آواگون۔۔۔۔روبینہ نازلی

کیا مرنے کے بعد روح کسی دوسرے جسم میں چلی جاتی ہے؟
کیا روح اور نفس ایک چیز ہے؟
جسم کے مرنے کے بعد روح اور نفس کہاں چلے جاتے ہیں؟
روح کی کیا حقیقت ہے؟
کیا جسم کی طرح نفس بھی روح کا لباس ہے؟
آواگون کیا ہے؟
کرما کسے کہتے ہیں؟

‎تناسخ یا آواگون (روح کا ایک قالب سے دوسرے قالب میں جانا)، تناسخ کا
‎ لفظ اردو میں عربی زبان سے آیا ہے اور نسخ سے ماخوذ ہے، تناسخ سے بنیادی طور پرمراد دوبارہ پیدا ہونے کی ہوتی ہے اور اسی تصور کی وجہ سے نسخ (نقل کرنے) سے تناسخ کا لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے یعنی ایک بار موت کے بعد وہ مرنے والی شخصیت (انسان یا کوئی اور جاندار) ایک مرتبہ پھر تجسیم حاصل کرلیتی ہے۔ متعدد اوقات اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے اہتجار کا لفظ بھی اختیار کیا جاتا ہے؛ انگریزی میں اسے reincarnation
‎کہتے ہیں۔ تناسخ کا لفظ حیات بعد الموت سے ایک الگ تصور ہے جو عام طور پر ابراہیمی ادیان میں پایا جاتا ہے۔ علامہ قرطبی نے رافضیہ کے فرقوں میں سے ایک فرقہ تناسخیہ شمار کیا جن کا عقیدہ ہے کہ‎” ارواح میں تناسخ ہوتا رہتا ہے پس جو کوئی محسن اور نیکو کار ہو اس کی روح نکلتی ہے اور ایسی مخلوق میں داخل ہوجاتی ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ سعادت اندوز ہو رہی ہوتی ہے”

‎جنتی زیور میں صفحہ 189 پر برزخ کے عنوان سے عقیدہ :3 پر لکھا ہے
‎”یہ خیال کہ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ کسی آدمی کا بدن ہو یا کسی جانور کا جس کو فلا سفر تناسخ اور ہندو آواگون کہتے ہیں یہ خیال بالکل ہی باطل اور اس کا ماننا کفر ہے”۔

آواگون
‏(‪REINCARNATION‬)
ترجمہ۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس بھیج دیجیے تاکہ میں نیک عمل کروں اس میں جسے میں چھوڑ آیا ہوں (یعنی دنیا) جواب ہو گا، ہر گز نہیں یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ فضول میں کہہ رہے ہیں اب ان کے درمیان ایک برزخ حائل ہے۔ وہ اس میں قیامت کو اُٹھنے تک رہیں گے۔ (المومنون 99-100)

۱۔ آواگون۔ (‪REINCARNATION‬)
تناسخ کا عقیدہ ہندو مذہب کا خصوصی شعار ہے جو اس کا قائل نہیں وہ ہندو دھرم کا فرد نہیں۔ ‘باس دیو’ ” ارجن ” کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتے ہوئے بتاتا ہے کہ
“موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے۔ لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔ ”
ویدوں میں ذکر ہے کہ !
“روح جسم کو چھوڑ کر نئے جسم میں داخل ہوتی ہے اور یوں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ ”
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان کے مرنے کے بعد اگر اس کے گناہوں کی سزا یا اچھے کاموں کی جزا کے طور پر اس کو اگلی مرتبہ کسی اچھے یا خراب جسم میں ڈالا جاتا ہے تو کیا اس روح کو اپنے پچھلے جنم کی زندگی اور اعمال یاد ہوتے ہیں۔ ؟ اگر ایسا ہے تو آواگون کے عقیدے کے مطابق اب تک کروڑوں روحیں مستقل ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہورہی ہیں تو ہر ایک کو اپنی پچھلی تمام زندگیاں یاد ہونی چاہئیں- اور اگر یاداشت برقرار نہیں ہے تو سزا و جزا کا مقصد ہی فوت ہوگیا-

۲۔ کرما کا نظریہ (‪KARMA‬)
بدھ ازم میں بھی آواگون کا عقیدہ بنیادی اساس ہے۔ جسے زندگی کا چکر یا “کرما” کہتے ہیں۔ ان کے مطابق
انسان بار بار مر کر دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کا اگلا جنم اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔
اور ان کے خیال میں اس بار بار کے جینے مرنے کے تسلسل سے اس وقت ہی انسان کو نجات مل سکتی ہے جب وہ وجود حقیقی میں کھو جاتا ہے۔ جب بھی روح مادہ کے قفس کو توڑ کر آزاد ہو جاتی ہے تو وہ ہر قسم کے رنج و الم سے محفوظ رہتی ہے۔ ان کے خیال میں ایک بار مرنے کے بعد انسان دوسرے جنم میں کسی اور وجود میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ وجود انسانی، حیوانی بلکہ نباتاتی بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے جنم میں اس سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں اس کے مطابق اس کو نیا وجود دیا جاتا ہے۔ جس میں ظاہر ہو کر وہ طرح طرح کی مصیبتوں ، بیماریوں اور ناکامیوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اگر اس نے اپنی پہلی زندگی میں نیکیاں کی تھیں تو اس کو ان کا اجر دینے کے لیے ایسا قالب بخشا جاتا ہے جس میں ظاہر ہونے سے اس کو گذشتہ نیکیوں کا
اجر ملتا ہے اور اس طریقہ کار کو کرما (‪KARMA‬) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔
(مراقبہ کے ذریعے مشاہدہ کرنے والے حضرات اور آج کے جدید محققین جب روح کو مادی جسم کے علاوہ نئے روپ نئے لباس میں دیکھتے ہیں تو وہ اسے کرما کے نظریے کی تصدیق تصور کرتے ہیں۔ )
کم و بیش اہل یونان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔
داتا گنج بخش علی ہجویری اپنی کتاب کشف المحبوب میں لکھتے ہیں !
“ملحد جو روح کو قدیم کہتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں اور سوائے اس کے کسی اور شے کو فاعل و مدبر نہیں سمجھتے۔ ارواح کو معبود قدیمی اور مدبر ازلی قرار دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ہی روح ایک شخص کے جسم سے دوسرے شخص کے جسم میں چلی جاتی ہے اور عیسائی بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اگرچہ بظاہر کہتے کچھ اور ہیں اور ہندو چین و ماچین میں تو سب کے سب لوگ اسی بات پر متفق ہیں “شیعوں، قرامطیوں اور باطنیوں کا بھی یہی عقیدہ رہا ہے اور حلولیوں کے دونوں گروہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

۳۔ آواگون عقیدہ نہیں ہے
تناسخ کے عقیدہ کے بارے میں “رگ وید ” کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ جب آریہ ہندوستان آئے تو ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کے مرنے کے بعد انسان بار بار دوبارہ جنم لیتا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
بلکہ آریہ کا اس وقت یہ عقیدہ تھا کہ !
(جو لوگ گناہ کی زندگی بسر کرتے ہیں انہیں مہادیوتا “وارونا” یعنی زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک خوفناک جگہ دوزخ میں بھیج دیا جاتا ہے اور جو لوگ راستی اور پاکبازی کی زندگی بسر کرتے ہیں انہیں فردوس بریں (جنت) میں بھیج دیا جاتا ہے۔ )
لیکن یہاں آنے کے بعد انہوں نے دراوڑوں کو عقیدہ تناسخ کا قائل پایا تو وہ بھی اس پر ایمان لے آئے۔
آواگون کو مذہبی عقیدہ سمجھنے والے مذاہب سمیت تمام مذاہب موت کے بعد برزخ، جنت و جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اور اصل مذہبی کتابوں میں کہیں بار بار جینے مرنے کی کوئی مذہبی دلیل موجود نہیں۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ آواگون عقیدہ نہیں محض باطل نظریہ ہے پھر آدھی دنیا اسے عقیدے کے طور پر کیوں تسلیم کرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس باطل نظریے نے عقیدے کی صورت اختیار کیسے کی۔؟
۴۔ باطل نظریے نے عقیدے کی صورت کیسے اختیارکی؟
ذرا تھوڑی دیر کے لیے تعصب کو بالائے طاق رکھ دیجئے اور پھر جائزہ لیجئے۔
آج اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ قدیم مذاہب میں تبدیلی ہوئی۔
(2) مذہبی پیشواؤں نے آسمانی اطلاعات میں زمینی فلسفیانہ اضافے کئے۔
سب جانتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں غلط عقیدوں کے رواج کا سو فیصد امکان ہے۔ اور آواگون کا عقیدہ بھی ایسی ہی صورت حال کا شاخسانہ ہے۔ یعنی صحیح آسمانی اطلاعات میں فلسفیانہ زمینی اضافوں سے جنم لینے والا باطل نظریہ جو عقیدے کی صورت اختیار کر گیا۔ اگرچہ صحیح مذہبی اطلاعات کو سمجھنے میں غلطی کی گئی اس میں فلسفیانہ اضافے کئے گئے اس کے باوجود اگر زمینی فلسفوں کو کائناتی اطلاعات سے الگ کر کے محض آسمانی اطلاعات کا جائزہ لیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ اور اب ہم یہی کریں گے۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ مذہبی اطلاعات کیا ہیں اور ان میں کیا اضافے کئے گئے ؟اور ان مذہبی اطلاعات میں اضافوں سے ایک بے بنیاد اور غلط مفروضے نے مذہبی عقیدے اور سائنسی نظریے کی صورت کیسے اختیار کر لی۔

۵۔ مذہبی اطلاعات
بنیادی غلطی یہ ہے کہ مذہبی اطلاعات کو سمجھنے میں غلطی کی گئی۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ مذہبی اطلاعات کیا ہیں اور ان اطلاعات کو سمجھنے میں کیا غلطی کی گئی جس سے آواگون جیسے نظریات نے جنم لیا۔
مذہبی اطلاعات درجِ ذیل ہیں۔
۱۔ امریکہ کے ریڈ انڈین سمجھتے تھے کہ روحیں ایک خاص مسکن میں چلی جاتی ہیں۔
۲۔ جب کہ قدیم افریقی سمجھتے تھے کہ نیک روحیں دیوتاؤں سے جا ملتی ہیں۔
۳۔ جب کہ قدیم مصریوں کا ایمان تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی نئی زندگی شروع ہوتی ہے۔ لہذا مرنے کے بعد انسان کی روح اور ہمزاد (جسے بع اور کع کہتے تھے ) اس کے مقبرے میں رہنے لگتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ بع کا میل جول مرنے والے کے عزیزوں دوستوں کے ساتھ رہتا ہے جب کہ کع دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے۔
۴۔ جب کہ یہودیوں کے کلاسیکل ورک سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق موت کے بعد ‪NEFESH‬ ختم ہو جاتا ہے۔ روح کو ایک عارضی جگہ بھیج دیا جاتا ہے اس کی پاکیزگی کے عمل کے لئے عارضی جنت میں جب کہ ‪Neshama‬ کو واپس پلاٹونک ورلڈ میں اپنے محبوب سے وصال کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔
۵۔ جب کہ مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی کتابوں کے مطابق مرنے کے بعد انسان بعض مخصوص حالات میں برزخی(نفسی یعنی روح و نفس کے ساتھ) زندگی بسر کرتا ہے پھر آخرت ہے جہاں اس کا واسطہ جنت یا جہنم سے پڑے گا یا اس کی آخری قیام گاہ جنت یا جہنم ہو گی۔
۶۔ جب کہ ویدوں میں ذکر ہے کہ روح جسم کو چھوڑ کر نئے جسم میں داخل ہوتی ہے اور یوں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
۷۔ باس دیو بھی ارجن کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتے ہوئے یہی بتا رہا ہے کہ “موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اور اپنے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔ ”
یہاں ہم نے کچھ مذہبی اطلاعات اکٹھی کی ہیں۔ ان اطلاعات کا بغور جائزہ لیجئے کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ انسان بار بار جنم لیتا ہے اور نہ ہی ان چیدہ اطلاعات کے علاوہ کسی بھی صحیح مذہبی اطلاع میں بار بار جنم کا ذکر موجود ہے۔ بلکہ مذاہب میں انسان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اسے جو اعمال بھی کرنے ہیں دنیاوی زندگی ہی
میں کر لے موت کے بعد نہ تو نیک اعمال کی آزادی ہو گی نہ اسے عمل کے لئے دوبارہ زندگی ملے گی۔
سوال یہ ہے کہ ان تمام مختلف اور متضاد مذہبی اطلاعات میں سے کونسی اطلاع درست اطلاع ہے۔
جواب یہ ہے کہ تمام اطلاعات درست اطلاعات ہیں۔ یہ اطلاعات بڑی ترتیب وار اطلاعات تھیں۔ لیکن پہلے تو ہر اطلاع کی ترتیب کو خلط ملط کیا گیا پھر اس خلط ملط سے نتائج اخذ کر لئے گئے جو آج آواگون جیسے نظریوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ ان تمام مذہبی اطلاعات میں دو باتوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
(۱)جسم کی موت کے بعد روح جسم کو چھوڑ کر نئے جسم میں داخل ہوتی ہے اور یوں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
(2) موت کے بعد انسان دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے جسے برزخ جنت یا جہنم کہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کونسی اطلاع درست ہے۔ یا صحیح آسمانی اطلاع کونسی ہے۔
تو جواب یہ ہے کہ دونوں اطلاعات صحیح آسمانی اطلاعات ہیں۔ اور دونوں اطلاعات بڑی ترتیب وار اطلاعات تھیں۔ لیکن پہلے تو ہر اطلاع کی ترتیب کو خلط ملط کیا گیا پھر دونوں اطلاعات کو خلط ملط کر دیا گیا۔ دونوں صحیح اطلاعات اور الگ الگ اطلاعات ہیں جبکہ
عموماً ان دونوں مذہبی اطلاعات کو ایک دوسرے کی نفی تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا جنت و جہنم کو ماننے والے آواگون کے نظریات کی نفی کرتے ہیں تو آواگون کو مذہبی عقیدہ سمجھنے والوں کے خیال میں جسم کی موت کے بعد انسان (روح)دوسرے اجسام کے روپ میں نمودار ہوتا ہے اور ان کے خیال میں روح کا جسم کی موت کے بعد دیگر اجسام کی صورت میں نمودار ہونے کا مطلب ہے انسان کی دوبارہ زندگی اور ان کے خیال میں زندگی کا یہ لا متناہی چکر بس چلتا ہی رہتا ہے۔
اور وہ کسی جنت دوزخ یا آخرت کو خاطر میں نہیں لاتے۔
انہی اطلاعات کو جب روحانی مشقیں کرنے والے حضرات نے یا فلسفیوں نے بیان کیا تو آواگون کے نظریے کی صورت میں بیان کیا۔ حالانکہ یہ اطلاعات اور دیگر اطلاعات دراصل آواگون کے نظریے کی نفی کر رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہر دور کے روحانی پیشواؤں اور فلسفیوں نے آواگون کی تصدیق کیوں کی
اب ہم ان اطلاعات کا جائزہ لیتے ہیں جس سے یہ الجھن دور ہو گی۔

۶۔ تصورِ آخرت
اکثر مذاہب جنت، جہنم اور آخرت کے عقیدے کے قائل ہیں لہذا اس مذہبی اطلاع میں تو کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ لیکن اس عقیدے کے ماننے والے روح کے لباس بدل کر دوبارہ نمودار ہونے کو اپنے تصورِ آخرت کی نفی سمجھتے ہیں۔ جب کہ روح لباس بدلتی ہے یہ ہر مذہب کی صحیح آسمانی اطلاع ہے اور یہ اطلاع تصورِ آخرت کی نفی نہیں کرتی بلکہ اسی سفرِ آخرت کی ہی ایک کڑی ہے۔ لہذا اگرچہ آخرت کے ماننے والے آواگون جیسے لغو نظریات سے بچے رہے لیکن وہ اس صحیح اطلاع(کہ روح دیگر لباسِ اجسام میں نمودار ہوتی ہے )کو بھی کبھی سمجھ نہیں پائے۔

۷۔ روح لباس بدلتی ہے
جسم کی موت کے بعد روح جسم کو چھوڑ کر نئے جسم (نفس کے اجسام یا دیگر اعمال کے اجسام )میں داخل ہوتی ہے اور یوں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
یہ اطلاع صحیح آسمانی اطلاع ہے لیکن بد قسمتی سے ہر دور میں اس اطلاع کو سمجھنے میں غلطی کی گئی اور اسی غلطی سے جنم لیا آواگون نے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے موت کو ہمیشہ انسان کا اختتام تصور کیا ہے حالانکہ موت فقط جسم کا اختتام ہے انسان کا اختتام نہیں ہے۔ اس لئے کہ انسان محض جسم نہیں جسم کی موت کے بعد انسان کی روح اور نفس ابھی باقی ہیں اور مادی جسم کی موت کے بعد انسان نفس کے اجسام میں موجود ہوتا ہے۔
جب کہ روح کا تذکرہ کرنے والے ، مشاہدہ کرنے والے لوگ تھے جب انہوں نے انسان کو موت کے بعد مادی جسم کے بغیر بھی کسی اور لباسِ جسم میں موجود پایا تو اسے انہوں نے دوسرا جنم تصور کر لیا۔ لہذا ان معلومات سے مستفید ہوتے ہوئے سوامیوں اور فلسفیوں نے جب اس مذہبی اطلاع کو بیان کیا تو انہوں نے بھی اسے دوسرا جنم قرار دیا مزید انسان ان اطلاعات کو سمجھنے اور سمجھانے کے چکر میں اپنی اپنی عقل کے فلسفیانہ اضافے بھی کرتا رہا نتیجہ ارتقاء اور آواگون جیسے باطل نظریوں کو صورت میں سامنے آیا جو آج عقیدوں کی صورت میں موجود ہیں حالانکہ یہ محض فلسفیانہ نظریے ہیں جو ہر طرح سے باطل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان زندہ تھا تخلیقی مراحل طے کر رہا تھا جب مرگیا تو اب وہ جو کہیں سے آیا تھا اب واپسی کے سفر پہ روانہ ہو رہا ہے یعنی انسان تخلیقی مراحل طے کر چکنے کے بعد فنائی مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور موت اسی انسان کے فنائی مراحل کی پہلی سیڑھی ہے۔ موت سے انسان کا اختتام نہیں ہوا بلکہ انسان کے فنائی عمل کا آغاز ہوا ہے انسان کے واپسی کے سفر کا آغاز ہے موت۔ لیکن یہ سفر دوسری زندگی نہیں نہ ہی یہ سفر زندگی کا سفر ہے بلکہ یہ موت یا (انتقال ) ہی کا سفر ہے۔ یہ سفر، سفرِ آخرت ہے۔
جسم مر جاتا ہے روح نہیں مرتی وہ جسم کو چھوڑ کر نئے نئے لباسِ جسم بدلتی مختلف سیاروں سے ہوتی ہوئی اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو جاتی ہے۔ جسم کی موت کے بعد روح کے لباس بدلنے اور انسان کے جسمانی موت کے بعد بھی کسی اور جسم کی صورت میں موجود ہونے کو دوسرا جنم سمجھ لیا گیا۔
مذاہب نے تو انسان کے سفر آخرت کی درجہ بدرجہ روداد سنائی تھی اور یہ روداد انسان کی ابتداء سے انتہا تک کی روداد تھی۔ یہ روداد تھی تو بڑی ترتیب وار لیکن انسان نے اسے بری طرح خلط ملط کر کے رکھ دیا۔ اس ساری روداد کا تعلق انسان سے ہے۔ ان تمام مسائل کی جڑ انسان کی خود سے لاعلمی ہے اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہزاروں برس کا انسان خود کو نہیں جان پایا۔ ا بھی تک انسان اپنی موت سے ناواقف ہے ابھی تک اس پر زندگی کے راز نہیں کھلے ابھی تک وہ اپنی تخلیق اپنی پیدائش سے ناواقف ہے۔ وہ آج تک نہیں جان پایا کہ خود اس کے اندر کیسے کیسے نظام کام کر رہے ہیں آخر وہ کیسا مجموعہ ہے ؟ اسی ناواقفیت کے سبب وہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آیا ہے۔؟ کہاں جا رہا ہے؟کیسے جا رہا ہے؟
اگر کبھی اس موضوع پر غیر سنجیدہ کوششیں کی بھی گئیں ہیں تو ایسی بے ربط کوششوں سے آواگون، ارتقاء اور جبر و قدر جیسے مسائل نے جنم لیا ہے
ہر دور کے انسان نے یہ غلطی اس لئے کی کہ وہ اپنے آپ سے ہی لاعلم ہے۔ لہذا تمام تر تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر
ان مذہبی اطلاعات کا دوبارہ بغور جائزہ لیجئے۔ اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ
۱۔ ان اطلاعات میں کہیں بھی دوسرے جنم کا تذکرہ نہیں ہے
۲۔ ان اطلاعات میں جسم کی موت کے بعد برزخی حالات کا ذکر ہو رہا ہے۔ اور یہ ذکر زندگی کا ذکر نہیں ہے بلکہ موت کے بعد کا ذکر ہے اور یہ کسی دوسرے جنم کی نہیں انسان کے پہلے ہی جنم کی روداد ہے۔ لہذا مذہبی اطلاعات درجِ ذیل ہیں
(1) جسم کی موت کے بعد روح جسم کو چھوڑ کر دوسرا لباس بدلتی ہے یا نئے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔
(2) موت کے بعد انسان دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے جسے برزخ جنت یا جہنم کہتے ہیں۔
دونوں بالترتیب صحیح اطلاعات ہیں لہذا خالق کائنات نے انسان کو ایک خاص ترتیب سے تخلیق کیا ہے اور ایسے ہی وہ خاص فنائی مراحل سے گزرتا ہے۔ انسان پیدائش سے پہلے کہیں سے آیا ہے اور موت کے بعد کہیں جا رہا ہے۔
لہذا جسم مر جاتا ہے روح نہیں مرتی وہ جسم کو چھوڑ کر نئے نئے لباسِ جسم بدلتی مختلف سیاروں سے ہوتی ہوئی اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو جاتی ہے۔ جسم کی موت کے بعد روح کے لباس بدلنے اور انسان کے جسمانی موت کے بعد بھی کسی اور جسم کی صورت میں موجود ہونے کو دوسرا جنم سمجھ لیا گیا۔

۸۔ آواگون کا مسئلہ حل ہو گیا
اب چونکہ ہم اس کتاب میں نئے نظریات کے ذریعے انسانی مجموعے، انسانی تخلیق، پیدائش، موت، انتقال کی تفصیلاً وضاحت کر آئے ہیں لہذا ان نئے نظریات کی روشنی میں اب
صدیوں کایہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ لہذا اب اپنی اپنی مذہبی اطلاعات کا دوبارہ جائزہ لیجیے جن میں کہیں بھی آواگون کا تذکرہ نہیں ہے یہ محض سوامیوں ، فلسفیوں کے اضافے ہیں اصل اطلاعات ہمارے نئے نظریات کا دفاع کر رہی ہیں لہذا مذہبی اطلاعات اور ہمارے نظریات کے مطابق اصل معاملہ یہ ہے کہ
۱۔ انسان روح، نفس، جسم کا مجموعہ ہے لہذا
۲۔ مادی جسم کی موت کے بعد فقط جسم کا اختتام ہوا ہے
۳۔ ابھی روح و نفس باقی ہیں
۴۔ لہذا اب انسان روح نفس کی صورت نفس کی دنیا میں موجود ہے۔ یعنی مادی جسم کا انسان اب مادی جسم سے مفارقت کے بعد روح و نفس کی صورت موجود ہے۔ یعنی مادی جسم کی موت کے بعد انسان کی صورت درجِ ذیل ہے۔
مردہ جسم +روح ّ+نفس =انسان
۵۔ پہلے انسان مادی لباس میں موجود تھا اب جسم کی موت کے بعد انسان نے یہ لباس اتار دیا اب یہی انسان روح کے ایک اور لباس نفس میں موجود ہے
۶۔ اب انسان نفس کی دنیا میں نفس کے اجسام کے ساتھ قیام کرے گا۔
۷۔ اس نفس کی دنیا میں انسان نفس کے دیگر اجسام کے ساتھ دیگر سیاروں کی سیر کر سکتا ہے۔
۸۔ مادی جسم کی طرح نفس بھی مر جائے گا تو انسان(روح) یہ لباس چھوڑ کر نفس کے نوری لباس میں آ جائے گا۔
۹۔ مادی جسم کی طرح نفس کے تمام اجسام بھی مر جائیں گے۔
۱۰۔ اب انسان ہر قسم کا لباسِ جسم اُتار کر فقط روح کی صورت موجود ہے۔
۱۱۔ روح انرجی ہے واحد انرجی یہ واحد انرجی جہاں سے آئی تھی وہیں واپس اپنے مقام (پاور اسٹیشن)میں ضم ہو جائے گی۔ اب کچھ بھی نہیں بچا
لہذا مادی جسم موت کی صورت مادی زمین پہ بکھر گیا
نفس کے اجسام نفسی فضاؤں (عالم برزخ) میں بکھر گئے
روح(انرجی)رب (پاور اسٹیشن)سے جا ملی
اب اس وقت روح، نفس، جسم کے زندگی سے بھر پور انسان کا کہیں نشان بھی نہیں ہے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
اب جب بھی رب کی منشاء ہو گی وہ حساب کے دن(یومِ آخرت)اسی بے نام و نشان انسان کے ہر روح نفس جسم کے ذرات کو ہر سیارے (زمین، اور دیگر نفسی سیاروں )سے اکٹھا کر کے وہی پرانا انسان ترتیب دے دے گا۔ اور اس سے اس اپنی ودیعت کردہ زندگی کا حساب مانگ لے گا(کہ اس جان کے ساتھ تم نے کیا کیا جو میں نے تم کو دی تھی)
لہذا یہ تھی جسم کی موت کے بعد انسان کی واپسی کے سفر کی روداد جو مذاہب نے بیان کی تھی جسے سوامیوں، فلسفیوں نے جب بیان کیا تو آواگون کی صورت میں بیان کیا اور انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ وہ کبھی ان اطلاعات کو صحیح طور پر سمجھ ہی نہیں پائے لہذا آواگون کا عقیدہ محض غلط فہمی پر مشتمل ہے جس کی کوئی مذہبی یا سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ اب جب کہ آواگون کی ساری حقیقت یہاں ہم نے کھول کر بیان کر دی ہے۔ لہذا اب اس ہٹ دھرمی یعنی آواگون کی کوئی بنیاد باقی نہیں بچی۔ لہذا صدیوں بعد یہ مسئلہ(آواگون، کرما، یا چکرا)بھی حل ہوا۔
ایک سوال:
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد روح اور نفس برذخ میں چلے گئے تو کیسے ہم ان کو مرنے کے بعد خوابوں میں دیکھتے ہیں؟ کیا وہ برزخ سے اس دنیا میں واپس آتے ہیں۔ اس سلسلے میں قران مجید کی ان آیات کا ترجمہ دیکھئے۔
قران بتاتا ہے۔
“اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئ ان کی سوتے وقت، پھر جس پر موت کا فیصلہ کرتا ہے اس کی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کے لئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جوغور و فکر کرتے ہیں۔ ( الزمر 43)
تو یہاں یہ ثابت ہوگیا کہ حالت نیند میں انسان کی روح قبض کرلی جاتی ہے۔ اب یہ کس طرح اور کن شرائط کے ساتھ قبض کی جاتی ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب اکثر ہماری ارواح سے ملاقات حالت خواب میں ہی ہوتی ہے جو عین ممکن ہے کہ مرا ہوا اور سویا ہوا کی ارواح ایک دوسرے سے رابطہ کرسکتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ عالم برزخ کسی جگہ نہیں بلکہ ایک حالت یا STATE کا نام ہے۔
بشکریہ: علم الانسان
روبینہ نازلی

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *