سوشل میڈیا کے فراڈیے ۔۔۔ ہارون ملک

نوٹ: اگر آپ پہلے ہی لُٹ چُکے ہیں تب بھی اور اگر ابھی نہیں لُٹے تب بھی مُجھ سے مشورہ کرسکتے ہیں۔ لُٹنے کی صُورت میں پیسے واپس نِکلوانے یعنی رِیکوری کی سُہولت موجُود ہے۔

اکثر لوگوں نے اپنی فیس بُک پروفائل پر لِکھا ہوتا ہے Work at Facebook ۔ اُن کا یہ مذاق ہوسکتا ہے لیکن کئی حضرات فیس بُک پر ایسے ہیں جو واقعی فیس بُک سے پیسے کماتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہُوئی یہ سُن کر ؟؟؟  

جُوں جُوں ہر دھندے میں جِدت آئی ہے تُوں تُوں مانگنے کے اور فراڈی بندے کے فراڈ کا انداز بھی جُداگانہ ہوگیا ہے، کُوئی غریب بچوں کو پڑھا رہا ہے تو کُوئی غریبوں کا مسیحا ہے ، کُوئی معذور ہے اور کُوئی آگے پڑھنا چاہتا ہے ، کِسی کو کتابوں کے لئے پیسے چاہئیں تو کُوئی بہن کی شادی کا خرچہ نہیں اُٹھا پارہا۔

الغرض سو بہانے سو مسائل بتائیں گے، میں یہ بالِکل نہیں کہہ رہا کہ سب کے سب فراڈی ہوتے ہیں یا جُھوٹ بولتے ہیں۔ میں تو صِرف اِتنا کہہ رہا ہُوں کہ ہر ایک پر اعتبار نہ کریں ویسے بھی اوّل خویش بعد درویش۔ یعنی پہلے اپنے جاننے والوں ، رشتہ داروں ، دوستوں کی مدد کریں بعد میں دیگر کی۔ 

فراڈ یا scams پُوری دُنیا میں ہوتے ہیں اور ہر مُلک میں لوگ لُٹتے آئے ہیں۔ لوگ ای میل سے آپ کو لمبی دولت کی خبر دیتے ہیں، یا ایسا کُچھ بتاتے ہیں کہ آپ یقین ہی نہیں کرپاتے لیکن اندر سے آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ کاش یہ سچ ہو۔ 

Too good to be true 

لوگ آپ کو مِلیں گے جو آپ کو لاٹری نکلنے یا بمپر پرائز کی خُوشخبری دیں گے اور آپ کو کہیں گے کہ کُچھ رقم بطور فِیس آپ کو دینی ہوگی اور یہ آپ کو ابھی کے ابھی کرنا ہوگا یعنی فوراً ورنہ آپ کا انعام (جو کبھی exist ہی نہیں کرتا اصل میں) ضائع ہوجائیگا۔ فراڈی عُموماً آپ کو جلدی میں مِلے گا۔ always in rush ۔ یہ بھی ایک نشانی ہے فراڈ پہچاننے کی ۔آپ سے ہمیشہ وکیل کی فیس، یا دیگر کئی بہانے بنا کر پیسے نکلوائے جاتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ کئی فراڈی جلدی میں نہیں ہوتے بلکہ سُکون سے کام کرتے ہیں۔ کُوئی سیٹ پیٹرن نہیں ہے، فراڈی بھی اپنا انداز بدلتے رہتے ہیں۔

لہجے پہچاننا سیکھیں ایک لطیفہ سُناتے ہُوں بڑا پُرانا، ایک سردار روزانہ اپنا ماتھا گُردوارے میں جاکر ٹیکتا اور کہتا واہے گُرو میری لاٹری دا نمبر لگ جائے، میرا لاٹری دا نمبر لگ جائے۔ بڑے سال ہوگئے ایک دِن اُس کے واہے گُرو (خُدا) کوغُصہ آگیا اور وُہ آسمان سے نیچے آئے اور ایک تھپڑ مارا اُس کو اور کہا، سالیا پہلے لاٹری دا ٹکٹ تے لے، فیر انعام دی گل کرنا۔

تو آپ نے جب لاٹری کا ٹکٹ نہیں لیا، کِسی انعام کے مُقابلے میں شریک بھی نہیں ہُوئے تو آپ کا انعام کیسے نکل آیا؟

کُوئی آپ کو نوٹ بنانے والا شُعبدہ باز مِلے گا، کُوئی مزدُور کے بھیس میں سونا نکلنے کی کہانی سُنائے گا، کُوئی انعام کا بتائے گا، سو طرح کے دھندے سو طرح کے فراڈ۔

ایسے کئی لوگ میرے انباکس میں آتے ہیں، کبھی تنگ کرلیتا ہُوں کبھی اگنور کردیتا ہُوں۔ ہمیشہ اُن کو بتاتا ہُوں کہ بھئی ایسا نہ کرو میں خُود اِن فراڈوں سے بچنے کی تربیت دیتا اور لیتا آیا ہُوں۔ پولیس کی جاب ہو یا کرنسی exchange کا کام، یا کرنسی ترسیل کا کام سب کئے ہیں اور FCA UK اور دیگر منی لانڈرنگ اداروں سے فراڈ اور scams کے نِت نئے انداز نہ صرف پڑھے ہیں بلکہ ذاتی طور پر ہزاروں لوگوں سے ڈِیل کرنے کے بعد صِرف چہرہ دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے، یا آواز سُن کر پتہ چل جاتا ہے کہ کون کیا ہے اور کِس چینل سے بات کررہا ہے۔ آپ میں سے کِسی کو بھی ایسی صُورتِحال درپیش آئے تو میرا انباکس حاضر ہے رائے لے لیں۔

آخر میں دوبارہ اُن فیس بُک کے نامی گرامی افراد سے ایک آخری درخواست، آپ سب کے نام، کام اور پیسہ بٹورنے کے انداز مُجھے معلُوم ہیں اگر آپ لوگ باز نہیں آئے تو اگلی بار آپ کے نام مینشن کردُوں گا۔ لین دین سب کا چلتا ہے، دوستوں کو پیسے دینے بھی پڑتے ہیں اور لینے بھی لیکن یہ کیا کہ ابھی ایڈ ہُوئے اور ابھی پیسے مانگ لئے، ویری بیڈ۔ اگر آپ معذور ہیں تو ہمارے دوست شاہد بھائی سے سیکھیں جو وہیل چئیر پر ہونے کے باُوجود اپنے گھر سے اپنے ہاتھ کا بنا اچار اور دیگر چیزیں بیچ کر باعزت طور پر حلال کما رہے ہیں، باقی لوگ اُن سے سیکھیں۔

یہ جو ہم لوگ باہر کے ممالک میں رہتے ہیں ہم خُود بڑے سیانے ہوتے ہیں لہٰذا آپ کے چکر فراڈ آئندہ میرے انباکس تک نہ آئیں۔ فیس بُک پر موجود ہر قابلِ ذکر فراڈی بندے کی جنم کُنڈلی اور دیگر کوائف مُجھے پتہ ہیں سو پلیز مُجھے مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے نام آشکار کروں۔

شُکریہ۔

(ایڈیٹر نوٹ: ہارون ملک صاحب سے درج ذیل فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:

https://www.facebook.com/profile.php?id=100003914616362)

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *