پرندوں کی بولی۔۔۔۔ایچ رحمن

دادا جان بھی بڑی عمر کے جدید ارسطو ہیں، ایک دن جب میں سکول جانے لگا تو پیچھے سے ان کی آواز سنائی دی۔
بیٹا صبح صبح پرندوں کی بولی ضرور سنا کرو۔۔دادا جان میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے۔
پرندوں کی بولی ۔۔۔ ؟ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں بیٹا۔۔۔۔۔پرندوں کی بولی۔۔۔۔تم نے شاید غور سے دیکھا نہیں، یہ پرندے صبح صبح رزق کی تلاش میں نکلنے سے پہلے ہمارے ہاں آکر بہت کچھ سناتے ہیں۔
میں خاموشی سے داداجان کو سنتا رہا۔۔۔۔۔

بیٹا یہ پرندے ہم سے مانوس ہیں، ہماری فطرت جانتے ہیں، ان کے کچھ گلے ہوتے ہیں ہم سے، امیدیں ہوتی ہیں، ان کے پاس خوشخبری ہوتی ہے، خطرات سے ہمیں آگاہ کرتی ہیں، ہمارے بچوں کا حال دریافت کرنے آتی ہیں، لیکن افسوس۔۔۔۔۔۔۔ ہم ان کو سننا گوارا نہیں کرتے۔۔۔۔۔دادا جان نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
لیکن داداجان پرندوں کی بولی کون سمجھے گا۔؟؟؟۔۔میں نے ذرا حیران ہوکر سے پوچھا۔

بیٹا پرندے جب بھی ہم سےخوش ہوتے ہیں تو ان کی آواز میں اپنائیت  ہوتی ہے، یہ شاخوں پر خوشی سے جھوم کر زور زور سے چہچہاتے ہیں، بالکل ہمارے قریب آکر اپنا پیغام دیتے ہیں، اور تب تک بولتے رہتے ہیں، جب تک ہم ان کو سن نہ لیں۔

اور جب یہ ہم سے ناراض ہوں، ہم سے کوئی شکوہ ہو، تو اپنی وفا کی خاطر آنا تو گوارا کرلیتے ہیں لیکن بہت دور سے خود اپنے ساتھ گفتگو کرکے چلے جاتے ہیں۔
داداجان نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔

یہ جو چاروں طرف ہر گھر میں تم انہیں چہچہاتے ہوئے دیکھتے ہو ، یہ مختلف باتیں لیکر آتی ہیں۔ تم اگر سویرے اٹھ کر انہیں سننے لگو، تو ضرور سمجھ جاؤگے کہ یہ ہر صبح حیاتِ نَو کی ایک خوبصورت جھلک دکھاتی ہیں۔ ہر موسم میں بہار کی مانند خوبصورت رنگ بکھیرتی ہیں، بجھے ہوئے دلوں میں زندگی کے آثار پیدا کرتی ہیں، اور بیٹا انسان کو اپنی کوتاہی پر کوستی رہتی ہیں، کاش ہم سمجھ جائیں۔
دادا جان اور بھی کچھ کہنے والے تھے کہ اتنے میں سکول گاڑی کا  ہارن بجا، اور میں اجازت لیکر سکول جانے لگا۔

جانے کے بعد دن بھر ان باتوں پر سوچتا رہا، شام سورج کے ڈھلنے پر پرندوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگا، اور اگلی صبح ان کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا، کہ کب سے ان کی آوازوں میں قدرت کے چھپے راز پا سکوں گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *