راستی کا تعلق اس یقین سے نہیں ہے، قرآن نے جس کو صاحبان ایمان کی جدوجہد کا محور قرار دیا ہے۔ وہ یقین خدا کی موجودگی، اس کے حاضروناظر ہونے، اس کے مجیب الدعوات ہونے اور اس کے قادر علی الاطلاق ہونے جیسے ایمانی، روحانی اور وجدانی احساس سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ شخصیت کی ساخت، پرداخت اور تجربات میں شامل ہوتا ہے اس لیے یہ یقین اپنی بنیادی نوعیت میں ایک ناقابل بیان موضوعی حقیقت ہوتا ہے۔ یہ رویوں اور اعمال میں ظہور پذیر تو ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے مگر ایک قابل ابلاغ بیان بننے سے محروم رہتا ہے۔ اس لیے یہ یقین اپنے اندر اجتماعی نفاذ کا مطالبہ نہیں رکھتا اور نہیں رکھ سکتا۔ جبکہ خود راستی اس کے برعکس نہ صرف یہ کہ ایک بیانیہ رکھتی ہے بلکہ سماج سے اس کو اپنانے کا ایک بھرپور مطالبہ بھی رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یقین احساس سے متعلق ہے جبکہ خود راستی کا تعلق اعمال ظاہری سے ہے۔ یقین کا تعلق خدا کو ماننے سے ہے اور خودراستی مخلوق سے خود کو منوانے پر زور دیتی ہے۔ یقین فنا پر جبکہ خودراستی انا پر توجہ دیتی ہے۔۔۔۔۔۔ انا پر اصرار پہلے خودراستی اور پھر اس نرگسیت تک لے جاتا ہے جس پر ہم ایک مفصل گفتگو کر چکے ہیں۔

اب میں اپنے انتہائی محدود دائرہ علم سے باہر نکل کر ایک بات کہنا چاہتا ہوں امید ہے کہ صاحبان علم معاف فرمائیں گے۔ اس طالب علم کی فہم کے مطابق مذہب نے کہیں بھی اپنے تصور خدا کو حتمی اور برتر سمجھنے کا مشورہ اور ہدایت نہیں دی۔ بلکہ تصور خدا کے ذاتی، موضوعی اور اکثر صورتوں میں دوسروں سے مختلف ہونے پر مفکرین نے اتفاق کیا ہے۔ یہ ایک ارتقا پذیر تصور ہے اور مسلسل تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ ذرا اس تصور خدا میں موجود ذاتی اور معاشرتی پہلوؤں پر توجہ فرمایں۔۔۔۔ نہ صرف یہ ایک سطح پر ہر فرد کی انفرادیت کا قائل ہے بلکہ دوسری سطح پر انسانیت کو (ایک خدا کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے) ایک رشتہ اور تعلق بھی عطا کرتا ہے۔ اس تعلق کے دیگر محاسن بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ایسے تصور خدا کی بنیاد پر استوار ہونے والا مذہب کس طرح ایک جامد، سخت گیر اور دوسروں کو محکوم بنانے اور رکھنے والا ایسا ادارہ بن جاتا ہے جہاں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے انسانیت سوز مظاہر نمودار ہوتے ہیں۔

ذرا ان تین تاریخی حقائق کو دیکھیے

۱۔ مسلم تاریخ میں خون خرابے، تشدد اور دہشت گردی کے بنیادی اسباب فقہی اور سیاسی اختلافات رہے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھیے۔۔ دوسروں کو قائل اور تبدیل کرنے کی جو خواہش اور کوشش فقہی اختلافات کی صورت میں سامنے آئی ہے وہ صوفیا اور متکلمین کے مجادلے میں نظر نہیں آتی۔
۲۔ سیاسی اختلافات نے فقہی اختلافات پیدا بھی کیے اور ان کو ہوا بھی دی۔
۳۔ حکمرانی، اصول حکمرانی، عالمی خلافت اور اقتدار کو مذہبی احکامات کی تکمیل کا ذریعہ قرار دینے جیسے نظریات بھی یا تو فقہا کے عطا کردہ ہیں یا پھر سیاسی زعما کی دین ہیں۔

تاریخی تسلسل میں موجودہ صورتحال کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اپنی فقہی آرا کے درست ہونے پر اصرار۔۔۔۔۔ سیاسی اختلافات میں فقہ کا استعمال اور اقتدار کے حصول کی ایسی کوشش جس کے ذریعے اپنی مرضی کا فقہی نظام نافذ کیا جا سکے۔۔۔ نے کس طرح مسلم معاشروں کو مختلف مراحل سے گزار کر موجودہ حالت کو پہنچایا ہے۔

امید ہےکہ اب تک کی گفتگو میں ہم نے یہ دیکھ لیا ہے کہ حکومت اور اقتدار حصول کا جنون کس مذہبی طبقے کے یہاں وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے یا ان کی مدد اورتائید کرتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو عالمی خلافت کے خواب دیکھتا ہے۔ خودراستی جیسی ذہنی پیچیدگی کا شکار ہے اور مستقبل کی کامیابی ماضی کے کرداروں اور حکمت عملی کی جانب لوٹنے میں دیکھتا ہے۔ اس صورت میں کامیابی کے امکانات جاننے کے لیے کسی دانش وری کی ضرورت نہیں ہے صرف آس پاس نظر دوڑانا کافی ہو گا۔

اب آیئے اس نرگسیت کی طرف جس کی ایک علامت خودراستی کا احساس ہے۔ اس نرگسیت کے اسباب کے ذریعے مسلم معاشروں کی اس ذہنی پیچیدگی کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں جو انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل پیدا کرتی ہے۔ نرگسیت کی وجوہات کے بارے میں ماہرین کی عمومی رائے یہ ہے کہ یہ بچے کی (ہر نوعیت کی مگر خاص طور پر جذباتی) ضروریات کی عدم تسکین یا زائد از ضرورت تسکین کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ نرگسیت کی صورت میں یا تو بچے کی ضروریات نظرانداز ہوئی ہوتی ہیں یا پھر بچے کو ضرورت سے زیادہ توجہ، محبت اور پیار ملا ہوتا ہے۔

ان وجوہات کو ذہن میں رکھیے اور مسلم معاشروں میں جمہوریت دشمنی کی روش پر غور فرمائیں۔ اولین معاشروں سے لے کر آج تک جن حکمرانوں نے مسلمانوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے ان کی اکثریت اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور ہے۔ انتہائی ہدایت یافتہ مگر نرم خو بزرگ اپنے عرصہ حکمرانی میں ناکام ثابت ہوئے۔ ملوکیت کا اسلوب تو ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔ ہزاروں افراد کے بہیمانہ قتل میں ملوث افراد خدمت قرآن کے عوض ہم نے بخش دیے۔ اپنی حالیہ تاریخ میں ایک ڈکٹیٹر اپنی مسکراہٹ اور ایک تندورچی کے ساتھ روا رکھے جانے والے حسن سلوک کی وجہ سے لائق تحسین ٹھہرتا ہے۔۔۔۔ آغاز ہی سے یہ طے کر لیا گیا تھا کہ اقتدار اور مکمل حکمرانی کے بغیر مذہبی تعلیمات پر مکمل اور ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اقتدار اور حکمرانی بھی مطلق، شخصی اور سخت گیر۔۔۔۔ جابر حکمرانوں کی ایک لمبی فہرست اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہے جن کی کامیابی ان کی سخت گیری میں دیکھی جاتی ہے۔ ان حکمرانوں نے اپنے درباروں میں فقہا کی موجودگی کو یقینی بنایا ان کے عطا کردہ فتاویٰ اور القابات سے حق حکمرانی کی اسناد حاصل کیں۔ جمہوریت دشمنی اور اقتدار کے حصول کا خبط اس پس منظر میں دیکھیے۔ ایسے میں زوال کی ذمہ داری مفلوک الحال فلسفے اور تارک الدنیا تصوف پر ڈالنا یقیناً معاملے کی غلط تشخیص ہے۔ ذمہ داری اس کی ہے جس کے پاس قوت ہے۔ قوت کا سر چشمہ یا بادشاہ ہے یا فقیہ۔۔۔۔۔ حالیہ زمانوں میں جب بادشاہتیں باقی نہیں رہیں تو حق حکمرانی ایک گروہ علما یا صالحین کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔۔۔۔ یعنی ٹو ان ون۔۔۔ مجھے امید ہے مثالیں مانگنے والے ارباب علم ٹی وی کے ٹاک شوز ضرور دیکھتے ہوں گے جہاں جمہوریت کے حسن و قبح پر گفتگو اب روز کا معمول ہے۔

نرگسیت زدہ ذہن نے اپنی کامیابی صرف سخت گیر حکمرانوں کے عہد میں دیکھی ہے۔ دنیا پر تصرف مسلمانوں نے صرف سخت گیر حکمرانوں کے دور میں حاصل کیا۔ ان حکمرانوں کی اکثریت نہ صرف یہ کہ جاہل تھی بلکہ اپنے وقت کے بہترین دماغوں کی قاتل تھی۔ علم مسلم تاریخ میں کبھی دنیا پر تصرف کا ذریعہ نہیں بنا۔ گو مسلمان معاشروں نے یہ دیکھ، سن اور سمجھ لیا ہے کہ اپنی موجودہ طاقت کے ذریعے وہ دنیا پر قبضہ تو درکنار اپنے تحفظ کو بھی یقینی نہیں بنا سکتے (گیارہ ستمبر 2001 سے لے کر آج تک کی جدوجہد اس پر گواہ ہے) مگر وہ سخت گیر حکمرانی اور لشکر کشی کی روش سے ہٹ کر علم کی جانب متوجہ ہونے میں تا حال ناکام ہیں۔ اس طالب علم کے نزدیک نرگسیت زدہ ذہن حقیقت اور حقائق کے ادراک کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
جاری ہے.
چھٹی قسط کا لنک۔
https://mukaalma.com/article/Dr.AkhtarAlu/4490

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *