نجس۔۔۔۔علی اختر

وہ بہت جلدی میں تھا ۔ تیز تیز قدموں سے بینک کی جانب بڑھ رہا تھا ۔ گو اکتوبر شروع ہو چکا تھا لیکن آج کراچی میں گرمی کچھ زیادہ ہی تھی۔ اسے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے تھے اور لنچ ٹائم ختم ہونے میں صرف دس منٹ رہ گئے تھے۔ بینک کے داخلی  دروازہ کے برابر میں موجود چھوٹے سے دروازے  سے وہ داخل ہوا تو شدید گرمی میں اےسی کی کولنگ نے اسے جنت کا مزہ دیا۔ کچھ دیر تو وہ سب کچھ بھول کر آنکھیں بند کیے  گہرے سانس لیتا رہا ۔ پھر گھڑی پر نظر ڈالی جو 1:50 کا وقت دکھا رہی تھی۔ اس نے گرمی سردی بھلا کر جلدی سے مشین کی اسکرین پر 5000 پر کلک کیا اور ٹرانزیکشن کا انتظار کرنے لگا ۔ چیں چیں کی آواز کے ساتھ مشین نے پانچ کڑک کڑک نوٹ نکال دیئے اور وہ انہیں جھپٹ کر بغیر گنے بٹوہ میں ٹھونسنے لگا ۔ وہ اتنی عجلت میں تھا کہ  مشین کی اسکرین کے بائیں طرف سے نکلنے والی بیلنس کی پرچی بھی چھوڑ گیا اور جلدی سے شیشے کا دروازہ باہر کی طرف دھکیل کر اے ٹی ایم کے کمرے سے نکل گیا ۔

باہر گرم مرطوب ہوا کا پہلا جھونکا اسے بدمزہ کرگیا لیکن جلد سے جلد آفس پہنچنا تھا چنانچہ   تقریباً بھاگتے ہوئے فٹپاتھ سے اترنے کی کوشش کی لیکن اچانک وہ گرتے گرتے بچا ۔ یہ کیا ۔۔۔ فٹپاتھ کے ساتھ ایک کتے کا پلا رینگ رہا تھا ۔جو بمشکل ایک دن کا ہوگا ۔ گوشت کے ایک سیاہ لوتھڑے کی طرح ۔ اگر بروقت اسکی نظر نہ پڑتی تو وہ اسے جوتے سے کچل دیتا۔

اس سے جوتا بچا کر وہ جلدی سے فٹپاتھ سے اترا اور ایک دو قدم آگے بڑھا ، پھر کچھ سوچ کر اچانک رک گیا ۔ اس پلے کی  جانب ایک نظر دیکھا اور پاس کھڑے بینک کے گارڈ سے مخاطب ہوا۔ “یہ یہاں کہاں سے آیا “۔ “سر وہ پاس برابر کی کیاری میں ایک خانہ خراب کتیا نے بچہ  دے دیا اے ۔ ابھی شاید وہ گیا اے کہیں۔ تو یہ بھوک کی  وجہ سے باہر نکل آیا ہے شاید۔ اسکا باقی بھائی  اندر ای پڑا ہے” ۔گارڈ نے وضاحت کی۔ “تو اسے اٹھا کر واپس رکھ دو۔ ورنہ گرمی سے مر جائے گا” ۔ اس نے آگ برساتے سورج اور دوسری جانب سڑک پر رینگتے پلے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ “ام رکھ دیتا سر ، لیکن کیا اے نا یہ نجس جانور اے اور ام کو نماز پڑھنا ہوتا ہے۔ کیا کرے ام بھی نجس ہو جائے گا۔” گارڈ نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

اس نے ایک گہری سانس بھری اور پھر اس پلے کو اٹھا کر واپس کیاری میں اسکے باقی ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیا ۔ اب ایک بار پھر اسے آفس جلدی پہنچنے کی فکر تھی ۔ آفس پہنچتے ہی اسکے ڈپارٹمنٹ ہیڈ نے گھڑی کی جانب اشارہ کیا جو 2:15 کا وقت دکھا رہی تھی۔ وہ شرمندہ سا سیدھا واش روم میں گھسا اور صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئے ۔ بھلے وہ لیٹ ہو گیا تھا لیکن اسکا دل ایک انجانے اطمینان سے سرشار تھا۔

“چلو اٹھو نماز کا وقت ہے” صبح امی نے اسے فجر کی اذان کے ساتھ ہی بیدار کر دیا تھا۔ اس نے جند لمحے چھت کو گھورا ایک لمبا سانس لیا اور جھٹکے سے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا ۔ وضو سے فارغ ہوا سفید کرتا پہنا اور مسجد کی جانب چل دیا۔ ابھی آسمان پر ہلکی سی روشنی ہوئی  تھی۔ گلی کے کونے پر موجود قبرستان کی  دیوار کے ساتھ ساتھ تیز قدموں سے آگے بڑھتا وہ اپنی ہی دھن میں مگن تھا کہ   اچانک اسکے قدم رک سے گئے۔ وہ کسی بچے کے رونے کی  مدھم سی آواز تھی۔ یا اللہ اس وقت۔۔۔ نہیں یہ وہم ہے۔۔آواز بدستور جاری تھی۔ پہلے اس نے سوچا کہ  قبرستان کی پانچ فٹ اونچی منڈیر کے دوسری جانب دیکھ لے لیکن پھر ا س پر خوف غالب آگیا ۔ یہ ضرور کوئی  چھلاوہ ہے۔ ٹھنڈے پسینے مساموں سے پھوٹنے لگے، وہ آیت لکرسی کاورد کرتا اور تقریباً بھاکتا ہوا مسجد میں داخل ہو گیا۔

نماز کے دوران بھی اسکا جسم لرز رہا تھا۔ مسجد میں فجر کی نماز میں گنتی کے نمازی تھے۔ دروازے  سے باہر نکلتے اسے حاجی خلیل مل گئے ۔ “ارے برخوردار کیسے ہو” ۔ “جی مالک کا احسان ہے” ۔ وہ حاجی صاحب کے چپل پہننے کا انتظار کرنے لگا۔ گو دن نکل چکا تھا اور روشنی اچھی خاصی ہو گئی  تھی لیکن وہ خوف اب بھی برقرار تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ  کوئی  ساتھ ہو ۔ باہر نکلتے ہوئے دواور نمازی مل گئے۔

قبرستان کی منڈیر کے ساتھ ساتھ وہ باتیں کرتے واپس آرہے تھے کہ اسی جگہ جہاں رات کو مدھم سی آواز آئی  تھی دوبارہ بچے کے رونے کی آواز آئی  ۔ “حاجی صاحب یہ آواز سن رہے ہیں ” ۔ اس نے حاجی صاحب سے تصدیق چاہی۔ “ہاں میاں کسی بچے کے رونے کی آواز ہے ۔ چلو دیکھتے ہیں۔” یہ کہہ کر وہ قبرستان کے داخلی دروازے  سے اندر گھسے اور آواز کی سمت بڑھنے لگے۔

جلد ہی وہ سب اس جگہ موجود تھے ۔ جہاں ایک پکی قبر پر کوئی  اپنی نوزائدہ بچی کو چھوڑ گیا تھا۔ “ارے کون کمینہ تھا” ۔” گناہ خود کرتے ہیں۔ سزا معصوموں کو دیتے ہیں۔” “پتا نہیں کون اپنی نجاست چھوڑ گیا ہے”. “کوئی  کپڑا لاؤ اسے اٹھائیں”۔

وہ خاموشی سے یہ ساری باتیں سن رہا تھا ۔ اچانک آگے بڑھا، جھکا اور بچی کو گود میں اٹھا لیا ۔ ماحول میں خاموشی چھا گئی  ۔ اسکے باقی ساتھی ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ اس بچی نے بھی بلکنا بند کر دیا تھا۔ وہ خاموشی سے اسے اٹھائے گھر کی جانب چلنا شروع ہو گیا۔ اسکا جسم اور سفید کرتا نجس ہو چکا تھا ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *