آخری قہقہہ۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط اول

ایڈیٹر نوٹ:    زیر مطالعہ طویل کہانی  ”وہ ورق تھا دل کی کتاب کا“ میں شامل ہے۔۔مکالمہ اس کتاب کی عام قاری تک عدم رسائی کے  باعث اسے یہاں شائع کررہا ہے۔
برا سمجھا جانے والے انسانوں میں بے نام فلاح انسانیت کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی اس کہانی کے ہر کردار کو مصنف نے اپنی افسری کے زمانے میں بہت قریب سے دیکھا،امید ہے دو اقساط پر مبنی یہ کہانی آپ کو بھی پسند آئے گی۔

ابو مٹکا،اب بھی کھارادر کے اسی فلیٹ میں اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ رہتا تھا جو اس کے باپ سے اُسے ورثے میں ملا تھا۔باقی بھائی تو اپنا حصہ لے کر عمدہ مکانات میں منتقل ہوگئے مگر اس نے پرکھوں کی اس جاگیر اور اپنے اس ماحول کو خیر باد کہنا مناسب نہ سمجھا۔یہاں وہ اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ رہتا تھا ایک بیٹا اعلی تعلیم کے لئے ان دنوں امریکہ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ہر بچے اور بیوی اور ماں کے لئے ایک کار موجود تھی۔تین ڈرائیور صبح صبح حاضر ہوجاتے، جنہیں اس کی ملازمہ کریمہ بائی ناشتہ بنا کر دیا کرتی تھی۔

کھارا در

مٹکے کے بڑے بیٹے، رافع سے عدنان کی بہت دوستی تھی، دونوں نے ایک ساتھ کسی کالج میں ایم۔ اے کرکے پڑھانا شروع کیا تھا۔رافع کو گھر پر باغی سمجھا جاتا تھا۔اس کی دنیا    میں معاشیات کے فلسفے اور اس کے حوالے سے جہاں بھر کی غربت تھی۔ جب کہ اس کے والد اور دیگر رشتہ دار غربت کے خلاف ایک بہت بڑا ذاتی جہاد،خود مالدار ہوکر کر رہے تھے۔بعد میں جب رافع کو موقع ملا اور وہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سان۔ڈیاگو چلا گیا اور وہیں کسی کوسٹا ریکن لڑکی سے شادی کرکے رچ بس گیا۔غربت کے سب حوالے سرمایہ داری کی اس جنت میں گم ہو کر رہ گئے۔تخیلات کی دنیا میں رہنے والے کئی ایسے افراد اپنا سرمایہء تخیل، آسودگی کی اس مئے ناب میں یوں ہی ڈبو ڈالتے ہیں۔
کالج سے فارغ ہوکر وہ دونوں ساتھ گھومتے تھے۔ ایک دن فریر ہال کے پاس ایک گلی سے گذر رہے تھے کہ انہیں وہاں بڑی خوش اندام خواتین عجیب زبان میں گفتگو کرتی ہوئی ایک پرانے سے مکان سے برآمد ہوتی دکھائی دیں، یہ سن ستر کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔رافع کہنے لگا کہ یہ فریر ہال کے جنوں کی لڑکیوں کے کالج کا ہاسٹل ہے۔عدنان نے اسے گھسیٹا اور کہنے لگا

ع یہ بات ہے تو چلو، بات کرکے دیکھتے ہیں۔

فریر ہال

دونوں اس بڑے سے بنگلے میں داخل ہوگئے۔ راہداری کے منہ پر ایک چھوٹے سے بورڈ کو پڑھ کر انہیں اندازہ ہوا کہ یہ تو فرانسیسی زبان سیکھنے کا مرکز ہے۔دونوں نے ایک ابتدائی لیول کا کورس چنا اور وہاں کھڑے کھڑے ان کا داخلہ ہوگیا۔
اس کلاس میں دو لڑکیاں ان کی ہم سبق تھیں۔ گلناز اور ریشم سیاں، گلناز کے بارے میں رافع نے اسے بتایا کہ وہ ایک میمن لڑکی ہے البتہ ریشم سیّاں کے بارے میں وہ اندازے ہی لگاتے رہے کہ وہ کون ہے؟
گلناز کا حسن سوگوار ایک دھواں دھواں سی شام لگتا تھا، بڑی بڑی آنکھیں اس کے الجھے الجھے بالوں میں اور پلکوں کی آڑ میں چھپے اداسی کے دو جزیرے لگتے تھے۔کلاس میں وہ بہت خاموش رہا کرتی تھی۔کلاس میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔اسکے برعکس ریشم سیاں، ایک آتش سیال تھی،چلبلی اور خوش مذاق،بتِ مغرور لیلیٰ۔چلتی تو لگتا کہ پوارا بدن لتا کا وہ گانا

؎ع میرا نام ہے چنبیلی،میں ہوں مالن البیلی، گارہا ہے۔

عدنان نے سوچا کہ ان دونوں   میں سے دوستی صرف ایک سے ہوسکتی ہے لہذا وہ فرسٹ سلپ پر بیٹسمین کی نادانی سے آنے والے کیچ کا مستعدی سے انتظار کرے۔ جب کبھی حاجی جگاری سے راحیل بخاری کبھی اس کی محفل ہائے مجرا میں کہتا کہ” حاجی تیرا آئٹم آج دوسروں کے پاس زیادہ ناچ رہا ہے” تو وہ آنکھ مار کر کہتا تھا” اڑے راحیل بھائی قبر کو صبر ہونا چاہیے، مردہ کہیں نہیں جائے گا”۔ دو تین دن عدنان اس سوچ میں رہا کہ ان دونوں میں سے کس سے دوستی کا موقع  تلاش کرے تو پھر نہاں خانہء دل سے آواز آئی۔۔ع
عاشق کے لئے یکساں ہیں، کعبہ ہو کہ بت خانہ
وہ خلوتِ جانانہ، یہ جلوتِ جانا نہ
انگریزی میں کہتے ہیں کہ “”The Devil you know is better than the devil you don’t know “(وہ شیطان جسے آپ جانتے ہیں اس شیطان سے بہتر ہے جسے آپ نہیں جانتے)۔اس کلیے کے حوالے سے اس کی توجہ کا مرکز گلناز ہوگئی۔

کلاس ختم ہوتی باقی لڑکیاں تو فوراً گھروں کا رخ کرتی تھیں مگر گلناز کیفے ٹیریا سے کسی مشروب کی بوتل خرید کر گیٹ کے سامنے سیڑھیوں پر کھڑی کھڑی پیتی رہتی ۔ اس کی نگاہیں اس دوران گیٹ کو تکتی رہتیں۔کچھ دیر بعد کہیں باہر سے کوئی نوکر نما آدمی آتا، اسے آہستہ سے کچھ کہتا اور وہ ہر دفعہ کسی نہ کسی مختلف کار میں بیٹھ کر روانہ ہوجاتی۔
نت نئی کاروں کا یہ تنوع اور اس کے پاس آکر اس ایک ملازم نما شخص کا کچھ کہنا سب ہی کے  لئے باعثِ تجسس تھا۔کسی نے اس  سے یہ راز جاننے  کی کوشش نہ کی ،کیوں کہ اس کی خاموشی اور لاتعلقی، دوریوں کا ایک حصار باندھے بیٹھی تھیں ۔اداس لوگوں سے ملنے میں یوں بھی لوگ اجتناب کرتے ہیں یوں وہ کچھ تنہا تنہا سی ہی رہتی تھی۔

ایک دن خلاف توقع ان کی ٹیچر نہ آپائی تو یہ سب ادھر ادھر جمع ہوگئے۔ گلناز بدستور سب سے علیحدہ ہوکرلان میں ایک کرسی پر جابیٹھی “.عدنان نے اسے میمنی زبان میں یہ پوچھا کہ” کیا وہ بھی میمن ہے”؟؟۔جس پر کچھ ہراساں سی ہوکر جواب میں،اپنی کونونٹ مارکہ انگریزی چلانے لگی مگر جب عدنان نے اصرار کیا تو وہ مان گئی۔عدنان نے جب یہ پوچھا کہ وہ ایک آدمی اس کے پاس ہر روز آکر کیا کہتا ہے کہ وہ مختلف گاڑیوں میں بیٹھ کر چلی جاتی ہے تو وہ بتانے لگی کہ یہ گھر کا ملازم ہے اسے پتہ ہوتا ہے  کہ اسے آج گھر سے کون سی گاڑی لینے آئے گی۔عدنان نے پوچھا کہ اس کے والد کیا کرتے ہیں تو اس نے بہت لجاتے ہوئے کہا کہ “We have a business empire”( ہماری ایک کاروباری سلطنت ہے)۔انہوں نے بہت دیر باتیں کیں۔اس نے جب عدنان سے پوچھا کہ “کیا وہ بھی میمن ہے؟ ۔۔۔۔ تو وہ شرارتاً کہنے لگا کہ” اس کے ابّو کے سارے سیٹھ، میمن۔ اس کی امی کی محسن سب کے سب میمن،اس کا اسکول اس کے دوست بھی سب میمن اور سوال پوچھنے والی بھی میمن”۔جس پر وہ کچھ شرما کر کہنے لگی “Oh you sound besieged and suffocated”(ایسا لگتا ہے کہ آپ کا دم بھی گھٹ رہا ہے اور آپ نرغے میں آگئے ہیں)
کچھ دیر بعد جب ان کی ملاقات ختم ہوگئی تو عدنان اپنی پرانی ٹرائمف تھنڈر برڈ چلاتا ہوا اس وقت رخصت ہوگیا جب وہ اپنے مروجہ طریقے سے کار میں بیٹھ کر روانہ ہوگئی۔ جلد ہی وہ بہت اچھے دوست بن گئے۔ دونوں میں مصوری، موسیقی اور کتابوں کا شوق مشترک تھا یوں گفتگو میں موضوعات کی کمی نہ رہتی تھی۔

ٹررائمنف تھنڈر 1975

عدنان کو حیرت ہوتی تھی کہ اس قدر مالدار لڑکی ہونے کے باوجود اس کے انداز اور لہجے میں غرور یا دولت کا کوئی حوالہ نہ تھا۔اس کا ارادہ یہاں سے فرینچ سیکھ کر پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے فرینچ ادب میں ایم۔اے کرنے کا تھا۔وہ کہا کرتی تھی کہ روسی ادب میں غربت کی تفصیلات اور حقیقت پسندی اور فرانسیسی ادب میں خیالات کی جدت اچھی لگتی ہے۔کسی بھی کتاب کا اگر صحیح لطف اٹھانا ہو تو اس زبان کو سیکھنا لازم ہوجاتا ہے جس میں وہ لکھی گئی ہے۔

سوبورن یونیورسٹی

وہ کہنے لگی اب قرآن ہی کو لے لیں۔اسے جب تک آپ عربی میں نہ پڑھیں وہ نہ تو اپنا اثر دکھاتا ہے نہ ہی اس کے صحیح معنی آپ پر آشکار ہوتے ہیں۔مختصر سی اس کتاب میں جو ہر انسان کے لئے اللہ نے ہر دور کے لئے ہدایت کا ایک لازوال حوالہ بنادی ہے کل دو ہزار الفاظ کی Vocabulary ہے۔ یہ الفاظ بار بار دہرائے جانے کی وجہ سے زیادہ لگتے ہیں۔ مثلاً لفظ قل(کہو،جتادو،بتادو،)۔ قرآن العظیم میں 1722 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ جب کہ لفظ حور کل چار مرتبہ شیطان،ابلیس اور ملائیک سے متعلق الفاظ کل ، 88، 88 مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں پانچ سو الفاظ جیسے ملائک، قیامت، یوم، نبی، رسول،ہدایت وغیرہ اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں عام ہیں۔ مسلمانوں کو ساری عمر میں صرف پندرہ سو الفاظ سیکھنے ہیں۔ اگر وہ تین الفاظ روز یاد کریں تو ڈیڑھ سال میں وہ قرآن بغیر ترجمے کے پڑھنے لگیں گے۔ وہ کہنے لگی اگر میں تمہیں کہوں کہ یوم کا مطلب آگ اور نار کا مطلب نیند ہے تو تم مجھے کہو گے گلناز تیرے میں ویسے تو کوئی برائی نہیں مگر تیری عربی درست نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں تمہیں تمہاری عربی سے واقفیت کے حساب سے پچیس فی صد قرآن کے معاملے میں بے وقوف نہیں بناسکتی تو جان من ساری دنیا تمہیں باقی ماندہ پندرہ سو الفاظ پر کیوں دھوکا دے رہی ہے۔
عدنان کے لئے یہ دو ہزار الفاظ کی لغت قرآن کا انکشاف نئی بات تھا۔وہ کہنے لگا کہ “قرآن کی عربی کچھ مشکل نہیں “؟؟

“نہیں یہ ان کے ہاں اپنی بلاغت کے اعتبار سے فصحیٰ کہلاتی ہے، دراصل یہ ان کو بدّووں کی زبان ہے مگر اسے آج بھی بولا اور سمجھا جاتا ہے اس اعتبار سے یہ ایک زندہ زبان کی کتاب ہے جب کہ وہ کتابیں جنہیں ہم مقدس سمجھتے ہیں سب کی   سب ان زبانوں میں موجودہ ہیں جو ان انبیاء کی اپنی زبان تو تھی ہی نہیں۔مثلاً حضرت عیسیٰؑ کی اپنی زبان شام کے علاقے حلب کے پاس مروج ایک بولی اسرانی زبان یا سریانی تھی جب کہ بائبل جو اُن کے دنیا سے پردہ فرمانے کے ساڑھے تین سو سال بعد مرتب کی گئی اس کا قدیم ترین نسخہ یونانی زبان میں موجود ہے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا ہم قرآن کا قدیم ترین نسخہ پشتو میں پڑھیں اور اسے اللہ کی کتاب مان لیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ رسول اکرمﷺ کو پشتو نہیں آتی تھی۔
اس کے برعکس مصحف عثمانی جو استنبول کے ٹوپ کاپی میوزیم میں موجود ہے یہ وہی نسخہ ہے جو رسول اکرم کی نگرانی میں ترتیب دیا گیا اور جسے شہادت کے وقت حضرت عثمان تلاوت فرمارہے تھے۔اس پر ان کے لہو کے دھبے موجود ہیں۔وہ اب اس کی زیارت صرف رمضان کے مہینے میں عام کرتے ہیں “۔

عدنان پوچھنے لگا کہ” وہ قرآن کی زبان کو بدّووں کی زبان کیوں کہتی ہے”؟
یہ میری نہیں حضرت عمرؓ کی وضاحت ہے” آپ کہا کرتے تھے کہ قرآن کو سمجھنا ہے تو کچھ دن صحرا کے بدّووں میں جاکر گزارو”۔ ہم نے ترجمے میں عربی کی اصل روح کو نہیں پکڑا مثلاً سورہ النسا کی ایک آیت ہے کہ الرجال قوامون علیٰ النساء جس کا ترجمہ ہم یہ کرتے ہیں کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں حالانکہ عربی لغت کی رو سے قوام روزی مہیا کرنے والے کو کہتے ہیں۔

اسی طرح سورہ البقرہ کی ایک آیت ہے ان اللہ مع الصابرین جس کاترجمہ عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اب ہمارے ہاں لفظ صبر ایک مجبوری اور حالات سے سمجھوتے اور بے کسی کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے جب کہ عربی لغت میں  صبر کے معنی مسلسل جدوجہد، جم کر کھڑا ہونا، یا ثابت قدمی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے’ الصبیر’ بادل کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو سارا دن سایہ فگن رہے۔ ‘الاصبیرہ ‘وہ ان اونٹوں اور بکریوں کو کہتے ہیں جو چراوہے کی مدد کے بغیر چرنے جائیں اور شام کو اپنے ٹھکانے پراطمینان سے لوٹ آئیں۔اگر کبھی مسافروں کی کمی اور زیادتی سے کشتی کا توازن بگڑ جائے تو ملاح ایک ہم وزن پتھر کشتی میں رکھ دیتے ہیں تاکہ اس کا وزن برقرار رہے۔ جسے وہ ‘الصّابور’ کہتے ہیں۔جب کسی کے پاؤں ڈگمگانے لگیں صبر سے اس کا توازن برقرار ہوجاتا ہے۔اس قسم کے عمل ِپیہم اورثبات و قرار کا نتیجہ کامرانی و کامیابی میں نکلتا ہے اسکے علاوہ وہ ‘الصبرۃ ‘غلے کے اس ڈھیر کو کہتے ہیں جس کے ناپ تول میں کوئی کمی نہ کی گئی ہو۔لفظ غلیظ عربوں  کے  ہاں موٹے کے معاملے میں  استعمال ہوتا  ہے ،جیسے’ جدار الغلیظ ‘موٹی دیوار جب کہ ہمارے ہاں لفظ غلیظ کے معنی گندے اور نجس کے ہیں۔

عدنان اس کی اس تشریح پر اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
کلاس کے ابتدائی دنوں تک تو رافع کا فرینچ سیکھنے کا جوش و خروش قائم رہا مگر وہ اپنا آئی۔ٹوئینٹی (امریکی یونی ورسٹیوں میں داخلے کا منظوری نامہ)منگوانے کے چکر میں اس نئی زبان سیکھنے سے بے گانہ سا ہوگیا۔ کالج میں البتہ ان دونوں کی روز ملاقات رہتی تھی۔
ایک دن یوں ہی جب پرانے کراچی کا ذکر ہوا,توگلنازنے کہا کہ اس نے وہ علاقے کبھی نہیں دیکھے۔اس کی بڑی آرزو ہے کہ وہ کسی کے ساتھ یہ علاقے بالکل عام لوگوں کی طرح دیکھے۔یہ عدنان کے لئے ایک طرح کا پینلٹی اسٹروک تھا۔(ہاکی یا فٹ بال کی وہ مہلت جو کسی فاش غلطی پر،مخالف ٹیم کو دی جاتی ہے اس میں کھلاڑی گیند تنہا گول کیپر کی موجودگی میں گول کے بالکل سامنے سے اندر پھینکنے کی کوشش کرتا ہے)اس نے کہا کہ ایک دن وہ کلاس سے غائب ہوجائیں گے اور وہ اس کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سارا شہر دیکھ سکتی ہے۔اسے یہ منصوبہ پسند آیا اور اس نے بہت آہستہ سے مسکرا کر کہا “That will be my Roman Holiday”(سن پچاس کی دہائی کی وہ مشہور فلم جس میں اداکارہ آرڈرے ہیپ برن نے شاہی زندگی سے بور ایک ایسی شہزادی کا کردار ادا کیا جس میں وہ محل سے ایک لانڈری کے ٹرک میں چھپ کر شہر پہنچ جاتی ہے جہاں ایک وجیہہ اخباری رپورٹر اسے لئے لئے سارا شہر عام لڑکی کی طرح،یہ جانے بغیر کہ اس کی رفیق شب ایک شہزادی ہے،گھماتا ہے۔ آرڈرے ہیپ برن کو اس فلم میں بہترین اداکارہ کا آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا)

کراچی،درسگاہ
فلم کا پوسٹر
رومن ہالی ڈے

اس نے کہا “اس کے ابو اور امی ایک ہفتے کے لئے ممبئی جارہے ہیں اور وہ نسبتاً آزاد ہوگی۔ وہ اسے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر یہ علاقے دکھا دے ویسے بھی وہ کبھی موٹر سائیکل پر نہیں بیٹھی
اگر وہ فارغ ہے تو۔ بس وہ ایک وعدہ کرے کہ ایک تو رافع کو کبھی بھی یہ راز نہیں بتائے گا اور دوسرے اس کی کسی حرکت پر اس دن وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گا”۔
عدنان نے دونوں وعدے بخوشی کرلئے۔گلناز مقررہ دن آئی تو اسے دیکھ کر عدنان کو بہت حیرت ہوئی۔گلناز یوں تو اپنے بدن کی ترش خراش کے حوالے سے بہت متناسب طور پرجابجا تقسیم تھی پر آج اس کا اہتمام ایسا تھا اور لباس بھی ایسا کہ دیکھ کر لگتا تھا کہ ان خطوط کا نمایاں نور یوں بجھ سا گیا ہے جیسے بعض دفعہ بجلی جاتے جاتے قمقموں کی روشنی بتدریج کم ہوجاتی ہے اور بچے کہتے ہیں “اے لو والتج دارپ (Voltage Drop)ہوگیا”

اس نے گلناز سے کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ” آج تو اسے دیکھ کر پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ آرہی ہے کہ جارہی ہے.ایسا لگتا ہے وہ کوئی استری کی میز ہے”تو وہ اسی شرارت سے کہنے لگی کہ “یہ اندر کا معاملہ ہے۔تم مرد لوگ ایک ونڈر برا اور اس کی کوکیز(Cookies) کی مار ہو”۔ جب عدنان نے پوچھا کہ “یہ کوکیز کیا ہوتی ہیں؟”۔ تو وہ خاصے عالمانہ انداز میں بتانے لگی کہ” وہ چھوٹے چھوٹے پیڈز (Pads) جو لباس کی تراش خراش کے حساب سے سینے کا ابھار نمایاں کرنے کے لئے برا میں لباس کی مناسبت سے اڑسے جاتے ہیں۔یہ اہتمام بالخصوص گاؤن پہنتے وقت کیا جاتا ہے۔یہ بڑے فیشن ڈیزانئیرز کے گاؤنز اور ہیروں کا ایک ہی معاملہ ہے۔ وہ کیا عدنان نے قدرے معصومیت سے پوچھا۔ وہ کہنے لگی وہی فور۔ سی والا یعنی گاؤن میں اور ہیروں میں،کٹCut،کلئیریٹیClarity، قیراطCarat اور کلرColor کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔عدنان نے کہا وہ قیراط کے علاوہ سب سمجھ گیا ہے تو وہ آنکھ مار کر کہنے لگی “ارے قیراط خاتون کے وزن اور فگر کا معاملہ ہے”۔ یہ جو مارلن منرو تھی بے چاری ٹشو پیپر میں خشک ڈبل روٹی کا ٹکڑا کولہوں کے درمیان دبا لیتی تھی۔جس دن اس نے صدر کینیڈی کی سالگرہ پر وہائیٹ ہاؤس میں جو قیامت خیز جلد کی رنگت کا گاؤن پہنا تھا اس میں بھی وہی فتنہ سامانی تھی۔

کوکیز
مارلن منرو
مارلن منرو
کینیڈی اور مارلن منرو لائف کے ک

جب وہ روانہ ہونے لگے تو گلناز کچھ دیر کے لئے ٹوائلٹ گئی اور واپس برآمد ہوئی تو اس نے ایک سیاہ گھونگریالے بالوں کی وگ پہن رکھی کی تھی جس سے وہ اپنی گہری سانولی رنگت کی وجہ سے بالکل کوئی ماڈرن افریقی خاتون لگتی تھی۔ موٹر بایئک پر بیٹھ کر اس نے ایک سیاہ چشمہ بھی لگا لیا اور اپنے پرس سے نابینا لوگوں کی ایک سفید چھڑی بھی نکال کر ہاتھ میں پکڑلی۔ اب وہ ایک ایسی نابینا خاتون لگ رہی تھی جو افریقہ سے آئی ہو۔
وہ کہنے لگی وہ سمندر کے کنارے مچھیروں کی کوئی بستی دیکھنا چاہتی ہے،عدنان اسے ابراہیم حیدری لے گیا۔ اس کے لئے غریب مچھیروں کی یہ بستی دنیا عجیب تھی مگر وہ اتنے لوگوں کی موجودگی میں اپنے نابینا پن سے خود ہی گھبراگئی۔بستی سے ذرا فاصلے پر انہیں ایک شخص روک کر کہنے لگا کہ اس کے پاس ٹھنڈی بئیر ہے۔جس پر گلناز نے پھٹ سے دام پوچھے اور چار ڈبے لانے کو کہا۔سمندر کے کنارے ایک ٹوٹی کشتی پر بیٹھ کر دونوں نے بئیر ٹکائی۔سمندر پر دور کہیں سورج غروب ہورہا تھا اور وہ اس کے کندھے پر سر رکھے ہلکے ہلکے سرور کا لطف لے رہی تھی۔

ابراہیم حیدری
ابراہیم حیدری

ان کا اگلا پڑاؤ شہر کا ایک  ایسا ہوٹل بنا جو ایک اہم کاروباری مرکز میں واقع تھا جہاں پائے اور نان بہت عمدہ ملتے تھے۔دونوں نے بیٹھ کر پائے کھائے۔ویسے تو وہ ہمیشہ کھانا کھاتے وقت چھری کانٹوں کا استعمال کرتی تھی پر آج پائے اور نان کھاتے وقت اس نے انگلیاں ڈبوکر کھانا کھایا عدنان نے اسے چھیڑا کہ اسے ہاتھ سے کھانا کھانا نہیں آتا تو وہ کہنے لگی اس کا یہ اعتراض بالکل درست ہے۔

پایا ہوٹلز

ہوٹل کے مالک نے اصرار کیا کہ وہ نابینا ہونے کے ناطے یہ غریب افریقی مہمان سے پیسے نہیں لے گا جس پر گلناز نے کہا کہ وہ عدنان سے ضرور پیسے لے۔وہاں سے وہ لیاری کے ایسے ہوٹل پہنچ گئے۔ جہاں ویٹر ناچتا ناچتا چائے لاتا تھا۔ گلناز کی مرضی تھی کہ وہ یہاں بھی بئیر ٹکائے مگر عدنان نے کہا کہ یہ جگہ اس طرح کی کارروائی کے لئے سیف نہیں، جس پر وہ اٹھی اور ایک آدمی سے چرس کا سگریٹ مانگ لائی۔ عدنان کو لگا کہ وہ بہت Bohemian سی لڑکی ہے۔جسے دنیا کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں۔چشمہ اتار کر وہ اسے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے ایک خاص انداز سے آنکھ مارتی تھی۔ اس کی ایک آنکھ اطمینان سے بند ہوجاتی تھی۔جب کہ نہ تو ابرو پر کوئی شکن آتی نہ دوسری آنکھ پر کوئی دباؤ، عدنان نے پوچھا کہ” اس نے یہ اندازکہاں سے سیکھا”؟۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی” لندن میں اس کی دوست جمیکا کی امیلڈا تھی جسے اس طرح سے آنکھ مارنے میں اور کھڑے کھڑے کولہے ہلانے میں ایک ایسا ملکہ حاصل تھا کہ سارا بدن اپنی جگہ ساکت رہتا تھا اور اسکے کولہے، ابلتے کھولتے پانی کی دیگچی میں آلوؤں کی طرح تھرکتے رہتے تھے۔۔بالکل اسی طرح وہ کندھے بھی ہلاتی تھی”۔

Wink
wink

ہوٹل والا فرمائش پر ریکارڈ بجاتا تھا۔ تب تک کیسٹس عام نہیں ہوئی تھیں۔بس 45 R.P.M کے ریکارڈ ہوٹلوں میں بجا کرتے تھے۔وہ عدنان سے کہنے لگی کہ اگر وہ فرمائش لکھ کر دے تو کیا ہوٹل والا یہ تین گیت بجا دے گا.۔ عدنان نے کہا “اگر موجود ہوں گے تو اس کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔”اس نے فلم سنگدل کے دو گانوں، دل میں سما گئے سجن اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی تیری ایک نگاہ پر نثار ہیں اور فلم پتیتا کا ایک گانا ‘یاد کیا دل نے کہاں ہو تم، جھومتی ہوئی بہار ہے کہاں ہو تم۔پرانے ہندوستانی گیتوں کو سننے کے لئے وہاں کئی گاہک آیا کرتے تھے۔یوں لیاری کا یہ ہوٹل پیرس کی مشہور شاہراہ شاں ایلی زے کی طرز کا روڈ سائیڈ کیفے تھا جہاں لوگ گھنٹوں ویسے ہی بیٹھے رہتے تھے جیسے ایک زمانے میں لاہور میں پاک ٹی ہاؤس میں ادباء اور شعراء کی محافل برپا ہوا کرتی تھیں۔

عدنان نے کہا کہ اسے پرانے گیت کیوں اچھے لگتے ہیں تو وہ کہنے لگی کہ “جب جوانی آئی تو ریڈیو کا بڑا غلغلہ تھا۔ ان گیتوں میں شاعری اور موسیقیت کی نغمگی بھی بہت ہوتی تھی۔وہ ریڈیو بہت کثرت سے سنا کرتی تھی۔یہ گیت یاد بن کر دل میں سما گئے ہیں بالخصوص اگر وہ غور کرے تو آخری گیت ع یاد کیا دل نے کہاں ہو تم، میں ایک لائن ایسی ہے کہ اس جیسی Sensual اور Romanticبات اس نے کبھی نہیں سنی۔ایک عورت کے سپردگی اور دلبری کا اس سے بہتر اظہار کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے عاشق کو یہ کہے کہ ع میرے لئے آسمان ہو تم”۔جب تک گیت بجتے رہے وہ عدنان کو ایک دلبری سے آنکھیں میچ کر تھرتھرائے  لبوں سے دیکھتی رہی۔ تازہ تازہ بنے اسکے اپر لپ پر پسینے کے قطرات کی ایک نمایاں سی لڑی مچل رہی تھی۔ عدنان کو ایک شعر اس لمحے بہت یاد آیا کہ ع
آتے آتے، میرا نام سا رہ گیا
ان کے ہونٹوں پر کچھ کانپتا رہ گیا

عدنان کا دل بہت چاہا کہ وہ اسے چومے، بے تحاشا چومے مگر یہ شاید ممکن نہ تھا وہ اس کے خیالات کو بھانپ کر کر کہنے لگی”Now You want a Quick Kiss. Don’t you???!!!(تم مجھے چومنا چاہتے ہو، ایک تیز جلد بوسے کے طلب گار ہونا؟!!!)

بوسئہ ہلاکت

عدنان نے اثبات میں سرجھکا دیا تو وہ کہنے لگی کہ” وہ اٹھے اورہوٹل والوں سے کسی تیز بلوچی گانے کا ریکارڈ لگانے کی فرمائش کرے۔واپسی پر ٓان کر اس کے پاس ٹھہرے اور جھک کر چوم لے۔وہ پرس کھول کر رکھے گی اور جھکے اس انداز سے جیسے وہ کچھ پرس میں تلاش کرنے میں اس کی مدد کررہا ہے۔ اس کی ٹائمنگ کا خاص خیال رکھے”۔ عدنان نے جب اسے چوما تو اس کے پسینے کی ملاحت اور لبوں کا لمس اس کے وجود میں سماگیا۔

جب ریکارڈ بجنے لگا تو ایک دو لوگ وہاں ناچنے لگے تو وہ بھی اپنی سفید لاٹھی سے ٹٹولتی ہوئی ان کے دائرے کے درمیان پہنچ گئی اور ان کی طرح لیوا(لوک بلوچی رقص)’بابل شری ریشمابہ ملے وش ملے بہ ملے ما شانت بیاں ‘ پر کرنے لگی جب استاد فیض محمد بلوچ کا دوسرا گانا لیلیٰ او لیلیٰ قطر بیراں لیلیٰ، مجاجیء لیلیٰ۔ شروع ہوا تو ہوٹل والوں نے اس سے کہا اس پر وہ عدنان کے ساتھ ناچے۔ ان کی فرمائش پوری کرنے کے لئے اس نے ایک آخری سونٹا چرس کا لگایا۔ عدنان کو کھینچ کر دائرے میں لے گئی اور یوں ناچنے لگی۔جیسے وہ ایک روڈ سائیڈ ہوٹل میں اجنبیوں کے درمیان نہیں بلکہ لیاری کے کسی گھر میں اپنی دوست کی مہندی پر ناچ رہی ہو ۔

استاد فیض محمد بلوچ
لیاری کے روڈ سائیڈ ہوٹل میں لیوا ڈانس

ہوٹل کے باہر یہ تماشا دیکھ کر کچھ لوگ جمع ہوگئے تو ہوٹل والا چیخ کر ان سے کہنے لگا “اڑے تم لوگ کی ماں بہن بھی تو ناچتا ہے گھر جاکر اس کو دیکھو ادھر پھارینرForeigner کو دیکھ کر کیا تم لوگ پاگل ہوگیا ہے۔ کسی کا مہمان کا تو عجت (عزّت) کرو”۔ رقص ختم ہوا  تو اس نے کاونٹر والے سے مانگ کر چرس کا ایک سگریٹ اور سلگا لیا اور تین سو روپے کے نوٹ بیرے کو دے کر جانے لگی تو عدنان نے ایک عجیب تبصرہ وہاں بیٹھے ہوئے ایک مکرانی بڑے میاں سے سنا کہ “واہ ڑے یہ تو اچھی اندھی عورت ہے، کسی سے ٹکراتی بھی نئیں تھی ناچ میں “۔
جس پر عدنان نے کہا کہ” افریقہ کی اندھی عورت، ادھر کی آنکھ والی عورت سے زیادہ دیکھتی ہے”۔عدنان نے اسے اس کے بنگلے سے ذرا دور اتارا، جس وقت وہ اترنے لگی اس نے عدنان کو گلے لگایا اور آہستہ سے کہنے لگی
Thank you Mr. Joe Bradley(فلم کے ہیرو گریگری پیک کے کردار کا نام)۔ جس پر عدنان نے اسے  تقریباً چومتے ہوئے کہا “یو آر ویلکم پرنسس این”(ہیروئن کا فلم میں نام)۔
اسی ماہ رافع امریکہ اور گلناز پیرس چلی گئی۔

بہت برسوں کے بعد عدنان کو گلناز بہت یاد آئی جب وہ بطور مہمان خصوصی ایک اسکول کی تقسیم انعامات کی تقریب میں شریک تھا۔وہ اس شہر میں کسی سرکاری دورے پر آیا تھا۔اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو وہ کسی تقریب میں کچھ عرصہ پہلے ملا تھا۔ اس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جب بھی ان کے شہر آیا ان کے اسکول ضرور پہنچے گا۔اسکول کی ایک سابقہ طالب علم،ان دنوں ٹی وی کی ایک مشہور اداکارہ بھی تھی وہ بھی مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کی گئی تھی۔بے چاری تقریب میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر کراچی سے صبح صبح وہاں پہنچی تھی۔عدنان تقریب شروع ہونے کے بعد پہنچا تب وہ ادکارہ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں انعام تقسیم کررہی تھی۔جامنی رنگ کا سنگل شولڈر ٹیونک،گلے میں سفید مفلر نما اسکارف جو بوٹ نیک Boat Neck گلے کی عریانگی کو چھپانے کی ناکام کوشش میں مصروف تھا، ٹیونک کے اوپر اس نے ایک چوڑا سا سفید چمڑے کا بیلٹ باندھ کر اپنے کولہوں کو ذرا زیادہ نمایاں کر رکھا تھا۔ اڑی اڑی رنگت کی چست جینز، وہ اپنی تقریر میں کہنے لگی کہ وہ سیدھی اپنی ڈرامے کی شوٹنگ سے آرہی ہے۔جتنی بھی نیند ہوئی ہے اس کی دوران سفر ہوئی ہے لیکن اسکول کی محبت اور اس میں گزارے ہوئے ایام کی معصوم سی کشش ایک ایسا بلاوا تھا کہ اس نے اپنے شاٹس جلدی جلدی رات کو ہی فلمبند کرالیئے۔۔بے چاری نے ذہین طلبا و طالبات کی بہت ہمت افزائی کی اور اپنی امی کی جانب سے ایک وظیفہ بھی اس کلاس کے اندر سب سے زیادہ نمبر لینے والی طالبہ کو دینے کا اعلان کیا جس کلاس سے اس نے پڑھائی چھوڑی تھی۔

اداکارہ جیسی

اس کے بعد عدنان کو تقریر کے لئے اسٹیج پر بلایا گیا تو عدنان نے کہا کہ ۔۔۔
معزز سامعین! اتنی حسین اور خوش پوش اداکارہ کو بہت دیر دیکھنے اور کچھ دیر سننے کے بعد آپ کو میرا بالکل نہ دیکھنا اور کچھ دیر سننا بالکل ایسا ہی ہے کہ آپ نے عمدہ آئس کریم کھانے کے فوراً بعد لاعلمی میں چھوٹی ہری مرچ چبالی ہو۔۔ ان کا اپنے اس شہر میں ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر آنا مجھے بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی اس یاد کی طرح لگتا ہے  جو انہوں نے اپنے اسکول کے ساتھی راجہ احمد علی کو دہلی بلا کر تازہ کی تھی۔راجہ جی نے من موہن جی کو پہلے تو طلے والی جوتی بجھوائی۔پھر کہنے گے کہ من موہن سنگھ جی کی فرمائش پر چکوال کے گاہ گاؤں میں حکومت پاکستان نے دو اسکول اور ایک ہسپتال بنوایا دیا ہے۔وہ ایک شیشے کے مرتبان میں گاؤں کی مٹی اور ایک سو چار سال پرانے رجسٹر سے ان کے اسکول میں داخلے کے اندارج کی تفصیلات فوٹو کاپی کی صورت لے گئے تھے۔مجھے امید ہے آپ کی یہ پرانی ساتھی اپنی یادوں کو یوں ہی قائم رکھیں گی اور آپ پر عنایات کے یہ سلسلے ان کی جانب سے یوں ہی جاری رہیں گے”

راجہ احمد علی،من موہن سنگھ

اداکارہ کے خطوط اور چہرے پر اداس آنکھوں کے سوئے سوئے سے جزیرے اسے گلناز کی یاد دلاتے رہے۔تقریب کے اختتام پرچائے کے  وقفے میں وہ اس    کے سامنے میز پر آن کر بیٹھی تو عدنان نے دیکھا کہ جب بھی اسکا وہ سفید اسکارف ادھر ہوتا اور ایسا اس کی سر کی جنبش سے بار بار ہورہا تھا۔اس لئے کہ اسکارف کوئی اہرام مصر تو تھا نہیں کہ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی جگہ جما رہتا اس کی سیاہ برا کا ریشمی اسٹریپ اس کے گورے کاندھے پر ایک خطِ استوا بنا گردن اور کاندھے کی حدود کو خوش نمائی سے اجاگر کررہا تھا۔عدنان کو ان دنوں انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ای میل راحیل بخاری نے بھیجی۔ای میل کا مضمون تھا کہ ‘گال سے گال’ ملا۔عدنان پہلے تو یہ سمجھا کہ اس نے اے آر رحمن کے مشہور گیت ع ‘دل یہ بے چین وے، رستے پر نین وے تال سے تال ملا’ کا کوئی ویڈیو کلپ بھیجا ہے اور انگریزی کے حرف ‘T’ کی جگہ وہ حرف ‘G’ غلطی سے ٹائپ کر بیٹھا ہے۔مگر اس ای۔ میل میں ٹی وی سے جڑی چند معتبر عصمت مآب خواتین اینکرز کی تصاویر تھیں۔
ایک بی بی جو یوں تو عوام الناس کے سامنے بہت لپٹی لپٹائی بیٹھتی تھیں کسی کالے گورے کے ساتھ اس اداکارہ جیسا ٹیونک پہنے ایسی سرمستی کے عالم میں ناچ رہیں تھیں کہ ان کے دونوں کاندھوں سے گریباں یوں سرک گیا تھا کہ بقول چچا غالب ع کوئی پوچھے کہ یہ ہے کیا تو چھپائے نہ بنے والا معاملہ تھا۔اسکے برعکس ایک دوسری بی بی جن کا پروگرام’ خبروں کی مار پیٹ’،بے حد مقبول تھا ان کی شعلہ بیانی اس وقت دیدنی ہوتی جب وہ کسی مولانا یا مذہبی ایشو پر بات کررہی ہوتیں۔آپ نے اگر بلیّوں کی فیملی کو ٹی وی پر The Big Cats Diary میں، جانوروں کا شکار کرتے دیکھا ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر،چیتے اور تیندوے تو سیدھے شہ رگ کو دبا کر جانور کو ہلاک کردیتے ہیں۔اسکے برعکس لکڑ بگھے(Hyennas) اور بھیڑئیے اور جنگلی کتے (Wild Dogs and Dingos)شکار کرتے ہیں تو ان کا غول، زندہ جانور کے ٹکڑے نوچتے ہیں اور اس کی تکلیف بہت ہی کرب ناک نظارہ ہوتا ہے۔

وائلڈ ڈاگ
لگڑ بگھے
لگڑ بھگے

یہ بی بی جو اپنے پروگرام کی تیزی اور تندی کی وجہ سے یہ تاثر دیتی تھیں کہ گویا گھر سے ہندوستان کے علاقے کیرالہ کی Bhut Jolokia لال مرچیں پھانک کر آئی ہیں (ان مرچوں کو بھوت اس لئے کہتے ہیں کہ دنیا کی یہ سب سے تیز مرچیں کھاتے ہی آدمی بھوت بن جاتا ہے۔جولکیا مرچوں کو کہتے ہیں)اور گرم توے پر بیٹھ کر سوال جواب کررہی ہیں۔ بالکل اپنے مخصوص مہمانوں کا یہ ہی حشر کرتی تھیں .اس ای میل کی ایک تصویر میں وہ بی بی،کسی کالے سفارت کار کے ساتھ اپنا سمرقند سے لایا ہوا گورا گال یوں ملا کر بیٹھی تھیں، گویا کسی غریب کی عو رت نے سیاہ توے پر ٹوسٹر کی عدم موجودگی میں رات کی ٹھنڈی ڈبل روٹی کا سلائس سینکنے کے لئے رکھا ہو۔ان کا اس تصویر میں اطمینان قلب دیکھ کر وہی غالب کا مصرعہ یاد آتا تھا کہ ع اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے۔ ان کے گال سے گال ملانے کے اس عمل میں کوئی کمرشل بریک نہ تھا۔

عدنان کے ساتھ اس تقریب میں شریک اداکارہ کے سامنے جب مہمانوں کی کتاب لائی گئی تو اس نے انگریزی میں لکھا “I am rely(really) impressed with what i see. Keep it up.I prey (pray) that the show must gone (go on)(میں نے جو کچھ یہاں دیکھا وہ بہت متاثر کن ہے۔اسے قائم رکھیں شو یوں ہی جاری رہے(۔یہ پھر بھی اتنی خوفناک بات نہیں۔ پاکستان میں گنتی کی چارفلمی اداکارؤں میں تین اکثر آپس میں لڑتی رہتی تھیں ایک دفعہ کسی شیطان صحافی نے انگریزی بولنے کی بے حد شوقین اداکارہ جسے ہر بات انگریزی میں جمع کے صیغے میں کرنے کی عادت تھی مثلاً No Good Mans Here, Our Film Industries has only one Good Directors۔اس سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس کی رقیب اداکارہ اسے نمبر ون نہیں مانتی تو اس نے کہا Forgets her no:1 and number last.She is son of bitch

وہ جن کی نمبر ون کی جنگ
مذکور ہے

(جاری ہے)

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *