آٹھ اکتوبر 2005۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

وہ ایک ایک کانام پکار کر کلاس سے باہر کھڑا کر رہے تھے، لمبی قطار میں لڑکے لڑکیاں سر جھکائے کھڑے تھے، کہ سر جمال علوی سامنے آئے اور اچھا خاصا بھا شنڑ دے کر باتوں ہی باتوں میں خوب لتاڑا۔ سر جھکے ہوئے تھے کچھ مزید جھک گئے، کچھ چہرے کھسیانی ہنسی ہنسنے لگے، مگرمیرا تو دل شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا۔ ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا۔ آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ بروقت فیس نہیں جمع کرا سکا تھا۔ مگر سر نے ایک آدھی بھی نہ سنی اور لاسٹ وارننگ دے کر نکال سکول کے گیٹ سے باہر کیا۔”سوکھی کے ساتھ گیلی بھی جلتی ہے“ آج سمجھ میں آیا تھا۔دماغ سائیں سائیں کر رہا تھاکہ کانوں میں آواز پڑی ”جاؤ اور جا کر ابھی ہی ٹیوشن فیس لاکر جمع کراؤ، جسکی بھی فیس بقایا ہوگی اسے امتحانی ہال میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔سب طلبہ و طالبات اپنی اپنی راہ چل دیئے۔ غائب دماغی سے چلتے ہوئے خلاف معمول آج میں سڑک والے راستے کو چھوڑ کر  براستہ ندی آگیا تھااور مجھے خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس راستے سے آنا خود کو موت کے منہ میں دھکیلنے والی بات تھی۔ چونکہ اس راستے پر کتوں کے چاک و چوبند دستے آنے والے کے استقبال کے لیے ہر وقت مستعد رہتے تھے۔ اور جب تک آنے والے کو دوڑا دوڑا کرتگنی کا ناچ نہ نچا لیتے جان بخشی مشکل تھی۔ میں نے اپنے ناتواں کندھوں پر کتابوں کا بورا بھی اٹھا رکھا تھا۔ سو سر پر پاؤں رکھ کے بھاگنا بھی محال تھا۔ خیر اب آگیا تھا تو چلتا رہا۔ مگر آگے کا منظر ہی عجیب تھا۔ آج کتے مجھے دوڑانے کی بجائے خود ادھر سے ادھر دوڑ رہے تھے۔ اور میری طرف بھونکنے کی بجائے کسی دوسری ہی سمت دیکھ کے بھونکے جارہے تھے۔بہت عجیب لگا کہ وہ کتے جو قصابوں کی دکانوں کی دہلیز پہ بیٹھے نظر آتے تھے آج وہ بھی اس بھاگ دوڑ میں شریک تھے۔۔۔

آگے بڑھا تو مختلف پرندوں کی آوازوں میں کوؤں کی کائیں کائیں نمایاں   انداز میں سماعتوں سے ٹکرائی، اور میں سوچنے لگا کہ یہاں تو صرف فاختہ،کوئل،چڑیا، مینا، کبوتر، اور طوطے  کی آواز یں سنائی دیتی تھیں ، کوے تو ان درختوں سے راہ فرار اختیار کر چکے تھے اور گھروں کی منڈیروں اور بالکونیوں پر بیٹھ کر عورتوں کی باتیں سنتے اور چھینا چھپٹی کرتے دکھائی دیتے تھے۔ آج یہاں کیسے؟ اور وہ درخت جن پر ہر وقت پرندوں کے جھرمٹ رہتے آج خالی خولی نظر آرہے تھے۔ پرندے غول درغول فضاؤں میں اڑ کر شور مچاتے نجانے خوشی کی نوید سنا رہے تھے یا خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے۔ مجھے یہ سب دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی، کچھ خطرے کا حساس تو ہوا مگر سر جھٹک کے چلتا رہا۔

جب بازار کے قریب پہنچا تو کوئی آواز سی سنائی دی جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ ایک گلی سے گزر ا جہاں تین تین، چار چار منزلہ عمارات تھیں۔ ایک لمحے میں کسی کی گرل اکھڑ کے زمیں پے آرہی ہے تو کسی کی چھت، کسی عمارت کی چادریں اڑ رہی ہیں تو کسی کے دروازے، کھڑکیاں۔ بس پھر کیا، قیامت کا سماں تھا۔ پیچھے مڑ کے جو دیکھا تو جو عمارت ابھی چند منٹ پہلے صحیح سلامت تھی، وہاں ابھی عمارت تو نہیں البتہ گردوغبار سے چیخ و پکار کی آواز ضرور آرہی تھی۔ کہیں کسی بلڈنگ کی اوپروالی منزل سے پانی کی طرح خون کی بوندیں ٹپک رہی تھیں تو کہیں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ روڈ پر بڑی بڑی گاڑیاں یوں ہل رہیں تھیں جیسے ہوا سے پردہ ہلتا ہے۔ میری یہ حالت تھی کہ”بدن کاٹو تو لہو نہیں“ جسم میں سے سکت ختم کہ اب گرا اور کب گرا،گلا خشک، آنسوؤں کی روانگی، آواز بند،لب سلے ہوئے،جاؤں تو جاؤں کہاں؟”آگے کنواں پیچھے کھائی“ والی کیفیت تھی۔ قیامت کا سماں تھا۔ زمیں تھی کہ تھرتھراہٹ سے تھکتی نہیں تھی۔ بڑی بڑی عمارتیں اور گاڑیاں جھولے جھول رہی تھیں۔ روڈ پر ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ہر کوئی اپنی جگہ پہ برف کی طرح جما ہوا تھا۔ چند منٹوں بعد ایک آدھ گاڑی سائرن کی آواز سے چیختی چلاتی پاس سے گزر جاتی۔سائرن کی آواز چیخ و پکار سے مل کر ڈراؤنی آواز میں بدل کر ماحول میں مزید سنسنی پھیلا رہی تھی۔ گاڑی گزرتی تو اپنے پیچھے خون کے نشان چھوڑ جاتی، جیسے کوئی گاڑی گزرے جس کی آئل ٹینکی کی لیکج کی وجہ سے آئل ٹپکتا ہو، آئل ٹپک جاتا ہے گاڑی گزر جاتی ہے نشان رہ جاتا ہے ایسے ہی روڈ پر دھبے دھبے نظر آرہے تھے۔ لاشوں اور زخمیوں کوطبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا۔ کچھ لوگ بارخ قبلہ کھڑے اذانیں دے رہے تھے تو کوئی اپنے پائنچے جھاڑ رہے تھے۔

میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ بہت سے سوال تھے جن کے جواب نہیں تھے۔ بے وقت کی اذانیں کیوں دی جارہی ہیں؟ لوگ پائنچے کیوں جھاڑ رہے ہیں؟ ہر طرف افراتفری، دھواں، اندھیرا،چیخ و پکار، آہو  بکا  کیوں ہے؟ کیا قیامت آگئی؟ کیا ان پرندو ں کو خبر ہو گئی تھی کہ بندہ انسان پر عذاب آنے والا ہے؟ کیا تب ہی انسانوں سے دو ر، وہاں پرندے اور جانور جمع تھے؟بہرکیف! میں گرتا پڑتا اپنی مطلوبہ جگہ پر والد محترم کے پاس پہنچا اور بھا ئی کو دیکھ کے ان سے چپک گیا۔ میرے گلے میں پھنسے کانٹے اور پھانس نکل چکا تھا۔میں دھاڑیں  مار مار کے رونا شروع ہوا۔ کبھی چھوٹی بہنوں کی فکر کھاتی تو کبھی بوڑھی اماں کی یاد آتی۔کبھی امی جان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا تو کبھی خون میں لتھڑے لوگ نظر آتے۔ میں قیامت دیکھ چکا تھا یا اب دیکھ رہا تھا۔ عجب خوف طاری تھا۔ مجھے ہر کسی سے ڈر لگ رہا تھا۔ میں بھاگنا چاہتا تھا مگر قدم جکڑے ہوئے تھے۔ کسی عمارت کے پاس سے گزرتا تو لگتا یہ ابھی مجھ پہ گرتی ہے۔ یہ بجلی کی تاریں ابھی مجھے اچک لینگی، زمین پھٹے گی اور مجھے نگل لیگی۔ سب کچھ بچا کھچا بھی ملیا میٹ ہونے والا ہے۔ اسی وحشت کے عالم میں دو بندے مجھے بازوؤں سے پکڑے لے جارہے تھے۔ راستے میں تین چار خواجہ سرا بیٹھے دیکھے جو آہ و زاری میں مشغول تھے۔ میں نے سن رکھا تھا کہ اگر خنثیٰ ہاتھ الٹے کر کے بددعا دیں تو وہ لگ جاتی ہے۔ اس وقت وہ ہاتھ الٹے کیے دعا مانگ رہے تھے۔ آنسوؤں کا ریلا تھا جو انکی آنکھوں سے بہہ رہا تھا۔

اللہ اللہ کر کے ہم گھر پہنچے، اب باقی ماندہ رشتہ داروں کی فکر ہوئی کہ نجانے وہ کس حال میں ہونگے؟ہم سب بخیریت تھے اور کھیتوں میں منتقل ہوچکے تھے۔ زلزلہ نے ہر طرف افراتفری مچا کر، مغروروں کے غرور کو خاک میں ملا کربلند و بالا عمارات، فلک بوس پلازوں،(جنہیں بناتے وقت یقینا کسی نے سوچا تک نہ ہوگا کہ اللہ کے ایک امر ”کن“ سے سب مٹی ہوجائے گا، فنا ہو جائے گا) کو سجدے میں گرا کر، اللہ کی وحدانیت کو چا سو پھیلا کر لوگوں کو بتا کر کہ ختم ہوجائے گا سب کچھ، صرف اللہ کا نام باقی رہیگا۔ جیسے کچھ لمحے پہلے جب سب ملیا میٹ ہو رہاتھا، کوئی کچھ نہ کر پایا، اپنی آنکھوں سے اپنی بنائی چیزیں مٹی میں ملتی دیکھ کر ہاتھ پاؤں نہ مارے کہ کچھ تو بچ جائے۔کچھ تو ہاتھ آئے مگر نہیں َ۔۔۔صرف اللہ کا نام بلند رہا، ہر طرف گونجتا رہا۔ زلزلے نے سنبھلنے کا کچھ وقت دیا تھا کہ بندے ابھی وقت ہے توبہ کر لے۔

ادھر گھر کے افراد سب جمع ہوگئے تھے۔”پی ٹی سی ایل“ خراب تھا تب موبائل بھی کم ہی کسی کے پاس تھا۔ اڑوس پڑوس کی خبریں آتی رہیں اور زلزلے کے جھٹکے بھی یکے بعد دیگرے  آتے رہے۔ شام ٹیلی فون لائن بحال ہوئی تو عزیز و اقارب کی خبریں آنا شروع ہوگئیں، کہیں کوئی زخمی تھا تو کہیں کوئی اللہ کو پیارا ہو چکا تھا۔ کہیں کسی کی لاش ابھی تک ملبے تلے دبی تھی تو کہیں کوئی ابھی تک گم تھا اور تلاش جاری تھی۔ مجموعی اعتبار سے بحمد اللہ خیریت رہی تھی۔ سب کوٹی بنگلوں والے اور کچے مکانوں والے کھلے میدانوں میں جمع ہوگئے تھے۔ سب پر یہ عقدہ وا ہو گیا تھا کہ کوٹھی بنگلے والا ہو یا پھر کچے جھونپڑے والا سب نے ایک دن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے یوں ہی بارگاہ رب ذوالجلال میں جمع ہونا ہے۔ مساجد اور خیر کے مراکز آباد ہوچکے تھے۔ لوگ اذان کی آواز پہ کچھے چلے آتے تھے، کچھ دن یہ سلسلہ رہا، مساجد آباد رہیں پھر آہستہ آہستہ لوگ دور ہوتے گئے۔ انسان غافل ہے، جوں جوں دن گزرتے گئے غفلت کے بادل سایہ کرتے رہے اور لوگ غفلت کی چادر اوڑھ کے اللہ تعالیٰ کو بھول بھال کے اسی پرانی ڈگر پہ چل پڑے۔ اور دنیاوی آسائش و آرام کی کوششوں میں جت گئے تھے۔ اب مسجدوں میں پہلے جیسا جم غفیر تو نہیں ہوتا تھا البتہ کچھ لوگ باقاعدگی سے آنا شروع ہوگئے تھے۔ زلزلے کے جھٹکے اب بھی ہوتے تھے۔ رات کے کسی پہر، کبھی دن میں کسی پل، یاد دہانی ضرور کرائی جاتی تھی کہ: ”اے غافل انسان! اپنے رب کی طرف رجوع کر، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“

مجھے لگتا تھا اب لوگوں کو زلزلے سے دوستی ہوگئی اور لوگ زلزلے کے جھٹکوں سے مانوس ہوگئے۔ پہلے پہل جب زلزلے کا ہلکا سا جھٹکا لگتا سب لوگ بھاگم بھاگ کھلی فضا کا رخ کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں تھا، اب ڈر ختم ہوگیا تھا۔ان ایام میں بھی ہم دادا جان کی معیت میں بنچ قتہ نماز کے لیے مسجد جاتے تھے۔ اور ہمارے ڈر کو ختم کرنے کے لئے دادا جان بار بار شہادت کی موت کو یاد کرتے اور ساتھ یہ بھی بتاتے کہ نماز میں بھی کوئی آسمانی آفت کی وجہ سے مر گیا وہ شہید مرے گا، اور جنت میں جائے گا۔ یہ اس لیے بتاتے تھے کہ ہم  ذرا سی کوئی آواز سنتے تو ڈر کے بھاگ جاتے تھے۔اور دادا جان غصہ فرماتے کہ نماز کے ساتھ مذاق کرتے ہو، بے ادبی ہوتی ہے وغیرہ۔ سو اب کم از کم ہم نماز سے بھاگتے نہیں تھے ایک ذہن سا بن گیا تھا کہ نماز میں اگر موت آبھی گئی تو شہید مریں گے، اللہ پاک راضی ہونگے۔ یوں دن گزرتے گئے غفلت سروں پہ منڈلاتی رہی اور موقع ملتے ہی اپنے شکار کو پھانس کے ا چکتی رہی، اور عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے کے مصداق جھٹکے بھی ہوتے رہے۔

ایک بار مغرب یا عشاء کی نماز میں نمازیوں کی دو صفیں تھیں، ہم بھی جماعت میں شریک تھے، اور اتفاقاً  میں دادا جان کی بغل میں تھا کہ سجدے میں گئے ہی تھے کہ زلزلہ ہوا، اور وہ اتنا شدید تھا کہ پہلے دن کی یاد تازہ ہوگئی۔اب سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کروں تو کیا کروں، ڈر سے جان نکلی جارہی تھی۔ بھاگا تومیری نماز میں خلل تو پڑے گا دادا جان کی نماز بھی خراب ہوگی، دادا جان سے ڈانٹ الگ پڑے گی ۔ سو ڈٹا رہا، اور سجدہ اتنا طویل ہوگیا تھا کہ امام صاحب اٹھنے کانام ہی نہیں لے رہے، لوگ متواتر کھانس رہے تھے کہ شائد امام صاحب بھول گئے یا کچھ، مگر ناں جی۔۔۔
آخر صبر کا پیمانہ لبریز ہوا، سر جو اٹھا کے دیکھا تو پہلی صف میں کھڑے چند بوڑھوں کے علاوہ سب غائب تھے۔ زلزلے کا جھٹکا ہوتے ہی سب بھاگ نکلے تھے اور جو لوگ بچے تھے وہ بھی امام صاحب کی وجہ سے کہ امام صاحب نہیں گئے ہم کیوں نماز توڑ کے جائیں؟ مگر امام صاحب توپہلے ہی نکل گئے تھے اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی تھی۔بہرحال دادا جان میرے نہ بھاگنے پہ بہت خوش ہوئے تھے، اللہ پاک انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں۔

8 اکتوبر 2005 رمضان المبارک کا مہینہ ایسا یادگار ثابت ہوا کہ اب بھی کسی وقت یاد آجائے یا کوئی زلزلہ کا نام لے لے تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بے ساختہ دل تشکر آمیز ہو کر، زبان ذکر خداوندی میں مشغول ہو کر خدا کا شکربجا لاتی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے میری و میرے اہل و عیال کی حفاظت فرمائی۔“ تب ہی مجھے پتاچلا کہ زلزلہ کیا ہوتا ہے؟ یا زلزلے کیوں آتے ہیں۔ اس سے پہلے تو میں سمجھتا تھا: ”کہیں بھینس کے کروٹ بدلنے سے زمین ہلتی ہے اور زلزلہ ہوتا ہے۔“ جبکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارے ہیں۔ جنہیں ہم اشرف المخلوقات تو نہیں سمجھتے مگر بے زبا ن چرند پرند سمجھ جاتے ہیں۔ وہ اشارے کو سمجھ کر اپنے گھونسلوں کا، ککڑ بٹیر اپنی کوٹھڑیوں کا رخ کرتے ہیں کہ رات ہونے والی ہے۔ نہیں سمجھتے تو صرف ہم انسان۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آٹھ اکتوبر 2005۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *