• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آخری قہقہہ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری ،آخری قسط

آخری قہقہہ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری ،آخری قسط

ایڈیٹر نوٹ:زیر مطالعہ طویل کہانی “وہ ورق تھا دل کی کتاب  کا “میں شامل ہے۔مکالمہ اس کتاب کی عام قاری تک عدم رسائی کے  باعث اسے یہاں شائع کررہا ہے۔برا سمجھے  جانے والے انسانوں میں بے نام فلاح انسانیت کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی اس کہانی کے ہر کردار کو مصنف نے اپنی افسری کے زمانے میں بہت قریب سے دیکھا۔امید ہے دو اقساط پر مبنی یہ کہانی آپ کو بھی پسند آئے گی۔۔مصنف کی اپنی تصویر کے علاوہ دیگر تصاویر انٹرنیٹ پر مختلف سائیٹس پر دستیاب ہیں

رافع کے چلے جانے سے مٹکے کو بہت صدمہ ہوا مگر پھر یوں ہوا کہ اس کا بھانجا سلیمان، جب فرانس سے اپنا کاروبار ختم کرکے اپنی مراکشی بیوی اور ایک بیٹے کے ساتھ واپس آگیا تو سب کو بڑی حیرت ہوئی۔مٹکے نے اسے بھی ساتھ کی بلڈنگ میں ہی اپنے ایک خالی دو کمرے کے فلیٹ میں آباد کردیا۔عزیز تانبے کو کہہ دیا کہ وہ اس کو اپنے سودوں میں شامل رکھے۔ان دنوں تانبا، گڈانی میں جہازوں کے اسکریپ کے  کام میں داخل ہورہا تھا۔اسے ابو مٹکے کا سرمایہ اور سپورٹ، سلیمان کی پرکشش شخصیت کی صورت میں درکار تھا۔ مٹکے کی بڑی بہن،جوانی میں بیوہ ہوگئی تھی اور سلیمان کو مٹکے نے ہی پالا تھا۔

ابو مٹکے کو حیرت تو بہت ہوئی کہ سلیمان اچانک اپنا جما جمایا کاروبار ختم کرکے لی  ایل۔ فرانس سے یہاں کراچی اپنی سترہ سال کی بیٹی فائقہ اور پندرہ سال کے بیٹے عفان کے ساتھ جہنم کی   اس نواحی بستی کراچی میں ہنگاموں کے باوجود کیوں واپس آگیا ہے۔جب اس نے پوچھنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا کہ وہاں بڑی اخلاقی خرابیاں آگئی ہیں بچوں کے ساتھ وہاں رہنا درست نہیں۔یہ جواب اس کا اپنے ماموں، ابو مٹکے کو کچھ مطمئن نہ کرسکا جس نے اس کی ٹوہ لگانے کا ذمہ راحیل بخاری کو سونپ دیا جس کی  سلیمان کے ساتھ بہت بیٹھک تھی۔

لی ایل فرانس

ایک شام جب وہ دونوں بابا عبدالحق نجومی کے ساتھ ادھر ادھر کے قصے لے کر بیٹھے تھے بابا عبدالحق نے اس سے بہت معصومیت سے یہ سوال پوچھ لیا کہ “فرانس تو ایک بہت عمدہ ملک ہے وہاں اسلام دوسرا بڑا دین بھی ہے۔ مسلمان بھی بہت ہیں۔  پھر وہ  سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں کھارادر کے دو جیل جیسے کمروں  میں کیوں رہنے چلا آیا”؟

سلیمان نے معصومیت سے ایک آہ بھری اور کہنے لگا” اپن کی چھوکری بھی کوئی ٹھیک نہیں تھی۔ دارو سگریٹ بھی لینے لگی تو اودھر کے چھوکرے لوگ کے ساتھ گھومتی بھی تھی۔یہ اودھر کامن ہے میں چپ رہا۔چلو سب کی چھوکری ایسی ہے، تو اپنی بھی سہی،مگر جب میرا عفان سالا Gay کمپنی میں گھومنے لگا تو میرے سے برداشت نہیں ہوا۔میں نے آپ کی بھابھی مونا کو بولا کہ چلو گھر کو بھاگو۔ ادھر اب رہنے جیسا نہیں۔اس کو میں نے عفان کی بات سنائی تو  اس نے بیلٹ سے اس کو خوب مارا۔ہم لوگ سب بیچ باچ کر ادھر آگئے”۔

سلیمان کہنے لگا کہ” بابا جی اودھر ایک بہت اچھا عرب مولوی تھا وہ بولتا تھا کہ زمین سے دو دفعہ کوئی بستی یا عمارت آسمان پر فرشتے لے جائیں گے۔ایک دفعہ یہ ہوچکا ہے۔ یہ حضرت لوطؑ کی  بستی کو یہ لوگ اللہ کے حکم سے اوپر لے گئے اور پھر اتنے زور سے اسکو زمین پر مارا کہ ادھر ڈیڈ سی بن گیا اور ساتھ کی زمین پر کچھ بھی نہیں اگتا اور وہاں عجیب سی ویرانی اور وحشت ہے (اردن میں بحیرہ مردار کا علاقہ)۔ ان بستیوں پر اوپر سے پتھر بھی برسائے گئے۔یہ پتھر گندھک کے ہیں ان میں   فوراً آگ لگ جاتی ہے۔جس پر بابا عبدالحق نجومی نے زور سے” استغفر اللہ” کہا۔راحیل بخاری کہنے لگے یہ جو آپ ہر وقت اپنی بڈھی کا قصہ کھول کر اور شکوہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ چھوڑ کر چلی گئی تو سیدنا لوط علیہ سلام کی بیوی سارہ کو بھی یہاں اس سنگ باری میں نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔وہ بھی بستی والوں کی طرح سزاوار ٹھہرائی۔نبیوں کی بیویاں بیٹے کہنا نہیں مانتے تو آپ کس شمار قطار میں گھستے ہو بابا جی۔

سیدنا لوط علیہ سلام کی نافرمان بیوی سارہ کا مجسمہ
گمراہ اور سدوم کی بستیاں جو برباد ہوئیں
پتھر جو آسمان سے برسائے گئے
نقشہ درمیاں میں بحیرہ مردار ہے

یہ بے موقع  طعنہ سن کر با جی کا چہرہ کچھ بجھ سا گیا مگر اپنے آپ کو سنبھال کر دوسری دفعہ زمین سے کسی عمارت یا بستی کو بلندی پر لے جانے کا پوچھا۔۔ اسے یہ ڈر بیٹھ گیا تھا کہ کہیں یہ وہ پلازہ ہی نہ ہو جس میں وہ راحیل بخاری کے گندے چینل ڈش اینٹینا پر دیکھتا تھا۔” دوسری دفعہ میں ابھی دیر ہے۔ یہ تب ہوگا،جب قیامت نزدیک ہوگی” سلیمان کہنے لگا “تب قبیلہ اوش کی عورتیں خانہ کعبہ کے گرد ناچتے ہوئے برہنہ طواف کی کوشش کریں گی تب فرشتے ان کی اس حرکت سے پہلے ہی کعبہ کو آسمان پر لے جائیں گے۔ ایسا ہمارے حضور ﷺ کے زمانے میں بھی ہوتا تھا۔جب آپ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو ایک سال کے بعد منادی کردی کہ  اب کافر لوگ یہاں نہیں آئیں گے اور اس کے بعد آپ نے حج کیا”۔

ایک صبح فون بجا تو ابو مٹکے کی بیوی نے اٹھایا۔
حاجی جُگاری نے رسمی سوالات کے بعد پوچھا کہ کیا مٹکا اٹھ گیا ہے؟(وہ اس کی بیوی کے سامنے بھی ایوب کو ابو مٹکا ہی کہتا تھا اسی طرح وہ بھی اسے جُگاری کے نام نامی سے پکارتا تھا)
بیوی کہنے لگی کہ “ہاں اٹھ بھی گیا ہے اور ناشتہ کررہا ہے۔صبح صبح اٹھ کے خود گودا نہاری اور شیرمال لینے گیاہے۔یہ بتاؤ ہم غریبوں کی یاد کیسے آئی”؟۔۔۔ جس پر حاجی کہنے لگا “اللہ آپ جیسا غریب تو سب کو کرے۔یارن کا سب سے بڑا دلال اور غریب۔۔۔اللہ اللہ بھابی یہ سورج آج کہاں سے نکلا ہے”۔
مٹکا جب فون پر آیا تو جُگاری نے بتایا کہ” تیرا ٹینس والا بھاؤ کھل گیا ہے۔ایک کے تین”۔۔۔
جس پر مٹکے نے کہا کہ” دس لگادے”۔ جُگاری نے جب پوچھا کہ” دس پیٹی(لاکھ)”؟۔۔۔ تو مٹکا کہنے لگا کہ” اس نے ناشتے میں کیا کھایا تھا کہ صبح صبح اسے ہری ہری سوجھ رہی ہے؟سالا دس ہزر کا بولا تو تُو حرامی دس پیٹی کا بول رہا ہے”۔حاجی نے مذاق کیا کہ” اسے سچی میں ٹینس کا کھیل اور اس کا اسکور سمجھ میں آتا ہے کہ کھالی(خالی) چھوکری دیکھ کر بھاؤ بولتا ہے۔جو بھی سمجھ۔۔۔ بس تو دس مارٹینا ہنگز پر لگادے”۔

مارٹینا ہنگز
یانا نوتنا

اس کو چھیڑنے کے لئے جگاری نے بولا کہ” دس یانا نوتنا پر لگادے وہ بمبئی والوں کی فیورٹ ہے، میرے کو مکیش بھائی نے خود بولا ہے”۔آج ان دونوں کھلاڑی خواتین کا ومبلڈن میں بڑا کانٹے کا مقابلہ تھا۔اگر آج ہنگز جیت جاتی ہے تو وہ ومبلڈن کی سب سے کمسن ونر ہوگی۔آپ کی معلومات میں یہ بات اضافے کا باعث ہوگی کہ کراچی کی تمام جوئے کی بکیں،بمبئی سے کھلتی تھیں۔وہ ہی جوئے کے بھاؤ کھولتے تھے۔ کرکٹ کے کئی کھلاڑیوں سے ان  کے براہ راست مراسم تھے۔میچ فکسنگ ان کو ہی ملا کر کی جاتی۔ یہاں قوم دل پکڑے بیٹھی ہوتی,وہاں کھلاڑی طے شدہ رقوم کے عوض، اپنی وکٹیں کریز پر پھینک کر پویلین کا رخ کرتے۔

یہ ایک بڑا کاروبار تھا۔ پولیس کا ایک بڑے افسر کو جو اتفاقاً کہیں باہر سے پوسٹ ہوکر آیا۔ انہوں نے اپنے علاقے میں بک چلانے کے ماہانہ بیس لاکھ روپے کی آفر کی مگر وہ مومن بچہ نہ مانا تو انہوں نے اس وقت کے چیف منسٹر کو یہ رقم دے کر علاقے سے اس کا ایک ماہ میں ہی تبادلہ کرادیا۔جوئے کی یہ بک بڑی ایماندری سے چلائی جاتیں۔ سارے بھاؤ اکثر فون پر ہی لگتے۔رقوم ایمانداری سے اگلی صبح جیتنے والوں کو ہارنے والوں سے وصول کرکے ان کے اپنے ٹھکانوں پر پہنچا دی جاتی۔اس میں دو دفعہ، بڑی بے ایمانی ہوئی۔ایک دفعہ تو بنا ہوا کھیل کسی دباؤ کی وجہ سے نتائج کے برعکس سامنے آیا تو بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں رقم ایمانداری سے بھاؤ لگانے والوں کو لوٹا دی گئی۔دوسری دفعہ ایک بکی حنیف کیڈبری اصلی نام (حنیف کوڈاوی مگر چاکلیٹ کی مشہور برانڈ کیڈبری سے بے پناہ رغبت کے باعث اسے سب کیڈبری کہنے لگے تھے) نے جب بات نہ مانی اور شارجہ کے کرکٹ میچوں کی آمدنی میں اسّی کروڑ روپوں کی رقم لوٹانے میں گھپلا کیا اور جنوبی افریقہ بھاگ گیا۔اس کا خیال تھا کہ وہ وہاں نسبتاً محفوظ ہوگا مگر اسے وہاں سن 1999 اس بری طرح ہلاک کیا گیا کہ اس کی لاش کو بجلی کے آرے سے کئی ٹکڑوں میں کاٹ کر پاکستان بھیجا گیا۔دوسرے لوگوں نے اس کے بعد کبھی جوئے میں بے ایمانی نہیں۔اسی طرح ایک اور بے ایمان کاروباری شخص کو جس کے تعلقات ملک کی ایک اور اہم شخصیت سے تھے۔ اس شخصیت کے دوبارہ سیاست میں کامیاب ہونے پر پولیس نے اس لئے الٹا لٹکا کر بہت مارا کہ ان کے اقتدار سے دوری پر وہ ان کے حصے کی رقم کھاگیا تھا۔جس پولیس افسر کو اسے الٹا لٹکا کر مارنے کا فریضہ سونپا گیا تھا اسکے ننگے کولہے پر جب چھتر پڑتا تو چھتر کے ساتھ ہی اس دو نمبری بزنس مین کی ایک دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوتی تھی “اے ماڑی اللہ میاں آؤں مری ویو “(اے اماں جی،اللہ میاں میں مرگیا) میز پر بیٹھا نگران افسر یہ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ “بیٹے چوری میں چوری نہیں ہوتی۔تیرے باپ نے تیرا بینک اکاوئنٹ کھولتے وقت تجھے یہ نہیں سمجھایا تھا۔ تو حرامی کیسا بزنس مین ہے کہ دھندے کی بیسک بات کا تجھے پتہ نہیں؟”۔

بات ابو مٹکے کے بھاؤ لگانے کی ہورہی تھی۔ وہ سر شام گھر آگیا اور ومبلڈن کا لیڈیز فائنل ٹی۔وی پر دیکھنے لگا جس پر اس کی بیوی نے صرف اتنا کہا کہ ” نانگی پونگی بائڑیوں نارن میں بوء مجو اچے تو آئیں کے”؟۔۔۔۔ (آپ کو ننگی پونگی عورتیں دیکھنے میں بہت مزہ آتا ہے) جس پر ابو مٹکے نے بہت آہستہ سے کہا کہ” چھوکری تو نار کے ڑا شاٹ مارے تی “(لڑکی تو دیکھ کیسے شاٹ مار رہی ہے)۔ٹینس کا اسکور لو۔ففٹین (Love-Fifteen)سے بھلے آگے اس کی سمجھ میں نہ آتا مگر وہ یہ ضرور جانتا تھا کہ اس کی مارٹینا ہنگز فائنل جیت رہی ہے۔

ان دنوں شہر جا بجا ہنگاموں کی زد میں تھا۔ مختلف مقامات سے جلی ہوئی اور بوری میں بند تشدد زدہ لاشیں، تواتر سے برآمد ہوتی تھیں۔ سارے شہر پر ایک نحوست بھرا خوف و ہراس کا عالم طاری تھا۔
رات کو، جب ابو مٹکا حاجی جُگاری کے بنگلے پر جانے کے لئے نکلا تو بیوی نے اسے باہر جانے سے روکنے کی بہت کوشش کی مگر جب اس نے بتایا کہ مائی کولاچی سے وہ سیدھا حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار والی سڑک لے کر نیچے حاجی کے پتایا ہاؤس پر چلا جائے گا تو وہ روٹ میپ سن کر مطمئن ہوگئی مگر پھر بھی کہنے لگی کہ وہ گھر جلدی لوٹ آئے۔ جس پر ابو مٹکے نے آنکھ مار کر جب اس سے پوچھا کہ” کیا ارادے ہیں؟۔۔۔” تو وہ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر اسی شرارت سے کہنے لگی “راکھ کے  ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری”۔۔۔

مٹکا حاجی کے بنگلے پر پہنچا تو وہ اکیلا بیٹھا اپنے حساب کتاب میں مصروف تھا البتہ بالو نے آج چپلی کباب بنائے تھے جو ان لوگوں نے املی، پودینے کی چٹنی اور ایک قیمتی شراب کے دو دو پیگ پیتے پیتے کھالیے۔ٹینس پر جوا اتنا عام نہ تھا لوگ زیادہ تر گھوڑوں کی ریس، کرکٹ اور فٹ بال میچوں پر بازیاں لگاتے تھے۔مٹکا اور حاجی ممکن تھا کہ دونوں ساتھ ہی نکل جاتے مگر آنٹی راحیلہ جس نے اپنی لڑکیاں قریب کے کسی بنگلے پر مجرے کے لئے چھوڑی تھیں،آگئی اور حاجی کے ساتھ بیٹھ کر پینے لگی۔

راحیلہ سے اس کی یعنی ابو مٹکے کی پہلی ملاقات لاس دیگاس امریکہ کے ایک کسینو میں ہوئی تھی۔وہ کراچی کے ایک نامور  بے رحم اور بے اصول ایس۔ پی سے جھگڑے سے تنگ آن کر وہاں امریکہ شفٹ ہوگئی۔ایک میمن سیٹھ اور سیالکوٹی ماں کی اولاد ہونے کے ناطے اس میں بھی کاروبار کے بڑے جراثیم تھے۔وہاں اس نے سب سے پہلے تو ایک ہندو سیٹھ سے یارانہ کرکے اس کے پٹرول پمپ کا کام سنبھالا اور جب یہ کام سمجھ آگیا تو خود لاس ویگاس شفٹ ہوگئی۔وہاں سے وہ مالدار عربوں کے لئے نوخیز امریکن، مکسیکن اور جزائر غرب الہند کی لڑکیاں بک کر کے مشرق وسطیٰ بھجواتی تھی۔
کراچی میں وہ جو ایس۔پی صاحب تھے ان کا بڑا طوطی بولتا تھا ایک محفل میں جب انہوں نے اپنے کچھ افسران اور وزراء صاحبان کو خوش کرنے کے لئے لڑکیاں منگائیں۔چونکہ وہ نوکری اپنی طاقت اور طاقت ور لوگوں کے احکامات کی اندھی بجا آوری کے بل بوتے پر کرتے تھے اسی لئے ان کا خیال تھا کہ راحیلہ بھی ان کی اس طاقت سے مرعوب ہوجائے گی۔ اس محفل عیاشی میں بھی انہوں نے ایک طاقت کا مظاہرہ کیا اور راحیلہ کو ان لڑکیوں کی رات بھر کی اجرت دینے سے منحرف ہوگئے۔راحیلہ بھی ایک حرّافہ تھی اس نے ان کے خلاف اپنے صحافی دوستوں سے اسکینڈل پر اسکینڈل چلائے ایک دو جج صاحبان سے بھی اس کی واقفیت تھی وہ ہر کیس میں جو ان سے متعلق ہوتا وہ بار بار طلب کرلیتے تھے۔انسپکٹر سے ایس۔پی کے عہدے تک انہوں نے بڑی سرعت سے  ترقی کی تھی۔لیکن اس ترقی کے سفر میں انہوں نے بڑے مقدمات قائم کیے تھے۔یہ رقم کی ادائیگی تو محض ایک بہانہ بن گئی در اصل ان کا ماتحت  اس راحیلہ کا یار، ایک سب انسپکٹر نذیر بھی تھا وہ اس کی خاطر گھنٹوں باہر گاڑی میں انتظار کرتی۔سب لوگوں کو حیرت ہوتی کہ اونچی سوسائٹی اور بااثر و رسوخ مردوں میں یوں اودھم مچانے والی عورت ایک معمولی سب انسپکٹر کے پیچھے یوں کیسے خجل خوار ہوگئی۔پیسے کے معاملات کو تو شاید وہ نظر انداز کرجاتی مگر جب انہوں نے راحیلہ کا بدلہ لینے کے لئے سب انسپکٹر نذیر کو تنگ کرنا شروع کیا تو اس عاشقِ بے خانماں نے پیار کے واسطے دے کر اسے ملک سے باہر چلے جانے کا کہا اور وہ سب کچھ بلیدان کرکے امریکہ چلی گئی۔ان دنوں اس کا نام وہاں کی نیشنیلٹی کی لاٹری میں نکل آیا تھا اور وہ جلد ہی گرین کارڈ کی حقدار ٹھہری۔
اس کی مٹکے سے ملاقات ان ہی دنوں وہیں پر ہوئی۔جب باقی تینوں دوست رمضان کے مہینے میں عمرے کے لئے چلے جاتے تو مٹکا چاند دکھائی دینے سے پہلے ہی لاس ویگاس پہنچ جاتا اور عید والی رات لوٹ کر آتا۔ یہ پچھلے دس سال سے اس کا معمول تھا۔
لاس ویگاس کو، ساری دنیا میں جوئے کا  دار الخلافہ سمجھا جاتا ہے اگر علامہ اقبال کا یہ شعر کسی کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ ع
مئے خانہء یوروپ کے، دستور ہیں نرالے
دیتے ہیں سرور اول، لاتے ہیں شراب آخر

اس کو ایک چکر لاس ویگاس کے کسی جوا خانے کو دلانا چاہیے  کس اہتمام سے   جوا خانہ کا کام ان لوگوں نے ایسا سحر انگیز اور پرفریب بنادیا ہے کہ جس طرح غالبؔ رقیب کے لبوں سے گالیاں کھاکر بے مزہ نہیں ہوتے تھے اسی طرح جواری ان جوا خانوں میں سب کچھ لٹا کر بے لطف اور کبیدہ خاطر نہیں ہوتے۔ ان جوا خانوں میں کہیں بھی گھڑی نہیں لگی ہوتی تھی۔ویسے تو راحیل بخاری جس کی دہلی اور بمبئی کے ائیر  پورٹس پر ہر دفعہ درگت بنی وہ کہتا تھا کہ جس پاکستانی کو پاکستان سے زیادہ شکایات ہوں اسے سرکاری خرچ پر بھارت ضرور بھیجا جائے۔ غربت، صفائیء،سیکولر ازم اور مذہبی رواداری اورنسوانی حسن کی فراوانی کے جو نظریات اس نے بھارت کی فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھ کر قائم کئے ہوں گے وہ اسی طرح غائب ہوجائیں گے جیسے فوج کے آتے ہی کچھ دنوں تک سیاستدان مطلع سیاست سے غائب ہوجاتے ہیں۔پاکستان واپسی پر اسے جنت دکھائی دے گا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ بمبئی میں اس کی ملاقات اپنی کسی دوست کے توسط سے بھنڈی بازار کی ایک ایسی بڑھیا سے ہوئی جو اب نانی دادی تھی اور فٹ پاتھ پر رہتی تھی وہ بتا رہی تھی کہ وہ پیدا فٹ پاتھ پر ہوئی،شادی فٹ پاتھ پر ہوئی، بچے سب فٹ پاتھ پر جوان ہوئے اور تیسری نسل میں اس کے پوتے نواسے بھی سب فٹ پاتھ پر ہی ہوئے۔

جس وقت ابو مٹکا کسینو میں جوا کھیلنے کے لئے داخل ہوا، شلوار قمیص میں ایک اسٹول پر چڑھ کر بیٹھی ہوئی راحیلہ نے جب سلاٹ مشین کا لیور کھینچا  تو وہ جو شیطان کی طرف سے جواری کو ہک بک اینڈ کک (Hook, Book and Cook)کرنے کے لئے ایک بگنرز لک(Beginner’s Luck) ہوتا ہے اس کی رعایت سے، ایک چھناکے کے ساتھ بے شمار سِکّے مشین سے جڑی بڑی سی ٹرے میں گر پڑے۔ راحیلہ جو اپنے ساتھ ایک نازک سا چھوٹا بٹوہ لائی تھی۔جب اس نے سّکے اس میں بھرنے کی کوشش کی تو وہ انتخابات کے موقعے پر اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی طرح چشم زدن میں بھر گیا۔مٹکا لپک جھپک کر گیا۔ کاوئنٹر سے ایک چاندی کا خوبصورت بڑا سا کفگیر اور ویسی ہی سجیلی بالٹی اٹھا لایا۔جس پر راحیلہ نے اسے بہت تشکر بھری نگاہوں سے دیکھا۔مٹکا اسے کاؤنٹر  پر لے گیا، جہاں اسے  ان سکوں کے عوض   نوٹ دے دئیے گئے۔

سلور بالٹی

جب اس نے انہیں گننے کی کوشش کی تو مٹکے نے اسے روک دیا کہ جوئے کی رقم کو گنا نہیں کرتے۔ اس نے جب  یہ بہت سارے نوٹ اپنے نازک سے بٹوے میں دوبارہ اڑسنے کی کوشش کی تو مٹکے نے کہا یہ لے کر مت گھومنا۔کوئی ہاری ہوئی چھوکری غائب کردے گی۔ایسا کر تُو اس کو ایک لفافے میں رکھ کر بند کردے اور ان کے لاکر میں چھوڑ دے۔ جب جانے لگے گی  تو لاکر سے نکال لینا۔اس صائب الرائے مشورے کو سن کر مٹکے کے کسینو کے ہر راز نہاں سے واقفیت کے اعلیٰ معیار کو دیکھ کر اس نے مذاق کیا کہ” ابوّ تو کیا پوکر ٹیبل (پوکر پانچ پتوں کا مشہور جوئے کا کھیل) پر پیدا ہوا تھا”۔مٹکا اس سے کہنے لگا “کسینو میں تیرے جیسے بہت سے بچے ہر رات پیدا ہوتے ہیں اور راتوں رات مر بھی جاتے ہیں۔ میں ان کی دائی بھی ہوں اور گورکن بھی”۔

کارڈ گیم

کچھ دیر میں وہ بے تکلف دوستوں کی طرح کسینو کے بار میں بیٹھے پی رہے تھے۔درمیان میں کئی واسطے مشترک نکل آئے تھے۔راحیلہ کی مرضی تھی کہ مٹکا اپنا سامان لے کر اس کے بڑے سے گھر میں شفٹ ہوجائے جہاں وہ دوعدد بلیوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی مٹکے کا اس سلسلے میں ایک واضح موقف تھا،ایک اصول تھا۔
اس نے ٹھان رکھی تھی کہ بیرون ملک، کبھی کسی رشتہ دار یا دوست کے گھر  جاکر مت  قیام کرو۔اپنے سفر کے اخراجات کو تین حصوں میں تقسیم کرو۔ پہلا حصہ ہوائی جہاز کا ٹکٹ۔دوسرا حصہ قیام کے اخراجات یعنی ہوٹل وغیرہ کے خرچے اور تیسرا حصہ آپ کی شاپنگ اور عیاشی کا۔اس میں دو حصوں پر یعنی ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور شاپنگ پر تو کوئی سمجھوتہ نہیں۔ یہ فکسڈ اخراجات ہیں اور آپ ہی نے برداشت کرنے ہیں علاوہ ازیں اس کے کہ آپ پرنس ولید بن طلال کے قریبی عزیز ہوں۔پھر اس ایک تہائی خرچے کو کیوں روگ بنانا۔ آپ روز تو سیر کو جاتے نہیں پھر اس ایک تہائی بچت کے لئے کیوں اپنی تعطیلات کا بیڑا غرق کریں۔آپ تو برسوں میں شاید کبھی امریکہ ،ٹورنٹو، لندن، سڈنی، ممبئی،یا کیپ ٹاؤن جائیں۔ ان عزیزوں نے ہر سال یہاں آنا ہوتا ہے اور پھر آپ کو ان کے نخرے، ناراضگیوں سمیت اٹھانے پڑتے ہیں۔یہ رشتہ دار آپ کو کبھی کسی ہوٹل میں لے جاتے ہیں تو ڈالر پاؤنڈ اور یورو کا شمار پاکستان کی کرنسی میں کرکے ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔دس ڈالر کا برگر اور کوک ان کے گلے میں کیکٹس بن کر چھبتا ہے۔ان کی وہاں کی مصروف زندگی میں آپ کا ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل ہوتا ہے لہذا بقول حمایت علی شاعر ع
ایسے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جی کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ، مشغلہء دل نہ بنا

جب آپ کسی دوست، عزیز،رشتہ دار کے گھر جا کر رہتے ہیں تو آپ اپنا حق آزادی اور ان کا حقِ پردہ داری Right of Privacy اپنی کنجوسی اور ناسمجھ کفائیت شعاری سے برباد کردیتے ہیں۔بچت صرف ایک تہائی رقم کی اور بے لطفی اور ممکنہ ناراضگی اور خلش عمر بھر کی۔لعنت بھیجیں ایسی مہمانداری اور رشتہ داری پر ۔دہلی کی عورتیں کہتی تھیں ”بھاڑ میں جائے وہ سونا نوج، جس سے ٹوٹیں کان“ یاد رکھیں یہ بہت ممکن ہے کہ آپ زندگی میں اس شہر یا مقام پر دوبارہ نہ جاسکیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ وہاں اس قدر کثرت سے نہ جاپائیں، جتنی سرعت اور تواتر سے وہ آپ کی طرف آتے ہوں۔بلا وجہ ایسے بندھنوں میں خود کو باندھنے کا کیا حاصل۔۔وہ جو پہلے کے لوگ کہتے تھے کہ اشرفیاں لُٹیں اور کوئلوں پر مہر۔(Penny wise and pound foolish) اس میں بڑا وزن تھا۔

اس نے البتہ راحیلہ سے وعدہ کیا کہ وہ جب جب بھی موقع ملے گا ضرور ملیں گے۔ یہ ملاقاتیں جاری رہیں، مٹکا اس کی دل سے عزت کرتا تھا۔ وہ اسے ایک دلیر اور دل والی خاتون مانتا تھا۔ اس کی خود اعتمادی کا دل سے   گرویدہ تھا۔جو تھی تو تیس بتیس برس کی مگر اپنے فٹنس کا خیال رکھنے کی وجہ سے بمشکل بائیس برس کی لگتی تھی۔ تعارف کے پہلے برس تو ان دونوں کے تعلقات کچھ واجبی سے رہے۔اگلے رمضان جب مٹکا دوبارہ لاس ویگاس پہنچا تو اسے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ راحیلہ ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوگئی ہے۔اسے بیک وقت دو بڑے نقصان ہوئے۔اس نے وسطی ایشیا کے ایک طاقتور خاندان کی عورت سے اپنی کاروباری شرکت بنالی۔ جس نے اس کے سارے گاہکوں کا رخ اپنی طرف سے منگوائی وسطی ایشیا کی خواتین کی طرف کرلیا دوسرے وہ کسینو میں جاکر دو تین دفعہ بڑے جوئے ہار گئی۔وہ ہندو سیٹھ جس سے اس کا بڑا یارانہ تھا وہ بھی اپنی دھرم پتنی اور بیٹی کے آجانے کی وجہ سے اس سے کچھ لاتعلق سا ہوگیا۔

مٹکے کو حیرت تو بہت ہوئی جب اسے راحیلہ کے چھوٹے فلیٹ میں منتقل ہونے کا علم ہوا ،جہاں دیدہ آدمی تھا جلد ہی سمجھ گیا ،دو ایک دفعہ اس نے پوچھا تو وہ ہنس کر ٹال گئی اور کہنے لگی کبھی کی راتیں بڑی کبھی کے دن بڑے۔ جب اس نے بہت زور ڈالا اور پوچھا کہ اس کا خرچہ کیسے چلتا ہے تو کہنے لگی “وہاں سے بھائی پیسے بھیجتا ہے۔اس کو میں نے کنسٹرکشن کے کام میں لگادیا تھا”۔مٹکے نے اسے صرف اتنا کہا کہ” اُدھر کا پیسہ اِدھر کب تک تیرا ساتھ دے گا۔اپنا روپیہ  تو انکے ڈالر کے سامنے کنکر ہے سالا”
پھرایک دن یوں ہوا کہ مٹکا بیمار ہوگیا۔ راحیلہ کو جب اس کی بیماری کا پتہ چلا تو وہ اسے زبردستی اپنے فلیٹ پر لے آئی۔اس کی خوب تیمارداری کی۔ایک شام جو وہ مٹکے کا سر اپنی گود میں رکھے اس میں آہستہ آہستہ انگلیاں پھیر رہی تھی مٹکے نے پوچھا کہ “تو شادی کیوں نہیں کرتی”؟؟؟
“کس سے کروں “؟۔۔۔۔۔راحیلہ نے اٹھلا کر پوچھا۔
“میرے سے کرلے”۔ مٹکے نے اس کا ردِعمل جانچنے کے لئے سرگوشی بھرے لہجے میں کہا۔

اس کی یہ بات سن کر راحیلہ کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ اسے علیحدہ کرکے سامنے پڑی  ہوئی آرام کرسی پر جابیٹھی اور سگریٹ کا لمبا سا کش لے کر کہنے لگی “یہ مٹکے تو نے میرا مان توڑنے والی بات کی۔میاں اور عاشق دونوں کو زبان اور جوتی پر رکھتی ہوں۔تجھے پتہ ہے کہ میں کون ہوں پھر تو نے ایسا کیوں بولا”؟ وہ ایک روانی سے بولتی رہی۔” اگر مذاق میں بولا تو معاف کرتی ہوں، دل سے بولا تو یہ اپن کی آخری ملاقات ہے”۔
مٹکے نے کہا” گھیلی(پاگل) میں نے تیرے من کی ٹوہ لینے کے لیئے مذاق میں بولا”
وہ کہنے لگی” تو میرا باپ بن سکتا ہے، بھائی بن سکتا ہے، بیٹا بن سکتا، سب رشتے نبھاؤں گی، بیٹی بن کر، بہن بن کر، ماں بن کر”
یہ کہہ کر وہ رونے لگی مٹکا  اٹھ کر اسے بہلانے لگا تو وہ کہنے لگی “میرے کو ایک پٹیالہ پیگ (شراب کا وہ پیمانہ جسمیں شراب چھوٹی انگلی کے برابر بھری جاتی ہے) بنا کر دے۔اس میں دو برف کی کیوب(ڈلیاں) بھی ڈال”۔مٹکے نے حکم کی تعمیل کی اور دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا کہ اس نے راحیلہ کے جذبات کا نادانستگی میں کونسا غلط سُر  چھیڑ دیا ہے۔
وہ آدھے سے زیادہ پیگ ایک ہی جرعے میں ختم کرگئی اور ٹانگیں اس کی گود میں رکھ کر کہنے لگی “تیرے کو پتہ ہے نا کہ میں کس نیچ کام میں ہوں۔مرد میرے کو اچھے نہیں لگتے۔دل سے اچھے نہیں لگتے۔میرے نزدیک دنیا کا سب سے خراب کام اپنے کپڑے دوسرے کے سامنے اتارنا یا دوسرے کا آپ کے سامنے کپڑے اتارنا ہوتا۔انسان اور جانور میں اللہ نے ایک فرق کپڑے پہننے کا بھی رکھا ہے۔میں مولوی تو نہیں، مگر مجھے اتنا پتہ ہے کہ جب انسان نے اللہ کی پہلی نافرمانی کی تو وہ ایک دوسرے کو ننگے نظر آنے لگے۔یہ جو لڑکیا ں میں مردوں کے پاس بھیجتی ہوں یہ میرے کو بتاتی ہیں کہ میڈم ہمارے اندر کی عورت اس وقت مرجاتی ہے جب ہم اپنا لباس اتاردیتی ہیں۔میں تیرے کو اور بھی بتاتی مگر ابھی فیصلہ کرکے بتا کیا بننا ہے میرا باپ ،بھائی کہ بیٹا”؟؟؟
مٹکے نے کہا “ضروری نہیں ہر رشتے کا کوئی نام ہو مگر میں تیری بات سمجھ گیا،میں نہ آج سے تیرے لئے مرد ہوں نہ تو میرے لئے عورت”

راحیلہ نے سوچا مہمان کو زیادہ تنگ کرنا مناسب نہیں۔ باتوں باتوں میں جب نشہ بہت تیزی سے چڑھا تو وہ بتانے لگی کہ اس نے تین مہینے میں پانچ لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے جس میں آدھے سے زیادہ تو وہ جوئے میں ہاری اور آدھے وہ عورت گلنارا ازبکستان والی کھاگئی۔
مٹکے کو، جب اس کی ان حرکتوں کا علم ہوا تو اس نے راحیلہ کو بہت ڈانٹا اور اس  سے وچن لیا کہ” وہ جب تک یہاں امریکہ میں ہے ایسے آڈے اولے (میمنی زبان میں اوندھے سیدھے) کام نہیں کرے گی ورنہ ان لوگ کا قانون بہت سخت ہے۔ تو کوئی واندھے(مصیبت) میں آگئی تو کوئی نہیں بچا پائے گا۔ادھر میں ایک نہیں، کئی مافیا کام میں ہیں۔ یہ سالے کولمبین مافیا والے تو آکھی(پوری) فیملی کا صفایا کردیتے ہیں۔تیرے کو کیا پتہ کہ  لاٹینو(لاطینی) چھوکری کے کس چکانے(امریکہ کے وہ باشندے جن کا تعلق میکسیکو سے ہے)سے سمبندھ (تعلقات) ہیں۔کون ڈرگ میں ہے؟ کس کا کیا بیک گراؤنڈ ہے؟۔ کوئی کالا بھیج کر تیرے کو ٹپکا (بمبئی کی زبان میں ماردینا)دیں گے۔ جب تو جوا جیت کر نکلے گی یہ سالا کندھے پر اسٹریو رکھ کرہاتھ ہلاتا ہوا زور سے میوزک بجاتا آئے گا اور تیرے کو زہر والی چھری گھونپ دیں گا۔۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔میوزک میں کوئی تیری راڑ(چیخ) بھی نہیں سن پائے گا۔ سب بولیں گے،تیرے کو مگ Mugکرنا چاہتا تھا تو نے پیسے نہیں دیئے تو He got frustrated and he killed (اس نے مایوس ہوکر تیرے کو مار دیا)۔آج تک کینیڈی کا قاتل سامنے نہیں آیا۔تیرے مرڈر کی کسی کو چنتا (فکر)ہوگی۔میں ادھر پندرہ سال سے ہر سال آتا ہوں آج تک کوئی واندھا نہیں ہوا۔اب کل سے میں تیرا نیا بندوبست کرتا ہوں۔یہاں کوئی بیٹھ کر نہیں کھاتا۔سب جان لڑاکر کماتے ہیں اور پھر موج کرتے ہیں تیرے کو کارڈ مل جائے تو واپس پاکستان چلی جا۔یہ تیرے جیسے لوگوں کے رہنے کی جگہ نہیں “۔

راحیلہ نے مٹکے کا بھاشن (تقریر) اتنی ہی دل جمعی اور تحمل سے سنا۔ جتنی سوجھ بوجھ سے وہ اس کی بات سن رہا تھا۔اگلے دن وہ دونوں جہاز میں بیٹھ کر نیویارک آگئے۔مٹکے نے راحیلہ کواپنے ایک اطالوی دوست جس کی نیویارک میں لانڈری سروس تھی اسکے پاس منیجر لگوادیا۔ساتھ ہی دو تین پاکستانی ہوٹلوں اور اسٹورز پر کریم مسوٹے کو کہہ کر مصالحے سپلائی کرنے کا کام بھی دلوادیا۔کام کچھ زیادہ بڑا نہ تھا مگر اس سے وہ کم از کم تین چار ہزار ڈالر دوڑ بھاگ کرکے بنالیتی تھی۔اس نے جوئے کی لت دور کرنے کی خاطر اسے سو ڈالر تک کے لاٹری کے ٹکٹ خریدنے کی اجازت دے دی۔راحیلہ نے مرد کا یہ چھتر چھاؤں جیسا روپ پہلی دفعہ دیکھا۔
دو تین سال بعد جب حکومت بدلی تو ایس پی صاحب کی طاقت کا چاند گہناگیا۔راحیلہ واپس کراچی آگئی۔اب اس کے دور حاضرکے اہل طاقت سے براستہ دوبئی اور امریکہ روابط بہت گہرے تھے۔وہ ان کی دلجوئی کا ہر دو خطوں میں بہت اہتمام کیا کرتی تھی۔ ان کے بہت سے قیمتی رازوں کی وہ امین تھی۔یہاں تو اس کے اثر و رسوخ کا کہنا ہی کیا۔اس نے واپس آن کر نذیر کو پہلے تو انسپکٹر بنوایا اور ایس پی صاحب کو معطل کراکر سال بھر سے اوپر بغیر کسی پوسٹنگ کے رکھا۔ایس۔ پی صاحب نے جاکر کراچی کے ایک ڈان کو مداخلت کرنے کی درخواست کی کہ وہ راحیلہ کو سمجھائے۔راحیلہ کے اپنے تعلقات بھی ڈان سے کافی گہرے تھے۔۔ایس۔ پی صاحب چونکہ شہرت ایک خود غرض اور مطلب کے یار قسم کے انسان کے  طور پر تھی۔ ان پر کم ہی لوگ بھروسہ کرتے تھے۔ لہذا جان چھڑانے کے لئے اس نے یہ کام حاجی جگاری کو سونپ دیا۔
حاجی نے ایک شاندار محفل مجرا منعقد کی جس میں اس نے راحیلہ کو خصوصی شرکت کی دعوت دی ورنہ راحیلہ اپنے کاروباری آداب کی روشنی میں عام طور پر محفل میں شرکت سے گریز کرتی تھی۔شومئی قسمت سے مٹکا جس وقت گاڑی سے اتر رہا تھا، ایس۔پی صاحب ہال میں داخل ہورہے تھے۔ راحیلہ ان کو وہاں دیکھ کر شدید بپھر گئی اور قریب تھا کہ کوئی بدتمیزی کرتی، مٹکے نے اسے کمر سے پکڑا اور باہر لے گیا۔سمجھا بجھا کر اندر لایا تو راحیلہ نے یہ ساری محفل اس کے قدموں میں بیٹھے بیٹھے بھگتائی اور چپ چاپ پیتی رہی۔مسوٹے نے جب اسے چھیڑا کہ کبھی “ہمارے پاس بھی آکر بیٹھو” تو وہ کہنے لگی کہ” مٹکے کا جوتا سر پر رکھ کر ناچ لوں گی مگر اس کی موجودگی میں کسی اور کے پاس نہیں بیٹھوں گی”۔ایس پی صاحب کو پہلی دفعہ پتہ چلا کہ اصلی عزت عہدوں میں نہیں دلوں میں ہوتی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ مقبول وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔

بات اس رات کی ہورہی تھی، جب مٹکے نے حاجی جگاری کے مارٹینا ہنگز کے ومبلڈن جیتنے کی شرط پر تیس ہزار روپے جیتے۔
مٹکا اس وجہ سے جیتی ہوئی رقم جیب میں ڈال کر،اکیلا ہی گھر جانے کے لئے روانہ ہوگیا اور جب وہ دو تلوار کلفٹن کے راؤنڈ اباؤٹ پہنچا تو ٹریفک چوکی سے کچھ ہٹ کر اسے ایک لڑکی کھڑی دکھائی دی۔جس نے اسے ہاتھ سے رک جانے کا اشارہ بھی کیا،مگر وہ آگے بڑھ گیا۔یہ جگہ بالخصوص اس کے سامنے والی زمزمہ بلے وارڈ پر اکثر ہیجڑے بھی لفٹ کے یا گاہکوں کے منتظر کھڑے ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے راحیل بخاری وہ اوکاڑہ کا ناہنجار مہاجر زمیندار، اس سڑک کو، زمزمہ بلے وارڈ کی بجائے Rue De La Hijra (فرانسیسی زبان میں شاہراہء ہیجڑا) پکارا کرتا تھا۔
مٹکے کے لئے نہ تو سڑک پر کھڑی ہوئی عورت میں ،نہ ہی ہیجڑوں میں کوئی دل چسپی تھی۔ ایسا ہوتا تو آنٹی راحیلہ کے ایک فون پر پتایا ہاؤس بہترین لڑکی پہنچ جاتی۔مگر جانے کیا ہوا اس پر شاید تیزی سے چڑھائے ہوئے دو پیگ کا اثر تھا کہ کوئی چھپی ہوئی جرات،کوئی دبا ہوا جذبہ یا تحریک سامنے آگئی اور اس نے گاڑی اگلے راؤنڈ اباؤٹ سے واپس موڑ لی۔اسے یقین نہ تھا کہ وہ لڑکی اب بھی وہاں موجود ہوگی۔ ممکن تھا کہ کوئی کار والا اسے اٹھا کر لے گیا ہو۔سڑک کے دوسری طرف سے اس نے جائزہ لیا اور ہاتھ ہلایا تو وہ ٹریفک چوکی سے ذرا اور دور ہٹ کر ہسپتال کے سامنے آگئی اور جب مٹکے نے کار کا دروازہ کھولا تو وہ جھٹ سے اس میں بیٹھ گئی۔مٹکے نے کار چلاتے ہوئے جائزہ لیا تو وہ ایک انتہائی عام سی شکل صورت کی سادہ سے لباس میں بس کچھ جوان سی لڑکی دکھائی دی۔ حاجی کے ہاں پی گئی شراب کے نشے کے لاکھ سرور میں ہونے کے باوجود مٹکے کے لئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وہ یہ کام ان انتہائی پرخطر حالات میں کسی شدیدمعاشی ضرورت کے تحت کررہی ہے نہ تو اس میں کوئی ادا تھی نہ ادا کاری، نہ لبھاؤ،نہ کوئی دکھاوا، نہ آرائش حسن۔بالکل انگریزی کے محاورے The Girl Next Door کا ایک پیکر بے بسی۔

کارجب کچھ دیر چلی تو مٹکے نے پوچھا کہ” کیا حکم ہے سرکار؟۔۔۔۔ تو وہ بالکل کاروباری لہجے میں کہنے لگی” جو کچھ کرنا ہے، کار میں ہوگا،میں کسی کی جگہ پر نہیں جاتی۔ ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس اور میرے چارجز ہزار روپے ہوں گے”۔مٹکے نے شرارتاً  اسے چھیڑنے کے لئے کہا کہ “ہزار روپے ایک گھنٹے کے وہ بھی کار میں۔ کچھ بہت زیادہ نہیں “؟۔۔
جس پر وہ بھی کچھ تنک مزاجی سے کہنے لگی کہ “کار تو بالکل نئی اور دل اتنا چھوٹا کہ ایک غریب لڑکی کو ہزار روپے مزدوری دیتے ہوئے جان جاتی ہے”۔
مٹکا اس کا یہ طعنہ سن کر کچھ محظوظ  بھی ہوا اور کچھ پشیمان بھی۔ کہنے لگا کہ” بس ہزار روپے کے لئے اتنا بڑا طعنہ دے دیا” یہ کہہ کر اس نے حاجی کی دی ہوئی رقم میں سے ایک ہزار روپے کا نوٹ کھینچ کر یہ کہہ  کر اس کے ہاتھ میں دے دیا۔”لے رکھ میری ماں۔ نام کیا ہے تیرا”۔
اس نے اپنا اصلی نام ثمینہ بتایا مگر نوٹ لینے میں اسے کچھ تامل ہوا کہنے لگی” آپ نے تو کچھ کیا بھی نہیں اور پیسے پہلے ہی دے دیئے”۔
مٹکا   ایک مصنوعی حیرت طاری کرکے کہنے لگا کہ” ارے اتنا کچھ تو تیرے ساتھ کیا”۔
لڑکی نے بھی حیرت سے پوچھا “وہ کیا”؟۔۔۔۔
مٹکا کہنے لگا” کسی نے تیرے کو ماں بولا آج تک، ہم میمن لوگ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو لاڈ میں ماں بولتے ہیں۔ ماں کی طرح ان کا احترام کرتے ہیں پر یہ بتا تو جو سڑک پر کھڑی ہوتی ہے  رات  کے اس  وقت تیرے کو ڈر نہیں لگتا کہ کوئی کاٹ کے پھینک دے گا تیرے کو۔شہر کے حالات تو جانتی ہے کہ نہیں، مرد باہر نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں “۔
ثمینہ کہنے لگی کہ” ایسی زندگی سے تو اچھا ہے کو کوئی کاٹ ڈالے تو میں اللہ کو پوچھوں گی کہ میرا کیا قصور تھا”؟۔۔۔
“نہ نہ۔اللہ کو ایسے نہیں بولتے۔ہم گناہگار لوگ ہیں اس کو چیلنج کرکے کہاں جائیں گے، مرکے بھی اس کے پاس ہی جانا ہے۔ اپنا کام دھندا کچھ بھی ہو اس کی بڑائی سے الجھنے میں بھلائی نہیں۔تو ایسا کیوں بولتی ہے۔کیسی زندگی ہے تیری۔ رہتی کہاں ہے؟” مٹکے نے ایک ہی سانس میں ہدایات اور سوالات کی بوچھاڑ کردی۔
” زندگی یہاں کون سی جنت ہے کہ وہاں دوزخ میں جلنے کا افسوس ہوگا”۔ وہ بدستور اپنا احساس محرومی اور دبا ہوا غصہ نکالتی رہی۔
“کچھ کھایا تو نے”؟۔ مٹکے نے سفر کاٹنے کے لئے پوچھا۔
“نہیں میں گھر جاکر اپنا کھانا خود گرم کرکے کھاتی ہوں، باپ جب تک کھانستا رہتا ہے اور ڈانٹتا رہتا ہے کہ آوارہ ہوگئی ہے۔رات کو دیر سے گھر   آتی ہے۔میں سر جھکاکر سنتی رہتی ہوں۔ کبھی ہنستی ہوں کبھی روتی ہوں۔ اسے کیا پتہ کہ چار آدمیوں کے  گھر کا خرچہ خالی چار گھنٹے کی ہسپتال کی نوکری سے نہیں چلتا”۔ثمینہ نے اسی روانی میں اسے اپنی کچھ روداد سنا ڈالی۔
مٹکے نے گاڑی ایک ایسے ریستورانٹ کی طرف موڑ لی جو اس علاقے میں تھا جو نسبتاً پرُامن تھا۔
ثمینہ کہنے لگی ” آپ نے کچھ کرنا نہیں تو میرے گھر کے پاس اتار دیں۔بلاوجہ مجھ سے فری ہونے کی کوشش نہ کریں “۔
کوئی اور مرد ہوتا تو اس طعنہ زنی سے تاؤ کھا جاتا مگر مٹکا انتہائی پر سکون انداز میں کہنے لگا “ارے میں نے تو بہت کچھ کرنا ہے۔ پر تو کچھ کھائے گی تو تیرا مستک ٹھکانے آئے گا”۔
انہوں نے کار میں ہی بیٹھ کر آرڈر دیا،ثمینہ سوچنے لگی کہ گاڑی اس نے دوسری گاڑیوں سے دور اس لئے کھڑی کی ہے کہ وہ شاید کچھ شرمیلا ہے۔ویٹر کے جاتے ہی جب اس نے اپنا سر اس کے کاندھے پر ٹیکنے کی کوشش کی تو مٹکے نے” اس کے سر پر ہاتھ پھیرا میری ماں یہ بتا کیا حالات ہیں تیرے گھر کے، اور دور ہوکر بیٹھ تجھے ماں اور بیٹی بولا ہے۔تو حرام ہے میرے اوپر”۔
اس نے بتایا کہ:باپ دو سال سے بیمار ہے ایک چھوٹی بہن ہے جس سے کزن شادی کرنا چاہتا ہے مگر نہ ان کے پاس پیسے ہیں نہ ہمارے پاس۔ بھائی اسکول میں پڑھتا ہے اور کسی جگہ کارخانے میں محنت بھی کرتا ہے۔ہم شاہ فیصل کالونی میں رہتے ہیں “۔۔۔۔۔۔کھانا آچکا تھا مگر مٹکے نے محسوس کیا کہ نہ اس کا  دل کچھ کھانے کو کر رہا ہے نہ ثمینہ کھانے میں کوئی رغبت دکھا رہی ہے، تو اس نے ویٹر کو آواز دے کر کچھ اور آرڈر دیا اور اس سارے کھانے کو پیک کرنے کو کہا۔
ثمینہ اس کی اس حرکت سے کچھ سراسیمہ سی ہوگئی اور کہنے لگی “کیا بتاؤں گی میں گھر والوں کو یہ کھانا کہاں سے آیا”؟۔۔۔
ان سے کہنا کہ” اللہ میاں کے  ہاں سے آیا ہے۔ سب کا رزق وہیں سے آتا ہے” مٹکے نے کہا۔
“تمہارے جیسے امیروں کا آتا ہوگا۔غریبوں کا  رزق تو اپنی جان مار کر اور عزت لٹا کر آتا ہے”۔ثمینہ نے اپنی ہرزہ سرائی جاری رکھی۔
مٹکا کہنے لگا میری ساس کہتی تھی کہ” اس کے ہاں ہاتھی کا بھی رزق ہے اور چیونٹی کا بھی”۔
“تمہاری ساس کو پتہ تھا کہ اس کا داماد ہاتھی ہے اور سڑک پر گاہک کے لئے کھڑی عورت چیونٹی”۔ثمینہ نے سرعت سے طنز کیا۔

“کتنے پیسے کما لیتی ہے۔ایک مہینے میں تو”؟؟؟ مٹکے نے پوچھا
“دس ہزار! اگر گاہک اچھے ملیں تو ورنہ سات ہزار تو ہوہی  جاتے ہیں۔چار ہزار نوکری سے ملتے ہیں “۔ثمینہ نے جواب دیا
“تیرا ڈاکٹر کچھ نہیں دیتا”۔مٹکے نے پوچھا۔
“نہ میں مانگتی ہوں نہ وہ دیتے ہیں۔ شہر کے بڑے ڈاکٹر ہیں، دن بھر میں لاکھ روپے کماتے ہیں تین چار آپریشن روز کرتے ہیں، بیوی گھر پر بھی بنارسی ساڑھیاں پہن کر گھومتی ہے۔ دیکھنے میں تو خبیث چڑیل لگتی ہے”۔ثمینہ کو لگتا تھا کہ سب ہی پر بہت غصہ ہے۔
“تجھے کیسے پتہ ہے کہ گھر پر بنارسی ساڑھیاں پہنتی ہے اس کی بائڑی” مٹکے نے پوچھا
“بائڑی یعنی کہ”؟؟؟؟ وہ پوچھنے لگی
“بائڑی یعنی کہ وائف ہماری میمنی میں “۔مٹکے نے مسکراکر جواب دیا۔
“ڈرائیور کو وہ زہر لگتی ہے جب بھی آتا ہے اسی کی کمینگی کی باتیں ہی کرتا ہے”۔ثمینہ نے وضاحت کی۔
جب ثمینہ کو اس کے  گھر کی گلی دکھائی دینے لگی تو اس نے کار روکنے کو کہا۔مگر مٹکا کہنے لگا نہیں وہ اس کے باپ سے ضرور ملے گا۔
وہ یہ بات سن کر گھبراگئی تو وہ کہنے لگا کہ “فکر مت کر میں کہوں گا۔میں مریض ہوں کلینک پر آیا تھا تو ڈاکٹر صاحب نے بولا کہ حالات خراب ہیں۔ آپ اس طرف ہی جارہے ہو تو اس کو گھر پر ڈراپ کردو”۔
ایک تنگ سی گلی میں یہ تاریک خستہ مکان تھا۔کنڈی کھٹکھٹانے پر ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔مٹکے کو یہ یقین آگیا کہ وہ اس کی بہن ہے۔ بھائی بھی کارخانے سے ابھی آیا تھا اور غسل کیلئے، دالان میں ٹارزن بنا تولیہ لپیٹے گھوم رہا تھا۔وہ ایک اجنبی کو بہن کے ساتھ دیکھ کر اپنے حلیے سے بہت شرمندہ ہوا۔مٹکے نے کھانے کی پارسل دیتے ہوئے ثمینہ کو کہا کہ” اب کھانا نکالو گی یا سب کو بھوکا مارنے کا ارادہ ہے”۔
ان سب کے لئے یہ انوکھا نظارہ تھا،لگتا تھا کہ انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ بہن جب کھانے  کے لئے پلیٹیں لینے گئی  تو مٹکے نے جیب سے بقایا انتیس ہزار روپے نکالے اور کہنے لگا” وہ جو ڈاکٹر صاحب ہیں نا وہ میرے کزن ہیں انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی بیٹی ثمینہ بہت ذہین ہے۔اپن کو اس کو آگے پڑھانا ہے۔یہ پیسے بھی انہوں نے بھیجے ہیں۔ اب یہ ایک دو دن میں نرسنگ اسکول جائے گی۔شام کو انگریزی سیکھے گی۔ ان کا کوئی دوست باہر بڑا ڈاکٹر ہے اس کو وہاں نرس بنا کر بھیج دیں گے۔ آپ کو ہر مہینے تیس ہزار روپے میرا منیجر ڈاکٹر صاحب کی طرف سے دے کر جائے گا۔پھر وہ جیب سے بٹوہ نکال کر کہنے لگا وہ کھانا لیتے وقت اندھیرا بہت تھا تو وہاں بٹوہ نکالنا سیف نہیں تھا۔ میں نے،ڈاکٹر صاحب والے پیسوں سے بل دے دیا۔یہ آپ کے پورے تیس ہزار روپے ہوگئے” ۔بھائی نہاکر آگیا تو سب نے مل کر کھانا کھایا۔   ثمینہ کو دل جمعی سے کھانا کھاتے دیکھ کر مٹکے  کو  لگا کہ مدتوں بعد اسے شاید کھانا  کھاتے وقت ڈانٹ نہیں پڑی۔نہ ہی اس کے والد کو کھانسی آئی۔
زیادہ تر گفتگو مٹکے نے ہی کی۔چلتے وقت مٹکے نے اس کے بھائی کو اپنا کاروبار کا پتہ اور فون نمبر وغیرہ سب دے دئیے۔
چند دن بعد ایس۔ پی صاحب کا فون آیا تو مٹکے نے اسے راحیلہ کو ہی کہہ سن کر کسی طاقتور جگہ پر حاجی جگاری کی سفارش پر لگوادیا۔
ثمینہ کے باقی پروگراموں پر بھی ہو بہو یوں ہی عمل ہوا جیسے مٹکے نے پہلی رات ان کے گھر پر بتایا تھا۔باپ نے ایک دن سرہانے  رکھی تھیلی سے کچھ کاغذات نکال کر بیٹے کو دئیے
یہ سرکاری قرعہ اندازی میں بہت پہلے کورنگی کے کسی دو سو گز کے انڈسٹریل پلاٹ کا الاٹمنٹ آرڈر تھا جس پر کے۔ ڈی۔اے (کراچی ڈیولپمینٹ اتھارٹی) کے محکمۂ اراضی یوں مزید کاروائی کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہاں بھینسوں کا ایک باڑہ بنا ہوا تھا۔
باپ جب تک دفتروں کے دھکے کھاسکتا تھا، وہاں کے چکر لگاتا رہا۔ یہ ہی ان کی عمر بھر کا سرمایہ تھا کیوں کہ پرائیویٹ ملازمت میں پنشن وغیرہ تو کچھ نہ تھی۔ثمینہ بھی باپ کے ساتھ جاتی تھی۔جوانی اس پر تازہ شگوفہ بن کر پھوٹی تھی.۔زمینوں کا کام جہاں ہو ان سرکاری دفاتر میں گدھ ہر طرف منڈلاتے ہیں۔ ایک دن جب کسی وجہ سے اس کے والد صاحب ساتھ نہ جاسکے اس کو ایک ملازم نے پھانس لیا اور اس کو جسم و جاں کے نئے ذائقوں سے آشنا کیا پھر یہ معمول سا بن گیا۔متاعء کارواں لٹی تو کارواں کے دل سے احساس زیاں بھی جاتا رہا۔
بہت جلد اسے پتہ چل گیا کہ مرد سب اپنی ہوس کے غلام ہوتے ہیں۔سرکاری دفاتر اور عدالت کچہریوں کے راز بند کمروں اور گندے بستروں پر کھلتے رہے۔بے حجابی اور بے شرمی ایک ایسا احساس ہے جو ایک دفعہ رخصت ہوجائے تو اس راہ پر چلنے والے کو اللہ جب تک ہدایت نہ دے، واپسی ذرا مشکل ہی ہوتی ہے۔
ثمینہ کی غربت اور مجبوری اس کی بے حجابی کا باعث بنی۔خالق سے اچھا اپنی مخلوق کو کوئی نہیں جانتا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورۃ النسا کی آیت نمبر اٹھائیس کی روشنی میں انسان کا کمزور اور قرآن کی دیگر آیات کی روشنی میں ظالم، جاہل اور جلد باز ہونا ظاہر کیا ہے۔اہل معرفت  اپنے سالکین کو عفو و درگزر کو اپنانے کے لئے ایک اہم تلقین کے طور پر سمجھاتے ہیں۔

دن گذرے کہ  عدنان ایک ایسے علاقے کا سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھا جس کی  حدود میں کراچی کی ہیرا منڈی۔ نپیئر روڈ بھی واقع تھی۔ بندہء کمینہ چونکہ بقول غالب کے اکثر ہمسایہ خدا بھی نکل آتا ہے تو تین گلیوں کے فاصلے پر ایک بڑے مولانا صاحب بھی جو جعلی دواؤں کے کاروبار میں اللہ کا نام لے کر خوب دولت کماتے تھے ان کا بھی آستانہء عالیہ تھا۔
عدنان کے دفتر میں ہر طرح کے لوگوں کی آوک جاوک   لگی رہتی تھی۔ایک دن صبح صبح ایک ٹھسے دار نائیکہ اس کے دفتر آگئی۔رات اس کے محلے میں دو لڑکوں کا جھگڑا ہوا تھا۔ پولیس نے دونوں کو نقص امن میں بند کردیا تھا اور ضمانت کے لئے اسے عدالت بھیج دیا تھا۔ساری عدالتی کاروائی کے دوران وہ اسے بہت غور سے دیکھتی رہی۔
عدنان کے اس سوال پر کہ” وہ عدالت کو کیا گھور کے دیکھ رہی ہے؟۔۔۔ کیا اسے پتہ نہیں کہ تیس سال سے بڑی عمر کی عورتوں کا مرد جج کو گھور کے دیکھنا، توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے”۔ یہ سن کر وہ بہت زور سے ہنسی اور کہنے لگی کہ ” اس کی پیشانی بہت روشن ہے”۔تب تک احمد فراز نے اپنی اس معرکتہ الآرا غزل کا وہ شعر نظم نہیں کیا تھا کہ ع
سنا ہے، آئینہ تمثال ہے، جبیں اس کی
جو سادہ لوح ہیں، اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
عدنان بات ٹالنے کے لئے کہنے لگا کہ” وہ تو بڑی سرد و گرم چشیدہ ہے اسے کوئی ایسی بات بتائے جو ہو تو اس کے پیشے کے حوالے سے پر ساری عمر وہ یاد رکھ سکے”۔ اسے ریڈرز ڈائجسٹ کے مشہور سلسلہ وار مضامین کے The Best Advice I Ever Had (میری زندگی کی بہترین نصیحت)ہمیشہ سے بہت پسند تھے۔ اس نے یہ سوال اس وقت وزیر اعظم اندرا گاندھی سے بھی کیا تھا جب ان کے گروپ کی ملاقات حضرت امیر خسروؒ کے عرس کے موقعے پر ہوئی تھی۔اس نے مسز گاندھی سے پوچھا تھا کہ ” وہ جس اعلیٰ مناصب پر فائز رہیں ہیں وہاں ان کا کسی سے متاثر ہونا تو کچھ ناممکن ہوگا”۔ جس کے جواب میں وہ مسکرا کر کہنے لگیں “یہ عجیب بات ہے سنجے بھی مجھ سے یہ سوال کرتا ہے،مگر یہ بات درست نہیں ایک سبق جو انہوں نے زندگی سے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نہیں جسے آپ کچھ سکھا نہ سکیں اور دنیا میں کوئی ایسا نہیں جس سے آپ کچھ سیکھ نہ سکیں “۔
اس اصول کی روشنی میں عدنان نے کئی دفعہ یہ سوال مختلف شخصیات سے پوچھا۔ اکثر تو بہت سطحی اور تجربات کی پختگی سے عاری جواب دے کر ٹال دیتے تھے مگر عدنان کو مسز اندرا گاندھی اور اس نائیکہ کا   جواب بہت پسند آیا۔
وہ نائیکہ عدنان کو بتانے  لگی کہ” ایک بات یاد رکھنا جس طرح غیرت کی کوئی انتہا نہیں اس طرح بے غیرتی کی بھی انتہا نہیں “۔
عدنان نے چائے کی پیالی اس کی جانب بڑھاتے ہوئے وضاحت چاہی تو کہنے لگی “اب کچھ غیرت مند بھائی اور باپ ہوتے ہیں جن کی بہن یا بیٹی کو  ایک فقرہ بھی غلط راہ چلتے کوئی شخص کہہ دے تو اس کا خون کردیتے ہیں۔ہمارے ہاں بھائی اور باپ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سجا کر اپنی بہن اور بیٹی کو چند روپوں کے عوض پیشہ کرانے کے لئے رات بھر چھوڑ کر آتے ہیں اور پھر صبح لینے بھی پہنچ جاتے ہیں اور پیسے بھی موقعے ہی پر گننا شروع کردیتے ہیں “۔ عدنان کو تجسس ہوا کہ اس سے پوچھے کہ” اس پیشے میں اسے بھی ایک عمر گزری کیا اسے بھی کبھی کوئی ایسی بات دیکھنے کا موقع  ملا جو اس کے نزدیک بے غیرتی کی انتہا تھی”؟۔

وہ کہنے لگی صرف ایک دفعہ۔ہوا یوں کہ ایک فیملی کو کہیں اپنے  بزنس کے لئے اندرون سندھ جانا پڑا۔رات گئے ان کی جواں سال بیٹی جو گھر پر اکیلی تھی اور تیسری منزل پر رہتی تھی میرے پاس رات کے پچھلے پہر آئی کہ ابو کا انتقال ہوگیا ہے۔میں نے تسلی دی کہ چادر ڈھانپ دے جو کچھ ہونا ہے اب تو صبح ہی ہوسکتا۔بڈھا ویسے بھی بیمار اور قریب المرگ تھا۔
صبح نو دس بجے کے قریب، جب میں اس کے گھر گئی تو فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا۔ میں خاموشی سے یہ سوچ کر اندر چلی گئی کہ ہوسکتا ہے رات یہ میرے پاس آئی تھی۔ واپسی میں درازہ بند کرنا بھول گئی ہو۔میں خاموشی سے آگے بڑھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک پلنگ پر باپ کی لاش چادر میں ڈھانپی ہوئی پڑی ہے اور باقی ماندہ بستر پر بیٹی اپنے عاشق کے ساتھ مادر زاد برہنہ اپنا منہ کالا کررہی تھی۔
عدنان کو قرآن الکریم کی سورۃ التین کی وہ آیت یاد آگئی کہ جسمیں اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں۔
“ہم نے انسان کو احسن ال تقویم (ثابت قدمی کی جرات اور تمکنت تخلیق کے ساتھ۔) پیدا کیا ہے مگر کچھ لوگ اپنے اعمالوں سے ذلت کی پستیوں میں جاگرتے ہیں “۔۔

ثمینہ کو وہ پلاٹ نہ ملنا تھا نہ ملا کیوں کہ اس پر کے ڈی اے کے اپنے ہی ملازم نے قبضہ کرایا تھا۔جس کا یونین میں بہت اثر و رسوخ تھا۔
یہ کاغذات جب ثمینہ نے مٹکے کو دکھائے تو اس نے کہا وہ ایک ہفتہ دے اپنے ابو سے پوچھ لے کہ” وہ اس کے عوض قیمت وصول کرنا چاہیں گے یا دوسرا پلاٹ”۔ وہ کچھ فیصلہ نہ کرپائے تو مٹکے نے خود ہی اس کا حل تجویز کرتے ہوئے کہا “پہلے قبضہ تو حاصل کریں پھر اللہ مالک ہے”۔
ایس۔ پی صاحب کو حاجی جگاری کے ذریعے یہ فریضہ سونپا گیا جنہوں نے پہلے تو اس کی اصلی فائل  تلاش کروائی  ،جسے وہاں کے ریکارڈ روم سے نکالنا کوئی آسان کام نہ تھا۔یہ گورستانِ فریب و فراڈ جسے وہاں ریکارڈ روم کے عمدہ نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ سونے کی ایک ایسی کان تھا جس پر وقت کی سیاسی قوتوں کے چہیتے ملازمین کی تقرری ہوتی تھی۔یہ لوگ دو نمبر کی فائلیں بنا کر نت نئے بکھیڑے کھڑے کردیتے تھے۔ان پر بینکوں سے قرض بھی لے لیا جاتا تھا۔ اس کام میں کئی گروہ باقاعدگی سے ملوث تھے۔
ایک طے شدہ منصوبے کے تحت، ایک رات راحیلہ کی فراہم کردہ کسی لڑکی کی مدد سے کسی وردات کے ذریعے علاقے میں اس اسکیم کے ایگزیکٹیو انجینئر  (ایکس۔ای۔این) کو پھانسا گیا۔۔ واردات کی پیشگی اطلاع کی رو سے جب ان کی کار پر ساحل سمندر کے ایک تاریک گوشے میں چھاپا مارا گیا تو انجنیئرصاحب نشے میں بھی تھے اور خاتون کے ساتھ   نیم برہنہ حالت میں پکڑے گئے تھے۔
رات تھانے میں گزارنے اور بدنامی کے خوف سے اس نے بہت جلد گھٹنے ٹیک دئیے۔ ایس۔ ایچ۔ او صاحب  کو  ایک معقول رقم کی وصولیابی کے بعد ایس۔ پی صاحب کو یقین دہانی
کرائی گئی کہ وہ تابعدار بن کر رہے گا۔ ایس۔پی صاحب نے اس کا میڈیکل کرانے کی بجائے کچا پرچا کٹوایا۔انہوں نے ایس۔ ایچ۔ او کو صرف یہ ہدایت کی کہ سرکاری ملازموں کی عزت ہم پر فرض ہے۔اس سے رابطے میں رہو۔ چار دن بعد ایس ایچ او نے ایکس ای این کو تھانے میں اس پلاٹ کی فائل بناکر لانے کو کہا۔
فائل بننے کے بعد تین دن میں وہ مٹکے کے دفتر پہنچ گیا۔
ایس پی صاحب کی مرضی تھی کہ کے۔ ڈی۔ اے کا ہی محکمہء انسداد تجاوزات وہاں جا کر کارروائی ڈالے مگر مٹکا رضامند نہ ہوا، وہ کسی قسم کی ہنگامہ آرائی اور مقدمے بازی کے چکر میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کہا کرتے تھے کہ جو شربت سے مرتا ہو اسے زہر دے کر مارنا کوئی دانشمندی نہیں۔نہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی طرح ایسی بے وقوفی کی کارروائی کرنا چاہتا تھا کہ فلسطین کے حماس والے محمود المبوح جیسے بے احتیاط مگر تنہا دشمن کو تیرہ مردوں اور ایک عورت کی ٹیم بھیج کر دوبئی جیسی کلوز سرکٹ کیمروں کی بھر مار والی جگہ پر مروادے۔

فلسطین کے محمود المبوح
موساد کی قاتل ٹیم
مشن پر موساد کی قاتل ٹیم
قاتل ٹیم ہوٹل کی لابی میں
لاس ویگاس

میمن کاروباری ہونے کے ناطے وہ اس سنہری اصول سے بخوبی واقف تھا کہ وہ دھندہ یا معاہدہ اچھا ہوتا ہے جسمیں دونوں پارٹیوں کو نفع کا احساس ہو۔ اس لئے انجینئر صاحب کی مدد خاص سے ایک باجی ادارے یعنی ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کے تعاون اور مشورے سے اس   پلاٹ کو نئی اسکیم میں کارنر کا نمبر دے کر پرانے پلاٹ کے نمبر سے بدلا گیا۔ اس کام کی مٹھائی انہیں، مٹکے نے جیب خاص سے پچاس ہزار روپے دی۔چونکہ انجینئر  اس سارے معاملے میں خود بری طرح ملوث تھا لہذا طے یہ ہوا کہ وہ خودیہ پلاٹ خریدے کہ بھینسوں کا باڑہ بھی اسی کا بٹھایا ہوا تھا۔۔مارکیٹ میں چونکہ قبضے والے پلاٹ کے دام کم تھے لہذا رو دھوکر وہ کچھ کم قیمت پر رضامند ہوا۔تین دن بعد وہ  پے آرڈر لے کر آیا تو اس سے یہ رقم وصول کرکے مٹکا سیدھا ثمینہ کے  گھر پہنچا۔ وہ عین اسی وقت اپنے نرسنگ اسکول سے گھر آئی تھی۔
مٹکے نے پوچھا کہ” اسکے ابو نے سرکاری اسکیم میں یہ پلاٹ کتنے کا خریدا تھا “تو اس کے ابو کہنے لگے کہ “تین ہزار روپے کا۔تب چینی چار روپے کلو تھی اور اب سترہ روپے، تب سونا پانچ سو روپے اور آج کل دس ہزار روپے ہے “۔مٹکا جسے حساب کتاب میں جواری اور میمن  ہونے کے ناطے بے وقوف بنانا آسان نہ تھا کہنے لگا کہ” سونے کے حساب سے اور چینی کے حساب سے آپ کے پلاٹ کی قیمت کل ساٹھ ہزار بنتی ہے”۔
جس پر ثمینہ کہنے لگی کہ” اگر وہ دو لاکھ روپے تک بھی نکل جائے تو بہن کی شادی آرام سے ہوسکتی ہے۔پلاٹ کا کیا ہے ابو، میں اور بھائی اللہ نے چاہا تو آپ کو نیا گھر لے کر دیں گے”۔
مٹکا کہنے لگا “پلاٹ پر قبضہ بھی ہے دو لاکھ تو نہیں مل سکیں گے ۔۔ہاں اگر منظور ہو تو ایک لاکھ بیس ہزار میں سودا تیار ہے”۔وہ دونوں باپ بیٹی کہنے لگے۔”یہ بھی بہت ہے”۔مٹکا کہنے لگا کہ “میں نے آپ کے کہے بغیر ہی سودا ڈن کردیا ہے یہ آپ کاغذات سائن کردیں “۔مٹکا کاغذات تیزی سے پلٹتا گیا اور ثمینہ کے والد جلد از جلد اتنی بڑی رقم یک مشت پچیس سال بعد ملنے پر کپکپاتے ہاتھوں سے اسے دعا دیتے ہوئے سائن کرتے گئے۔

مٹکے نے اس حوالے سے آخری مذاق کیا کہ” وہ اس پارٹی سے یہ پلاٹ دو لاکھ میں اٹھا کر ثمینہ کی آرزو پوری کرے گا۔لہذا اس کی طرف سے یہ دو لاکھ کا پے آرڈر ثمینہ کی نذر ہے۔ ثمینہ ویسے تو مٹکے کا   دیا ہوا ڈیتھ وارنٹ بھی نہ پڑھتی، مگر شاید اس نے زندگی میں اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا کوئی چیک یا پے آرڈر نہیں دیکھا تھا یا شاید اس پلاٹ سے وابستہ بار بار لٹنے کا ایک عجیب تلخ ذائقہ اس کی  رگوں میں آج بھی زہر گھولتا تھا۔ یوں اس نے رقم کی اس دستاویز کی صورت میں سامنے رکھے اس شکستہ آئینے میں اپنا روپ دیکھنا چاہا۔ پے آرڈر کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کو سمجھ نہ پائی کہ یہ انگریزی میں کیا رقم لکھی ہے۔ بہت ساری خواتین کو زیرو کا بھی کوئی زیادہ پتہ نہیں ہوتا۔اگر بہت فیشن پیٹی ہوں تو سائز زیرو کا البتہ ضرور علم ہوتا ہے۔امریکہ کی فیشن انڈسٹری اب اس بات پر متفق ہے کہ سائز زیرو 30-22-32 ہے۔اس طرح کی ماڈل کو نواب شاہ دادو اور میلسی کے لڑکے ۔۔ آتی ہے پون جاتی ہے پون معشوق بولتے ہیں۔۔

سائز زیرو کی ماڈل
سائز زیرو

وہ مٹکے سے معصومیت سے پوچھنے لگی “یہ بینک والے آج کل لاکھ کی جگہ ملین لکھتے ہیں ” تو مٹکے نے کہا “گھیلی (پاگل)تیرا پلاٹ دو لاکھ کا نہیں بیس لاکھ روپے کا بکا ہے”۔وہ
یہ سنتے ہی، دھم سے بستر پر گرگئی۔
رمضان کے دن تھے، لاس ویگاس میں مٹکے کی وہی راتیں۔آج ستائیسویں شب تھی۔مٹکا اپنے ہوٹل سے نہا دھوکر نکلا تو پام کسینو میں جانے کے لئے تھا۔وہاں اس کی اطالوی دوست نے بھی آنا تھا۔ پورے امریکہ میں مٹکے کا بس اس ایک عورت سے یارانہ تھا جو میلان اٹلی سے مٹکے کے شوق وصال میں اور جواء کھیلنے اس سے طے شدہ پروگرام کے مطابق لاس دیگاس ضرور ہر سال پہنچتی تھی۔ہوٹل کے باہر ٹیکسی روکی تو ٹیکسی ڈرائیور اسے حیدرآباد دکن کا مل گیا۔بننے تو کمپیوٹر انجنیئر آیا تھا مگر آج کل تعلیم سے کچھ لاتعلق سا تھا ۔اپنا نام اخبر(اکبر) بیگ بتا رہا تھا۔اپنے اس مسافر کی منزل مقصود کا سن کر بہت آہستہ سے مگر قدرے شائستگی سے کہا “کیوں صاحب بڑی راتاں ہیں آپ نماز نہیں پڑھنے کو کیا؟۔یہاں نئی جامع مسجد، ڈیزرٹ ان روڈ پر بنی ہے آپ نہیں گئے کیا وہاں “؟۔

لاس ویگاس کی مسجد

مٹکے نے اسے کہا “وہیں چلو آج اللہ پر بھاؤ لگاتے ہیں “۔
ڈرائیور یہ سن کر مسکرادیا اور قدرے سنجیدگی سے کہنے لگا۔
“اللہ پر میاں بھاؤ لگائے تو کبھی نہیں ہارنے کا۔ہم بھی ادھر ہی جاتے آپ کو واپس بھی چھوڑ دیں گے”۔مسجد میں بہت رش تھا۔۔۔۔۔
سحری تک وہ دونوں اپنی عبادت میں لگے رہے۔ وہیں سے سحری کی۔ مدتوں بعد مٹکے نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا۔ واپسی پر  اکبر میاں نے اسے جب اس کے ہوٹل پر اتارا تو وہ دونوں طرف کا کرایہ دینا چاہتا تھا مگر وہ انکاری تھا کہنے لگا” کیسا کرایہ میاں!!ہم تو آپ کو اللہ کے پاس لے گئے۔وہاں تک تو میٹر بھاڑا نہیں بتاتا۔وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ  قریب ہے”۔
مٹکے نے پھر بھی زبردستی یہ سوچ کر کہ شاید یہ مسلمان طالب علم ہو سو ڈالر کا نوٹ ہاتھ پر رکھ دیا۔وہ شکریہ ادا کرکے دعائیں دیتا ہوا چل دیا۔

ریسیپشن پر بی بی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی مٹکے نے اسے فخریہ انداز میں بچوں کی طرح بتایا کہ اس نے چالیس سال بعد روزہ رکھا ہے۔اس کے لئے یہ خیال کچھ بہت انہونا سا تھا۔مٹکے کے روزے، روزگار کا اسے کیا پتہ۔ مٹکے نے اس کے اس حوالے سے کافی سوالات کے جواب دئیے  اور جاکر کمرے کے باہر ڈونٹ ڈسٹرب کا اسٹیکر لگا دیا اور خود لمبی تان کر سورہا۔
جانے کیا لمحات تھے۔ کوئی خواب تھا کہ کوئی جلوہ، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ایوب  یعنی ابو عرف مٹکا مسکرارہا تھااور روح جسد خاکی کو چھوڑ چکی تھی۔۔یہ تاثر اس کے لبوں پر پہلے معائنے کے وقت بھی تھا اور دم تدفین بھی۔ جب کئی دفعہ فون کی گھنٹیاں بجنے پر مٹکے کے کمرے کا فون،جواب دینے سے قاصر رہا توہوٹل والوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
ایف۔ بی۔آئی کا وہ افسر جو مٹکے پر خصوصی نظر رکھنے کا ذمہ دار تھا وہ بھی لاش معائنے کے وقت پہنچ گیا۔ سب اس بات پر متفق تھے کہ  دوران ِاستراحت مٹکے کی موت ایک Massive Heart Attack سے ہوئی ہے۔ممکن ہے نیند کے دوران اسے یہ پتہ ہی نہ چلا   ہو کہ انشا جی کوچ کر رہے ہیں۔ ایف بی آئی کا یہ افسر مٹکے کے پیچھے اس وقت سے لگا تھا جب سے بلیک جیک(جوئے کا ایک کھیل) میں مٹکے سے بڑی رقم ہارنے والی کسی عورت نے حسد کے مارے اس پر بے ایمانی اور منی لانڈرنگ کا الزام لگایا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ راحیلہ کو اس نے لانڈری کے کاروبار میں ڈالا تھا۔اصل میں جب 1930؁ء کی کساد بازاری کے دوران اور شراب پر پابندی کے دوران اطالوی مافیا نے شکاگو میں سر اٹھایا تو انہوں نے اپنی دولت کوچھپانے اور اسے جائز ظاہر کرنے کے لئے لانڈری کا کاروبار کثرت سے اپنا لیا تھا۔ایک خیال ہے کہ  یہیں  ہے منی لانڈرنگ کی اصطلاح عام ہوئی۔

وہ افسر جسے اپنی تفتیشی صلاحیتوں پر بڑا ناز تھا۔ اس بات پر حیراں تھا کہ مٹکے کے چہرے پر ایسی اطمینان بھری مسکراہٹ کیوں ہے؟۔دل کے بڑے دورے میں تو بہت درد ہوتا ہے اور چہرہ کرب کا آئینہ بن جاتا ہے۔اس نے اپنی ساتھی افسر کو کہا کہ مجھے لگتا ہے” اس عورت کی اطلاع صحیح تھی اور اس نے کل رات چپکے سے کوئی بہت بڑی رقم کا پاکستان میں ہنڈی حوالہ کردیا ہے۔ جس کا ہمیں سراغ لگانا بہت ضروری ہے”۔ اس کی ماتحت افسر خاتون جسکا حس ِظرافت بڑا  کٹھور تھا۔اسے آنکھ مار کر کہنے لگی ” If this be so,then he is having last laugh at us.”(اگر ایسا ہی تو یہ ہماری آخری دفعہ ہنسی اڑا رہا ہے)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *