شہباز شریف اور لڈن جعفری۔۔۔۔فرحان شبیر

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف صاحب صاحب نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سوال کیا کہ ” حکومت بتائے  کہ چینی وزیر خارجہ کا شایان شان استقبال کیوں نہیں کیا گیا “؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا کی قسم ” گرو اپ مین ” دنیا کے لیڈر اب برگر کی ٹیبل پر کیفوں میں بیٹھ کر معاہدے کررہے ہیں نا کہ بینڈ باجے بجا کر اور ستر ستر کھانوں کی ڈشز بنوا کر ۔
دوسرے اپوزیشن لیڈر اس بات کا جواب دیں کہ اب تک سعودی عرب کیوں نہیں  آیا تھا سی پیک میں یا پاکستان میں اس طرح کی کسی بڑی سرمایہ کاری ؟
آخر کیا وجہ تھی کہ سعودی حکمرانوں نے اب تک سی پیک میں شمولیت نہیں کی اور اب اچانک ” عمران خان ” کے وزیراعظم بنتے ہی سعودی عرب ایک ہی دورے میں بے تابانہ پاکستان کے ساتھ تیسرے اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر اس پراجیکٹ میں شامل ہوگیا۔ اور ٹھک سے دس ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ بھی گوادر میں آئل سٹی پراجیکٹ میں کرنے کا اعلان کردیا ۔
کیوں میاں نواز شریف کے دور میں سعودی عرب ، پاکستان کے ساتھ اس طرح کے اسٹریٹجک معاہدے میں شامل نہیں ہوا اور اب کیسے چین اور پاکستان کے ساتھ سی پیک کے دفاع کی لڑی میں تیسرے اتحادی کے طور پر جڑ گیا ۔

سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ اچانک ہی کود پڑا میدان میں یا سعودیہ پہلے بھی اس پراجیکٹ میں شامل ہو سکتا تھا لیکن اسے شامل ہونے نہیں دیا جا رہا تھا ۔

کیا سعودی حکمرانوں کو میاں صاحب پر اعتبار نہیں  تھا یا جان بوجھ کر سعودی عرب اور خلیجی حکمرانوں کو دور کیا گیا پاکستان سے ، اور ایک ایک کر کے یہ ممالک بھارت کی گود میں جا کر بیٹھنے لگے ۔

سوال یہ ہے کہ جو سعودی عرب ایک دورے میں دس ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا معاہدہ کر سکتا ہے اس سعودی عرب نے ہمارے محترم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے دس سالہ پنجاب کے دور حکومت میں ایک ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری کیوں نہیں کی ۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے سعودی عرب انتظار میں تھا کہ دور شریفانہ ختم ہو اور وہ بھی سی پیک میں شامل ہو کر اپنی کاروباری فوائد سے لیکر سکیورٹی اور ساورنٹی کو یقینی بنائے ۔

مڈل ایسٹ میں امریکی جنگوں نے جس طرح سے ایک ایک کرکے مسلمان ممالک کو تباہ کیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ عراق ، لیبیا ، شام کا انجام سب کے سامنے یے ۔ اس تباہی سے اب تک جو ملک بھی بچا ہوا ہے وہ اپنی سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے ۔ سعودیہ ہو یا ایران ، لبنان ہو یا ترکی اور یا پھر ہمارے خطے میں افغانستان یا پاکستان ۔ سب ہی شام کی صورتحال پر نظریں گاڑے بیٹھے ہیں ۔ کہ
کس کے گھر جائیگا طوفان بلا اسکے بعد۔۔۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں  کہ مڈل ایسٹ کی تباہی میں جہاں اسرائیل اور امریکی مفادات شامل ہیں وہیں اس بد نصیب خطے کے عربی اور عجمی حکمرانوں کی آپس کی چپقلشوں ، خاندانی بادشاہتوں کے مفادات ، عرب شہزادوں کی عیاشیاں اور ڈیفنس سے غفلت ، عربی اور ایرانی تفاخر پرستی اور شیعہ سنی ڈیوائڈ کا ہی اصل کردار ہے ۔
ایران میں ڈاکٹر مصدق کے انقلاب کے خلاف امریکی سی آئی نے تقریبا ً دو سالوں میں ہی انقلاب کو چلتا کر دیا تھا اور دوبارہ سے رضا شاہ پہلوی کو تخت پر بٹھا دیا تھا ۔ شاہ فیصل نے تیل کا ہتھیار استعمال کیا تو اسے اس کے بھتیجے کے ہاتھوں قتل کروا دیا گیا ۔ یہاں ذولفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کو مجتمع کرنے ، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے اور سوشلسٹ بلاک کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی تو اسکے خلاف سی آئی اے کے ڈالروں کی بارش سے نو ستاروں کا محاذ کھڑا کرکے تختہ دار تک پہنچا دیا گیا ۔

عراق سے صدام حسین ، لیبیا کے معمر قذافی کو ہماری آنکھوں کے سامنے جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈہ وار کے ذریعے اڑا کر رکھ دیا اور کوئی مسلم ملک کچھ نا کرسکا ۔ مڈل ایسٹ سمیت ہماری اپنی تاریخ امریکی سی آئی ٹائپ رجیم چینج جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔
اور اس وقت بھی مڈل ایسٹ میں رجیم چینجز کا عمل زور و شور سے جاری ہے ۔ دو ہزار پانچ اور چھ میں امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ، کرنل رالف پیٹر کے نقشوں کا بڑا چرچہ ہوا تھا ۔ جس میں مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کے امریکی منصوبے کا انکشاف ہوا تھا ۔ یہ نقشے ان دنوں امریکی وار کالجز میں وار ڈاکٹرائن کے طور پر پڑھائے جانا شروع ہوئے تھے ۔ جس میں مڈل ایسٹ کو شیعہ ، سنی کرد اور دیگر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کاٹ کر اسرائیل کی سرحدوں میں توسیع کرکے سعودی عرب تک کا آدھا حصہ شامل کردیا جائے حتی کہ مسجد نبوی کو چھوڑ کر مدینے کا کافی علاقہ بھی اس گریٹر اسرائیل کا حصہ ہوگا ۔ اور سعودی عرب کے پاس صرف مقامات مقدسہ رہ جائیں گے ۔ ایران ، ترکی ، شام کے کرد علاقوں کو کاٹ کرد نیشن ہڈ کی بنیاد پر ایک ریاست کھڑی کی جائیگی تاکہ بعد میں شکرگزار کرد ریاست کو مظبوط کرکے ان علاقوں کو مستقل علاقائی تنازعات میں الجھایا رکھا جاسکے اور کوئی بھی آیل کی پائپ لائن تین چار ملکوں سے گھوم گھام کر چین کو تیل نا پہنچادے ۔ اور آپسی تجارت کے لئیے بھی کوئی ٹریڈ روٹ کبھی نہ  قائم ہو سکے ۔

جس وقت ان نقشوں کا چرچا ہوا تو پاکستان میں بھی ان پر بات ہوئی تھی کیونکہ ان نقشوں میں پاکستان کی بھی ری اسٹرکچرنگ کا پلان تھا ۔ جسکے تحت پاکستان کو کاٹ پیٹ کر پنجاب اور سندھ تک محدود کرنا تھا جبکہ بلوچستان کو فری بلوچستان اور صوبہ سرحد کو افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس وقت بھی ہمارے لبڑل سیکولر دانشوڑوں نے ان نقشوں پر بات کرنے والوں کو کانسپیریسی تھیوریسٹ کا ٹائٹل دے دیا تھا ۔ افغان جنگ میں پاکستان کو جھونکنے والے مشرف کے امریکی منصوبے میں رنگ بھرنے کی ان کوششوں پر تنقید کرنے والوں کو ان دنوں غیرت بریگیڈ ، غیرت بریگیڈ کے القاب سے نوازتا تھا جیسے آج آپ فوج کے کسی ایک کام کہ تعریف کر دیں تو بوٹ پالیشئیے کا لقب مل جاتا ہے ۔

اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دورے میں پاکستان کی طرف سے مقامات مقدسہ کے ہر صورت میں تحفظ کا واشگاف اعلان سمجھ آتا ہے ۔ اور یہ سب اتنی رضامندی کے ساتھ کہ جس وقت عمران خان سعودی حکمرانوں کے ساتھ تھے تو پاکستان کے آرمی چیف چین کے حکمرانوں کے ساتھ ۔ یعنی سعودیہ کا تحفظ اب پاکستان ہی نہیں چین بھی کریگا ۔

یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ اس سے امریکی مفادات کو کتنا بڑا دھچکہ پہنچا ہے اور گریٹ گیم کیسے پلٹتی نظر آرہی ہے اور یہ پاکستانی ریاست کی کچھ ہی سالوں سے اختیار کی گئی نو مور کی پالیسی ہے جسکو وزیراعظم عمران نے بھی یہ کہہ کر اور مضبوط کیا کہ اب پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑیگا ۔ اسی کی تو جھلاہٹ ہے کہ امریکی ہاتھی بدمست ہو کر تباہی کے در پے ہوگیا ہے ۔ اور اسکا پٹھو بھارت اپنی اوقات سے باہر ہورہا ہے ۔

خیر ہے انشااللہ پاکستان اس کرائسس سے بھی نکل آئے گا ۔ لیکن کیا میاں شہباز شریف یہ بتائیں گے کہ کیوں سعودی عرب   ایک دم سے سی پیک کا حصہ بن گیا اور انکے دور میں کیوں نہیں بنا اور اگر اس وقت ملٹری رکاوٹ تھی تو اب کیوں نہیں ہے ۔؟
کیا میاں شہباز شریف یا میاں نواز شریف ان سوالات کے جواب دینا پسند کرینگے یا قوم لڈن جعفری جیسے مورخوں پر تکیہ کرتی رہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شہباز شریف اور لڈن جعفری۔۔۔۔فرحان شبیر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *