بے زبان مقتولین ۔۔۔ ہارون ملک

SHOPPING
SHOPPING

پہلی بار میں نے اُسے سڑک پر ایک گاڑی کی ٹکر کھا کر لہولہان دیکھا تھا۔ تب میں مری سے واپس آرہا تھا۔ میں نے فیض آباد راولپنڈی کے قریب مری روڈ پر اُسے مرتے دیکھا تو وہاں ہی رُک گیا۔ بائیک سڑک کنارے کھڑا کیا اور بھاگ کر سامنے کی دُکان سے پانی کی ایک بوتل لایا۔ میں نے اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے پانی پِلانے کی ناکام کوشش کی۔ شاید پانی کے چند قطرے اُس کے حلق سے نیچے اُترے بھی ہوں۔۔۔

شاید مجھے ٹھیک سے یاد نہیں یا شاید میں یاد نہیں کرنا چاہتا، میرے اردگرد چند لوگ اور بھی دیکھا دیکھی رُک گئے تھے اور بس تماش بینی کا کردار ادا کررہے تھے۔ اُس کی دم توڑتی آنکھوں میں ایک عجیب سی، معدُوم ہوتی چمک سی تھی، جیسے چراغ بُجھنے سے پہلے اُس کی لو ایک آخری بار بھڑکتی ہے۔ اُس کا چہرہ لہولہان تھا اور جِسم کُچلا ہُوا۔ اُس نے سر اُٹھا کر مُجھے دیکھا، ایک آخری ہچکی لِی اور۔۔ مر گئی۔

اُس کی آنکھوں میں کُچھ تھا۔ جیسے ایک دُکھ، جیسے ایک شِکوہ۔۔۔

جِس گاڑی نے اُسے کُچلا تھا وُہ بھلا وہاں کیوں رُکتا؟ میں کتنی ہی دیر وہاں گنگ بیٹھا رہا۔ اُس کی دَم توڑتی آنکھیں مُجھے آج بھی یاد ہیں۔ پتہ نہیں کیوں، مگر  مُجھے ایسا لگا جیسے اُس کے بچے کہیں بُھوک سے نڈھال اپنی ماں کی واپسی کا انتظار کررہے ہوں گے۔ اب میں اُن بچوں کو کہاں سے ڈُھونڈتا؟ اُن کی ماں اب کبھی واپس نہیں آنے والی تھی۔ آئے دِن سڑکوں پر گاڑی والوں کی بے حِسی کے نُمونے دیکھتا رہا اور کُڑھتا رہا۔

پھر میں برطانیہ آگیا۔ سوچا تھا یہاں ایسا نہیں ہوتا ہوگا، یہاں حالات الگ ہوں گے اور یہ جینے کا حق دیتے ہونگے لیکن صاحب کہاں؟ کبھی اپنی غلطی سے اور کبھی ڈرائیورز کی جلد بازی سے سڑک کراس کرتے اُن کو میں نے مرتے دیکھا ۔ کیا فرق تھا راولپنڈی اور یہاں لندن میں؟

پچھلی سردیوں میں ایک برفانی رات مُجھے سڑک کے ایک کِنارے وُہ بے حِس پڑی نظر آئی۔ میں  نے فوری طور پر تھوڑا آگے جاکر ایک ‘بے ‘ Bay میں روکی اور نیچے اُترا کہ جا کے دیکھوں، شاید اس میں زِندگی کی کُچھ رمق ہو باقی ہو۔

نیچے اُترا تو برفیلی ہوا کا ایک تیز جھونکا مجیسے میری ہڈیوں کے گُودے تک اُتر گیا ہو۔ بجتے دانتوں اور کپکپاتے جِسم کے ساتھ میں واپس چل کر وہاں تک گیا جہاں وہ پڑی ہوئی تھی۔ مُجھے اُس کے زِندہ ہونے کی ایک مدہم سی اُمید تھی لیکن جب وہاں پہنچا تو اُس کی آنکھیں کُھلی ہُوئی تھیں اور وُہ جانے کب کی مرچُکی تھی۔ مُجھے اُس وقت پھر وُہی راولپنڈی  کی سڑک یاد آگئی جہاں اُس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہُوئے دَم توڑا تھا۔ آج اِس کی آنکھیں جیسے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ اُن مُردہ آنکھوں میں خُدا سے شاید شکایت تھی۔ میں بوجھل قدموں سے واپس گاڑی کی طرف واپس چل پڑا۔

 میں اور کر بھی کیا سکتا تھا؟

میں نے کئی بار رات میں اِنھیں بھاگ کر سڑکیں کراس کرتے دیکھا ہے    بُہت جیسے مُطمئن تھا کہ میں کبھی اِن کی موت کا سبب نہیں بنا لیکن ہونی ہوکر رہتی ہے۔

دو ہفتے پہلے کی بات ہے میں سِی سائیڈ سے واپس آرہا تھا جب میں نے اُس کو سڑک کنارے اٹھکیلیاں کرتے دیکھا۔ وُہ بُہت پیارا تھا۔ وُہ چھوٹا سا بچہ تھا جو شاید گھر والوں سے ناراض ہو کر یا آنکھ بچا کر شام کے آخری پہر گھر سے باہر نِکلا تھا۔ میں اُس کو دیکھ کر ہلکا سا مُسکرایا لیکن اگلے ہی لمحے وُہ بھاگ کر بلکہ یُوں کہیں کہ جمپ لگا کر میری گاڑی کے آگے آگیا۔ میں نے فوری بریک لگائی لیکن وُہ گاڑی کے اگلے ٹائیر کے نیچے آکر کُچلا گیا تھا میں نے اُس کی ہڈیوں اور پسلیوں کی ٹُوٹنے کی آواز اپنے کانوں سے سُنی۔ 

میں نے گاڑی روکی۔ نیچے اُترا تو دیکھا اُس کا مُردہ جِسم لہولہان اور چُور چُور ہو چُکا تھا اور وُہ جیسے سڑک پر چپک کر رِہ گیا تھا۔ آج میں اُس کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ آج میں ہی اس کا قاتل تھا۔ میں اس کی آنکھوں میں کیسے دیکھتا؟ بس بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور دیکھا کہ کُوئی مُجھے دیکھ تو نہیں رہا۔ اس کے بعد یہ جا وُہ جا۔ 

آج بھی جب میں کہیں اِن میں سے کِسی کو سڑک کِنارے یا درمیان مرا ہُوا دیکھتا ہُوں تو مُجھے راولپنڈی میں مرنے والی بِلی، وُہ برفانی رات میں مری ہُوئی لُومڑی اور وُہ خرگوش کا بچہ جو میری گاڑی کے ٹائر تلے آکر کُچلا گیا تھا یاد آتے ہیں اور haunt کرتے ہیں۔ ایک بار بچپن میں ایک چھوٹا سا کُتا میں نے پتھر مار کر مار دِیا تھا۔ تب مجھے کُتے پسند نہیں تھے اور میں سمجھتا تھا کہ یہ بُہت پلید ہوتے ہیں۔ اِن کو زِندہ رہنے کا کُوئی حق نہیں وغیرہ وغیرہ۔ وُہ کُتا تو مر گیا لیکن اُس کے ساتھ ساتھ میرے اندر کا کُتا بھی یعنی وحشی پن اور typical مائینڈ سیٹ  بھی مر گئے۔ تب سے آج تک میں ناصرف بِلیوں اور کُتوں بلکہ ہر جانور سے بُہت پیار کرتا ہُوں۔

SHOPPING

جانوروں کو بھی جینے کا حق دیں۔ گاڑی چلاتے وقت دھیان رکھیں کہ آخر وُہ بھی جاندار ہیں، سانس لیتے ہیں اور جینے کی آرزو بھی رکھتے ہیں۔ خیال رکھیں، جانوروں سے پیار کریں اِس کا آپ کو صِلہ مِلے گا۔

SHOPPING

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *