یومِ آزادی اورہماری ذمہ داری

14اگست پاکستان کے مسلمانوں کے لیے خصوصی اوردنیابھرکے مسلمانوں کے لیے عمومی طورپر یادگاراورتاریخی اہمیت کاحامل ہے ۔ کیونکہ 14اگست 1947کوواحداسلامی ملک پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیادپردنیاکے نقشے پرمعرضِ وجودمیں آیا۔دنیامیں انسان کوسب سے زیادہ دوچیزیں عزیزہوتی ہیں ایک جان دوسری اولاد،یہ بات توکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وطن عزیز کے حصول کی خاطرہمارے اسلاف (بزرگوں) نے اپناتن من دھن سب کچھ نچھاورکیا۔قیامِ پاکستان کے وقت دی جانے والی قربانیوں کاہم بغورمطالعہ کریں تودل خون کے آنسوروتاہے ۔جب مسلمان، انگریزکے غلام تھے ۔کیونکہ غلامی غلامی ہوتی ہے چاہے ایک لمحہ کی بھی کیوں نہ ہو؟
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبریں
جوہوذوقِ یقین پیداتوکٹ جاتی ہیں زنجیریں!

اللہ پاک اوراس کے محبوبﷺ کا فضل وکرم ہوامسلمانوں کے آپس میں باہمی اتفاق واتحاداورقائداعظم محمد علی جناح ؒ کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم اسلامی سلطنت دنیاکے نقشے پروجودمیں آئی۔ہندوؤں نے بڑی بڑی مکاریاں کیں،مختلف حربوں سے پاکستان کی مخالفت کی، انگریزوں نے بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی بلکہ ہرقسم کی رکاوٹیں پیداکیں۔ بہرحال ان کی مخالفت اوررکاوٹیں ہمارا کچھ نہ بگا ڑ سکیں ۔
مُدّعی لاکھ بُراچاہے توکیاہوتاہے
وہی ہوتاہے جومنظورِخداہوتاہے!
مسلمان آپس میں متحدتھے ۔رحمت ِ خداوندی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندرکواپنا اوڑھنابچھونابنائے ہوئے تھے ۔حالانکہ پاکستان اورمسلمانوں کے حریف توبہت تھے لیکن ان کوپتانہیں تھاکہ مسلمانوں کی غیبی مددکی جارہی ہے۔نصرت ِ الٰہی سے پاکستان بن کررہناتھااوربن کرہی رہاان شا ءاللہ قیامت تک قائم ودائم رہے گا۔اس وقت مسلمانوں کامطالبہ حق اورصداقت پرمبنی تھا۔اِس لیے حق آگیااورباطل مٹ گیا۔دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے ۔ بندہ مومن کاکام ہے ارادہ کرنااس کوپھل لگانامیرے اورتمہارے خالق اللہ رب العالمین کے ذمہ کرم ہے۔شاعرنے کیاخوب کہا ہے۔۔
ہم توتقدیرکے بندے ہیں ہمیں کیامعلوم ،
کون سی بات میں کیامصلحت یزداں ہے!

اورپھراپنی شکایت سے بھی کیاہوتاہے
وہی ہوتاہے جومنظورِ خداہوتاہے!
وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لیے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعما ل ہواہے۔جن کی عظیم
قربانیوں کے بعد وطن عزیزپاکستان کاقیام عمل میں آیا ۔بالآخر14اگست 1947کوپاکستان بن گیا۔شاعر مشرق علامہ محمداقبالؒ حکیم الامت کاکرداراداکرتے ہوئے اپنی شاعری کے ذریعے امت مسلمہ کوایک کھویاہوامقام حاصل کرنے کاپیغام دیتے رہے ۔علامہ محمداقبالؒ نے 1930ءمیں اپنے خطبہ ٓالہ آبادمیں برصغیرکے مسلمانوں کے سامنے ایک الگ مملکت کاتصورپیش کیا۔انہوں نے کہاکہ مسلمان اور ہندومذہب درحقیقت دومختلف اورجداگانہ تمدن ہیں۔اوران کے لئے لازماًایک علیحدہ ملک اورریاست کی ضرورت ہے۔قیام ِپاکستان کی راہ میں حائل ہونیوالی باقی مشکلات پرقائدملت اسلامیہ قائداعظم محمدعلیؒ کی منفردقیادت نے اکیلے قابوپالیا۔کیونکہ مسلمان قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوچکے تھے۔اورہمہ تن آزادی کی جدوجہدمیں مصروف تھے ۔مسلمانوں کوبھی اپنے قائدپرپورااعتمادتھاکہ ہماراقائدکسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔اس وقت وطن عزیزکانام برطانیہ میں زیرتعلیم ایک مسلمان نوجوان چودھری رحمت علی نے”پاکستان “تجویزکیاتھا۔23مارچ1940ءکومسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں علیحدہ ریاست کی تجویزسامنے آئی۔یہ اجلاس اُس وقت لاہورکے ”منٹوپارک“ جسے آج کل” اقبال پارک“ کے نام سے پکارا جاتاہے میں منعقدہواتھا ۔جہاں پرمسلم لیگ کی جانب سے ایک قراردادمنظورکی گئی ۔جسے ”قراردادلاہور“کے نام سے موسوم کیاگیاتھا۔

اس قراردادمیں یہ اعلان کیاگیاتھاکہ مسلمان ہنداپنے مخصوص فلسفہ زندگی ،سماجی روایات اورمذہب کی بنیادپرہندوؤں سے الگ اورمستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس تاریخی ،مذہبی اورسماجی تشخص کوبرقراررکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست قائم کی جائے“۔1942ءتک اس قرارداد کو”قراردادلاہور“ہی کہاجاتارہا۔لیکن بعدمیں غیرمسلم اخبارات نے اسے ”قراردادپاکستان “کانام دے دیااوراس کی سخت مخالفت کرناشروع کردی۔یکم مارچ 1942کوقائدملت اسلامیہ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اسلامیہ کالج لاہورکے وسیع وعریض میدان میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ”ہم نے ”قراردادلاہور“ کو”قراردادپاکستان “کانام نہیں دیاتھالیکن اگرہمارے دشمن ہمیں چڑانے کے لیے اس نام کواستعمال کررہے ہیں۔توہم اس سے چڑیں گے نہیں بلکہ اب اسے ”قراردادِ لاہور“کی بجائے ”قراردادپاکستان “کے نام سے پکاریں گے۔ وطن عزیزپاکستان جس کی عظمت کوآج پوری دنیامانتی ہے ۔اس لیے ہمیں بھی وطن سے محبت کرنی چاہیے ۔اس کے بانی سے عقیدت اوراس کے مصوّرسے دل لگاؤرہناچاہیے ۔کیونکہ جس وطن عزیزکے قیام کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی بے شمارقربانیاں پیش کیں۔اتنی گراں قدرتخلیق کااندازہ تو وہی لگاسکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنے تن من دھن قربان کیاہو۔بس ہم نے تویہی سوچ رکھاہے جیسے باپ داداکی وراثت میں یہ وطن عزیزملاہو۔

حالانکہ پاکستان کے حصول کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔کتنی ماؤں کے سامنے ان کے بچے قتل کیے گئے۔جوساری عمراپنے والدین کی شفقت کے لیے ترستے رہے ہوں گے۔بے بسوں کے سامنے ان کے خاندانوں کے افراد کوکمروں میں بندکرکے نذرآتش کیاگیا۔ہزاروں عصمتیں لٹنے ،لاکھوں گھراجڑنے کے بعد پاکستان بنا۔زندہ آزادومختارقومیں ہمیشہ اپنے وطن سے کھل کرمحبت اوراپنی آزادی کاجشن بھی شایان شان طریقے سے مناتی ہیں۔کیونکہ آزادی کی خوشیاں مناناان خوشیوں میں شریک ہوناان کی رونقیں دوبالاکرنایقیناً زندہ اورمحب وطن قوموں کاشیوہ ہے۔خالق کائنات مالکِ ارض وسماوات قرآن مجیدمیں بھی ہمیں یہی حکم دیتاہے کہ جب بھی کسی نعمت کاتم پرحصول ہوتواس پرخوب خوشی کااظہارکرو۔یعنی کہ سجدہ شکربجالاؤ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اگرتم میراشکراداکروگے تو میں تمہیں اور نوازوں گااوراگرناشکری کروگے تومیراعذاب سخت ہے“۔

قیام پاکستان سے قبل پورے برصغیرپرانگریزوں کاقبضہ رہاہے ۔حالانکہ انگریزوں کے قبضہ سے پہلے مسلمانوں کی حکومت تھی ۔جب انگریزقابض ہوئے
تومسلمان غلامی کی زندگی بسرکرنے لگے ۔مسلمانوں پرطرح طرح کے ظلم وستم ہونے لگے۔بالآخرمسلمانوں نے متحدہوکرمسلسل دن رات محنت کی ۔جوشخص جتنی محنت کرتاہے اس کاپھل اللہ پاک اس کوضرورعطاکرتاہے۔مسلمانوں کی دن رات مسلسل محنت رنگ لے آئی اوراللہ پاک نے 14اگست1947کومسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات بخشی۔اورا س طرح مسلمان اپناالگ وطن ملک پاکستانِ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
دوستو!وطن عزیزپاکستان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی کسی بڑی نعمت اورفضل وکرم سے کم نہیں ۔کیونکہ اللہ رب العالمین نے 14اگست1947کے دن مسلمانوں کوانگریزوں کی غلامی سے نجات دلاکرانہیں ایساخطہ ارض ِ پاک عطاکیاجوہرقسم کے معدنی وسائل سے مالامال ہے۔قدرت نے پاکستان کوہرنعمت سے نوازاہے۔جس کی وادیاں اپنے اندررعنایاں لیے ہوئے ہیں۔دریاؤں ،ندیوں،نالوں کی عرفات ہے۔جس سے زمینوں کوسیراب کیاجارہاہے۔ہرے بھرے اوروسیع وعریض کھیت سونااُگل رہے ہیں۔اللہ کے فضل وکرم اوربرزگوں کی قربانیوں کے بعدہمیں ہرقسم کی آزادی اورہرقسم کاسامان عیش وعشرت کے لیے میسرہے ۔ملک کے اندربسنے والے ہنرمندہیں۔تجارتی،زرعی،صنعتی اوردیگرمیدانوں میں اپنالوہامنواکرترقی کررہے ہیں۔جب کہ جنگی میدان میں بھی اپنی مہارت منواچکے ہیں ۔منوارہے ہیں اورمنواتے رہیں گے ۔

ملک پاکستان ہماراوطن ہے۔وطن اس جگہ یامقام کوکہتے ہیں جہاں انسان اقامت پذیرہوتاہے۔جب انسان کسی جگہ پراپنی قیمتی زندگی کاکچھ اہم حصہ گزارلیتاہے ۔توانسان کواس جگہ سے فطری طورپرمحبت ہوجاتی ہے۔پھرجب کسی مجبوری کے تحت انسان اس سرزمین سے جداہوتاہے تواس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلدسے جلداپنے وطن یعنی پہلی منزل تک پہنچ سکوں ۔اس بات میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے کیونکہ اس کاثبوت حدیث نبویﷺسے ملتاہے ۔ اللہ کے محبوب دانائے غیوب ﷺنے ارشادفرمایا”حب الوطن من الایمان“”وطن کی محبت ایمان کاحصہ /علامت ہے
“۔جب آپ ﷺمکة المکرمہ سے ہجرت فرمانے لگے تواس وقت آپﷺکی کیفیت کایہ عالم تھا۔حضرت عبداللہ بن عدی بن حمرائؓی روایت کرتے ہیں
کہ میں نے رسول اللہﷺکومقام حزورہ پرکھڑے ہوکرفرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم!اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری زمین سے بہتراوراللہ تعالیٰ کوساری
زمین سے زیادہ محبوب ہے اگرمجھے تجھ سے نکل جانے پرمجبورنہ کیاجاتاتومیں ہرگزنہ جاتا(ترمذی ،ابن ماجہ) ۔

ابن شہاب ؒ فرماتے ہیں۔حضرت اصیل غفاریؓ
حضورﷺکی ازواج مطہرات پرحجاب فرض ہونے سے پہلے ام المومنین سیدتناعائشہ الصدیقہ ؓ کے پاس تشریف لائے توآپؓ نے حضرت اصیل غفاریؓ سے پوچھامکہ"مکرمہ کو کیساپایا"۔توآپ ؓنے بعض اوصاف بیان فرمائے ۔پھرآپ ﷺآئے اورآپ ﷺنے پوچھا"مکہ مکرمہ کوتم نے کیساپایاتوآپؓ نے کچھ اوصاف بیان فرمائے توآپﷺدل برداشتہ ہوئے اورفرمایا”اصیل ؓ بس کروہمیں مکہ شریف کے اوصاف بیان کرکے غمزدہ نہ کرو“۔جب آپ ﷺمکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اورمدینہ منورہ کواپنامسکن بنایااس وقت آپﷺمدینہ منورہ سے سفرکے لیے باہرنکلتے اورواپس پھرمدینہ منورہ آتے آپﷺکی کیفیت کایہ عالم ہوتا،سیدناانسؓ فرماتے ہیں جب آپﷺکسی سفرسے آتے تومدینہ شریف کی اونچی سڑکیں اورمنزلیں دیکھ کرخوش ہوتے اوراونٹنی تیزی سے اس کی طرف دوڑادیتے تھے اوراگرکوئی دوسراجانورہوتاتواس کوحرکت دیتے“۔بخاری شریف!سیدنابلال حبشی ؓ کے بارے میں آتاہے کہ مکہ مکرمہ کویادکرتے اورکہتے کہ "کوئی مجھے حوصلہ ہی دے دے کہ میں پھرمکہ مکرمہ جاؤں گااورفلاں فلاں کنوئیں سے پانی پیوں گا"۔حالانکہ سیدنابلال حبشیؓ کامکہ مکرمہ اصل وطن بھی نہ تھا۔لیکن پھربھی جتنی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری زندگی کے ان دنوں کوبھولناگوارانہ کیااورمکہ مکرمہ سے جدائی کاافسوس رہا۔

اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام مصرکے بادشاہ تھے لیکن ان کادل ہروقت اپنے وطن کنعان کی محبت میں دھڑکتارہتاتھا۔ وطن پرفداہرمسلمان ہے کہ حبِ وطن جزوِایمان ہے۔ ان احادیث مبارکہ سے پتاچلاکہ وطن سے محبت کرنادرست ہے ۔انسان کووطن سے محبت کرنی چاہیے۔وطن پرست نہیں ہوناچاہیے۔کیونکہ وطن سے محبت اورایمان کے درمیان تلازم نہیں ۔اسی طرح ایسابھی نہیں ہوسکتاکہ وطن سے محبت ہومگرایمان کاوجودبھی نہ ہو۔جیسے کفارومشرکین کوصرف وطن سے محبت ہوتی ہے،ان کے دل ایمان سے توخالی ہوتے ہیں۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ جہاں وطن کی محبت پائی جائے وہاں ایمان کاہوناضروری ہے۔انسان کواصل اورحقیقی محبت اللہ اوراس کے رسول ﷺسے ہونی بے حدضروری ہے۔کیونکہ جس کے دل میں اللہ اوراس کے محبوبﷺکی محبت نہیں اس کاکوئی وجودنہیں ،چاہے وہ جس سے محبت کرتارہے یاکوئی نیکی کرتارہے۔جس طرح ہرچیزکی کوئی نہ کوئی بنیادہوتی ہے ۔دین اسلام کی بنیاداللہ اوراس کے رسولﷺکی محبت ،اتباع،پیروی میں ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا”تم میں کوئی مومن نہیں ہوتاجب تک میں اسے اس کے والداوراولاداورسب لوگوں سے زیادہ پیاراورمحبوب نہ ہوں“۔بخاری شریف!یقیناً یہ بات توکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ذاتی اغراض ومقاصدکوپس پشت ڈال کراپنے وطن سے کھل کرمحبت کرتی ہیں۔ تواِ س لیے ہرمحب وطن پاکستانی کایہ حق بنتاہے کہ اپنے پیارے وطن پاکستان سے محبت کرے ۔

اوردوسرا ہمارایہ قومی اوراخلاقی فریضہ بنتاہے کہ ہم نئی نسل جوپاکستان کاقیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے اس وطن عزیزکی باگ دوڑسنبھالنی ہے اس لیے نئی نسل کوقیامِ پاکستان کے لیے دی جانیوالی قربانیوں سے روشناس کرانا،ان کی یادتازہ کرنا،ہماراملی فریضہ ہے۔کیونکہ یہ بات ہرکسی پرروزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ملک لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کاثمرہے اگرہمارے بزرگ یہ قربانیاں نہ دیتے توشایدآج بھی ہم آزادنہ ہوتے؟تحریک پاکستان میں صرف مردنہیں بلکہ خواتین کاکرداربھی ہماری تاریخ کاسنہری باب ہے۔ آج بھی ملکی درپیش مسائل اورچیلنجزسے نجات حاصل کرنے کاواحدذریعہ ہمیں قیامِ پاکستان اور1965ءکی جنگ آزادی والاجذبہ اپنے اندرپیداکرنا ہوگا۔کیونکہ وطن عزیزپاکستان اسلامی ریاست اورایٹمی طاقت ہونے کے باوجودبے شمارمسائل اورتنزلی کاشکارہے۔جن سے نجات کاواحدذریعہ مخلص قیادت کاچناؤاور نوجوانوں میں بالخصوص قیام ِپاکستان والاجذبہ بیدارکرناہوگا۔اعلیٰ حضرت مجدددینِ وملت الشاہ امام احمدرضاخان نے سب سے پہلے67سال کی عمرمیں دوقومی نظریہ پیش کیااوردنیاپرواضح کیاکہ ہندوالگ قوم ہے اور مسلمان الگ قوم ہے۔کیونکہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی الشاہ امام احمدرضاخان ؒکی نگاہ برصغیرپاک وہنداوردنیاکی سیاست پربھی تھی، آپؒ نے برصغیرمیں اسلامی اقدارکوبرسرنوزندہ کرنے اورمسلمانوں کوان کی گمشدہ میراث واپس دلانے کے لیے بہت جدوجہدکی ،آپؒ کے زندہ کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ
بھی ہے کہ آپؒ تحریک آزادی کے علمبرداراور دوقومی نظریہ کے نقیب تھے اس لیے آپؒ نے تحریک عدم تعاون اورترکِ موالات کے زمانے میں متحدہ قومیت کے نظریے کوباطل قراردیااور مسلمانانِ برصغیرکوہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں سے خبردارکیا۔

آپؒ نے کبھی کسی انگریزیاہندوکی عدالت میں حاضری نہیں دی تھی حتیٰ کہ آپ ڈاک کاٹکٹ ہمیشہ الٹا چسپاں کیاکرتے تھے۔اس ٹکٹ کوالٹاچسپاں کرنے کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس ڈاک کے ٹکٹ پرانگریزملکہ یابادشاہ کی تصویرہواکرتی تھی ۔ محسن ملت اسلامیہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان کے بارے میں فرماتے ہیں آج سے سوسال قبل جب انگریزہندوؤں کے ساتھ سازبازکرکے ہندکی معیشت پرقابض ہوئے تومسلمانوں کے تشخص اورتعلیمی نظام کوزبردست دھچکالگا،استعماری طاقتوں کے مذموم عزائم کی بدولت مذہبی قدریں زوال پذیرہونے لگی تھیں اس پرآشوب دورمیں اللہ رب العزت نے برصغیرکے مسلمانوں کوامام احمدرضاجیسی باصلاحیت اورمدبرانہ قیادت سے نوازاکہ جن کی تصانیف،تالیفات اورتبلیغی کاوشوں نے شکست خوردہ قوم میں ایک فکری انقلاب برپا کردیا۔امام صاحب کی شخصیت جذبہ عشق رسول ﷺ سے لبریزتھی۔آ پ کی ساری زندگی کومدنظررکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپؒ کی ذات نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفاشعاری کانشان مجسم تھی آپ کی ہمہ جہت شخصیت کاایک پہلوسائنس سے شناسائی بھی ہے سورج کوحرکت پذیراورمحوگردش ثابت کرنے کے ضمن میں آپؒ کے دلائل بڑی اہمیت کے حامل ہیں آج جبکہ دوسری طرف ہمارادشمن ہمیں تباہ وبرباد کرنے کے لیے گھات میں بیٹھاہے۔تومیں سمجھتاہوں کہ امام صاحب ؒ کی تعلیمات سے بہرورہوکرہم آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن سکتے ہیں ۔

مصورپاکستان ڈاکٹرعلامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ،ہندوستان کے دورآخرمیں ان جیساطبّاع اورذہین فقیہ پیدانہیں ہوا۔میں نے ان کے فتاوٰی کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے ۔ان کے فتاوٰ ی ان کی ذہانت ،فطانت،جودت طبع،کمال ثقاہت اورعلوم دینیہ میں تبحرعلمی کے شاہدعادل ہیں ۔ مولاناایک دفعہ جورائے قائم کرلیتے اس پرمضبوطی سے قائم رہتے تھے ۔یقیناً وہ اپنی رائے کااظہاربہت غوروفکرکے بعدکیاکرتے تھے ۔لہذا انہیں اپنے شرعی فیصلوں اورفتاوٰی میں کبھی کسی تبدیلی یارجوع کی ضرورت نہیں پڑی ۔(حوالہ ہفت روزافق کراچی 22تا28جنوری 1979)۔تحریک پاکستان میں علماءدیوبندمیں مولاناشبیراحمدعثمانی نے قیام ِپاکستان کے لیے انتھک جدوجہدکی۔لیکن دارالعلوم والوں نے جوان کے ساتھ حال کیاوہ ان کی کتاب مکالمة الصدرین میں موجودہے۔یہ ایک طویل فہرست ہے جس کی یہ مضمون گنجائش نہیں رکھتااوراس مضمون میں کسی کی دل آزاری کرنامناسب نہیں سمجھتا۔

اس لیے اپنے مضمون کااختتام اس بات پرکرتاہوں کہ ہمیں اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم جشن ِ آزادی ہر گلی کوچے میں شان وشوکت سے مناکرملک دشمن قوتوں کویہ پیغام دیں کہ ہم مردہ نہیں بلکہ زندہ قوم ہیں۔جوہمارے وطن کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے گااس کواینٹ کاجواب پتھرسے دیاجائے گا۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان کی بنیاد اینٹ گارے سے نہیں بلکہ اپنے خون اور ہڈیوں سے رکھی تھی اور یہ ملک خداداد پاکستان کلمہ لا الہ الااللہ کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا اور یہی نظریہ پاکستان ہے آج ہمارے دشمن اس نظریہ کو ملیا میٹ کرنے کے ایجنڈے پر ہیں۔ اس وقت تقاضا دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہے نا کہ اس کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے کا۔ جب تک ہم اپنے اختلافات بھلا کر باہم متحد ہوکر جدوجہد نہیں کرتے اس وقت تک ہمارے دشمن ہم پر مسلط بھی رہیں گے اور ہماری بنیادیں بھی کھوکھلی کرتے رہیں گے۔آج کے دن خصوصاً وطنِ عزیزکی خاطراپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کرنیوالوں کی یادتازہ کرکے ان کوخراجِ تحسین اوربلندی درجات کے لیے دعاکریں ۔اللہ پاک وطن عزیزپاکستان کودن دگنی رات چوگنی ترقیاں عطاکرے۔

Avatar
حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *