نبی کریم ﷺکی کاروباری سوجھ بوجھ، تزویراتی سوچ اور دوست داری

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیمی و یسیری میں بچپن گزارا اور ہم عمر چچیرے بھائی نہ ہونے کے سبب زیادہ تر تنہائی میسر رہی. باقاعدہ یا بے قاعدہ تعلیم کا سلسلہ بھی نہ بن پایا اور نہ خاندان اور علاقے میں اس کا عمومی رواج ہی تھا. تاہم آپ نے بکریاں چرانے اور اجنبی لوگوں میں میل جول کی وجہ سے کچھ ایسی صلاحیتیں اور مہارتیں بہم پہنچا لیں جن سے آگے کی زندگی میں خدائے بزرگ و برتر نے آپ سے کام لینا تھا. ان مہارتوں میں معاملہ فہمی، مردم شناسی، دوست داری، کاروباری سوجھ بوجھ اور تزویراتی گہرائی کو جانچنے والی تیز نگاہ بہت نمایاں ہیں.

ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ذکر کیا ہے کہ شام کے کاروباری سفر میں جس میں آپ حضرت خدیجہ کا مال لے کر گئے تھے، آپ نے حبشہ کے تاجروں سے راہ و رسم پیدا کی اور ساکھ قائم کی، جس کی وجہ سے اس سفر کے قریب قریب پچیس سال کے بعد جب اہل اسلام کو مکہ سے ہجرت کرنا ٹھہری تو مقام ہجرت حبشہ قرار پایا، اور اہل حبشہ نے مہمانداری اور حفاظت کا حق ادا کر دیا. اسی کاروباری تعلق کی وجہ سے شاہ حبشہ سے آپ کے ذاتی مراسم بنے اور آپ نے اس کا غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھا.

مارٹن لنگز نے آپ علیہ السلام کی معاملہ فہمی، کاروباری سوجھ بوجھ، دشمن بنانے کے بجائے دوست بنانے اور تزویراتی اہداف کو تیز نگاہی سے جانچنے کی شاندار صلاحیت کا بار بار ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اس ہدف، راستے یا آپشن کو اختیار کیا جو دنیوی اعتبار سے نسبتا زیادہ سود مند تھا. چنانچہ آپ کبھی ناکام نہیں ہوئے یہاں تک کہ احد کی شکست اور حدیبیہ کی ذلت آمیز شرائط کو تسلیم کرلینے کے باوجود کچھ ہی عرصے میں بازی پلٹانے میں کامیاب رہے. آپ کی ان صفات کا طہ حسین، شاہ ولی اللہ اور ابن خلدون نے بھی ذکر کیا ہے.

انتہائی دنیا دارانہ اور خالص مادی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ہم اس نبی پر ایمان لائے ہیں جو ابتداءً معاشرے کی نچلی سطح سے اٹھا اور باپ دادا کے زندہ نہ ہونے کے سبب خاندان میں بھی عملی طور پر بے حیثیت تھا، لیکن جب دعوت پیش کی تو اپنی ان شاندار شخصی صلاحیتوں کے ساتھ مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوتے دنیا بھر کے نظاموں کو تہہ و بالا کر گیا. دنیا کے بڑے غیر مسلم مفکرین آپ علیہ السلام کو ایک کامیاب سٹیٹسمین، مدبر، ماہر گیم چینجر اور اپنے علاقے کی معاشی تنگدستی کو مال و دولت کی فراوانی و خوشحالی میں بدلنے والے ماہر معاشیات کے طور پر دیکھتے ہیں.

اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور آسمان سے رشد و ہدایت اترنے کا نظام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے. اب دنیا والوں کو کامیاب ہونے کے لیے وہ صفات اپنانا ہوں گی جن کا ماڈل نبی آخر الزمان علیہ السلام نے پیش کیا تھا. ان صفات کو جو بھی اپنائے گا وہ کامیاب ہوگا، مسلمان ہو یا غیر مسلم.

انسان کا خدا سے رشتہ بندے اور رب کا ہے، اور صلاحیتیں آزمانے کے لیے میدان کھلا ہے.

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *