“آزادی کا کاروبار”

“بیٹا تم پڑھتے کیوں نہیں”
“ونسی کلاس میں ہو”
جیسے بے معنی جملے اسے کانوں میں گونج رہے تھے،
بھوک میں بلبلاتے بہن بھائیوں اور ماں کا بیماری کے درد سے بھرا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے تھا،
چھوٹا ذہن تھا اور بڑا بوجھ،
ہُوا یہ کہ آٹھ سال کا بڑا بیٹا نکلا کہ کوئی کاروبار کرے،
اگست کا مہینہ تھا اپنا پھٹا ہوا کرتا پہن کر مال روڈ پر سبز جھنڈیاں بیچنے لگا،
کیا اچھا کاروبار ہے “آزادی کا کاروبار”
جھنڈیاں بک گئیں
روٹی کیلئے پیسے مل گئے،
ہاں مگر ماں کی دوائی کیلئے،
شائد کچھ اور بیچنی پڑے “آزادی”
نوٹ:( یہ سو لفظی کہانی میں نے ایک سال پہلے اگست میں لکھی، اور اسی کہانی سے میں نے مختصر لکھنے کا آغاز کیا)

Avatar
بصرعلی خان
نیم سویا نیم جاگا طالب علم ..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *