اردو کی لذت ۔۔۔۔سید واثق گردیزی

( ان احباب کے لیے ، جو اردو زبان کی شیرینی کو محسوس کرنا جانتے ہیں اردو میں مذکر اور مونث کا فرق بیان کرتی ایک چلبلی تحریر  )

Advertisements
merkit.pk

ہماری زبان میں مذکر مونث کا معاملہ اتنا  بے ڈھب  کا ہے کہ اسے عام لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ،
میری چھوٹی سی بھتیجی ، تہمینہ نے ایک دن سوال کیا کہ چچا جان ۔۔۔ ،درد ، لڑکی ہوتی ہے یا لڑکا ؟؟
میں نے کہا لڑکا ،
بولی کیوں ؟
میں نے کہا درد ، اٹھتی نہیں ، اٹھتا ہے اور اچھی ہوتی نہیں ، اچھا ہوتا ہے ،
اس نے حجت کی کہ درد کو لڑکا کیوں کہتے ہیں ، ؟
وہ شاید کہیں درد کو مونث بولتے سن آئی تھی ، میں نے کہا ، اس لیے کہ وہ شریر ہوتا ہے تنگ کرتا ہے ، لڑکیاں تو شرارت نہیں کرتیں ، وہ تو تکلیف نہیں پہچاتی ، آرام پہچاتی ہیں نا ،
وہ بولی  مگر ، تکلیف تو لڑکی ہے ، اور آرام لڑکا ؟
اس پر میں  ذرا چکرایا ، بات بنانے کو کہا ،
بھئ بعض لڑکیاں بھی تو شریر ہوتی ہیں آخر ،تو تکلیف بھی ایسی ہی شریر لڑکی ہے ، مگر دیکھو ، خوشی لڑکی ہے اور رنج لڑکا ۔۔
اکثر اچھی اچھی چیزوں کو لڑکی ہی بنایا گیا ہے ،
اس پر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئی  اور بولی ، اچھا ۔۔ تو ان چیزوں کو لڑکا اور لڑکی ، کون بناتا ہے ؟
میں نے کہا ۔ بولنے والوں نے بنایا ہے جیسے اللہ میاں نے کسی کو لڑکا ، کسی کو لڑکی بنا کے بھیجا ہے ۔
کہنے لگی ، وہ تو اس لیے بنایا ہے کہ بڑے ہو کر ان کا بیاہ ہو جائے گا ،
تو کیا درد اور تکلیف کا بھی بیاہ ہو گا ؟
اس کی منطق میرے لیے خاصی ٹیڑھی کھیر بن گئی  تھی ، پہلے تو میں یونہی ہنس دیا ،کچھ مہلت لینے کے لیے ، کہ کوئی  نقطہ سوجھے تو اسے سمجھاوں ۔۔
کچھ نا کچھ تو مجھے کہنا تھا میں نے کہا ، ہاں ، ہو سکتا ہے ۔
بلکہ ہوتا ہی ہے جسمانی درد کا ، دلی تکلیف کے ساتھ جوڑ لگتا ہی ہے ،
دونوں ایک ہی ذات کے ہیں ۔
تہمینہ پوچھنے لگی ، پھر کیا ان کے بچے بھی ہوتے ہیں ؟؟ میں نے کہا ۔ ہاں  ضرور ہوتے ہیں
آنسو ، آہیں ، کراہیں ، سبکی ، سسکی ،انہی کے بچے ہیں ،
آنسو کو شاعر لوگ لڑکا ہی بتاتے رہے ہیں ،
آنسو ، ٹھہرتا نہیں ، گھر سے نکل پڑتا ہے ،
وہ بولی ، ٹھہریئے ٹھہریئے ،
ایک  آنسو کو چھوڑ کر ، یہ تو سب لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں ، آہیں ،کراہیں ، توبہ ، اُف سِسِکی ،
تو میں نے کہا ،کیا مضائقہ ہے ، ان کے لیے کوئی  جہیز وغیرہ کا انتظام تو کرنا نہیں پڑتا ،
اب اس نے پوچھا   کہ ان کو پہچانتے کیسے ہیں کہ کون لڑکا ہے اور کون لڑکی ؟
میں نے کہا ایسے ہی جیسے آدمیوں کو ، یعنی نام سے ۔۔۔اب کسی کا نام شاہد ہے تو وہ لڑکا اور شاہدہ ہے تو وہ لڑکی ، شاہد کی طرح ، قاصد ، مرشد ، قائد ، سب لڑکے شمار ہونگے ،
یہاں میں نے اپنے آپ کو خود ہی پھندے میں پھنسا لیا ، وہ بولی ۔۔
اگر شاہدہ لڑکی ہے تو ، قاعدہ اور فائدہ ، لڑکے کیسے ہو سکتے ہیں ؟؟
شاہدہ تو آتی ہے اور قاعدہ پڑھایا جاتا ہے
اور فائدہ بھی ہوتی نہیں ہوتا ہے ؟؟
میں پھر کھسیانی ہنسی ہنسا اور بولا یہ  ذرا زیادتی ہو گئی۔۔
مگر سنو ، قاعدہ کی جگہ ، قواعد کو مونث بنا دیا ہے ،
وہ آگے سے بولی ، قواعد ، بن جاتے ہیں ، یا بن جاتی ہیں ؟ ابھی تو آپ نے بولا کہ قواعد کو ، قاعدہ کے مقابلے میں لڑکی بنایا گیا ہے ،
میں نے اپنی سنجیدگی برقرار رکھتے ہوے کہا کہ   میرا مطلب ہے کہ لفظ کو سن کر یا پڑھ کر اس کی آواز سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ لفظ مذکر ہے یا مونث ،
اس نے اپنی چلائی ، کہنے لگی ،
مجھے تو درد ، مونث لگتی ہے ،
میں نے پیچھا چھڑانے کے لیے کہا ، ہاں ہاں ٹھیک ہے تم مونث ہی بول لیا کرو ،اور لوگ بھی تو بولتے ہیں تم اکیلی نہیں ہو ، مگر یاد رکھو کہ ، مذکر ، مونث کی کچھ واضح  علامتیں بھی ہیں ، جیسے کہ”ی ” پہ ختم ہونے والے لفظ ، تم دیکھو گی کہ مونث ہوتے ہیں اور”’ ا ” پر ختم ہونے والے مذکر ،جیسے ، امی ابا ، نانی نانا ، کنگھی کنگھا ، بکرا بکری ، تمہاری چچی ، میں تمہارا چچا ۔۔
تہمینہ پھر سوچ میں پڑ گئی ،
بے حد حجتی واقع ہوئی ہے ۔
بولی تو  بھائی  کو بھائی  کہنا تو غلط ہو گا ، بھا ، کہا کروں ؟؟
اور آپا کو آپی ؟؟
یہ تو بڑی گڑبڑ کی بات ہے ، اب دھوبن کو دھوبی کہوں ، اور دھوبی کو دھوبا ؟؟
میں نے بات کا رُخ بدلنے کے لیے کہا ، دیکھو بعض لفظوں کے آخر میں جو ” ی ،”آتی ہے وہ ان کے پیشے کو ظاہر کرتی ہے ، جیسے ، دھوبی ، نائی ، قصائی ، کبابی ، درزی ۔۔
تو وہ بولی ،اچھا تو یہ سب ، وہ آپ کیا کہتے ہیں ، مونث ہیں ، ؟
اور ، مما ، آیا ۔۔ وہ کیا کہتے ہیں ؟ مذکر ،
میں نے کہا ہاں ،
تو بولی ،، پھر آیا آئی ، کہ آیا ، آیا
وہ پھندے پہ پھندا ڈالتی جا رہی تھی مجھے ایک ضروری کام یاد آ گیا ، میں نے کہا ابھی تمہیں یہ باتیں سمجھانا بہت مشکل ہے
( ضیاء محی الدین کی ایک ویڈیو سے لیا گیا مضمون)

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

Syed Wasiq Gardezi
سکوں و اماں کی تلاش میں عذاب آگہی میں مبتلا ایک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply