بڑے نام

نام کے شخصیت پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟کیا ہوتے بھی ہیں؟ شاید اسے علم تو نہ کہا جا سکے لیکن بہرحال یہ ایک دلچسپ موضوع ضرور ہے۔ ممتاز مفتی اس پر بہت لکھ چکے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے کردار جن کے نام ان کی شخصیت کا تعارف کرواتے۔ کلیم اور مرزا ظاہردار بیگ۔ تخلص بھی تو ایک نام ہی کی قسم ہے۔ غالب کی بے تاج بادشاہت کو یہ نام کیسا جچتا ہے۔ آتش کا بانکپن اس کے تخلص سے دو آتشہ ہے۔فیض بانٹتے فیض ہوں یا ساری دنیا کے خیر خواہ دوست، ندیم۔ سمپورن سنگھ کی باتیں، گل و گلزار۔ گل جی کا کینوس ان کے نام جیسا رنگین۔ یہ اتفاق محض اہل قلم تک ہی محدود نہیں ہیں۔ خشونت سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ رنجیت سنگھ کی پیدائش پر اس کا نام بودھ سنگھ رکھا گیا، جس کے معنی ہیں علم و عرفان والا۔ لیکن اس کے والد نے یہ نام بدل کر رن جیت سنگھ، یعنی جنگوں کا فاتح رکھ دیا۔ اسی طرح میجر اشفاق حسین اپنی بہترین تصنیف ،میجر شبیر شریف کی سوانح حیات’فاتح سبونہ‘، میں ان کے بچپن کا ایک واقع بتاتے ہیں کہ نئے سکول میں پہلے دن ایک ممکنہ جھگڑے سے بچنے کے بعدآپ کا ہم جماعت تعارف میں آپ کا نام سن کر ہنستا ہواکہتا ہے کہ شبیر تو تم ہو ، اور شریف بھی۔ یہ نام حریت کی علامت بن چکا۔نشان حیدر بھی تو ایک نام کو سپاس ہے۔ رجز میں اپنا نام حیدر بتاتے دلاور کے آگے مرحب کہاں ٹھہرتے ہیں۔
شفقت اور دردمندی کی ایک علامت، ایسا ہی ایک نام ہے رُوتھ Ruth ۔رُوتھ یعنی رحم اور احساس۔ مس رُوتھ فاؤ جرمن تھیں۔ لیکن وہ پاکستانی ہی نہیں، شاید خود پاکستان ہیں۔تمغے، اعزازات، ایوارڈ اور اس قبیل کے اعتراف ایسی دیو قامت بھلائیوں کے آگے بے معنی ہیں ۔نصف صدی کی خدمت کو جتنے سلام ہوں وہ کم ہیں۔
انجیل مقدس میں کوڑھ کا ذکر چالیس سے زیادہ بار آیا ہے۔ یہ مرض علامت تھی گناہوں کی سزا کی۔ اس کے مریض کو آبادی سے دور کر دیا جاتا تھا۔ حضرت ایوبؑ کی آزمائیشوں میں سے ایک یہ مرض بھی تھا۔ متی کی انجیل میں حضرت عیسی ؑ کے ایک معجزے کا ذکر ہے کہ آپؑ ایک کوڑھی کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔ ایک پورے ملک سے ایک مرض کو ختم کرنا مس رُوتھ فاؤ کا معجزہ تھا۔ وہ پاکستان کو کوڑھ سے پاک کر رہی تھیں۔ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ پاکستان کی پاکیزگی Ruth سے ممکن ہے؟ چلیے اتفاق ہی سہی۔ ہم امید کے متلاشی ہیں، جہاں سے ملے۔ ایک اور اتفاق سنیں۔ کل پاکستان IBSF ورلڈ ٹیم سنوکر چیمیئن شپ جیت گیا ہے۔ جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑی ہیں محمد آصف اور بابر مسیح۔ گو کہ فائنل میں دونوں ٹیمیں پاکستانی تھیں۔ محمد اور مسیح کے نام لیوا مل کر جیتتے رہیں۔پاکستان جیتتا رہے۔ آمین۔

کاشف محمود
کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *