• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بنی گالہ تجاوزات کیس: لیز پر پورا نہ اترنے والی کمپنوں کی لیزمنسوخ کرنے کا حکم

بنی گالہ تجاوزات کیس: لیز پر پورا نہ اترنے والی کمپنوں کی لیزمنسوخ کرنے کا حکم

SHOPPING

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں جو میں دے رہا ہوں، بابراعوان آپ کویہ وزیراعظم صاحب کو بتانا ہے، بنی گالہ میں سب سےپہلاگھرعمران خان صاحب کا ریگولائز ہوگا۔ اگر ان کا گھر ریگولائز ہوا تو جرمانہ دینا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا بنی گالہ میں تعمیرات ٹاؤن پلاننگ کے بغیر ہوئیں، اب ان تمام تعمیرات کوگرادینا درست نہیں ہوگا۔دوران سماعت وکیل عائشہ حامد بھی عدالت میں پیش ہوئیں، انکا کہنا تھا کہ میں مقامی لوگوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہوں۔عائشہ ھامد نے عدالت کو بتایا کہ زون تھری میں ہونے والی تمام تعمیرات غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ بھی زون تھری میں ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کیا چاہتی ہیں کہ ہم سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس کوگرادیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بنی گالا کے گرد 12 کلومیٹر دیوار تعمیر ہوگی، اب تک 4 کلومیٹر تعمیر ہوچکی ہے اگلی 4 کلومیٹر نومبر تک ہوجائے گی۔سپریم کورٹ نے لیز پر پورا نہ اترنے والی کمپنوں کی لیزمنسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے سے غیرقانونی لیز سے متعلق رپورٹ طلب کر لیں۔عدالت نے قواعد پر پورا نہ اترنے والی کمپنیوں کو 10 روز میں بوریا بستر لپیٹنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد لیز کی زمین پر تعمیرات مسمارکردی جائیں۔چیف جسٹس نے کہا اسلام آباد میں جتنی بھی لیز دی گئیں وہ اقربا پروری پر دی گئیں، جان بوجھ کر لوگوں کو نوازا گیا۔چیف جسٹس نے کہا ممکن ہے کہ ہم لیز کی رقم میں اضافہ کردیں۔ بہت دفعہ کہا کہ صرف عدالت میں بیٹھے لوگ ہی منصف نہیں، جس کے پاس بھی اختیار ہے وہ منصف ہے۔ ہر بااختیار شخص کو اپنے طور پر انصاف کرنا چاہیے۔عدالت نے لیز کا معاملہ 22 اکتوبر تک ملتوی کردیا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *