• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میر ؔمعلوم ہے،ملازم تھا۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

میر ؔمعلوم ہے،ملازم تھا۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

SHOPPING
SHOPPING

ایڈیٹر نوٹ :یہ کہانی ان کی زیر طباعت کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“میں شامل ہے۔کہانی اپنی طوالت اور ا ٓ پ کی مصروفیت کی وجہ سے   دو اقساط پر مشتمل ہے،دوسری قسط کل ملاحظہ فرمائیے گا۔

اس وقت تک پاکستان میں اسمارٹ فون،تھری جی۔ جیسی ٹیکنالوجی اور واٹس اپ، فیس ٹائم،سنیپ چیٹ،ٹوئیٹر،ٹنڈر،اسنیپ چیٹ جیسی سوشل میڈیا کی ایسی غارت گر ایمان اور اودھم مچانے والی ایپس عام نہیں ہوئی تھیں۔نہ ہی ہر اللے تللے کی کیمرے والے موبائیل فون تک یوں رسائی تھی ، جیسی آج ہے۔اسمارٹ فون عام نہ ہونے کے باعث غریب غرباکی اکثریت ان کمپنیوں کے پرانے سل بٹوں جیسا  فون استعمال کرتی تھی جن کے نام اب پاکستانیوں میں غیر معروف ہوچلے ہیں۔مثلاً موٹرولا، ایرکسن ۔گھریلوں ملازمین کے پاس فون کا ہونا اس بات کی علامت تھی کہ وہ سلطان محمود  غزنوی کے غلام خاص ایاز ہیں یا شہنشاہ محمد غوری کے قطب الدین ایبک والی ولایت خادمانہ کے مرتبے پر فائز ہیں۔

سل بٹہ۔۔جس پر ساٹھ کی دہائی تک مسالہ پیستے تھے
سن دو ہزار کا فون
قطب الدین ایبک کا مزار لاہور میں

محرم کے ایام عزا میں امن ِعامہ کی بے حد دگر گوں صورت ِ حال کے باعث جب وزارت داخلہ نے ڈھائی دن کے لیے سیل فون سروس بند کی تو اس کا صدمہ اور نقصان، مختلف ممالک سے تعلق رکھے ہوئے آتنک وادھیوں (ہندی میں تخریب کاروں)،گھس بیٹھیوں (Intruders) اور کروڑوں روپے اپنے ہی بھیجے گئے پیغامات کے پھیلاؤ سے کمانے والی متعدد سیل فون کمپنیوں کو اتنا نہیں ہوا جتنا میرؔ ملازم کو ہوا۔بیرونی دنیا سے اس کا واحد رابطہ یہ ایک سیل فون ہی تو تھا۔

نو سگنل

پاکستان میں سب سے پہلے اسی نے وزارت داخلہ کی اس پابندی پر دل کھول کر اعتراض کیا۔اس کا کہنا تھا کہ اگر کہیں خود کش حملہ ہو تو اس کا کیا مطلب ہے حکومت بولے گی کہ سب عورتیں،بچے پیدا کرنا بند کردیں۔بات   جُّٹ (سندھی زبان میں مہمل مطالبہ)ہے۔
میر نے دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے اپنا یہ تجزیہ ٹی وی کی ایک مشہور اداکارروبی خان کے سامنے پیش کیا۔وہ اس وقت کسی شوٹنگ سے واپس آتے ہوئے، خرید کیے گئے، گھر کے سامان سے لدی پھندی،تھکی ہاری واپس لوٹی تھی۔ میر کو گھر کے باہر، فالتو بیٹھا دیکھ کر گاڑی سے سامان اتارنے کے لیے بلالیا تھا۔
اسے بھی میر ملازم کے سیل فون سے والہانہ لگاؤ کا بخوبی علم تھا۔اس اداکارہ کے بیک وقت دو افیئر ایک ساتھ چل رہے تھے۔ اس کا پہلا افئیر تو اپنے ہی سیل فون کے ساتھ چل رہا تھا اور دوسرا
ایک ٹاک شو ’پنڈ دا چوہدری ‘کے اینکر پرسن یعنی لنگر باز ڈی۔ جے۔چوہدری کے ساتھ ٹیک آف کے مراحل طے کررہا تھا۔۔اپنے اس پہلے افئیر کی بنیاد پر عشق کی آگ میں سلگتی ہوئی اک دوشیزہ ہونے کے ناطے اسے یہ بخوبی علم تھا کہ سیل فون کا عشق کس قدر گہرا اور توجہ کا طالب ہوتا ہے۔
روبی خان نے میر ملازم کایہ جملہ کاپی رائٹ ایکٹ کی پرواہ کیے بغیر اپنے یار کو فوراً ایس ایم ایس کردیا۔ ڈی۔ جے چوہدری نے یہ جملہ اپنے ٹاک شو میں مہمانوں کے تعارف سے پہلے   بیان کیا جس پر مہمان اس کی اس دور سے لائی ہوئی کوڑی اور چمکیلی ذہانت سے بہت متاثر ہوئے۔ یہ غالباً آخری ایس۔ ایم۔ ایس تھا جو اس دن پاکستان سے بھیجا گیا۔اس کے فوراً بعد پاکستان بھر میں ڈھائی دن کے لیے سیل فون سروس منقطع ہوگئی۔
میر ملازم کی کل کائنات یہ ہی سیل فون تھا۔ایک دن پہلے ہی وہ ایک رنگ برنگا چارجر خرید کر لایا تھا۔فون کی چارجنگ کے وقت اس میں جلتی بجھتی روشنی کو دیکھ کر  وہ ایسے ہی خوش ہوتا تھا۔جیسے تیزی سے بوڑھے ہوتے والدین اپنی فرماں بردار اولاد کو جواں ہوتا دیکھ کر ہوتے ہیں۔ پہلی دفعہ اس آر پار دکھائی دینے والے چارجر سے جب اس کے فون پر چارجنگ کی علامات دکھائی دینے  لگیں تو وہ بے اختیار کہہ اٹھا کہ” انگریز کی بھی سائیں کیا قدرت ہے پہلے تو بغیر تار کا فون بنایا پھر ایک ایسا چارجر بنایا کہ اندر سے سب دکھائی دیتا ہے“۔

مبارک سے خریدا گیا چارجر

یہ چارجر اس وقت تک شہر میں کہیں اور دستیاب نہ تھا۔ سامنے والے علاقے پارک لین کے کسی بنگلے میں ہنزہ کا ایک باشندہ مبارک،بطور کک ملازم تھا۔وہ کراچی سے موسم گرما میں چھٹیاں گزارنے اپنے گھر ہنزہ جاتا تو کچھ دن کے لیے چین کے شہر ارمچی جو قریب ہی واقع تھا، وہاں سے بھی ہو آتا تھا اور واپسی پر بہت سا سستا سامان بھی ساتھ لے آتا جس کی خاصی مقدار وہ کراچی لاکر بیچ دیا کرتا تھا۔اب کی دفعہ بھی وہ ایسے ایک درجن کے قریب چارجر اپنے سالانہ تفریح اور کاروباری دورے میں لے آیا تھا۔اس  کے ا چارجر کا کرشماتی احوال میر ملازم نے سرجن فاروقی صاحب کی چھبیس برس کی جواں سال ملازمہ، تانی بیگم سے سنا جو مبارک کک والے بنگلے میں بھی جھاڑو پوچا، بیگم صاحبہ کا ہفتے میں تین دفعہ مساج اور چھوٹی موٹی چوریاں بھی کیا کرتی تھی۔
یہ چھوٹی موٹی چوریاں بیگم صاحبہ کی فیک جیو لری کے آئٹم، کوئی استعمال شدہ لپ اسٹک ،پرفیوم کی آدھی پونی بوتل ہوتی تھی یا پھر باہر کی بنی ہوئی پرانی لانژرے ،یا پچاس پانچ سو کا نوٹ، جن کی چوری کا اکثر مالکن کو علم بھی ہو  جاتا تھا۔ وہ بالخصوص اپنی لانژرے کے غائب ہونے پر بہت اودھم مچاتی تھیں۔
اس طرح کے زیر جامے وہ یا تو اپنے بیرونی دوروں میں دکان دکان گھوم کر وہاں برپا سیل میں خریدتی تھیں یا ان کی دو عدد بیرونی ممالک میں مقیم بہنیں یا ایک عدد بھابھی آن لائن شاپنگ کرکے انہیں بھجواتی تھی۔ تانی بیگم کے اور مسز منیر جھکی کے جسمانی خطوط تقریباً ایک ہی پیمائش کے تھے۔تانی بیگم جب یہ لانژرے پہنتی تو وہ اس کے بدن پر ایسے ہی فٹ بیٹھ جاتی تھیں جیسے قیمتی ڈوم پیرے نیوں (Dom Perignon) کی شمپین   لمبی ڈنڈی والے کرسٹل کے جام میں دھوم مچاتی، بلبلے چھوڑتی، نشے کی دعوت دیتی ہوئی سما جاتی ہے۔

شمپئین اور کرسٹل کا جام

ان لانژرے کے گم ہونے پر اودھم عام طور پر سر شام اس وقت مچایا جاتا،جب وہ اپنے میاں کے ساتھ کسی پارٹی میں جانے کے وقت تیار ہو رہی ہوتیں۔اس بناؤ سنگھار میں اپنے وہ زیر جامے باتھ روم کی کھونٹی پر جہاں انہوں نے انہیں، ایک آدھ دن پہلے لٹکایا ہوتا، وہاں سے غائب ملتے تھے۔یہ وہ قیامت ہوتی جو امریکہ میں آنے والے طوفانوں Hurricane Julia, Hurricane Katrina, Hurricane Ivanka کی مانند قیامت صغری،ْقیامت عظمی،قیامت سلمی،قیامت لبنیٰ قسم کی ہوتی.۔
ان کا نو دولتیا میاں،منیر ذکی (جسے سب لوگ اس کی بحث کی عادت کی وجہ سے منیر جھکّی کہتے تھے) وہ ایک بڑا بلڈر تھا اور فراڈ کے پلاٹوں اور نیم مکمل تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ کر بے تحاشا مالدار ہوگیا تھا، ان کی اس تکا فضیحتی سے تنگ آکر انہیں سمجھاتا کہ بیگم جس ملک میں وزیر،بڑے سیاسی لیڈر، چھوٹے بڑے اہم سرکاری افسر دن بھر میں عوام کا کروڑوں روپیہ  چراتے ہوں،وہاں نوکرانی نے اگر ان کی پرانی لانژرے چرالی تو ایسا کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔اسے تم اپنے حسن دل فریب کا صدقہ سمجھو۔تم کہو تو میں پاکستان میں وکٹوریہ سیکریٹ کی فرنچائز لے لوں۔اس کا یہ حربہ،یہ تسلی، یہ پیشکش بیگم صاحبہ کے تاؤ و طیش پر جولائی میں بارش کی پہلی پھوارکا سا کام کرتے ۔

وکٹوریہ سیکریٹ کی دکان کا بیرونی منظر
وکٹوریہ سیکریٹ کی دکان کا اندرونی منظر

وہ انہیں گلے لگا کر چومتے چومتے جب ہل من مزید کی ضد کرتا تو وہ اپنی تیاری اور میک اپ خراب ہونے کی وجہ سے اسے یہ کہہ کر ٹال دیتی تھیں کہ باقی معاملہ پارٹی سے واپسی پر۔
انہیں بخوبی علم تھا کہ وصل کی آگ میں جلتے وقت میاں کا حسد نیم شب میں کس قدر خوش رنگ بن جاتا ہے۔اسی لیے وہ انہیں اک ادائے دل بری سے جتاتی تھی۔ ”

Let there be a pinch of jealousy when other men in the party drool over me”(کچھ حسد بھی شامل ہوجائے جب پارٹی میں میرے حسن کے جلوے دیکھ کر کئی مردوں کی رال ٹپکنے لگے)۔ جس پر ان کا اردو میڈیم میاں احمد فراز کا یہ مصرعہ ایک لطف سے پڑھا کرتا تھا کہ ع نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔۔۔۔
تانی بیگم نے جب اس طرح کی چوری پہلی دفعہ کی اور اپنے سے سات سال چھوٹے میاں فضل داد جو میٹرک فیل تھا اس کے سامنے اکتوبر کی ایک برستی شب جب ہلکے نیلے آسمانی رنگت کی اس برا اور پینٹی کو پہنا تو اس رات وحشتوں اور طلب کا عجیب منظر تھا، دھوبی کی دھلی ہوئی ہلکی گلابی چادر پر وہ تہمد پہنے اپنے محنت سے پلے ہوئے کسرتی بدن کے ساتھ نیم دراز، وصال کا منتظر ،تخت ہزارے کا رانجھا بنا، نیم دراز تھا۔
آج رات عجب اتفاق تھا کہ فضل کے والدین بھی گھر پر نہ تھے اور شام کی برسات کے ختم ہونے کے بعد کچھ دیر پہلے ہی بجلی واپس آئی تھی۔ ان کے گھر کے سامنے کی اسٹریٹ لائیٹ کی کرنیں روشن دان کے مٹیالے شیشوں سے چھن کر سیدھی بستر پر پڑرہی تھی۔ بقول شاعر نصیر ترابی کے ع
دھوپ، چھاؤں کا منظر تھا پر جدائی نہ تھی۔۔۔
تانی بیگم جب شاور لے کر بیگم منیر کا چوری کا ڈیوڈرینٹ لگا کر سرقے کی آسمانی رنگت کی  برا اور پینٹی پہنے کچھ گیلی، کچھ سوکھی،اندھیرے اجالے سے الجھتی غسل خانے سے بر آمد ہوئی تو یہ بات نہ تھی کہ اس غسل خانے سے سنی لیون(مشہور کنیڈین نژاد بھارتی ماڈل اور گندی فلموں کی اداکارہ کرن جیت کور وہرہ) اس مقام پاکیزگی سے برآمد ہوئی ہو، پر یہ بھی نہ تھا کہ چھبیس برس کی اس پلی پلائی تانی بیگم پر وہ لباس پھب نہ رہا ہو۔
فضل داد اپنی منکوحہ کے اس لباس دل فریب کی سجاوٹ،بناوٹ اور دکھاوے کے سحر میں مبتلا ہوکر کافی دیر تک اسے للچا کر تکتا ہی رہا۔ جب وہ ایک ادائے دلبری سے اس کے قریب آن کر براجمان ہوگئی تو وہ اپنی اس سمٹتی پھیلتی، قریب آتی، دور جاتی، آرزوئے وصال میں دہکتی ،اپنی تانو ڈارلنگ کے بدن پر ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگا۔ اسی اثناء میں اس کے ہاتھ کمپنی کے نام والالیبل لگ گیا اور وہ اس کی گود میں سر ڈال کر باتھ روم سے باہر آتی روشنی کی مدد سے اس لیبل پر لکھا نام پڑھنے لگا۔

وکٹوریہ سیکریٹ کا لیبل

یہ لیبل ناف کے عین نیچے الٹی پہنی ہوئی پینٹی سے باہر چھلک آیا تھا۔تانی نے جب پوچھا کہ کیا لکھا ہے تو وہ کہنے لگا ”رانی وکٹوریہ کا راز(Victoria ‘s Secret)“ اس پر تانی بیگم شرما کر کہنے لگی ”فضلو جانی لگتا ہے میں نے آسمان پہن لیا ہے۔ لے تو بھی ٹرائی کر“۔
جب فضل داد نے اس کی دعوت پر یہ پینٹی اس سے اتروا کر خود پہنی تو اس کے منہ  سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ”تانو! مے کوں لگدا جینہیوے میں ملائی پا چھوڑی ہے“(سرائیکی۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں نے ملائی پہن لی ہے) تانو نے شرارت سے اس کی طرف اپنی برا بھی اچھال دی کہ وہ بھی پہن لے۔جھینپ کر جب اس نے وہ بھی پہن لی تو تانو اس پر ٹوٹ پڑی اور کہنے لگی ”وے فضلا اج تو توں میری زال، تے میں تیرا مرس(شوہر)“ اس رات دونوں کے پیار ، غربت،چوری اور جوانی کی وحشتوں سے لدی پھندی اس Cross -Dressing نے نت نئے روپ دھارے۔

اس حوالے سے اصل ہنگامہ اس وقت ہوا جب تانی بیگم نے مسز منیر ذکی کی بہن کی ایک بے حد مختصر برا اور پینٹی اپنی کسی پرانی سستی دیسی پینٹی اور برا کے نیچے،چرانے کی غرض سے پہن کر چھپا لی۔ یہ وہ اپنے باتھ روم میں دھلنے کی غرض سے چھوڑ آئی تھیں۔ مسز ذکی کی بہن کا یہ لباس ایسا تھا کہ اگر آپ کو ہندوستان سے ایک زمانے میں چھپنے والے مشہور ادبی رسالے’بیسویں صدی‘ کے اوراق یاد ہوں تو ان میں ایک بے حد مختصر کہانی بھی شائع ہوتی تھی جس کی لوح پر ہمیشہ بطور تعارف یہ لکھا ہوتا کہ ’مختصر مختصر کہانی، انہیں دو صفحات میں مکمل۔ تانی بیگم کے چرائے گئے یہ زیر جامے اس سلسلے کی بہترین توضیح تھے۔


تانی بیگم جب اگلے دن کام پر واپس آئی تو مسز منیر اور ان کی بہن نے اس چوری کے حوالے سے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔جس پر تانی بیگم نے اپنی صفائی یہ کہہ کر پیش کی کہ”بیگم صاحبہ آپ کے باتھ روم کی صفائی تو بھنگن آن کر کرتی ہے۔ ہم غریب لوگ چرائیں تو کوئی مال، نقدی، سونا چرائیں۔آپ کے یہ کپڑے ہمارے کس کام کے، ہمارے میاں نے ہمیں پوری طرح سے کبھی دیکھا بھی نہیں۔ہمارے کمروں میں تو ٹھیک سے نماز پڑھنے کی جگہ نہیں،ہم یہ سب پہن کر کیا اپنے ساس سسر کو دکھائیں گے۔میرا میاں فضل داد تو راج مستری ہے۔ وہ آپ کے مردوں کی طرح پیار تھوڑی کرتا ہے۔ وہ تو مجھے بھی دیوار سمجھ کر پلستر کرتا ہے۔ہمارے لیے ڈالر، دھرم(وہ درہم کو دھرم کہتی تھی) کچھ کام کے ہوتے ہیں جو آتے جاتے کوئی مہمان دے جائے۔آپ کے یہ کپڑے ہمارے شامیانے جیسے بدن کے کس کام کے۔“
۔ اس کی یہ بات سن کر مسز منیر اپنی بہن بینا جسے وہ پیار سے بی نو کہتی تھیں، کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے جملے اور محرومی کا لطف لیتے ہوئے کہنے لگیں ”

Well she will never admit and she is always with these corny filmi excuses”(یہ اپنی چوری کبھی بھی نہیں مانے گی اس کے پاس ہر وقت اس طرح کے مضحکہ خیز فلمی بہانے ہوتے ہیں)۔

مبارک نے جب تانی کو یہ نیا چارجر دکھایا تو وہ بھی انگریزوں کی طرح سے سیانی بن گئی۔وہی انگریز جنہیں فرانس کا جرنیل اور شہنشاہ نپولین دکان داروں کی قوم The nation of shop keepers کہا کرتا تھا۔ نوکرانیوں کی اس ایسٹ انڈیا کمپنی کو کوئی اور تو نہ ملا بس میر کاسیل فون کا ذوق جنوں نظر میں رہا۔میر اس کی زبانی سیل فون کا ذکر سن کر ایسے ہی مچل گیا جیسے نوجوان مولوی،سورہ الواقعہ میں حورانِ فردوس کے حسن و جمال اور اوصاف و اطوار سن کر شرائط اعمال صالح کے لازمے بھول بھال کر وارفتہ ہوجاتے ہیں۔میرؔ نے تانی بیگم کو خاص طور پر تاکید کی کہ وہ جب کام کے لیے وہاں جائے تو اسے بھی ساتھ لے جائے۔

ہنزہ کے مبارک کک کی مرضی تو یہ چارجرپانچ سو روپے میں فروخت کرنے کی تھی مگر جب میر ملازم نے اسے شرم دلائی کہ حکومت تو پہلے ہی بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا بڑھا کر غریب عوام کو لوٹتی ہے، د وسری طرف غریب عوام بھی یہ کام کرنے لگیں گے تو پھر وہ بھی سب کچھ چھوڑ کر دھاڑیل(ڈاکو) بن جائے گا۔مبارک ملازم کے علاقے شکش کاٹ ۔ہنزہ میں جرائم کی شرح بے حد کم تھی۔ اس نے سوچا کہ شاید اس طرح ڈیڑھ سو روپے کی رعایت سے کراچی کے حالات میں بھی بہتری آجائے۔ اسے بھی اس بات کا بخوبی علم تھا کہ ملک کے تمام بڑے اس معاملے میں اپنی راتوں کی نیند حرام کیے بیٹھے تھے۔وہ تین سو روپے تک اسے فروخت کرسکتا تھا مگر پچاس روپے تانی بیگم کے کمیشن کے تھے لہذا اس ٹرانسپرینٹ چارجر کا سودا ساڑھے تین سو روپے پر ڈن ہوا۔

ششکاٹ ہنزہ

اس دن تانی بیگم نے میر ملازم سے ڈھائی انکشافات کیے تھے۔ایک انکشاف تو اس چارجر کے بارے میں تھا جو میر ملازم کی فوری طور پر سمجھ میں آگیا اور اس نے اس کو اسی دن عملی جامہ بھی پہنا دیا۔ اس چارجر کی خریداری اس کی خوشیوں میں بے حد اضافے کا باعث بنی۔
دوسرا انکشاف یہ تھا کہ تانی بیگم کو کو کسی ملازمہ نے ریٹائرڈ رئیر ایڈمرل احمد علی نقوی صاحب کے گھر پرکام دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ان کے ہاں نئی شادی ہوئی تھی۔بہو عاطفے کوئی ایرانی لڑکی تھی جس سے ا ن کے بیٹے نے پسند کرکے شادی کی تھی۔تانی بیگم سے بہو کی ملاقات اس کے بیڈ روم میں ہوئی جہاں وہ ایک نائیٹی پہنے بستر پر دراز تھی۔۔تنخواہ میں کمی اور کام کی کثرت کے باعث بات نہ بن پائی۔وہ مساج بھی کرانا چاہتی تھی۔اس کے تانی بیگم نے علیحدہ سے دو سو روپے فی سیشن مانگے تھے اور کھانا بھی۔
عاطفے نے جب اس کو جتایا کہ ”دن کے ساڑھے گیارہ بجے کھانے کا کونسا وقت ہوتا ہے؟! تو وہ کہنے لگی کہ”ہم غریب لوگوں کا کھانے کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔جب بھی ملے کھالیتے ہیں۔کھانے کے وقت تو صرف امیروں کا ہوتا ہے۔“
جس دن تانی بیگم نے میر ملازم کو اس چارجر کے بارے میں بتایا اور وہ اس کے لیے چائے بنا کر لے آیا تو وہ اسے ایک اور آدھے راز سے اور بھی آشنا کر بیٹھی۔ ان ڈیڑھ رازوں تک میر ملازم کے تخئیل کو رسائی تک نہ تھی۔ ایک راز تو یہ تھا کہ وہ ایرانی لڑکی عاطفے اتنی گوری ہے کہ رات کو کمرے میں ٹیوب لائٹ جلانے کی ضرورت پیش نہیں آتی اس جھپ میں تانی نے اسے آدھا راز اور بھی بتایا کہ”میرا میاں تو رات کو مجھے ڈھونڈتا ہی رہتا ہے“۔
”وہ کیوں تو رات کو گھر پر نہیں سوتی کیا؟“میر ملازم نے معصومیت سے پوچھا۔
تانی بیگم نے شرما کر کہا ”سوتی تو ہوں پر دکھائی نہیں دیتی“
”کیوں تو رات کو جن بن جاتی ہے کیا؟“میر ملازم نے پھر اسی معصومیت کا سہارا لے کر دریافت کیا۔
”ہاں بعد میں“تانی بیگم نے آنکھ مار کر کہا۔
”بعد میں بولے تو“ میر ملازم جس نے جملہ کا ’بولے تو ‘والا حصہ یہ بیگم صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی شایان سے بمشکل سیکھا تھا اور اب وہ اسے باآسانی استعمال بھی کرنے لگا تھا۔
”اسی لیے تو میں نے بوڑھے ماموں کو چھوڑ کر بھاگ کر اس کے بہنوئی کے سب سے چھوٹے بھائی فضل داد سے شادی کی۔وہ مجھ سے پورے سات سال چھوٹا ہے، صرف انیس برس کا ہے۔“۔
رات کی ان وحشتوں کا  میر ملازم کو کچھ اندازہ نہ تھا۔اس کا خیال تھا کہ صرف فون کو ہی چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انسانوں کو چارج نہیں کرنا پڑتا۔
اس کی اس مہمل گفتگو سے تنگ آن کر میر ملازم اونٹوں کی بات کرنے لگا جن کے درمیان اس نے اپنی عمر عزیز کے پورے پندرہ سال گزارے تھے۔”ہمارے ہاں چار طرح کے اونٹ تھرپاکرچھاچھرو میں ملتے ہیں:دھاتی۔کھرائی۔لاری جس کو ہم سندھی بھی بولتے ہیں اور سکاری ابھی کوئی زمیندار پنجاب سے کالا چٹا اور مریچا کی نسل بھی لائے ہیں مگر وہ کامیاب نہیں“۔
تانی بیگم کو اونٹوں میں کوئی دل چسپی نہ تھی وہ کہنے لگی ”یہ تیرے کھاکھرو کے اونٹوں کو گولی مار۔ کراچی میں اب لوگ سوزوکی اور پراڈو میں گھومتے ہیں“۔”اڑے الو کھاکھرو نہیں چھاچھرو“

تھر پارکر
کالا چٹا اونٹ جو دودھ کے لیے پالا جاتا ہے
لاسی اونٹ تھرپارکر کا
ماڑیچا اونٹ

تانی بیگم کی بات اس نے جھڑک کر کاٹ دی توہ جھوٹ موٹ روٹھ کر جانے لگی تو میر ملازم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس اپنے پلنگ پر بٹھالیا۔ ”میرے میاں فضل داد کو اگرپتہ چلے کہ تونے میرا ہاتھ پکڑا تھا تو وہ تیرے ٹوٹے کردے گا۔تو نے میری خاص بات تو سنی بھی نہیں“میر ملازم کی توجہ اس نے ایک دفعہ پھر سے اپنے انکشافات کی جانب مبذول کرائی۔ ”وہ کیا بھلا؟“”وہ یہ کہ اس ٹیوب لائیٹ کے بیڈ روم میں پوری چھت پر ایک ہی بڑا سا آئینہ لگا ہے۔پہلے کمرہ بن گیا تھا ان کی نوکرانی نے مجھے بتایا۔پھر یہ چھوری باہر سے آئی تو اس نے دروازہ اور کمرے کی دیوار تڑوائی اور آئینہ چھت پر فٹ کرایا“۔

چھت کا شیشہ
سر آئینہ میرا عکس ہے

”چھت میں آئینہ۔اڑے مجھے لگتا ہے تو چریا ہوگئی ہے؟ “میر نے اسے پاگل قرار دیتے ہوئے اپنی حیرت کااظہار کیا۔
”پوری چھت، ایک آئینہ اور ساری رات۔ سوچ تو سہی“ تانی بیگم نے مشہور ادیب مظہر الاسلام کی کتابوں کے ناموں ’گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی ‘اور’خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر‘کی طرز پر ایک جملہ داغ دیا۔اپنی ہی بات کا لطف لیتے ہوئے  وہ آگے کی طرف جھک کر زور زور سے ہنسنے لگی۔اس ہنسی کی وجہ سے اس کے باہر کی طرف جھانکتے سینے کی مست و رقصاں تھرتھراہٹ، میر کو بہت اچھی لگی۔اسے لگا کہ اس کے علاقے چھاچھرو میں چھاجوں مینہ برسا ہے اور کسی بہت دنوں کے سوکھے تالاب میں بارش کا بھرا پانی ہوا کے تیز جھونکوں سے خوشی سے لہروں کے گول گول دائرے بنارہا ہے۔میر نے اس دلفریب منظر کو ایک مشاق فوٹو گرافر کی طرح سے کچھ دیر تو نگاہ جماکر دیکھا اور دل ہی دل میں اس منظر سے کھیلتے کھیلتے ایک مناسب لمحے میں اس منظر کو ہمیشہ ہمیشہ دل کے  کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے شٹر ریلیز بٹن دبادیا۔
میر کی اس دیدہ دلیری کا لطف لیتے ہوئے اس نے یہ شوخی بھرا   ا نکشاف کیا کہ ”میر ا میاں فضل داد جب میں ایسے ہنستی ہوں تو تیری طرح اندر جھانک کر کہتا ہے ”تانی تیرا یہ رقصِ خربوز وے مار سٹیا“(سرائیکی میں مار ڈالا)
”تیرے میاں کی اردو اچھی ہے میں تو بس چھ جماعت سندھی پاس ہوں مجھے یہ رقص خربوز جیسے مشکل اکھّر (سندھی میں الفاظ)نہیں آتے ،ویسے بھی کراچی میں جس کو پناہ گیر (مہاجرین )لوگ خربوز بولتے ہیں اس کو ہمارے سندھ میں گدڑو بولتے ہیں“۔ میر نے اپنی جھینپ اور خفت مٹاتے ہوئے کہا۔
”اچھا اب میں فضل داد کو بتاؤں گی کہ وہ اس کو رقصِ گدڑو بولے“۔تانی بیگم جس کا آج میر کی میزبانی کا مکمل لطف اٹھانے کا  ارادہ تھا، اسے ہنس کر جتلانے لگی۔
میر کے دماغ میں گو رقص خربوز نے ایک پسندیدہ خلل ڈالا تھا مگر اصل میں اس کاذہن اب بھی چھت پر عاطفے بیگم کا آئینہ لگانے کی گتھی سلجھا رہا تھا اپنی معصوم روانی میں پوچھ بیٹھا۔”کیا وہ بیگم لیٹ کر کپڑے بدلتی اور میک اپ کرتی ہے؟“
”تو نے وہ گانا سنا ہے ہر طرف تیر ہ جلوہ۔اسے خود کو دیکھنے کا بہت شوق ہے“۔تانی بیگم نے اس سے سوال بھی پوچھا اور جواب بھی دے دیا۔
”اڑے اپنے آپ کو دیکھنے کا شوق ہے تو دیوار پر آئینہ لگالے“۔میر نے اپنی منطق جھاڑی۔
”تو ان باتوں کو نہیں سمجھے گا میرے ویر“ تانی بیگم کا اپنا نسوانی تجسس بھی اسے اس بات پر اکسا رہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اس کے سینے کی اس تھر تھراہٹ اور چھت میں آئینہ لگانے والی بات نے، میر میں کس نوعیت کی کھوج کو اور ذہنی خلفشار کے تاروں کو چھیڑ دیا ہے۔
”تونے بھی اس کی دیکھا دیکھی،چھت میں آئینہ لگایا ہے؟“میر نے ایک ذاتی سوال اپنی روایتی معصومیت سے پوچھ لیا۔
”نہیں میں اور فضل جب بستر میں ہوتے ہیں تو رات کو بتی بھی نہیں جلاتے“۔تانی بیگم نے بہت تاسف سے کہا۔
”وہ کیوں؟“میر نے پوچھا۔
”بجلی کا بل بہت آتا ہے۔ میں فضل کو بولتی ہوں ہتیجی (احمد پور شرقیہ کی ایک نواحی بستی) کے سُوم،کچھ نہیں تو ایک موم بتی ہی بال لے(جلا لے)۔ اس سے کھانا کھاتے وقت اور پیار کرتے وقت ماحول ہی رنگین  ہو جائے گا“۔تانی اپنی بات میں ایک جہاں کی محرومی سمیٹ کر کہنے لگی۔

احمد پور شرقیہ کی نواحی بستی

”ہاں تو بولتی تو پتے کی بات ہے، پھر وہ کیا کہتا ہے“؟ میر نے اب اپنی کھوج کا رخ تانی بیگم کی راتوں کی جانب کردیا۔
”فضل داد، میرا نان میٹرک پاس راج مستری بولتا ہے کہ میری تانی رانی،پلاسٹک کے پرانے برتنوں میں رات کو مونگ کی دال اور بے چپڑی روٹی کھانے سے ماحول رنگین نہیں بنتا۔رات کو دن بھر کی محنت سے تھکے ہارے بدن پیار میں لپٹ تو سکتے ہیں۔ماحول رنگین نہیں کرسکتے“۔تانی کی آواز میں وہی پرانا تاسف قائم تھا۔میر کی ہمدردی کا اس نے ایک چالاکی بھرا جائزہ لیا۔
میر ملازم کی آنکھیں اس انکشاف پر بند ہوگئیں تو تانی بیگم جس کے اپنے علاقے احمد پور شرقیہ میں بھی اونٹ بکثرت پائے جاتے تھے نوٹ کیا کہ اس کی پلکیں بھی اونٹ کی پلکوں کی طرح عام انسانوں کی پلکوں سے زیادہ لمبی تھیں۔

ہت ایجی احمد پور شرقیہ
ہت ایجی

ویسے بھی وہ جسمانی خدو خال کو زیادہ ہی نوٹ کرتی تھی جب ہی تو اس نے عاطفے کی رنگت کو ٹیوب لائٹ سے تشبیہ دی تھی۔اس کی خاموشی سے قائم سکوت توڑنے کے لیے تانی بیگم نے میر ملازم سے فرمائش کی کہ”اگرتیرے صاحب کی کوئی سگریٹ پڑی ہے تو اٹھالا مجھے پینی ہے۔“
”تو بہت خراب ہوگئی ہے“۔میر نے اس کی فرمائش سن کر کہا
”خراب تو وہ ہوتا ہے بابو جی جو کبھی اچھا ہو“۔ تانی بیگم نے انڈین اداکار ہ سوناکشی سنہاکی نقل کرتے ہوئے کندھے اچکا کر میر کو چھیڑا۔

سناکشی سنہا

میر چپ چاپ اپنے مالک کے کمرے میں گیا اور ان کی سگریٹ کی ڈبیا سے دو سگریٹیں نکال لایا۔گھر پر اس وقت صرف شایان بی بی تھی جو اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے ڈیک پر بلندا ٓواز میں میوزک سن رہی تھی۔تانی بیگم کی طرف لوٹتے ہوئے اس نے کچن سے ماچس کی ڈبیا بھی اٹھا لی۔
جب تانی نے سگریٹ سلگا کر ایک لمبا کش لیا اور اس کا دھواں میر کی جانب چھوڑا تو وہ ہاتھوں سے اس دھوئیں کو ادھر ادھر دھکیلتا ہوا اس پوچھنے لگا تو خالی سگریٹ پیتی ہے یا کچھ اور بھی؟!
”اتوار کے دن میں اور میرا فضلو گھر پر دونوں اکیلے ہوتے ہیں اور اس کے بڈھا بڈھی رشتہ داروں سے ملنے چلے جاتے ہیں تو ہم دونوں چترال کی ٹافی بھی کھاتے ہیں۔“ تانی نے ایک اور راز پر سے پردہ ہٹایا۔
”وہ زیادہ میٹھی ہوتی ہے کیا؟“میر نے پھر اپنے تجسس کا اظہار کیا۔
”ویر میرے شہد سے بھی زیادہ میٹھی۔سگریٹ میں بھر کر پینے میں بہت مزا آتا ہے۔تجھے معلوم ہے ہم لوگ چترال کی ٹافی چرس کو بولتے ہیں۔پھر ہم پیار کرتے کرتے بلیوں کی طرح لڑتے ہیں“۔تانی نے ایک مرتبہ اور آنکھیں مٹکا کر جواب دیا۔
”اڑے ہمارے چھاچھرو میں بلیاں رات کو لڑتی ہیں تمہارا شہر عجیب ہے یہاں بلیاں دن میں بھی لڑتی ہیں“۔میر نے اس کی بات سن کر حیرت کا اظہار کیا۔
تانی کہنے لگی ”غریبوں کی بلیاں جب بھی چانس ملے لڑلیتی ہیں۔ساس سسر اور دوسرا کوئی گھر پر نہ ہوں تو بلیوں کو لڑنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ایک بات سن لے ساری دنیا تیرے کھاکھرو، چھاچھرو کے حساب سے نہیں چلتی۔دنیا موقع محل کے حساب سے جیتی ہے۔ تیرے حساب سے نہیں۔پچھلے ہفتے میری مالکن کے ہاں کوئی پارٹی تھی۔پیچھے کوئی مہمان شراب کی دو آدھی بوتلیں چھوڑ گیا مالکن نے مجھے کہا کہ تانی ان کو پھینک دے۔میں نے تھیلی میں ڈال لیں اور بولا بیگم صاحب یہاں سیکورٹی والے پکڑلیں گے۔آپ جب باہر نکلو گی تو مجھے گیٹ پر اتار دینا۔میں سیدھی یہ کہہ کر ان کو گھر لے آئی کہ ہماری طرف کی کچرا کونڈی پر کچھ بھی پھینکو، کوئی نہیں پوچھتا۔بچے تو اکثر لوگ وہیں پھینک جاتے ہیں۔بیگم صاحب نے مجھے کہا بھی تانی تو اور میرا میاں مت پینا اس سے بہت گنا ہ ہوتا ہے۔ میرے دل میں تو بہت آیا کہ ان کو پوچھوں کہ کل رات جب آپ کے گھر پر مہمانوں نے شراب پی تھی تو ان کو بھی گناہ ہوا تھا کہ نہیں؟ میرا فضلو بولتا ہے تانی کسی امیر کو جواب مت دو۔ان کو اچھا نہیں لگتا کہ غریب لوگ ان کی غلطی بتائیں۔ہم نے اور فضلو نے ایک بوتل اتوار اور دوسری کل ختم کی“ بہت سواد آیا۔“
اس کے نشے سے میر کو کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی لہذا وہ پوچھ بیٹھا کہ ”یہ مساج کیا ہوتا ہے؟“میر ملازم کو یاد آیا کہ تانی بیگم نے فی سیشن اس کے دو سو روپے علیحدہ سے عاطفے بی بی سے طلب کیے تھے۔
”ارے یہ بیگم صاحب لوگ کوئی کام دھندہ تو کرتی نہیں کہ بدن ہماری طرح تندرست،مضبوط اور لچکیلا رہے۔یہ مالش کراتی ہیں تاکہ بدن بندھا رہے“ تانی بیگم نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا اور ساتھ ہی پوچھ لیا کہ کچھ کھانے کے لیے فرج وغیرہ میں موجود ہو تو بتادے کیوں کہ وہ آج ہنزہ والے مبارک کی طرف نہیں جائے گی۔
”کیوں؟“میر نے پوچھا۔
”مبارک کک نے میرے ساتھ ایک زیادتی کی ہے“ تانی نے اسے بتایا۔”کل بیگم صاحبہ مساج کے لیے کپڑے اتار کر بستر میں پرانی چادر بچھا کر لیٹ ہی رہیں تھیں کہ اچانک ان کی دو سہیلیاں آگئیں۔ان کو زبردستی گھسیٹ کر سنیما میں فلم دیکھنے لے گئیں۔ میں بھی نہا کر تولیہ پہن کر مساج کے لیے تیار ہورہی تھی۔مجھے کیا پتہ کہ بیگم صاحب چلی گئی ہیں اور ان کی جگہ مبارک چڈی پہن کر اور چادر اوڑھ کر ان کے بستر میں لیٹ گیا ہے۔میں جب مساج کرنے لگی، تب مجھے پتہ چلا کہ یہ تو مبارک کک ہے۔میں نے کہا چلو مزدوری تو مجھے مل ہی گئی ہے۔ میں نے اس کا مساج شروع کردیا مگر اس نے بڑا ظلم کیا اور میرے ساتھ دوسرا کام بھی کرلیا“۔
”پھر؟“میر ملازم نے حیرت سے پوچھا۔
”رات کو مجھے لگا کہ فضل داد میرا میاں ناراض ہوگیا وہ کہنے لگا تانو آج تو جن نہیں بستر میں بھیگی بلی کیوں بنی ہوئی ہے میں کیا جواب دیتی۔مجھے بہت دکھ ہوا۔“
میر ملازم اس کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے اٹھا اور پلاؤ کی جو پلیٹ کک نے اس کے لیے علیحدہ کرکے رکھی تھی وہ لا کر اسے دے دی ویسے بھی اسے چاول کھانا اچھا نہیں لگتا تھا۔
میر ملازم نے پوچھا کہ”کیا مبارک بھی اسے کھانا کھلاتا ہے؟“ تو وہ بتانے لگی کہ وہ چکن قورمہ اور ہری جیلی والا کسٹرڈ بہت عمدہ بناتا ہے اور جب یہ ڈش بنتی ہے تو وہ مجھے فون پر گونگی کال مارتا ہے تو میں کھانے چلی جاتی ہوں۔ میر ملازم نے اس حوالے سے صرف ایک سوال پوچھا کہ”کیا وہ اس حرکت کے بعد بھی اسے مس کال مارے گا تو وہ جائے گی؟“تانی بیگم کھانا ختم کرکے اپنی انگلیاں چاٹ رہی تھی۔اس کے نزدیک کھانا سنک میں گرانا گناہ تھا۔
”ہاں چکن قورمہ اور ہری جیلی والا کسٹرڈ کھلائے گا تو ضرورجاؤں گی“۔ تانی بیگم نے فیصلہ کن انداز میں اپنا ارادہ ظاہر کیا۔
میر ملازم نے جس کا ذہن کھانوں کی رنگت اور دوسرے کام کی تفصیل اور تانی بیگم کے عاطفے سے سوال جواب کی بھول بلیوں میں بھٹک رہا تھا پوچھا کہ ”احمد علی صاحب کی بہو عاطفے نے مساج کے لیے دو سو روپے اور کھانے کا مطالبہ سن کر کیا کہا؟“۔ وہ کہہ رہی تھی ”فی سیشن سو روپے دیں گی اور کھانا۔مرد نوکر تو شاید اس سے  بھی کم پیسوں پر ان کا مساج کردیں“۔
”پھر کیا بولی تو؟“اس نے سوال کیا۔
میں نے بولا ”وہ پھر دوسرا کام بھی کرتے ہیں۔آپ کیا کروگی“۔
”یہ دوسرا کام کیا ہوتا ہے؟“ میر ملازم کا ذہن پھر سے بھٹکنے لگا
”تیر ی شادی ہوگئی ہے؟“تانی بیگم نے جواب دینے کی بجائے الٹا اسی سے سوال کردیا۔
”نہیں“۔ میر ملازم نے قطعیت سے جواب دیا۔
”پھر تو کیسے سمجھے گا کہ دوسرا کام کیا ہوتا ہے؟“ تانی بیگم نے اس موضوع پر اس کی بے چارگی پر مہر لگادی۔
”اچھا یہ بتا تو پہلا کام کس کو کہتی ہے تو میں دوسرا کام خود ہی سمجھ لوں گا“۔میر نے اپنی سمجھ داری کا ثبوت دیا۔
۔”تو مجھے اب کی دفعہ سندھی بریانی اور گجریلہ جو تو نے عید پر کھلایا تھا وہ شام کو کھلائے گا تو شام کو میں جب تیری بیگم صاحب اپنے پارلر پر جاتی ہیں تو تجھے میں پہلا اور دوسرا کام بھی سمجھا دوں گی“۔تانی بیگم نے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔
وہ ایک یاسیت سے کہنے لگا”شام کو میں کوئی کام نہیں کرتا بس ٹی وی دیکھتا ہوں مجھے سونی ٹی وی کا سی۔ آئی۔ڈی اور ساس بھی کبھی بہو تھی والا ڈرامہ بہت پسند ہے“۔
”اس کا مطلب ہے تو مجھے مس کال بھی نہیں مارے گا اور سندھی بریانی اور گجریلہ بھی نہیں کھلائے گا۔سوچ لے پھر تیری سمجھ میں یہ پہلا اور دوسرا کام بھی نہیں آئے گا“۔تانی نے اسے جتلادیا۔
ٍ اونٹوں کے درمیان پرورش پانے کی وجہ سے میر ملازم کی نہ صرف چال ڈھال اونٹوں جیسی ہوگئی تھی بلکہ اس کی عادات و اطوار بھی کم و بیش انہیں جیسی تھیں۔تانی بیگم کی گفتگو اس کی سمجھ سے اب باہر ہوگئی تو اس نے تانی کو بھگانے کے لیے یہ بہانہ کیا کہ اسے سمیر میاں کے کپڑے استری کرنے ہیں۔اسے بخوبی علم تھا کہ سمیر میاں جو اس کے مالک کے چھوٹے صاحب زادے تھے ایسے کپڑے نہیں پہنتے تھے جن کو استری کی ضرورت ہوتی۔ ان کا لباس زیادہ تر جینز، ٹی شرٹس اور برمودا نیکروں تک ہی محدود تھا۔

میرؔ ان دنوں جس گھر میں ملازم تھا وہ ایک بہت محفوظ علاقہ تھا۔وزارت دفاع کے جس سویلین سیکرٹری نے اس علاقے کو سن ساٹھ کی دہائی میں منتخب کیا، وہاں اس نے سوچا کہ چند دنوں کی بات ہے روسی گرم پانیوں کی تلاش میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے بلوچستان تک آجائیں گے۔ان کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکیوں کو بھی پاکستان میں دفاعی اڈوں کی تلاش ہوگی۔بہتر ہے کراچی کے اس علاقے میں کچھ ہینگرز بنالیے جائیں۔ تب تک کراچی بمشکل پل سے ذرا پرے باتھ آئی لینڈ تک آتا تھا۔ان ہینگرز میں ان کے کون وئیرB-58 Hustler اور گرومینF-14 Tomcat, قسم کے طیارے باآسانی پارک ہوسکیں گے۔ان کا پلان تو بہت اچھا تھا مگر کوئی دس سال بعد روسی تو افغانستان میں دھنس گئے اور وزارت دفاع نے کچھ سوچ بچار کے بعد اس جگہ پر ایک رہائشی اسکیم اپنے اعلیٰ درجے کے افسران کے لیے منظور کرلی۔ تھوڑے بہت ہینگر جو وہاں پہلے ہی تعمیر ہوچکے تھے۔ اس طرح نجی رہائش گاہوں میں تبدیل ہوگئے۔ نئے گھر جو بنے وہ ملک کے دوسرے حصوں میں مقیم افسران نے مہنگے داموں سویلین افراد کو فروخت کردیے۔اب ان میں سے اکثر گھر سویلین افراد کی ملکیت تھے۔

f-14-ٹا م کیٹ
ہسلر بی 58

کالونی کے اردگرد ایک فصیل نما دیوار نے حفاظت کا ایک علیحدہ بندوبست کر رکھا تھا۔ اس کے دو بڑے گیٹس کے ساتھ ہی چوکیاں بنی  ہوئی تھیں۔ان میں بندوق بردار سنتری ہر وقت چاک و چوبند ڈیوٹی پر موجود رہتے تھے۔یہ ہر آنے جانے والے کی کار کو اچھی طرح سے آگے پیچھے سے جانچتے تھے کہ کہیں کوئی اسلحہ یا خود کش جیکٹ یا بارودی مواد لے کر تو اند ر نہیں جارہا۔وہاں کام کرنے والی ملازماؤں کی تھیلیوں کی اور ان کی اپنی بھی جامہ تلاشی ہوتی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ آپ کوئی بڑی ڈاڑھی یا حجاب اور عبایا پہن کر امریکہ کے کسی ائیر پورٹ پر اتر گئے ہیں جہاں کی سیکورٹی فورس آپ کی اسٹرپ سرچ کر رہی ہے۔وہاں آنے والے مہمانوں کا خیال تھا کہ آپ فرانس کی بنی ہوئی کسی آگوسٹا آب دوز میں تو زیر آب چھپ چھپا کر نظر بچا کر داخل ہوسکتے تھے پر اس کالونی کے گارڈز سے بچ کر اندر داخل ہونا نا ممکن تھا۔

کالونی کی خدمت گار ملازماؤں کے دل میں یہ خیال بھی اب ایمان کا درجہ حاصل کرگیا تھا کہ یہاں بسنے والے مردوں کا دل چرانا تو بہت آسان تھا پر ان کے گھروں سے سامان چرانا تقریباً ناممکن امر تھا۔
اس کالونی میں ایک چھوٹی سی مارکیٹ بھی تھی۔جس میں ایک سپر اسٹور جہاں بازار سے دس فیصد کم نرخ پر اشیا فروخت ہوتی تھیں۔سبزی،گوشت، مچھلی،دھوبی،دودھ کی بھی دکانیں تھیں اور خواتین کے لیے ایک بیوٹی سیلون بھی تھا جس کا نام لیزلی (Lesliy)بیوٹی پارلر تھا جسے وہاں کے نوجوان لڑکے لیس اگلی (Less-Ugly) بیوٹی پارلر کہتے تھے جس سے اس کی مالکن بہت نالاں تھی۔وہ اپنے ہنر اور کام پر بہت نازاں تھی۔
کم داموں وہاں کی آسودہ حال ،فربہ اندام خواتین جن پر محنت سے جان چرانے اور کھل کر کھانے کی وجہ سے بے تحاشا چربی چڑھ گئی تھی ان کی سجاوٹ اور سنگھار پر وہ بہت جانفشانی سے محنت کرتی۔ اب سامنے والا ہی حسین دکھائی دینے پر راضی نہ ہو تو وہ بے چاری کیا کرے۔ اس کے علاوہ  وہاں ایک مجاہد ہیئر کٹنگ سیلون بھی تھا جس سے بال کٹواکر آپ کا دل فوراً قومی نغمے گنگنانے اور بھارت پر چڑھ دوڑنے کو کرتا تھا۔
میر کی شادی کے بعد جب یہاں مقیم خواتین نے اپنی ایک تنظیم Colonial Sisters for Common Causes بنائی تو ریٹائرڈرئیر ایڈمرل احمد علی صاحب کی ایرانی بہو عاطفے نے اس کا ترجمہ’ہمشیرگانِ اشتراکِ عامہ‘ کردیا۔خواتین نے فیصلہ کیا کہ اس لیزلی (Lesliy)بیوٹی پارلر کو اپ گریڈ کردیا جائے۔اس میں آنے والی سوسائٹی کی ممبر خواتین سے پچاس فیصد معاوضہ لیا جائے اور باہر سے آنے والی خواتین سے بازار سے بیس فی صد کم اجرت لی جائے اور یہ اضافی رقم سوسائٹی کے فنڈز میں فلاح و بہبود کے منصوبوں میں لگادی جائے۔ میر کی دلہن سلطانہ کو بھی یہیں پر حسینی بیگم کی زیر نگرانی تیار کیا گیا تھا۔

میر کی زندگی ایک دھیمی رفتار سے گزر رہی تھی۔ یہ گھرانہ جہاں وہ ملازم تھا پانچ نفوس پر مشتمل تھا۔ ایک ریٹائرڈ بریگڈئیر صاحب جنہوں نے اپنی سویلین پوسٹنگ کے آخری سال میں بہت رقم بنائی اور پھر گتہ بنانے کا ایک کارخانہ اس پلاٹ پر ایک کچی بستی میں بنالیا۔ یہ کارخانہ انہوں نے اس بستی کے ایک بڑے سے پلاٹ پر بنایا تھا۔ اس پلاٹ پر انہوں نے اپنی ملازمت کے اس آخری برس میں ہی لڑ جھگڑ کا اپنا تسلط قائم کیا تھا۔ دو تین قبضہ مسلک سوئیلین سرکاری افسروں کے درمیان یہ پلاٹ بہت عرصے سے باعث چپقلش بنا ہوا تھا۔ ان افسران کی اس حوالے سے انکوائریاں ان کی میز پر پڑی کی پڑی رہ گئیں اور ان کی رخصت کے بعد عدم توجہی اور حالات میں تبدیلی کی وجہ سے بند کردی گئیں۔ اس کے علاوہ بیگم صاحب تھیں جن کا اپنا بیوٹی پارلر تھا جہاں وہ تین بجے دوپہر چلی جاتی تھیں۔ ان کا بڑا بیٹا عمیر خان جو اب قطر کی کسی یونی ورسٹی میں استاد تھا۔ دوسرا بیٹا سمیرخان جو کچھ دنوں میں برطانیہ بی بی اے کرنے کے لیے جانے والا تھااور بیٹی شایان خان جو لڑکیوں کے کسی کالج کی طالبہ تھی۔اس کے علاوہ یہاں تین ملازم بھی تھے۔میر ملازم اوپر کے کاموں کے لیے، کک عبدالکریم اور ڈرائیور تمیز خان۔ سرونٹ کوارٹر ایک ہی تھا۔ جس میں ڈرائیور تمیز خان کا قیام تو دن دن میں ہوتا تھا۔ وہ صبح ساڑھے سات بجے آجاتا تھا۔اس آبادی سے ملحق جو کچی آبادی نیلم کالونی تھی اس میں اس کا گھر تھا۔ اس کوارٹر میں ایک بستر میرملازم کا تھا اور دوسرا بنگالی کک عبدالکریم کا۔ گھر میں دولت کی خاصی ریل پیل تھی۔

گھر کے مالک ریٹائرڈ بریگڈئیر سرفروش خان صاحب کے بس دو ہی شوق تھے۔اپنے کاروبار کو سلیقے سے چلانا اور دوسرا بلا ناغہ گالف کھیلنا۔ گالف کے وہ دیوانے تھے۔دفتر سے آن کر سیدھے وہ کلب چلے جاتے اور شام سات بجے تک گالف کھیل کر واپس آتے ،کھانا کھاتے۔ بیگم صاحبہ سے گپ لگاتے اور شاہد مسعود کا شو دیکھتے دیکھتے ہی اپنے صوفے پر بیٹھے بیٹھے خراٹے لینے لگتے۔ انہیں یوں سوتا دیکھ کر بیگم صاحبہ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں بستر میں آرام سے دھکیل دیتی تھیں۔میر ان کا گالف کا کٹ بیگ جب گاڑی میں رکھ رہا ہوتا تو روزانہ اس کا ڈرائیور تمیز خان سے ایک ہی مطالبہ ہوتا کہ ”چل پٹھان بھائی۔ ڈکی کھول میرے کو گال۔لف رکھنی ہے“ ۔ بریگڈئیر سرفروش خان صاحب جب ایک آدھ پیگ لگا کر ذرا موڈ میں ہوتے تو اس کی میر ملازم کی بجائے گال۔ لف صاحب کہہ کر پکارتے تھے جو بیگم صاحب کو میر ملازم دونوں کو ہی بہت اچھا لگتا تھا۔
میر ملازم کو اپنے سامان میں اگر اپنے سیل فون کے علاوہ کوئی اور چیز عزیز تھی تو وہ ا س کی سندھی ٹوپی تھی اس طرح کی رنگ برنگی ٹوپیوں کی ایک وافر تعداد اس کے پاس موجود تھی۔ جن وہ اپنے موڈ کے حساب سے سر پر سجالیتا تھا اور اس ٹوپی کی وجہ سے بہت معتبر اور بردبار لگتا تھا۔

سندھی ٹوپی

یوں بھی وہ ایک سنجیدہ،شاکر اور ایمان دار ملازم تھا جو سال میں ایک آدھ دفعہ ہی باپ کے بہت ضد کرنے پر اس سے ملنے چلا جاتا تھا۔ وہاں تھر پارکر کے اپنے آبائی گاؤں میں اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ماں سوتیلی تھی اس سے میر کی ذرا بھی نہیں بنتی تھی۔ دو تین بعد اس کا اپنی ماں سے کسی معمولی سی بات پر جھگڑا ہوجاتا تو وہ ناراض ہوکر باپ کو بتائے بغیر واپس کراچی لوٹ آتا تھا۔ وہ اپنی یہ سندھی ٹوپی صرف سوتے وقت اتارتا تھا یا کسی ملازم یا ملازمہ کی کوئی ایسی بات سن کر جسے اس کا ذہن فوری طور پر قبول کرنے پر تیار نہ ہوتا وہ ’گھوڑا رے گھوڑا‘(سندھی زبان میں تاسف اور حیرت کے کلمات)۔میر ملازم گاتا بھی اچھا تھا۔ اس کی لے کاری اور الاپ بہت اچھا تھا۔ہر وقت وہ کام کرتے وقت دھیمے سروں میں اپنے علاقے کا کوئی نہ کوئی گنگناتا رہتا۔ تین بجے کے بعد جب وہ استری کررہا ہوتا تو یہ سر ذرا اونچے ہوجاتے تھے۔ گھر کے سب لوگ جب ذرا موڈ میں ہوتے توفرمائش کرکے اکثر اس سے گانا سنتے تھے۔گانا گاتے وقت وہ یہ ٹوپی اتار دیتا تھا۔ وہ چونکہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے اسی علاقے کا باشندہ تھا جہاں کی مشہور لوک گلوکارہ مائی بھاگی تھی۔ دوتین ہندوستانی گانے بھی اسے ادھورے یاد تھے۔جن کو وہ بہت موڈ میں آتا تو کبھی کبھارگا لیتا تھا۔

SHOPPING
مائی بھاگی

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *