ماں ،ہنڈیا اور بچہ۔۔۔۔محمد اظہار الحق

کوئی تو ہے جو عمران خان کی پالیسیوں کو دانستہ یا نادانستہ، ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ایئرپورٹ پر، ٹریفک کے محکمے میں، وزارت تعلیم میں، وزارت خزانہ میں، ہر جگہ کوئی نہ کوئی قینچی پکڑ کر پالیسی کی دستاویز کو کاٹ رہا ہے۔ کاٹے جا رہا ہے۔ وزیراعظم علم غیب رکھتا ہے نہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس کے وزیر اور مشیر اس حقیقت سے بے خبر لگتے ہیں کہ ان کے نیچے کون کیا کررہا ہے۔ اس لیے کہ امیدوں کے مینار زمین بوس ہو رہے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ عوام میں آگہی کا شعور عمران خان نے پیدا کیا۔ تبدیلی کے معاملے میں عوام حساس ہو چکے ہیں۔ ازحد حساس! اب وہ حقیقی تبدیلی دیکھنے کے متمنی ہیں۔ چار دن پہلے ایک تعلیم یافتہ نوجوان دارالحکومت کے نئے ایئرپورٹ سے واپس آیا۔ وہ کسی کو رخصت کرنے گیا تھا۔ ایک جگہ ایئرپورٹ کے داروغے نے اس کی گاڑی روک لی کہ آگے جانا منع ہے۔ نوجوان نے ایک گاڑی کی طرف اشارہ کیا کہ وہ گاڑی تو جا رہی ہے۔ داروغے نے قہقہہ لگایا کہ وہ ایم این اے کی گاڑی ہے۔ اس پر نوجوان نے اسے یاد دلایا کہ نئے پاکستان میں ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اس کا جواب اس نیم تعلیم یافتہ داروغے نے جو دیا وہ کئی کالموں اور کئی مقالوں اور کئی رپورٹوں اور کئی تقریروں اور کئی کتابوں پر بھاری ہے۔ دروغے نے دوسرا نمکین قہقہہ لگایا اور نوجوان کو یہ کہہ کر خوابوں کے پرستان سے ایک جھٹکے کے ساتھ باہر نکالا ’’نیا پاکستان صرف میڈیا میں ہے۔ باہر وہی پرانا پاکستان ہے۔‘‘ چلئے، یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ ایسا بدصورت واقعہ ایئرپورٹ پر دن میں ایک ہی بار پیش آتا ہے۔ ہر ایئرپورٹ پر، ہر دفتر میں، ہر ریلوے اسٹیشن پر، ہر ہسپتال میں، تو حساب لگائیے، ایک دن میں کتنے لوگ خوابوں کے پرستان سے باہر دھکیلے جائیں گے؟ یہ تعداد ہر روز، ہر ہفتے بڑھتی جائے گی۔ یہ ہے وہ زیر زمین طریقہ جس سے پالیسیاں ناکام کی جاتی ہیں۔ عوام مایوس ہوتے ہیں۔ بائیس برس کی محنت پر چند کام چور، وزیر، چند بدنیت حکام، پانی پھیر دیتے ہیں۔ کوئی تو دارالحکومت کے ایئرپورٹ پر مامور ہوگا جس نے اس پروٹوکول کی، اس امتیازی سلوک کی اجازت دی ہوگی، کوئی اس کے اوپر بھی ہوگا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ایئرپورٹ سکیورٹی فورس میں۔ ہوابازی کی وزارت یا ڈویژن میں۔ اسے کون پکڑے گا؟ کون سزا دے گا؟ عبرت ناک سزا ملے گی تو پروٹوکول کا یہ کیڑا مرے گا ورنہ رینگتا رہے گا؟ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے یہ حقیقت دریافت ہو چکی تھی کہ حکمران سب سے زیادہ بے خبر ہوتے ہیں۔ کم ہی ان میں علائوالدین خلجی اور شیر شاہ سوری ہیں جو باخبر رہتے ہیں۔ سلطنت کے دور افتادہ بازار میں بھی گندم کی فروخت سرکاری نرخ کا منہ چڑاتی تھی تو سلطان کو معلوم ہو جاتا تھا۔ کم تولنے والے کے جسم سے اتنا گوشت کاٹ لیا جاتا تھا جتنا وزن کم ہوتا تھا۔ آج شور مچایا جارہا ہے کہ موٹرسائیکل کا غریب مالک دو ہزار روپے کا جرمانہ کیسے دے گا؟ ویگن کا ڈرائیور غریب ہے، حالانکہ ان غریب ویگن ڈرائیوروں نے شیطان کا لباس پہنا ہوا ہے۔ ان موٹرسائیکل سواروں نے ٹریفک کے پورے نظام کو لعنت زدہ کیا ہوا ہے۔ یہ قانون کو اس منحوس دو چرخے کے ٹائروں کے نیچے ہمہ وقت روند رہے ہیں۔ کسی سرخ بتی کی، کسی ٹریفک لین کی، کسی ترتیب، کسی ضابطے کی ان موٹرسائیکل سواروں، ان وحشی ویگن ڈرائیوروں کو تمیز نہیں، ناخواندہ، انسان نما جانور، جو ڈمپر اور ٹرالیاں چلا رہے ہیں، ڈرائیور نہیں جلاد ہیں۔ خلیل حامدی سے لے کر پروفیسر طیب منیر تک۔ کتنے ہی قیمتی پاکستانی ان آدم خوروں کی نذر ہو چکے۔ جنہیں درختوں کے ساتھ باندھ کر خاردار شاخیں ان کی سرینوں پر مارنی چاہئیں، ان کی ہمدردی میں جرمانے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔ افسوس، صد افسوس۔ عمران خان نے افق کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ ’’نئے پاکستان کی آئیڈیالوجی‘‘ پر پورا اترتے ہیں۔ اس کالم نگار نے کئی ہفتے مشاہدہ کیا۔ تنقید سے گریز کیا۔ صبر کیا مگر تمے کے پودے پر انجیر کیسے لگے گا۔ جو اعتراض نوازشریف پر تھا بزدار صاحب پر اس کا اطلاق بدرجہ اتم ہورہا ہے۔ یہاں تو معاملہ کاغذی چٹوں سے بھی بدتر ہے۔ سب سے بڑے صوبے کا حکمران اعلیٰ، جو کسی بھی درجے میں متاثر نہیں کرتا، پنجاب کے حکمرانوں کو غیر ملکی سفیروں، حکمرانوں، تاجروں، کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسروں، صحافیوں سے بات کرنا ہوتی ہے۔ بزدار صاحب کیسے بات کریں گے؟ مافی الضمیر کیسے ادا کریں گے؟ اور کس کو خبر ہے کہ مافی الضمیر ہے بھی یا نہیں؟ مہاتیر کو یا اردوان کو یا ایرانی صدر کو یا کسی اور سربراہ حکومت یا امیر ریاست کو شاہی قلعے میں وزیراعظم دعوت دیں گے تو تعارف کراتے وقت وزیراعلیٰ کو لکڑی سے گوشت پوست میں کیسے تبدیل کریں گے؟ یہ گوہر نایاب، یہ بدخشاں کا موتی، یہ یمن کا عقیق، خان صاحب نے دریافت کیسے کیا؟ دھوئیں میں تحلیل ہو جانے والے کس جن نے اس کی نشان دہی کی؟ کون سا ہد ہد اس کی خبر لایا؟ یہ راز تب فاش ہوا جب وزیراعلیٰ نے پاکپتن ضلع کے پولیس افسروں کو طلب کیا اور ایک غیر متعلقہ شخص نے، وزیراعلیٰ کی موجودگی میں، ان پر حکم چلایا اور وزیراعلیٰ موم کا بت بنے بیٹھے رہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کسی کو برا لگے یا اچھا۔ یہ بات سن کر کسی کے شکم میں قولنج کے درد کی لہر اٹھے یا تنگ پیشانی پر رعونت کی شکن پڑے، بات سچی ایک ہی ہے کہ ایسا کرکے وزیراعلیٰ نے ثابت کردیا کہ وہ کٹھ پتلی ہیں اور انہیں کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے افسر کوبھی یہ طریق کار منظور نہ ہوگا۔ وہ بھی غیر متعلقہ مداخلت کار کی بات خود سنے گا پھر اسے یہ کہہ کر رخصت کردے گا کہ اپنے ماتحتوں سے میں خود پوچھوں گا یا سمجھائوں گا۔ یہ تو نااہلی اور ناتجربہ کاری کی انتہا ہے کہ ایک غیر متعلقہ شخص جس کی بیگم کی خاتون اول سے دوستی ہے، پولیس کے اعلیٰ افسروں پر حکم چلائے یا چلانے کی کوشش کرے اور وزیراعلیٰ برخوردار بن کر سنتے رہیں اور دیکھتے رہیں۔ کیا وزیراعظم تک یہ عوامی ریمارک نہیں پہنچا کہ وزیراعلیٰ کو کوئی اور ریموٹ کنٹرول سے چلائے گا؟ کیا زبان خلق کا یہ نقارا ان کے کانوں تک نہیں گیا تھا کہ ترین صاحب کا انتظار کیا جائے گا اور وہ آئیں اور منصب سنبھالیں۔ وزیراعظم کو ایک غیر متعلقہ شخص کی مداخلت کے حوالے سے، ایسی تنبیہہ ضرور کرنی چاہیے تھی جس کا عوام کو علم ہوتا اور یہ کم از کم ہوتا۔ دوسری طرف عوام کو بھی دھاگہ ہر وقت کھینچ کر نہیں رکھنا چاہیے۔ کبھی ڈھیلا بھی چھوڑ دیں۔ زرداریوں اور شریفوں کو تیس چالیس برس دے دیئے تو عمران خان کو ایک دو یا تین چار برس تو دے دیجئے۔ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی۔ یا شاید ہم اس بچے کی طرح ہیں جس کی ماں نے ہنڈیا چڑھا رکھی ہے اور بچہ مسلسل رو رہا ہے کہ کھانا فوراً دو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *