• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خلافت سے کربلا تک : حضرت علی رضی الله عنہ کا دور : جنگِ جمل ۔۔۔۔۔حسنات محمود/نویں قسط

خلافت سے کربلا تک : حضرت علی رضی الله عنہ کا دور : جنگِ جمل ۔۔۔۔۔حسنات محمود/نویں قسط

SHOPPING
SHOPPING

حضرت عثمان رضی الله عنہ کی شہادت جس حالت ِ فساد میں ہوئی اس کے بعد حالات کا مزید بگڑ جانا بعید از قیاس نہیں تھا – چنانچہ حضرت علی رضی الله عنہ کو اپنی حکومت کے پہلے دن ہی جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا وہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کے قصاص کا معاملہ تھا – جیسا کہ ہم پیچھے وضاحت کر چکے ہیں کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کا قاتل کوئی نامزد آدمی نہیں تھا –  یہ شہادت ایک بغاوت کے نتیجہ میں ہوئی اور باغی گروہ میں بھی کچھ اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم شامل تھے – اور کچھ حضرات شامل نہ ہونے کے باوجود خاموش رہ کر خود کو اس فتنہ سے الگ کر چکے تھے –

حضرت علی رضی الله عنہ کی حکومت بنتے ہی چند  جید اصحاب رسول صلی الله علیہ وسلم نے آپ کی بیعت کر لینے کے بعد آپ کے خلاف اقدام جنگ  کر دیا – ان اصحاب میں حضرت طلحہ ، زبیر اور عائشہ رضی الله عنہم سر فہرست ہیں – اور انہی کے گروہ میں مروان بن حکم جیسا شرارتی آدمی بھی شامل تھا جو خود قتل عثمان رضی الله عنہ کی  بنیادی وجہ تھا  اور بعد میں اپنے ہی لشکر میں شامل حضرت طلحہ رضی الله عنہ کا قتل بھی اسی نے کیا –  یہ وہ پہلا گروہ تھا جس نے حضرت علی کے خلاف قدم اٹھایا  اور نوبت جنگ تک جا پہنچی- حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں  ہی اس جنگ میں حضرت علی رضی الله عنہ کے حق پر ہونے کی پیش گوئی فرما  دی تھی  جس کی تفصیلی روایت بعد میں نقل کی جائے گی – اس جنگ میں حضرت علی رضی الله عنہ کے موقف کی درستگی کے بارے اس پیش گوئی کے علاوہ یہ بات بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ اس جنگ میں شامل تینوں کبائر اصحاب رسول صلی الله علیہ اپنے اس اقدام پر خود نادم ہوۓ – اب ہم یہاں تک لکھی گئی باتوں کے حق میں صحیح احادیث پیش کرتے ہیں –

حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا رجوع:

“حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَتَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةٌ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: ” أَيَّتُكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟ “، فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ عَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ”

ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ نقل ہوۓ ہیں :

“لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتِ الْكِلَابُ، قَالَتْ: أَيُّ مَاءٍ هَذَا؟ قَالُوا: مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا: بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ، فَيُصْلِحُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: ” كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ؟ ”

“حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ رضی الله عنہا  کا لشکر رات کے وقت  بنو عامر   کے کنویں کے پاس پہنچا تو کتے بھونکے – حضرت عائشہ نے پوچھا ” یہ کون سا کنواں ہے ”  بتایا گیا ” حواب ” – آپ رضی الله عنہا  نے فرمایا پھر تو میں ضرور واپس جاؤں گی – یہ سن کر آپ کے ساتھیوں میں سے  (حضرت زبیر ) کسی نے کہا کہ نہیں ہم تو آگے بڑھیں گے تاکہ آپ کے واسطے سے الله مسلمانوں میں صلح کرا دے – اس پر حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا  کہ ایک دن رسول الله نے ہم بیویوں کو فرمایا تھا  ” تم میں سے ایک کی حالت اس وقت کیسی ہو گی جب اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے “-

(مسند احمد ، حدیث نمبر ٢٤٦٥٤، ٢٤٢٥٤، سند صحیح  کما قال الارنوط و البانی )

علامہ البانی رحمتہ الله علیہ نے اپنی کتاب “سلسلہ الاحادیث صحیحہ” کی حدیث نمبر ٤٧٤ کے تحت اوپر درج حدیث پر بحث کرتے ہوۓ کئی صحیح روایات نقل کی ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا   بعد میں نہ صرف اپنے اس اقدام کی غلطی کو جان چکیں  تھیں بلکہ اس پر شدید نادم بھی تھیں – وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے کہا کرتیں تھیں : ” ما منعك أن تنهاني  ؟”  کس چیز نے تمہیں مجھے روکنے سے دور رکھا  ؟  تو حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے کہا  قال: رأيت رجلا قد غلب عليك. يعني ابن الزبير ”   میں نے دیکھا کے ایک شخص آپ پر غالب آگیا تھا یعنی ابن زبیر ”

اسی بحث میں  فرماتے ہیں  :

” قالت عائشة وكانت تحدث نفسها أن تدفن في بيتها، فقالت: إني أحدثت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثا، ادفنوني مع أزواجه، فدفنت بالبقيع رضي الله عنها.

“حضرت عائشہ نے حکم دیا کہ ان کی وفات کے بعد ان کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس دفن کرنے کی بجاۓ باقی ازواج کے ساتھ دفنایا جائے   –

علامہ البانی یہ سب چیزیں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

“تعني بالحدث مسيرها يوم الجمل، فإنها ندمت ندامة كلية، وتابت من ذلك.على أنها ما فعلت ذلك إلا متأولة قاصدة للخير، “.

“اس نئے کام سے آپ کی مراد جنگ جمل میں شرکت کرنا تھا – وہ اس پر مکمل طور پر نادم اور تائب ہو چکیں تھیں – حالانکہ انہوں نے یہ سب نیک نیتی سے کیا تھا ”

(سلسلہ الاحادیث الصحیحہ ، تحت حدیث ٤٧٤ )

یہاں اس بات کی وضاحت بھی لازمی ہے کہ نہ صرف یہ کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہ اپنے اقدام پر نادم تھیں ، بلکہ حضرت علی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بھی حضرت عائشہ کے مقام و مرتبہ کو پیش نظر رکھا – مثلا ً یہ روایت ملاحظہ ہو :

ولما بعث علي عمارا والحسن إلى الكوفة ليستنفرهم خطب عمار فقال: إني لأعلمأنها زوجته في الدنيا والآخرة، ولكن الله ابتلاكم لتتبعوه أو إياها “.يعني عائشة.”

“جب حضرت علی رضی الله عنہ نے حضرت عمار بن یاسر  اور حضرت حسن رضی الله عنہم کو کوفہ والوں کو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا ساتھ دینے سے روکنے کے لیے بھیجا تو حضرت عمار رضی الله عنہ نے خطبہ دیتےہوۓ فرمایا ” میں جانتا ہوں کہ وہ دنیا و آخرت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی بیوی ہیں مگر الله نے تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے کہ تم ان (یعنی حضرت علی )  کی طرف جاتے ہو  یا  ان کی اتباع کرتے ہو یعنی حضرت عائشہ کی ”

(صحیح البخاری، حدیث نمبر ١٣٩١)

حضرت زبیر رضی الله عنہ کا رجوع  اور شہادت :

سیدنا زبیر رضی الله عنہ پر  جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے اس قدم کی غلطی واضح ہو چکی تھی – آپ رضی الله عنہ اسی دوران میدان جنگ کو چھوڑ کر صفوان نامی مقام پر چلے گئے – اتنے میں کچھ لوگوں نے ان کا تعاقب کیا اور ان کو شہید کر دیا – جب قاتل نے حضرت زبیر رضی الله عنہ کا سر حضرت علی رضی الله عنہ کے پاس لایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:

لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ”

” الله کی قسم صفیہ کے بیٹے کا قاتل ضرور آگ میں ڈالا جائے گا! میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے –

(مسند احمد ،  حدیث نمبر  ٦٨٠ ، و سند ہ حسن )

مروان بن حکم کے ہاتھوں حضرت طلحہ رضی الله عنہ کی شہادت :

حضرت طلحہ رضی الله عنہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کے ناقدین میں سے تھے – ان کی شہادت کے بعد ان کو اپنی اس غلطی کے کفارہ کا واحد ذریعہ یہی نظر آیا کہ آپ کے قصاص کی طلب میں شہید ہو جائیں – ایک صحیح روایت میں آتا ہے :

“وَلَكِنَّهُ كَانَ مِنِّي فِي أَمْرِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لَا أَرَى كَفَّارَتَهُ إِلَّا أَنْ يُسْفَكَ دَمِي فِي طَلَبِ دَمِهِ”

“میرے اور عثمان رضی الله عنہ کے معاملے میں کچھ ایسی بات ہے کہ جس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں ان کے خوں کے بدلے کی طلب میں میرا خوں بہہ جائے ”

(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر ٥٥٩٥، و قال ذہبی سندہ جید )

یہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی  بات ہے ، تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں گروہوں میں کسی حد تک مفاہمت ہو گئی تھی – یہ بات مروانی گروہ کو، جو اس سارے فتنے کا سبب تھا ، قبول نہیں تھی – اس لیے مروان بدبخت نے اپنے ہی لشکر میں شریک حضرت طلحہ رضی الله عنہ کو زہر آلود تیر مارا اور اس طرح جنگ کی چنگاری بھڑک اٹھی – یعنی خود حضرت طلحہ بھی جنگ کرتے ہوۓ نہیں اپنے ہی گروہ میں شامل اس لعین ابن لعین کے ہاتھوں شہید ہوۓ – اس بارے میں روایت ملاحظہ ہو :

“فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ طَلْحَةُ وَكَعْبُ بْنُ سُورٍ مَعَهُ الْمُصْحَفُ”

“جو سب سے پہلے شہید ہوۓ وہ طلحہ اور کعب بن سور ہیں جن کے ہاتھ میں قرآن تھا ”

(مصنف ابن ابی شیبہ ، حدیث نمبر ٣٧٧٩٨، سندہ حسن )

حضرت کعب بن سور جنگ شروع ہونے سے پہلے قران ہاتھ میں لیے فریقین میں صلح کی کوششوں میں مصروف تھے – شہادت طلحہ رضی الله عنہ کے بارے میں آتا ہے :

” رَمَى مَرْوَانُ طَلْحَةَ يَوْمَ الْجَمَلِ بِسَهْمٍ فِي رُكْبَتِهِ فَمَاتَ”

“جمل والے دن ، مروان نے طلحہ رضی الله عنہ کے گٹھنے میں تیر مارا اور وہ شہید ہو گئے ”

(مصنف ابن ابی شیبہ ، حدیث نمبر ١٢٠٩٦، سندہ صحیح )

SHOPPING

حضرت طلحہ رضی الله عنہ کے قاتل کو بعد میں کس طرح سے نوازا گیا اس جنگ کے پیچھے موجود محرکات کو جاننے کے لیے کافی ہے  – یہ جنگ اسی  گروہ کا فتنہ تھی جو باغی گروہ کو کچلنے سے پہلے ہی آپس میں جنگ کروا کے خلیفہ علیہ السلام کو کمزور کرنے کی کامیاب سازش تھی-اس جنگ کے بعد کیسے یہ باغی گروہ خلیفہ برحق، امام عادل علیہ السلام کے خلاف اٹھا اور کیسے صحابہ نے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مل کر اس باغی گروہ کے خلاف جنگ کی اس کی تفصیل انشاءالله اگلے مضمون میں –

SHOPPING

حسنات محمود
حسنات محمود
سائنس و تاریخ شوق، مذہب و فلسفہ ضرورت-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *