میرا بے بی کدھر ہے۔۔۔۔فوزیہ قریشی

یہ اس وقت کی بات ہے جب میرا زکی ساڑھے چار یا پانچ برس کا ہوگا۔ بچپن میں ہی ہمیں یہ احساس ہوگیا تھا کہ اسے گلے اور ناک کا مسئلہ ہے کیونکہ دودھ ہضم نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔ آئے دن گلے میں ریشہ اکٹھا ہوجاتا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کے کان بھی لیکویڈ سے بھر جاتا تھا۔ ہر پندرہ، بیس دن کے بعد ڈاکٹرز کے چکر لگانے پڑتے تھے۔
ادھر کچھ ٹھنڈا کھایا،ادھر  گلا پکڑا گیا۔۔ چاکلیٹ کا بے حد شوقین تھا۔ چُھپ چُھپ کر چاکلیٹ اور فزی ڈرنکس نکال کر پیتا تھا۔ چاہے کہیں بھی چُھپا کر رکھو۔۔۔۔
جانے اسے کیسے خبر ہو جاتی تھی؟
اسی وجہ سے ہماری کوشش ہوتی تھی کہ اس کی پہنچ سے سب کھانے پینے کی وہ اشیاء دُور رکھی جائیں جو اس کے لئے نقصان دہ ہیں۔ اتنی احتیاط کے بعد بھی میرے معصوم کو اینٹی بائیٹک مل جاتی تھیں۔ ۔ڈاکٹرز کو شروع شروع میں سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ مسئلہ کیا ہے؟

میں ماں کی حیثیت سے کبھی کوئی  دیسی ٹوٹکا آزماتی کبھی کوئی۔ ہر طرح کے جتن کرتی کہ بس وہ کسی طرح سے ٹھیک ہو جائے۔۔۔
کبھی کلونجی کا تیل، تو کبھی زعفران، کبھی ادرک کا جوس، تو کبھی خشخاس گرم دودہ میں ڈال کر دیتی۔۔۔۔ جو کوئی بھی دیسی ہربل ٹوٹکا کہیں سے سُنتی یا  پڑھتی، اس کی پہلے مکمل تحقیق کرتی پھر اسی مقدار میں اس کو دیتی تھی۔ گلے پر کبھی وِکس کی مالش اور کبھی نیم گرم سرسوں کے تیل کا ہلکا سا مساج کرکے اس کے گلے پر نرم کاٹن کی ڈھیلی سی پٹی بھی باندھ دیتی تھی۔۔۔کبھی تیل اُس کی ناف میں ڈالتی تو کبھی لہسن کو کسی رومال کے ساتھ سیفٹی پن سے ایڈجسٹ کرکے اُس کی شرٹ کے ساتھ لگا دیتی کہ شاید  اسی کے اَرومے سے فرق پڑے۔

لیکن!! یہ سب کرنے کے باوجود بھی اُس کے ٹانسلز دن بدن بڑھ رہے تھے ساتھ ساتھ ناک کی ہڈی اور کان میں اکٹھا  ہونے والا لیکویڈ بھی۔
ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ اس کے تین آپریشن ایک ساتھ ہی کئے جائیں گے۔ ٹانسلز نکال دئیے جائیں گے اور گرومیٹ کے آپریشن میں کان میں ایک چھوٹا سا آلہ ڈال دیا جائے گا۔جس سے بچے کی سماعت پر اثر نہیں پڑے گا ۔یہ اس کا پہلا آپریشن تھا۔جس میں ایک ہی وقت میں کان ،ناک اور گلے کی سرجری کی گئی تھی۔

ذکی بہت چھوٹا تھا اور اس نے یہ سُن اور دیکھ رکھا تھا کہ جو بھی ہسپتال جاتا ہے یا جس کا بھی آپریشن ہوتا ہے تو اس کے اندر سے ایک پیارا سا بے بی نکلتا ہے۔
اتفاق سے اس کے بچپن میں کسی انکل کو ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔ اس لئے وہ سمجھتا تھا جس طرح سبھی آنٹیاں ہسپتال آپریش کے بعد بے بی لے کر گھر آتی ہیں۔ ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہوگا۔ مجھ سے  کبھی اس نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ مجھے اندازہ ہوتا کہ وہ آپریشن کے بارے میں اتنے عظیم خیالات رکھتا ہے۔

خیر خدا خدا کرکے اُس کی آپریشن ڈیٹ قریب آئی۔ وقت مقررہ پر آپریشن بھی ہوگیا۔۔اسے آپریشن تھیٹر سے اس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا جہاں آپریشن کے بعد مریضوں کو بے ہوشی کی حالت میں ، ہوش آنے تک رکھا جاتا تھا۔ میں باہر ویٹنگ ایریا میں منتظر تھی کہ کوئی خیر خبر ملے۔۔

آدھے گھنٹے بعد ایک نرس دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ آپ کے بچے کو وارڈ میں شفٹ کرنا ہے لیکن وہ ایناسیٹک حالت میں بھی آؤٹ آف کنٹرول ہے اور صرف آپ کو پُکار رہا ہے۔ میرا بیٹا بچپن میں بہت چِپکُو تھا ۔ سوتے ہوئے بھی اسے احساس ہوجاتا تھا کہ ماما اُٹھ گئی ہے تو جناب بھی اُٹھ جاتے تھے۔۔

رمضان کے مہینے میں جب میں سحری بنانے جاتی تو میرے اُٹھنے کے دس منٹ بعد ہی مُحترم کچن میں تشریف لے آتے تھے۔ اسی لئے جب نرس نے کہا تو مجھے ساری کہانی سمجھ آگئی ۔ مجھے اس جگہ لے جایا گیا جہاں سبھی مریض بے ہوش پڑے تھے سوائے میرے اس چِپکُو بیٹے کے۔۔۔۔۔۔ جو بڑا سا منہ کھول کر ماما ماما کر رہا  تھا۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ابھی گلے کا آپریشن ہوا ہے  اس کا،اور  اس طرح گلا پھاڑ پھاڑ کر رونا ٹھیک نہیں ہے۔۔ بقول ان کے اینا سیٹک کنڈیشن میں بھی یہ بچہ مکمل ہوش و حواس میں ہے۔۔۔۔میرا چِپکُو بھاں بھاں کرکے باقی ناک ،گلے اور کان کٹے مریضوں کو اپنی بھاں بھاں سے ہوش میں لانے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا۔۔
میں آگے بڑھی اور بیڈ کے ساتھ لگ کر اسے اپنی آواز اور پیار سے احساس دلایا کہ ماما اُس کے پاس یہیں ہے۔
نرس نے وہیل چئر منگوائی اور میرے بیٹے کو اس پر بٹھانے کی کوشش کی لیکن بچہ تھا کہ قابو میں ہی نہیں آرھا تھا اس مقصد کے لئے تین نرسیں بلوائی گئیں۔
لیکن!! نہ جی بھاں بھاں ہے کہ بڑھتی جارہی تھی۔۔
آخر تنگ آکر نرس نے کہا ایسا کریں۔۔۔۔ آپ چئر پر بیٹھیں اور اسے گود میں بٹھا لیں تاکہ اس کو احساس ہو کہ ماں پاس ہی ہے۔۔۔
ایسا ہی کیا گیا نرم و نازک پچاس کے جی وزن والی ماں نے وہیل چئیر پراپنا لختِ جگر منٹوں میں قابو کر لیا اور اسے اپنے سینے  سے لگا کر پُرسکون بھی کردیا ۔۔
جو تین سترستر کے جی والی نرسوں کے کنٹرول میں بھی نہیں آرہا تھا۔

ہمیں وارڈ کی طرف لے جایا جانے لگا۔ چئیر پر میں اور گود میں میرا بچہ تھا۔۔
جب مکمل طور پر پُر سکون ہوگیا تو اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ
ماما!! کیا میرا آپریشن ہوگیا ہے؟
میں نے کہا!! جی بیٹا۔۔ہوگیا ہے۔
پھر کہتا ہے کامیاب ہوا ہے میں اب بالکل ٹھیک ہوں نا۔۔۔۔
۔میں نے کہا!! ہاں میری جان سب ٹھیک ہوا ہے اور تم بھی ٹھیک ہو۔
پھر کہتا ہے ماما مجھے ابھی بھی درد ہو رہی ہے۔
میں نے کہا!! وہ تو ہوگی۔۔ آپریشن جو بڑا تھا۔
ہم ماں بیٹے کی کنورسیشن  وارڈ میں جانے تک جاری رہی ۔۔
کہ اچانک وہ کہتا ہے۔۔۔
اگر میرا آپریشن کامیاب ہوا ہے تو میرا بچہ کہاں ہے؟
سبھی آنٹیوں کے آپریشن کے بعد   بے بی ہوتا ہے نا تو میرا بے بی کہاں ہے؟

آپ یقین کیجئے کہ یک دم میری ہنسی نکل گئی اور میں نے ہنستے ہنستے کہا کہ آپ کے بے بی نہیں ٹانسلز تھے۔۔۔جو اب تک ڈسٹ بن میں پھینک دئیے گئے ہونگے۔۔
میری نان سٹاپ ہنسی پر بیک سائڈ سے پُش کرنے والی نرس پریشان ہوگئی۔۔۔۔
سوچتی ہوگی کہ بیٹا کم تماشا کرکے آیا ہے کہ اب اماں کو دورہ پڑگیا ہے۔۔۔۔
اس نے مجھے کہا کیوں ہنس رہی ہو؟
کیا کہہ رہا ہے؟
میں نے کہا !! کہہ رہا ہے کہ
مجھے ابھی اپنا بے بی دیکھنا ہے۔
یہ سننا تھا کہ نرس نے بھی اونچی آواز میں ہنسنا شروع کردیا اور اتنی کوشش کے باوجود بھی وارڈ میں پہنچنے تک ہم دونوں کی ہنسی کنٹرول نہیں ہو پارہی تھی۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *