کسان کیا ہے اور کون ہے؟۔۔۔۔۔۔اسد الرحمان

کسان کیا ہے اور کون ہے؟  اس سوال پہ سیاسی جماعتوں کے اخبارات سے لے کر اکیڈمک جرنلز تک بہت بحث کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ جڑے دیگر جوابات جیسے کسان طبقات، سیاست میں انکا کردار وغیرہ پہ بھی سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے اور اب جبکہ یہ قریب قریب واضح ہو چکا ہے کہ ایک لمبے عہد تک دنیا کی اکثریت رہنے والا کسان ایک اقلیت بن جائے تو ایسے میں کسان پہ بحث کا ویسے ہی کسی کو چارہ نہیں۔

کسان انگلش لفظ (Peasant) کا ترجمہ ہے اور جب بھی اس لفظ کا استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ان چھوٹے کسانوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے جو کہ زمینداروں سے یا گلاک سے جدا ہوتے ہیں۔ قرییا آج سے دس ہزار قبل ایک نئے انسانی عہد کا آغاز ہوا جسے (Neolithic) عہد کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں انسان نے پہلے بار مستقل آبادیوں کی صورت میں رہنا سیکھا اور ساتھ ہی زراعت اور مویشیوں کو پالنے کا آغاز ہوا، اور وہ انسانی کردار وجود میں آیا جسے ہم کسان کی صورت میں جانتے ہیں۔
یعنی ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ موجودہ انسانوں کی اکثریت ماضی بعید میں کسان ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ ابتدائی ریاست کے وقوع پزیر ہونے کے ساتھ ہی کسان اور ریاست میں آنکھ مچولی شروع ہوئی جو کہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں تک بڑی شدت اور توانائی سے موجود رہی۔ ریاست اور کسان کے درمیان اس لکن میٹی کا انحصار دو بہت بنیادی نکات پہ تھا اول ریاست لگان لینا چاہتی تھی اور کسان فظری طور پہ اس سے انکاری تھا دوئم لگان لینے کی خاطر ریاست کیلئے ضروری تھا کہ ایسا نظام بنایا جائے جو کہ کسانوں کی ملکیت اور اسکی پیداوار پہ لگان کی شرح کو مقرر کرنے میں مددگار ہو سکے، اس مقصد کیلئے ریاست کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے اہلکاروں کے ذریعے ہر ہر گاوں تک اپنی رسائی کو یقنیی بنائے۔

انسان نے بولنا تو بہت لمبے عرصے سے سیکھ لیا تھا لیکن لکھنے کا ہنر سومیروں کے عہد تک آتے آتے سیکھا اورکیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ اب تک جو لکھی ہوئے زبان کے سب سے پرانےکتبے ملے ہیں ان کی تحریر دراصل لین دین کا ایک بہی کھاتہ ہے۔ چناچہ ریاست اور لکھی ہوئی زبان کا ایک ساتھ پیدا ہونا بھی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔
ریاست جو کہ کسان معاشرے کو اسکی تمام تر جہتوں کے ساتھ ’جان لینا‘ چاہتی تھی اسکا یہ ٹارگٹ جدید عہد سے پہلے ادھورا رہا۔ کسانوں نے ریاست سے بغاوت کے بے شمار طریقے ایجاد کیے ۔ کسان بغاوتیں تو بے حد مشہور ہیں (پنجاب کی حد تک سکھ مذہب اور کسان بغاوتوں کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے) تاہم کچھ دوسرے طرز جیسے ریاست سے دور بھاگ کر پہاڑوں میں رہنا (جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ) بولی کو لکھنت میں لانے سے پرہیز کرنا (دنیا میں ہزاروں ایسی زبانیں ہیں جو کہ بولی جاتی ہیں لیکن پڑھئ یا لکھی نہیں جاتی جمیز سکاٹ کے نزدیک ان کو غیر ترقی یافتہ زبان کہنا غلط ہو گا بلکہ انکو اس حالت میں خود رکھا گیا ہے) وغیرہ بھی کسانوں کے استعمال میں رہے ہیں۔ ریاست کا مقصد کل پیداور کی کمییت جان کر اس پہ ٹیکس لگانا تھا لیکن اگر زمین، پیداوار وغیرہ کو ایک ایسی زبان میں بولا جائے جو کہ ایک غیر مقامی کو سمجھ نہ آ سکے تو اس پہ ٹیکس لگانا بھی ممکن نہیں ہو گا۔

تاہم جدید ریاست نے آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی اور تنظیم کے نئے علوم کی مدد سے ان تمام علاقوں کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ ان نئے علوم کا واحد مقصد پیداوار میں اضافہ تھا اور ہے ان علوم اور ان سے پھوٹنے والی پالیسی کا مقصد غیر شہری آبادیوں ان کے سماجی ڈھانچوں کو سمجھنا نہیں بلکہ کیسے انکو ملک کی ترقی میں استعمال کیا جائے رہا ہے۔ حتی کہ وہ تمام انقلابات جو کہ انسانی کو آزادی دینے کے نام پہ آئے اس نے بھی شہروں کے نام پہ دیہات کو اور شہری آبادی کیلئے کسانون کو ایک ’چارے‘ کے طور پہ ہی استعمال کیا۔
کسانوں کا کیمونل طرز پہ شراکت داری کا نظام جس کی روس میں تعریفیں کی جاتی تھیں کو انقالاب کے بعد ایک ماڈل کے طور پہ لینے کی بجائے مکمل طور پہ طاقت کے زور پہ ختم کیا گیا۔ اور اسکی بجائے نئی زرعی اصطلاحات کے نام سے نئی منصوبہ بندی کی گئی۔ انگریز نے ہندوستان میں ایسے ہی دیہات میں پہلے سروے کر کے نقشہ بنائے پھر انکو مالکان میں تقسیم کیا اور پھر اس پہ لگان لگایا۔ سویت ریاست نے کسانوں کی مزاحمت کو توڑنے کیلئے پورے گاوں ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیئے ۔ نئے پلان پہ فارمز آباد کئے گئے جن میں فیکٹری طرز پہ اوقاتِ کار کو لاگو کیا گیا اور تمام کسان ریاست کے تنخواہ دار ملازم ہو گئے۔
غرض آئیڈیالوجی کوئی بھی ہو ریاست نے اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے اور لگان میں اضافے کیلئے کسان آبادیوں کو طاقت اور علم کے ذریعے اپنے دام میں لانے کی پوری کوشش کی۔ آج بھی تمام نظریات کے حامل افراد ریاست کو اور اسکے حلقہ اثر کو بڑھانے کی بات کرتے ہیں جبکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ریاست ، تحریر اور ’علم‘ کا پیدا ہونا انسانوں کی اکثریت کے لیے ایک نہ ختم ہونے والے عذابوں کا پیش خیمہ ہی ثابت ہوا ہے۔

Avatar
اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *