• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لیا درس نسخہء عشق کا(ادھر اُدھر کی باتیں)۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

لیا درس نسخہء عشق کا(ادھر اُدھر کی باتیں)۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

وہ ہم سے ایک دن پہلے اسکول میں داخل ہوئی تھی۔ فرح نیسنی نام تھا   مگراس نام کا کوئی تعلق انگریزوں سے نہیں ،نینسی گجراتی بولنے والے کاروباری لوگ ہیں۔
ہم دونوں کا معاملہ بھی عیسائیوں کے اس مدرسے Convent of Saint……میں وہی تھا جو امام احمد بن حنبل اور ابن الہثیم (بغداد کا مشہور چور،نام میں غلطی کا احتمال ہے) کا بغداد کی جیل میں ملاقات کے وقت تھا۔
ابن الہیثم کو اس دن چوری کی سزا میں کوڑے، امام احمد بن حنبل کے بعد مارے گئے۔ یہ نامی گرامی چور عقوبت خانے میں پوچھنے لگا کہ آپ کو کوڑے کیوں مارے گئے ہیں اور آپ امام احمد بن حنبل کیوں پابند سلاسل ہیں؟
حضرت نے سوچا کہ خلق قرآن کا مسئلہ اس کی سمجھ میں کہاں آئے گا۔ عباسی حکمران مامون اور معتصم باللہ کے   معتزلہ کا بہت زور تھا۔یہ ان کی Illuminati تھی۔ہم مسلمان اگر بہت شدت پسند رویوں کے مالک نہ ہوتے تو ان منطقی لوگوں سے سیکھنے کو بہت کچھ تھا۔۔۔حاکم وقت اور معتزلہ کہتے تھے کہ قرآن تخلیق ہے۔قیامت ہوگی تو دیگر مخلوق کی طرح قرآن بھی فنا ہوجائے گا۔
امام احمد بن حنبل کا استدلال تھا کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ کا ہے۔وہ لوح محفوظ میں ہے۔سورہ توبہ کی آیت نمبر چھ میں درج ہے کہ اے میرے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو پناہ دے دو۔ تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے۔اس نے سورہ الرحمن کی آیت نمبر ایک میں کہا ہے کہ میں نے  تمہیں قرآن سکھایا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ میں نے تمہارے لیے قرآن کو تخلیق کیا۔ وہ سورہ الرحمن کی پہلی آیت میں قرآن کی حکمت کی قسم کھاتا ہے اس کی تخلیق کی نہیں۔
امام حنبل نے وہ دلائل اسے بھی سنادیے۔چوروں کا سردار پوچھنے لگا کہ کیا وہ مزید سزا کی صورت میں اپنی بات پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔امام احمد بن حنبلؓ نے اثبات میں جواب دیا تو اس نے ایک ایسا جواب دیا جو مولانا مودودی کے لیے مثل راہ اور قابل تقلید مثال بن گیا۔ چور کہنے لگا ”میری ہر چوری پر مجھے بھی یوں ہی کوڑے پڑتے ہیں۔اس سختی صعوبت اور آزار کے خوف سے میں نے چوری نہیں چھوڑی اگر تم اس سزا کے ڈر سے اپنی راستی اور حق پرستی چھوڑدوگے تو قیامت کے دن میری چوری تمہارے علم پر بھاری ہوگی“۔امام حنبل فرماتے ہیں کہ اس کلام نے مجھے عجب استقامت بخشی۔موودودی صاحب کی جد و جہد میں ایک اصول پرستی اور استقامت ددکھائی دیتی ہے اس کا منبع یہ واقعہ تھا۔
مولانا مودودی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ مصری فوج کے لفٹینٹ خالد اسلامبولی جس نے مصر کے صدر انوار السادات کو ملٹری پریڈ میں قتل کیا تو وہ سب سے زیادہ مولانا مودودی سے متاثر تھا۔اور ایک ان کی جماعت کے امیر ہیں کہ انہیں یہ خبر نہیں کہ ان کا سیدھا ہاتھ کس جیب میں اور الٹا کس جیب میں۔یوں تو پاکستان کی ہر جامعہ اور اور جماعت ذہنی پسماندگی کا شکار ہے مگر جماعت اسلامی کا درجہ اس میں اسفل السافلین والا ہے۔یعنی سورہ التین کی آیت نمبر پانچ کی اصطلاح میں پستی کی گہرائی والاہے۔
انوار السادات کے قتل کا قصہ محمد حسین ہیکل کی کتاب Autumn of Fury میں درج ہے۔

محمد حسین ہیکل کی کتاب

امام حنبل جیسی مردانگی استقامت اور جرات کا مظاہرہ ہمیں بہت دنوں بعد، بہت دور جاکر مشہور اطالوی صحافی اوریانا فلاچی جس پر انٹرویو کا فن ختم تھا اس کی کتابA Man کے مرکزی کردار میں ملتا ہے جو ایک pseudo-biography ہے لیکن اسے ناول کے انداز میں قلمبند کیا گیا ہے۔اوریانا فلاسی کو یونانی فوجی جنتا کے مخالف ایک سیاست کار Alexandros Panagoulis سے عشق ہوگیا تھا۔وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی تھیں کہ جرنیلوں نے قاتلانہ حملے میں الیکژنڈر پاناگولس کو مار ڈالا۔ صدمے سے ان کا یہ حمل ضائع ہوگیا۔ جس کا قلق انہیں ساری عمر رہا اور ایک اور معرکتہ الآرا کتاب Letter to a Child Never Born وجود میں آئی اس کا ایک جملہ تو ہم جب بھی کسی نوزائیدہ بچے کو دیکھتے ہیں یاد آتا
“You belong neither to God nor the state nor me. You belong to yourself and no one else.”

alekos_panagoulis_oriana_fallaci
اوریانا فلاچی کی کتاب
اوریانا فلاچی کی کتاب

فرح تاحال ہماری منتظر ہے اوربات بچوں تک جاپہنچی ہے۔
آپ کو یوں ہی بتادیں ہم نے اپنی افسری کے دوران ایک ڈیرے دار جہاں دیدہ،سرد و گرم چشیدہ طوائف شاہدہ سے پوچھا (جو طوائفوں کے معاملات میں ماما سرور کے علاوہ دوسری اہم فوکل پرسن تھیں ,رات جھگڑوں میں گرفتار کی انتظامی مجسٹریٹ صاحبان کی عدالتوں سے چھڑانے ک ا  ذمہ اس کا ہوتا تھا) کہ آپ طوائفوں کے ہاں بچے پیدا کرنے کے طور تقاضے کیا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا ایک تو وہ اپنا Gene -Pool بہت سینت سمیٹ کر رکھتی ہیں۔اس میں ہر چنّوں چنگیڑ اور چھٹ بھیئے کو انٹری نہیں ملتی کہ اپنی نشانی پیچھے چھوڑ جائے۔ہیرا منڈی میں جتنے بچے ہیں یہ نجیب الطرفین جاگیرداروں ،تاجروں ،افسروں اور وڈیروں یعنی اشرافیہ کے نطفے ہیں۔ہم حمل قرار پاتے وقت دولت،مردانہ وجاہت،خاندانی وقار اور ایک پوشیدہ جذبہء انتقام کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔بچے کے  والد کا نام کبھی ظاہر نہیں کرتے مگر اس مرد لاپرواہ کو ضرور بتادیتے ہیں کہ بچی یا لڑکا اس کا ہے کیوں کہ ہماری لڑکی اس دوران اس کی ملازمت میں ہوتی ہے۔اب اگر آپ کو پاکستان کی نامور طوائفوں کی اشکال جمیلہ میں مشہور افراد کے خد و خال دکھائی دیں تو آپ کسوٹی میں  سوالات کی الف لیلیٰ میں درست جواب تک پہنچ چکے ہیں۔اس حوالے سے ہمیں ایک کتاب اور اس پر بنی ایک فلم The Far Pavallion بھی یاد آجاتی ہے کہ جس کا ایک عجیب سا چھوٹا سا مکالمہ ذہن سے چپک کر رہ گیا ہے کہ “men are indeed careless with their seeds”
(مرد اپنے نطفے کے معاملے میں بہت لاپرواہ ہوتے ہیں)۔

فار پویلین

فرح اب بھی ہماری منتظر ہے۔سو چلو دلدار چلیں،چاند کے پار چلیں۔
ہم دونوں کو اسکول میں اس دن مار پڑی۔ہمیں غریب عیسائی بچوں کے فنڈ میں چندہ نہ دینے پر اور بائبل کے حوالے سے”اے خداوند یسوع،اے پیارے باپ ہماری مدد فرما“۔نہ کہنے پر۔یہ پہلی مار کلاس ٹیچر ڈسکے کی ایلیس مسیح کی جانب سے تھی۔
عیسائی ایسے نہیں۔ امریکہ کے عیسائی تو اور بھی اچھے ہیں۔ہمارے ریان میاں اور دیگر تین بچے جو عیسائی نہیں تھے ان کے چرچ اسکول میں گریجویشن والے دن بائبل پر حلف اٹھانے پر رضامند نہ تھے۔انہیں اجازت دی گئی کہ وہ اسٹیج پر بعد میں تشریف لائیں تاکہ ان کا یہ عمل نمایاں نہ ہو اور ریکارڈ کا حصہ نہ بنے۔

ریان میاں کی گریج وییشن

فرح کو مار اس لیے پڑی کہ اسے اردو نہیں آتی تھی۔ہماری گلی کے  آخر میں شرفو کنجڑے کے گھر کے  سامنے عنایت نائی کی ہیئر کٹنگ سیلون کے اوپر اداس نیلے رنگ کے دروازوں والے گھر میں وہ رہتی تھی۔
بچے کی پہلی بال منڈائی یعنی ہماری خاطر عنایت نائی گھر آئے۔اماں نے پیسے دیے تو نہیں لیے کہ بچے کے بال کے وزن کے برابر چاندی لیں گے۔ کسی ناگہانی بحران کی وجہ سے گھر کے مالی حالات برے تھے۔سو اماں نے اُ جرت کے طور پر چاندی کی  کاجل کی ڈبیا بھجوادی۔شنید ہے کہ وہ ڈبیا تاندلیاں والا نزد ساہیوال کے اس نائی نے ایک عزیز کے ہاتھ واپس بھجوادی۔کہا کہ خاندانی لوگ ہیں اجرت کا کیا ہے۔ہونہار پوت کے پیر پالنے میں دکھائی دیتے ہیں۔بال منڈائی آج نہیں تو کل اس وقت سود سمیت پکڑ لیں گے، جب لڑکا بڑا ہوکر یا تو فیشن ڈیزائنر   کی صفوں میں کیلوئین کلائن کو دھول چٹائے گا۔ یا مصور بنا تو امریکی اور بھارتی مصور اینڈریو وائتھ اور ایم ایف حسین اس سے برش پکڑنا سیکھیں گے۔

کیلون کلائین
اینڈریو وائتھ
فیشن ڈئزائنر کیلون کلائن
ایف ایم حسین مادھوری کی تصویر کے ساتھ

یہ الگ بات کے چھوٹی موٹی ڈرائنگ جو ہم کرلیتے ہیں اس کی رو سے نہ توکوئی ہیلگا ملی،جس کے نیوڈز کینوس پر جھرنوں کی طرح بہتے اور گھاس کی طرح بارش سے دھلی گھاس کے مانند لہلہا رہے ہوتے  ہیں۔نہ ہی کوئی مادھوری سالگرہ پر نیویارک کی برفیلی شام ننگے پاؤں کھڑکی والا بلاؤز پہن کر مبارکباد دینے آئی۔افسر بھی ایسے ہی گئے گزرے تھے کہ فواد حسن فواد کی شان، دولت اور رسائی دیکھ کر ہمیں لگتا تھا   کہ ہماری افسری تو ان کے نواز شریف والے شاہانہ دسترخوان کے مقابل ابلے ہوئے کریلے کا   وہ سالن اور مکئی کی روٹی ہے جس سے صائم الدہر(سال بھر کے روزے دار) سیدنا نظام الدین اولیا افطار کیا کرتے تھے۔کچھ نہ سہی تو مکالمہ اور دنیا کے سب سے بڑے برج واٹر ہیج فنڈ کے پارٹنر انعام رانا تو موجود ہیں۔ان سے کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔یہ Ray Dalio تو یوں ہی وقت ضائع کرتا ہے،اصل برین تو مکالمہ والے ہیں۔

ہیلگا
مادھوری کا کھڑکی والا بلاؤز
bridge water ہیج فنڈ
رے ڈالیو

ہم نے عنایت نائی کو تاندلیاں والا میں اپنی ساہیوال کی افسری میں نومبر دسمبر سن1977 میں بہت ڈھونڈا کہ چاندی والا قرضہ ادا کردیں۔جب ہر طرف ڈاکٹر ظفر الطاف کی ڈپٹی کمشنری کا ڈنکا بجتا تھا۔وہ نہ ملا۔انہی دنوں جنرل  ضیا الحق سے جوڑ اور پاک پتن کے دربار سے بہت گہرا تعلق رکھنے والے   ایک صاحب رسائی جاگیردار منتظم عرس کے سلسلے میں ظفر الطاف کو عرس کی دعوت دینے آئے۔انہوں نے ہم افسران کی جانب اشارہ کیا کہ میرا تو لاہور میں کرکٹ کا میچ ہے۔ اکیڈیمی سے یہ چھ ڈشکرے تربیت پر آئے ہوئے ہیں انہیں آپ جنت کے دروازے سے گزاریں کیوں کہ مجھ سمیت سرکار نے انہیں دوزخ کے ساتوں گیٹس سے گزارنا ہے۔صاحب نے کہا اچھا تو پھر عرس کے دنوں میں ان کے قیام اور طعام کا ذمہ ان کا ہوگا جس پر ڈپٹی کمشنر نے مسکراکر کہا پاکپتن میں بہت عمدہ کنال ریسٹ ہاؤس  ہے ،یہ وہاں رہیں گے۔کھانے پینے کا خرچہ یہ خود اپنی جیب سے اٹھائیں گے۔یہ ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ صاحب کہاں چوکنے والے تھے کہنے لگے”اچھا عرس کی رات ڈنر ہمارے ساتھ“ ظفر صاحب کہنے لگے۔نصرت فتح علی خان کو آپ نے بلایا ہے یہ صرف اس محفل قوالی میں آئیں گے۔ یہ چھ افسر  جب اس رات محفل قوالی میں داخل ہوئے تو  پنجاب کے چیف منسٹر ہاؤس میں احسن سلیم گجر کی لترول کے لیے حاضر ہونے والے رضوان گوندل اور شارق صدیقی کا معاملہ نہ تھا۔جنہیں چاہیے تھا کہ وہ وہیں چیف منسٹر کے دفتر سے احسن سلیم گجر کو کار سرکار میں مداخلت پر ہتھکڑی  لگا کرتھانے لے جاتے۔معاملہ تازہ تازہ تھا، سی ایم صاحب تو ایک عرصے تک ڈپٹی کمشنر سے وقت مانگ کر ملا کرتے تھے۔ڈی آئی جی شارق مہاجر کی جرات رندانہ دیکھ تونسے شریف کے بوزدار کی گھگی بندھ جاتی،سب کی طبیعت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صاف ہوجاتی۔یہ پولیس تو وہ ظالم آلہ قتل ہے جس نے sittingوزیر اعظم بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کو اس کے اپنے اور۔ شعیب سڈل ڈی آئی جی کراچی کے گھر کے سامنے گولیاؔں مار کے ڈھیر کردیا اس کے ساتھ ال ذوالفقار کے تربیت یافتہ علی سنارا رزاق ہکڑو جیسے ُپچاس ساٹھ گارڈز بھی ہوتے تھے ،سب کی طبیعت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صاف ہوجاتی۔مرد بننے کے لیے ایک دفعہ کی جرات درکار ہوتی ہے باقی زندگی تو بھرم پر چلتی  ہے۔

زیر تربیت افسروں کی آمد کا سنا توبڑے صاحب جو بہت خاندانی، نفیس طبع اور حلیم انسان تھے لپک کر شامیانے کے گیٹ پر پہنچے۔اپنے پہلو میں ہم سب کو بٹھایا اور پوچھا کہ کونسی قوالی سننا پسند فرمائیں گے۔ سب نے ہمیں فرمائش کرنے کو کہا تو ہم نے کہا وہ سناؤ ع
خنجر ہیں تیری آنکھیں،تلوار تیری آنکھیں
اس کہ خاتمے پر دوسرے افسر جہانگیر خان نے ایک اور فرمائش کی کہ کسی دا یار نہ وچھڑے جس پر امین اللہ نے کہا”بڈھی نوں آپ طلاق دتی ہے تے محفلاں وچ رونا کادا؟“

فرح کا گھر عنایت نائی کی دکان کے اوپر تھا۔
اردو پڑھانا ہمارا ذمہ ٹھہرا۔اس اردو میں ایک شیریں  موڑ اس وقت آگیا جب فرح کی امی نے ہمیں سنارن کی کہانی پڑھنے کو کہا۔نیاز کے لیے سفید اجلی نقرئی پنی سے سجی قلا قند کا پورا ڈبہ اگر بتی اور پانی اور خاک شفا کے ساتھ ہمارے سامنے رکھا گیا۔
سنارن کی کہانی میں کوئی بات ایسی نہ تھی کہ یوں لوگ اشکبار ہوتے۔ہم نے بعد میں فرح سے پوچھ لیا کہ وہ کیوں رو رہی تھی۔کہنے لگی کہ سب روتے ہیں تو مجھے بھی رونا آتا ہے۔یہ وہ موقع تھا جب ہمارے عورتوں کے رونے دھونے کے بارے میں کنفیوژن کا آغاز ہوا۔
اردو کی جو کتاب ہمیں فرح کو پڑھانی اور اسکول میں پڑھنی پڑتی تھی وہ لتھو پرنٹنگ پر کتابت سے چھپی ہوئی اردو کی پہلی کتاب تھی۔سبز سرورق، بھونڈی چھپائی،بد ہیئت تصاویر۔ چار کہانیاں جو کئی دفعہ پڑھیں یاد رہ گئیں۔

اردو کی پہلی کتاب لڑکیوں کے لیے

ایک کہانی اس مرغی کی تھی جو روز سونے کا  انڈہ دیتی تھی۔مالک نے ایک دن زیادہ کی ہوس میں لالچ میں آن کر کاٹ ڈالا تاکہ پیٹ میں موجود سونے کے تمام انڈے اسے ایک ساتھ مل جائیں اور وہ بھی اپنا سمٹ بنک کھول لے ،خلائی مخلوق کو اس پر شبہ تھاکہ اس وقت بھی کوئی نہ کوئی حسین لوائی مرغی کے اس مالک سے واخان۔افغانستان اور جھومری تلّیا۔ جھاڑ کھنڈ بھارت سے اس کے رابطے میں ضرور تھا ۔ اب یہ پیٹ میں انڈوں کے ذخیرے کے موجود ہونے کا اندیشہ کس قدر نادانی پر مبنی تھا۔آپ سوچیے تو سہی کہ کیا بھونڈا سبق تھا۔آپ بچے کو لالچ سے باز رکھنے کے لیے جسمانی حقائق, حیاتیات(biology) اورجنیات ( genetics ) سے کتنا دور لے جارہے ہیں۔ہم اور دیگر بچے جو بہت Vibrant کثیر الزبان اور کثیر الاقارب ماحول میں رہتے تھے۔انہیں کیا بے وقوفی کے اسباق پڑھائے جارہے تھے

جھمری تلیا
واخان

بہت دنوں بعد جب حیدرآباد میں   فرح سردار بہارد گرلز کالج میں اور ہم سندھ یونی ورسٹی میں انگریزی ادب سندھی میں پڑھتے تھے ہم نے ایک دن فرح سے پوچھا یہ بتا فرح وہ سونے کے انڈے والی مرغی کی کہانی یاد ہے۔تو گھبراگئی کہ جانے ہمارا ارادہ اسے کہاں تک پہنچانے کا ہے۔ان دنوں حفاظتی اقدامات کی سہولت جنرل اسٹور پر کیش کاؤنٹر کے نیچے رنگ برنگے ڈبوں کی صورت میں ہر جگہ دستیاب نہ ہوتی تھیں۔
ہمارے چہرے پر شرافت کی سابقہ علامت دیکھ کر اس بے چاری کے حواس بحال ہوئے تو کہنے لگی ،ہاں اچھی طرح یاد ہے۔ تو ہم نے پوچھا یہ تو بتا کہ وہ مرغی کیا ہفتے کے ساتوں دن ریاض ملک،مکیش امبانی،حسین نواز،حمزہ شہباز،بلاول،محمد منشا کو ڈیٹ کرتی تھی جو سونے کے انڈے دیتی تھی۔ہنس کر کہنے لگی ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں۔ یہ تو کل ملا کر چھ مردوئے ہوئے۔ہم نے کہا اتوار کی چھٹی ہوتی ہوگی۔اس نے کہا اتوار کی چھٹی توقیر شاہ جیسے لدے پھندے پرنسپل سیکرٹری اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں نہیں کرتیں۔please wake up and smell the coffee.(امریکی روز مرہ محاورے میں ہوش کے ناخن لو)
جس نسل کے دماغ میں یہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کی کہانی ٹھونسی جارہی تھی،یہ اس نسل کے بچے تھے جن میں کسی ایک کو اس کی والدہ بشمول خود کے تین نسلوں کی پیدائش کا احوال سنارہی تھیں۔ وہ انسانی بچے کے پیدا ہونے کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔سو پہلا سوال تھا کہ اس کے دادا کی پیدائش کیسے ہوئی۔والدہ محترمہ  کی جانب سے یہ جواب پیش کیا گیا کہ ایک پری آئی جسکے ہاتھ میں ایک گفٹ ہیمپر تھا اور تمہارے دادا ابو کو سب سے چھپ کرپردادی کے حوالے کردیا، اس بنڈل میں دادا حضور پڑے انگوٹھا چوس رہے تھے۔ اچھا پھر میرے ابو کیسے پیدا ہوئے تھے؟۔متجسس بچے نے پوچھا۔تمہارے ابو کو ایک بہت بڑا سارس دادی اماں کی کھڑکی سے دے کر گیا تھا۔

پریوں کا تحفہ
سارس بچے لاتے ہیں

اب پریشان بچے نے پوچھا کہ و ہ خو د کیسے پیدا ہوا تھا۔یہ والدہ صاحبہ کے لیے رومانٹک اور پری تمثال بننے کا بہترین موقع  تھا، اترا کر بتانے لگیں کہ سرکنڈوں کی ایک باڑ میں وہ ایک ہرن کا پیچھا کرتی ہوئی نیپال میں ایک جھیل کے کنارے پہنچیں تو وہاں کنارے پر ڈولتے ایک خالی پالنے میں ہرن نے چھلانگ لگائی۔میں نے بھی کم بخت کو جھپک لیا۔ اے لو! ارے یہ کیا! وہ ہرن تھوڑاہی تھا۔ وہ تو تم تھے میرے کوکھ جائے،میرے ذاتی کرسٹین رونالڈو،میرے اپنے زین ملک کے بیٹے، ارے میرے لڈن میرے فخر ممتا، تم اس وقت بھی ابھی کی طرح چسر چسر منہ  میں انگوٹھا ڈالے چوس رہے تھے۔جس پر لڈن جعفری زچ ہوکر بولے”اماں ہمارے ہاں کیا کوئی بھی قدرتی طریقے سے ہسپتال میں پیدا نہیں ہوا“۔

زین ملک اور جی جی حدید
بہتے ہوءے پالنے میں
کرسٹینو رونالڈو

تیسری کہانی جسے فرح کو پڑھانے میں زیادہ وقت اور مشکل پیش آئی وہ بالکل ایسی ہی تھی جیسی لاپرواہ سنارن کی کہانی جو اپنے زیوارات سنبھال کر نہیں رکھتی تھی۔ ٹفینز سے خریدی ہوئی ہیرے کی قیمتی انگوٹھیاں ادھر ادھر گراتی پھرتی تھی لیکن اس کے باجود نیاز دلا دلا کر اپنے کھوئے ہوئے زیوارت مچھلی کے پیٹ سے نکال کر من کر مراد پوری کرلیتی تھی۔ہم نے یہ کہانی اسد عمر کے ایک عزیز کو بتائی کہ وہ اسحق ڈار اور اس کی دولت یہ نیاز مان کر  واپس لاسکتے ہیں۔

ٹفینز

کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک بستی میں آگ لگ گئی،پیچھے بس ایک اندھا اور دونوں پیروں سے لنگڑا،کُل یہ دو دوست بچ گئے۔بستی سے نکلنے کا واحد حل یہ بچا کہ اندھا اس لنگڑے کو کاندھے پر سوار کرلے اور وہ راستے مسدود ہونے سے پہلے ہی بستی  سے باہر نکل آئیں۔یوں بے چاروں کی جان بچ پائی۔
ہمیں کہا گیا کہ اس میں امداد باہمی کا گہرا سبق پوشیدہ ہے۔
فرح کا گھرانا بہت خدا ترس تھا اور ہم میمن چونکہ پیدائشی بزدل ہیں اس لیے    میمن افراد کی طرح روکھی سوکھی کھاکر بھی اللہ سے بہت ڈرتے ہیں ہمارے ہاں گھرانوں میں politically correct ہونے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔لالچی،ڈرپوک،مال کی محبت میں اندھے ہونے کے ناطے ہمیں بچپن سے ہی بتادیا جاتا ہے کہ
A politically correct word or expression is used instead of another one to avoid being offensive:
سو ہمیں اس کہانی پر تین اعتراضات ہوتے تھے دو ہمارے اور ایک فرح کا۔

فرح نینسی کا خیال تھا کہ بستی والے بہت سیل فش تھے۔انہیں اندھے اور لنگڑے کو یوں پیچھے بے یار و مدد گار چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔اللہ بہت ناراض ہوتا ہے ایسی باتوں سے۔
ہم نے کہا نہیں وہ کالونی ڈی ایم جی کے سرکاری ملازمین کی تھی۔ وہ بہت محفوظ گروپ ہیں۔ عمران خان کو بھی دو ماہ میں نتھ نکیل والا بھالو بنادیا ہے۔ڈگڈگی بجا کر گلی گلی گھمارہے ہیں۔

یہ کم بخت پیچھے رہ جانے والے دونوں گھریلوغیر سرکاری ملازم تھے۔نرمزاج فرح نے جتایا Even then it is not fair.
ادب سے فطری میلان کے  باعث ہمارا اعتراض یہ تھا کہ اندھا اور لنگڑا مہذب الفاظ نہیں۔گونگے کے لیے ویسے تو Mute کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا ریموٹ پر بھونپو کے اوپر ایک× بنا ہوتا ہے۔ ہم نے صدر ممنون حسین کے لیے یہ لفظ استعمال کیا تو ان کی دور پرے کی عزیز برنس روڈ۔ کراچی کی نیلوفر برا مان گئی کہ کوئی مہاجر اچھی جگہ پہنچ جائے تو کیڑے نکالنے میں تم میمن اور سندھی پنجابیوں کے بھی باپ بن جاتے ہو۔

امریکہ میں میڈیا اور استادوں کے علاوہ عام بچوں کو بھی speaking to and about people with disabilities. کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے یہ نہیں کہ عامر لیاقت،خوشنود لاشاری اور مبشر لقمان کی طرح چینل پر دے مارتے ہیں کہ جو منہ  میں آئے بک دو۔
چند دن پہلے تو مبشر لقمان نے ایک پروگرام میں کہا کہ اس نے تو میری۔۔۔۔۔۔دی ۔انہیں بتایا جاتا ہے کسی ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کرتے وقت اس کی معذوری کی بجائے اس کی صلاحیت یعنی abilities پر فوکس کرنا چاہیے۔آسٹریلیا میں تو میڈیا پر “handicapped,” “able-bodied,” “physically challenged,” and “differently able” کو بھی اچھا نہیں گردانا جاتا۔امریکی میڈیا تو کسی مخصوص جسمانی نقص یا معذوری سے پہلے انگریز ی کاarticle “the” نہیں استعمال کر تا مثلاً وہ یہ لکھنے کے مجاز نہیں Mr R is a victim of the bipolar disorder کیوں کہ اس کی وجہ سے یہ بیماری مسٹر آر کا نجی مسئلہ اور کنڈیشن بن جاتی ہے۔
ہائے ہائے نہ ہوئے ہمارے چیف جسٹس افتخار چوہدری،آتش زدگی کی اس واردات پر  آناً فاناً دفتر بے معنی قسم کااعصاب شکن سو موٹو نوٹس لے لیتے۔پہلے تو آئی بی چیف سے پتہ کراتے کہ بستی میں ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی والے بلڈرز اور شراب نوشی کی لت میں مبتلا،چراغ سحری قسم کی فربہ اندام اداکارائیں کتنی رہتی تھیں۔بلڈرز سے وہ بیٹی کا رشتہ کرتے، بحریہ کی فرنچائز والے ایک بلڈر جس کی رات کی کوئی صبح نہیں، اس کے مال مفت سے اپنی روٹی پر دال گھسیٹتے اور جھونگے میں اپنے بیٹے کے ساتھ  ایک حسین ماڈل کو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیے بغیر مناکو بھجوادیتے۔ ان گنت،بے سود ،میڈیا اسٹنٹ سو موٹو نوٹسز کی طرح اس نوٹس پر بھی۔سب کا جینا ایک ہی نوٹس سے حرام کرتے۔

کہ گھر کب آؤ گے

چند دن نوشیروان عادل کی شہرت کا ڈھول میڈیا پر بجتا،اشتہارات کا ایک سیل رواں جاری ہوتا،اینکر رپورٹر کو حسب حیثیت لفافے مل جاتے۔ساڈا کی تے سانوں کی میڈیا۔
اس تمام عرصے میں شہر سے باہر کسی قبضے کی بستی میں پڑے اندھا اور لنگڑا میں بھیک مانگتے ہوئے عطا اللہ عیسی خیلوی کا یہ گیت گاتے کہ
چوروں کو لٹیروں کو اس ملک سے بھگائیں گے(دوہری شہریت والوں کو باہر سے بھی بلائیں گے)
پورا کریں گے ہر نقصان
تم دیکھنا میری جان
جب آئے گا عمران
بنے گا نیا پاکستان

عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو ایک کروڑ گھروں کے لالچ میں خط غربت کے نیچے لیٹ کر ووٹ دیتے کہ تبدیلی آئی رے ۔اپنے لیے مفت مکان کے خواب دیکھتے۔بھیک سے جمع شدہ پونجی سے وہ دونوں بحریہ ٹاؤن میں فارم ہاؤس لے کر اور بھی نئے منصوبوں پر عمل درآمد کرتے۔
ہمارا اس کہانی میں پائی جانی والی تشنگی اور پلاٹ کی کمزوری پر دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اس آتشزدگی کی ورادات کا مجرم کسے گردانا گیا۔ کوئی جے آئی ٹی بنانی چاہیے تھی کوئی کمیشن، کوئی انکوائری۔یہ فرح کے لیے اس وقت تک تو ناقابل فہم اعتراض تھا مگر چنددن پہلے کسی نامعلوم مقام پر جہاں وہ اپنے میاں کو پیاری ہو کر زندگی گزارتی ہے اس نے واٹس اپ پر پیغام بھیجا کہ اگر ڈاکٹر عاصم، بلدیہ فیکٹری اور ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ پر عمل درآمد کی کوئی اطلاع ہو تو مجھے اپ ڈیٹ کرو۔سرکار کے وڈے ریٹائرڈ افسر۔

چوتھی کہانی اور بھی انوکھی تھی۔اس میں کردار کا تعین کرلیا گیا تھا کوئی صاحب تھے شیخ چلی ،ہم نے چلی سنٹیاگو میں ہنیریکا سے پتہ کیا کہ وہاں بھی کوئی شیخ ہوتے ہیں۔یہ ہمارے ساتھ ہاٹ ایر بلون میں کاپوڈوکیا ترکی میں فضائی رفیق تھی۔کہنے لگی شیخوں کا ہمارے ملک چلی میں کیا کام وہ تو ہم نے پاکستان اور عربوں کے حوالے کردیے ہیں۔ہم نے دوبئی میں پوچھا کہ یہاں تمہارے ہاں کوئی شیخ چلی بھی ہوتا ہے۔وہ کہنے لگا ہم نے تم غرباء اور مساکین کے احساس مساوات کے بے جا مطالبے کی وجہ سے حرف ”چ“ کو عربی زبان سے ہی نکال دیا ہے۔

کاپوڈوکیا
ملک چلی کی ہینرکا

شیخ چلی کا خیال تھا کہ وہ بھی شریف خاندان کے چشم و چراغ ہیں لہذا کچھ کام کاج کیے بغیر ہی دولت مند بننا ان کی پیدائشی حق ہے۔والدہ نے ایک دن انڈے لانے بھیجا۔واپسی پر نیند آگئی۔انڈوں کی تھیلی کو سامنے رکھ کر پولٹری فارمنگ ملک اور پانی کے پلانٹ لگانے کے منصوبے بنانے لگے۔اسی خواب میں شادی تک کرلی، کسی دن غصے میں آن کر بیوی کو لات ملی تو لات حدود نوم سے نکل کر سیدھی ٹوکری پر لگی۔انڈے پاش پاش ہوگئے۔اب کون انہیں سمجھائے کہ انڈوں کا کاروبار اورعائشہ احد جیسی بیوی کو لات مارنا حمزہ شہباز کو راس آسکتا ہے کہ اس کے لیے باپ کا وزیر اعلی اور تایاکا وزیر اعظم ہونا ضروری ہے۔
فرح کا اس کہانی میں بہت بڑا اعتراض یہ تھا کہ عورتوں کو مارنا کتنی بری بات ہے جس پر ہم نے اسے وہیں گلے لگا لیا۔وہ اس کہانی میں اپنے بھی کچھ خواب شامل کرکے بتانے لگی کہ ایک دن اس نے
دیکھا کہ ہم بڑے ہوگئے ہیں،ہم اسے سفید گھوڑے پر بٹھا کر لے جانے کے لیے آئے ہیں گھوڑا اتنا اونچا ہے کہ وہ بالکونی سے لٹک کر پیچھے بیٹھ گئی ہے۔اس نے اپنی کپڑوں کی پوٹلی اور گڑیا بھی ساتھ رکھ لی ہے۔
بزدل میمن ہونے کے ناطے ہم نے پوچھ لیا کہ اس کے امی ابو کہاں ہیں۔جس پر وہ تاؤ کھاگئی اور کہنے لگی۔تم مجھے elope کرانے آئے ہو کہ نیب کے حوالے کرنے۔ بلاتے تو آشیانہ اسکیم میں ہو اور بند صاف پانی کیس میں کرتے ہو۔
بہت دن بعد ہم ساہیوال کے چک گلاں والا میں خورشید کمال عزیز کے ساتھ ایک اسکول میں  چلے گئے۔وہ مورخ تھے۔ گونمنٹ کالج لاہور سے لندن،کیمبرج،خرطوم،ہائیڈل برگ کی جامعات میں جانے کہاں کہاں پڑھاتے رہے۔ماؤزے تنگ سے مل کر چین سے آرہے تھے ۔ظفر الطاف صاحب ڈپٹی کمشنر سے یارانہ تھا۔ انہیں مطالعاتی سیر کرانے کے لیے ہمیں ساتھ لگا دیا ۔ پانچویں جماعت میں اردو کی کلاس میں تاریخ پاکستان کا سبق پڑھایا جارہا تھا۔ مہمان پرفیسر نے طالب علم بچوں سے پوچھا کہ پاکستان کیوں بنا۔جواب ملا ہندو ہمیں مارتے تھے۔(ہندو کچھ لیٹ ہوگئے ہیں)۔محمد علی جناح کون تھے۔ یک زبان ہوکر جواب آیا مسلمان۔گاندھی کون تھے۔جواب ہندو۔کیا وہ جناح کو مارتے تھے۔پتہ نہیں۔

کے۔کے عزیزجیسے کہ  وہ پکارے جاتے تھے کہنے لگے کہ چین کی ایک درسی کتاب کا سنیں۔کلاس جاری تھی کہ ماؤزے تنگ اس میں آگئے۔استانی خوف زدہ ہوگئی۔پڑھائی رک گئی۔ماؤزے تنگ چپ چاپ ایک بچے کے ساتھ خالی جگہ پر بیٹھ گئے۔سبق جاری ہوگیا۔ہوم ورک ملا تو اگلے دن ماؤزے تنگ نے اپنا پرچہ بھی بھیج دیا۔اس میں مساوات،فرائض کی بجاآوری میں بے خوفی،کام سے لگن کے اہم اسباق شامل تھے۔

خورشید کمال عزیز
کے کے عزیز کی کتاب

ہم نے جنرل الیکٹرک کارپوریشن ڈی ٹرائٹ امریکہ میں ملازم تنویر سے پوچھا کہ نظم و ضبط میں جاپانی بہتر ہیں کہ امریکن۔وہ کہنے لگا امریکنوں سے جاپانی صدیوں آگے ہیں۔وہ کسی میٹنگ سے اوساکا جاپان میں باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک پوسٹر پھٹ کر لٹک رہا اور کچھ بچے وہاں رکے۔یہ سب اسکول سے چھٹی پرگھر واپس جارہے تھے۔انہیں لگا کہ یہ جھولتے پوسٹر کے آخری لمحات ہیں مگر کسی بچے نے بستے سے ٹیپ نکالی۔دوسرے بچے نے اسے کندھے پر بٹھایا اور ٹیپ لگا کر پوسٹر کو واپس صحیح سالم اپنی جگہ پر بحال کردیا گیا۔

جاپانی پوسٹر

اس کی نسبت آپ جب پاکستان کی اکثریت کو دیکھیں گے تو وہ پبلک مقامات پر یا تو کہیں نہ کہیں تھوک رہی ہوگی،یا بدن کے کسی حصے میں انگلی گھمارہی ہوگی یا کھجلا رہی ہوگی۔تھوکنے کی اس بری لت کی وجہ سے آپ کو باہر کہیں قدم رکھنے  سے کراہت آتی ہے اور ان کی دیگر دو حرکات کی وجہ سے سودا لینے اور ہاتھ ملانے سے گھن آتی ہے۔

پان کی پچکاری سے رنگین دیوار

ٹرین میں آن کر بی بی ساتھ بیٹھی تو بیگم صاحبہ کو اس کی مہک بہت اچھی لگی ان دنوں   دو پرفیوم ایک ساتھ ریلیز ہوئے تھے وہ فیصلہ نہیں  کرپارہی تھیں کہ کونسا پرفیوم ہے ،کہنے لگیں آئی۔ ڈی کم بخت ٹوائلیٹ میں پانی نہیں استعمال کرتیں مگر مہک رہی ہوتی ہیں، ایک ہماری عبایا والی وضو سے ہوتی ہیں مگر قریب آجائیں تو بدبو سے دماغ خراب ہوجاتا ہے۔

Midnight-Poison
پرفیوم

ہم نے ایک دکاندار سے جو چند دن پہلے کسی کو اترا کر بتارہا تھا کہ وہ رات کو بھی منہ  میں گٹکا دبا کر نہ لیٹے تو نیند نہیں آتی۔ جس پر ہم جو قریب کھڑے تھے اور کچھ فاصلے پر دو گارڈز بھی تھے جنہیں وہ دیکھ رہا تھا ہم نے کہا  تیری بیوی تو تیرے ہر وقت کے گٹکے کی وجہ سے رات کو سوچتی ہوگی کہ کیا گٹر کے منہ  پر منہ  رکھ دیا ہے۔

منمنا کر کہنے لگا ہم غریب کراچی کے میمن لوگ ہیں تو آپ پنجابی افسر لوگ ہم کو ذلیل کرتے ہو۔

گٹکا پھانک
گٹکا کھانے والا

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لیا درس نسخہء عشق کا(ادھر اُدھر کی باتیں)۔۔۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *