پولیو ویکسینیشن کا ڈرامہ اور جنرل درانی۔۔۔۔۔۔رشید یوسف زئی

نماز جمعہ میں امام سورۃ حجرات کی آیت، یایھا الذین امنوا ان جاکم بنباء فتبینوا. عسی ان تصیبوا قوما فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین. مؤمنین،جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرو. شاید تم کسی قوم کو نقصان پہنچانے کے بعد اس پر پشیمان ہو جاؤ۔۔۔
آیت کی شان نزول ایسی ہے کہ اس میں ایک صحابی کو فاسق بتایا گیا ہے. اوپر سے یہی صحابی، حضور اقدس رض کا منتخب فرمودہ نمائندہ بھی تھا. کیا ان دو اعزازات کے باوجود بھی صحابی فاسق ہوسکتا ہے؟ یہ ایک پیچیدہ بحث ہے پھر کبھی۔۔

عربی ادب و محاورہ میں انسانی فکر و احساسات کے مرکز کو قلب کہا جاتا ہے. قلب، انقلاب کا مادہ اشتقاق Stem ایک ہیں یعنی تبدیلی. سوچ اور خیال کے مرکز کو دل اس لیے مانا جاتا ہے کہ اس میں ہر لمحہ خیالات بدلتے رہتے ہیں، ہر آن ایک انقلاب برپا ہوتا  رہتاہے . یہی انسانی ذہن کی تندرستی ہے. اگر انسانی ذہن ایک خاص فکر میں مسلسل پھنس جائے تو اس کو خبط Obsession کہا جاتا ہے جو کہ دیوانگی کی  ایک قسم ہے.

واضح  رہے کہ ذہن کو آدمی لگام نہیں ڈال سکتا. خیالات اپنی  مرضی سے آتے جاتے رہتے ہیں. اسی آیت کے ساتھ میری توجہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اور سابق سربراہ انڈین ایجنسی را اے ایس دلت کی مشترکہ کتاب Spy Chronicle کی اسامہ بن لادن کے  متعلق باب تک گئی اور پھر اس کتاب کے  صفحہ 234 پر ذہن کی سوئی ایک دقیقے کیلئے اٹک گئی . جنرل درانی اور دلت کتنے فاسق یا کتنے قابل اعتماد ہیں؟ اور یہاں سے ذہن میں مزید سوال ابھرے کہ ان کی کتاب کا  محرک کیا تھا ؟ ان دونوں کے  فرمودات کی تصدیق کے خارجی دلائل کیا ہوسکتے ہیں؟اس کتاب میں پانچ فیصد باتیں شاید بامقصد اور بمعنی ہیں باقی کم ہی کنکریٹ یا ٹھوس باتیں ہیں.

پولیٹیکل سائنس کے مطابق ایک آزاد ریاست کے عناصر اربعہ میں ایک حاکمیت اعلی Sovereignty ہے جس کی آسان تعریف یہ ہے کہ مقتدر اعلی کی  اجازت کے بغیر متعلقہ ریاست کی  متعین حدود کے اندر پرندہ پر بھی نہیں مار سکتا. مملکت خداد اد کی  متعین حدود کہاں، تاہم حاکميت اعلی کا  تو پاکستان میں تصور ہی خیال است و محال است وجنون. رہی سہی کسر اسامہ بن لادن بارے ابیٹ آباد میں امریکی آپریشن نے پوری  کی . لائن آف کنٹرول پر روزانہ انڈیا کی توپیں خاموش کرنے والی اور ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے لشکروں کو بھگانے والی فوج و فضائیہ پتہ نہیں اس رات کیوں نشہ آور گولیاں کھا کر سوئی؟ یہ سوال جواب طلب رہےگا۔

جنرل اسد درانی کی  اس کتاب نے چند اہم ناموں اور رازوں سے پردہ اٹھایا. بقول ان کے، انکی رائے ہے کہ اسامہ بن لادن مکمل پاکستانی تعاون سے حوالہ کیا گیا. شاید وہ پہلے سے ہی پاکستانی تحویل میں تھا. اسامہ بن لادن کی گرفتاری سے محض دو دن قبل جنرل کیانی نے امریکی فوجی سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ایک سمندری مقام پر ملاقات کی. بقول جنرل درانی یہ ملاقات اسامہ ڈرامے کے حوالے سے تھی. ایک رائے ہے  کہ کیانی نے اسامہ گرفتاری کے پیسے لئے. جنرل درانی کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو کیانی قابل نفرت ہے. بقول جنرل درانی، جنرل کیانی ان کے شاگرد ہونے کے باوجود ان سے ریٹائرمنٹ کے بعد نہیں ملتے کہ میں ایبٹ آباد آپریشن بارے سوالات کرونگا. اسد درانی صاب ہی کی  کتاب سے دنیا کو پتہ چلا کہ آئی ایس آئی میں امریکہ کیلئے کام کرنے والے بندے (جسے انٹیلی جنس اصطلاح میں Mole کہا جاتاہے) نے اسامہ کی خبر گیری کی تھی جبکہ اس امریکی ایجنٹ پاکستانی کرنل کو امریکہ میں فارم ہاؤس وغیرہ ملا ہے اور عیش کی زندگی گزار رہا ہے.

اس ساری تفصیل سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعد از ایبٹ آباد آپریشن بریفنگ میں بھرے پارلیمنٹ کے سامنے جنرل پاشا نے چار گھنٹے مسلسل جھوٹ بولا. جب اس واقعے کی اصل کردار امریکہ میں عیش کررہا ہے تو اس کے برعکس اسی ڈرامے میں ملوث ایک اور نسبتاً کم اہمیت والا   کردار ڈاکٹر شکیل آفریدی اسی جرم میں جیل میں قید کاٹ رہا ہے . شاید اس کا  اصل جرم یہ ہے کہ اس کا تعلق پاک آرمی سے نہیں. اگر کوئی میجر، کرنل ہوتا تو آج وہ بھی امریکہ میں سکون سے عیش کر رہا ہوتا.

مذکورہ کتاب کے  مذکورہ صفحہ 234 پر شکیل آفریدی کے حوالے سے جنرل اسد درانی نے کہا ہے کہ “شکیل آفریدی کی پولیو ویکسینیشن مہم جعلی تھی. اس بارے میں وہ گھر گھر جاسوسی کرتا رہا.”
پاکستان میں پولیو ویکسینیشن مہم آج بھی گھر گھر ہوتی ہے  . اگر چہ ویکسین لینے والے بچوں سمیت نگہداشت و صحت سے متعلق امور کے ماہرین کے بھی اس مہم پر تحفظات ہیں. تاہم پولیس اور انتظامیہ کے دباؤ سے کام جاری ہے. صحت کے ماہرین کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ یہ ویکسینیشن پیدائش کے  پہلے  سال کی جاتی ہے، بعد ازاں اس کی ضرورت نہیں. ایک سال میں پانچ بار ویکسینیشن عمر بھر کیلئے کافی ہے. پانچ سال عمر تک ہر بچے کو پچیس بار ویکسینیشن غیر ضروری ہے. ڈاکٹر حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ پولیو قطرے زندہ وائرس ہیں. مردہ بھی نہیں  اور زندہ وائرس کی ویکسینیشن خالی از خطرہ نہیں.

کئی ماہرین خود یہ کہہ رہے   ہیں  کہ حکومتی تاکید سے ان کو ساری  پولیو مہم پر شک ہو رہا ہے . تاہم راقم کی رائے میں شاید اس طرح اس لئے ممکن نہ ہو کہ پولیو مہم تو انڈیا، سری لنکا وغیرہ میں بھی جاری  ہے  جبکہ وہاں صحت کے امور کے ماہر حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ایک پیج پر ہیں. لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے   کہ پاکستان میں مزید کتنی  جعلی پولیو مہم جاری رہیں گی؟ پولیو سے عوام کی پرائیویسی کو کتنا نقصان ہے اور کب تک رہے گا؟ ایک بات پولیو ویکسینیشن میں کرپشن کے حوالے سے ہے. چونکہ پولیو کیلئے بیرون ملک اور بین الاقوامی اداروں سے خطیر رقوم مہیا ہوتی  ہیں اس لئے یہاں منافع بخش کاروبار جاری ہے اور بات یہاں تک آگئی ہے کہ پولیو ویکسین کی حفاظت کیلئے برف خریدنے میں بھی کرپشن کی جاتی ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *