• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مجنوں جو مرگیا ہے توجنگل اداس ہے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری اور آخری قسط

مجنوں جو مرگیا ہے توجنگل اداس ہے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری اور آخری قسط

SHOPPING
SHOPPING

44ایدھی صاحب سے جڑی کچھ نجی یادیں
دوسری اور آخری قسط

ایدھی صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ ملاقاتوں کا سلسلہ بشرہ زیدی والے حادثے سے تیزی پکڑ گیا اور ان کی وفات حسرت آیات تک جاری رہا۔
15 , اپریل 1985 کراچی   کی  تاریخ کا سیاہ ترین دن سمجھ لیں۔وہ پیر کا دن تھا۔

بشریٰ زیدی
بشریٰ زیدی کے فسادات کا آغاز

غوث علی شاہ اس وقت چیف منسٹر تھے۔ ان کی اس وقت جماعت اسلامی کے مئیر عبدالستار افغانی سے کشمکش چل رہی تھی ۔غوث علی شاہ اپنے اقتدار کے لیے شہری علاقوں کے مہاجروں میں
جڑیں بنارہے تھے۔جب کراچی سے قومی اسمبلی کے ممبران محمود اعظم فاروقی اور  پروفیسر غفور احمد نے جنرل ضیا کی مجلس شوری میں کوٹہ سسٹم کی دس سالہ معیاد میں 1983 ختم ہونے پر اس میں مزید دس سال کے اضافے کی تجویز پر حامی بھرلی تو مہاجر اس دھوکے بازی پرجماعت اسلامی پر تبرہ بھیجنے لگے۔

غوث علی شاہ،سابقہ چیف منسٹر سندھ
عبدالستار افغانی

مولانا مودودی کی وفات کے بعد میاں طفیل محمد جیسے بے اصولے آدمی کی امارت پر جماعت اسلامی کو وہ اسلام سے زیادہ پختون اور پنجابی دائیں بازوں کے منسوخ شدہ سیاست دانوں کی پارٹی سمجھنے لگے تھے۔ان رہنماؤں کو مولانا مودودی کی علمیت اور اسلامی انقلاب سے سے اتنا ہی لگاؤ تھا جتنا اسفندیار ولی کو صادقین کی مصوری اور بلاول کو جون ایلیا کی شاعری سے ہے۔

اسفند یار ولی
صادقین
جون ایلیا

سندھ کے گورنر اس وقت لفٹیننٹ جنرل جہاں داد تھے۔انہیں سندھ کے معاملات کی اتنی ہی سمجھ تھی جتنی مرزا غالب کو امریکن آئین کی۔غوث علی شاہ جو گاڑھی موری (لال نالی) خیرپور۔سندھ کے ایک سیاسی یتیم اور درجہ سوم کے وکیل تھے۔ انہوں نے جنرل ضیا کو یقین دلایا کہ سندھ کی سیاست میں قوم پرستوں کو کاندھے پر بٹھا کر دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی اور شہری علاقوں میں جماعت اسلامی کی ہوا نکالی جاسکتی ہے۔ یوں ایک شہر ی جماعت کی تشکیل کا جو مذہب سے ایسے ہی بھاگتی ہو جیسے شیطان لاحول سے اس کی تشکیل کا سامان ہونے لگا،ایم کیو ایم بنانے کے لیے ابتدائی میٹنگز دس نمبر لیاقت آباد کے  ایک گھر کی چھت پر ایک گروپ محمود الحق عثمانی،رئیس امروہی،اختر حسین رضوی جو کٹر سرخے تھے اور جی ایم سید کے دوست ان بزرگ دنشوروں پر مشتمل تھا دوسرا گروپ اس وقت تک کراچی یونی ورسٹی این ای ڈی اور سندھ میڈیکل کالج کے مہاجر طالب علم رہنما ان مذاکرات میں شریک ہوتے تھے۔ ۔

غوث علی شاہ نے جنرل ضیا الحق کی عدم مطابقت رکھنے والی آنکھوں کا اشارہ پاکر جماعت اسلامی کو اپنی طلبا طاقت۔(حسین حقانی جن کا گھرانہ بنیادی طور پر اہل تشیع ہے وہ پہلے طالب علم بدمعاش تھے جنہوں نے کراچی یونی ورسٹی میں پہلی دفعہ برین گن لہرائی تھی)اور اسٹریٹ پاؤر پر بہت ناز تھا۔ غوث علی شاہ نے ان دونوں میدانوں میں جماعت اسلامی کا بستر بدمعاشی گول کرنے کی ٹھان لی۔ان کو لگا کہ ایسا ہوجائے گا تو ان کے اقتدار کے لیے شام سویرے فیر موجاں ہی موجاں ہوں گی۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ پارٹی کے سامنے ۔کے ایم سی کا پانچ ہزار کروڑ روپے کا بجٹ ۔غریبان چمن کو ہم بتادیں کہ کروڑ میں سات زیرو ہوتے ہیں اور پانچ ہزار کروڑ میں دس صفر آتے ہیں۔

برین گن

کارکنان کے لیے دس پندرہ ہزار ملازمتیں اور کراچی کی چائنا کٹنگ کے لیے لہلہاتی شہری  زمین،کراچی کا اٹھارہ سو کروڑ روپے کا واٹر ٹینکر مافیا کا کنٹرول ہوگا   ،نیت  ایسی خراب ہوگی کہ پھر مر کر ہی سیدھی ہوگی۔ وہ بھی اس مال کی لوٹ مار اور استادوں کی نوکریاں بیچنے میں کھل کر کھیلیں گے۔
15 , اپریل 1985 پیر کی صبح روٹ این ون منی بس جسے بہاری ڈرائیور راشد حسین چلا رہا تھا۔ الطاف حسین حالی روڈ پر خاموش کالونی کی جانب سے آنے والی یہ دو بسیں تھیں جو ریس لگا رہی تھیں۔ کراچی میں ہر بس کے اڈے پر پہنچنے کا ایک ٹائم ہوتاہے۔دیر ہو جائے تو ٹائم کیپر فی منٹ آج کل پہلے منٹ کے سو روپے چارج کرتا ہے بعد کا ہر منٹ پچاس روپے کا پڑتا ہے۔1985 میں اس کو آدھا کرلیں۔۔
پونے آٹھ بجے صبح روٹ این ون کی منی بس نے سرسید کالج کے سامنے  بشری زیدی، نجمہ زیدی اور ان کی پاپوش نگر کی پڑوسن کو کچل دیا تھا یہ تینوں شیعہ لڑکیاں تھیں۔ہم قومیت
اور فرقے کا ذکر اس لیے کررہے ہیں کہ کراچی کے موجودہ بگاڑ کے پس پردہ محرکات سمجھنے میں آسانی ہو) ایس ڈی ایم اعجاز چوہدری جو بعد میں سندھ کے چیف سیکرٹری بنے وہ لیاقت آباد کے اسسٹنٹ کمشنر تھے،انہیں گھر سے اس لیے طلب کیا گیاکہ حالات کی سن گن پاکر رشید عالم ایس ڈی ایم ناظم آباد بہانے سے ادارہء امراض قلب پہنچ گئے تھے۔ وہ اور ملک شیر باز ڈی ایس پی۔ناظم آباد۔حادثے کی اطلاع پاتے ہی یہ دونوں موقع  پر آدھے گھنٹے تک پہنچ گئے تھے۔جائے حادثہ کے عین مقابل کراچی  میں اہل تشیع کی ایک بہت بڑی آبادی ہے جس کا نام رضویہ کالونی ہے۔نقشہ دیکھنے پر سب سامنے آجائے گا۔

بسوں کے روٹ

پہلی غلطی اس میں پولیس سے ہوئی۔ملک شیر باز منی بس والے راستے سے عین اس مقام پر آئے جہاں لڑکیاں جائے حادثہ پر احتجاج کررہی تھیں ،انہوں نے قدرے بدتمیزی اور طاقت کا مظاہر کرتے ہوئے اپنی موبائیل گاڑی عین وسط میں کھڑی کردی۔لڑکیاں اس کے بونیٹ پر چڑھ گئیں جس پر ان کے ڈرائیور نے بہت تیزی سے گاڑی ریورس کی۔لڑکیاں موبائیل سے نیچے گریں تو
اس وجہ سے اشتعال پھیلا اور پتھراؤ شروع ہوگیا۔
آپ کی معلومات کے لیے یہ عرض کردینا بھی ضروری ہے کہ تب تک یہ جھوٹی ا فواہ پھیل چکی تھی کہ منی بس پٹھان چلارہا تھا۔کراچی کی ٹرانسپورٹ پر ان کا مکمل قبضہ آج بھی ہے اور وہ اربن مزاج میں آج تک ڈھلنے میں ناکام رہے ہیں۔ایک بات جو آپ کو دہلی،بیجنگ،ممبئی اور دیگر بڑے شہروں میں دکھائی دیتی ہے۔وہاں دیگر علاقوں سے آنے والے مقامی کلچر اربن اپنا لیتے ہیں۔ ان بڑے شہروں میں زمین اور ٹرانسپورٹ پر سرکار کا بہت یکسوئی والا کنٹرول ہے۔پولیس بھی مقامی ہے۔کراچی میں یہ کنٹرول کرنے والے لیور سرے سے مفقود ہیں۔
پختونوں سے کراچی کے شیعہ اس لیے بھی ناراض تھے کہ سواد اعظم کی ساری قیادت پختون تھی۔کراچی کے شیعہ ان سے الجھتے رہتے تھے۔ضیا الحق کے دور میں پاکستان بھر کے مولوی کراچی پر ٹوٹ پڑے تھے۔۔مفتی زر ولی،نظام الدین شام زئی،مولانا اسفند یار۔یہ سب کراچی کی بنوری مسجد سے جڑے تھے جہاں ملا عمراور طالبان کا بڑا اثر و رسوخ تھا۔یوں ایرانی طالبان اور افغان طالبان کی جنگ کا ایک تھیٹر کراچی میں بھی سج گیا تھا۔اٖفغانستان جنگ بھی ان دنوں زوروں پر تھی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ خاد اور راء کے جو پاکستان دشمن سلیپر سیل کراچی میں اپنا بارود جمع کیے بیٹھے تھے، انہیں ایک بڑا موقع مل گیا جس میں فرقہ واریت،لسانیت،ٹرانسپورٹ،سیاست سبھی محرکات کی کاک ٹیل شامل تھی۔
فسادات میں شدت کی ابتدا اسلامی جماعت طلبہ کی نفری سے بھری کراچی یونی ورسٹی سے موقع  پر پہنچنے والی بسوں کی طرف سے ہوئی۔جماعت اسلامی غوث علی شاہ کو نیچا دکھانی چاہتی تھی۔ جو ان سے مئیر کے اختیارات چھیننے کے درپے تھے۔ مقابلے میں ایک لسانی جماعت کو کراچی میں اوپر لارہے تھے۔اس جماعت کے ابھی باقاعدہ طور لانچ ہونے میں پورا سوا سال باقی تھا مگر خلائی مخلوق بھارت۔ خلیجی ممالک دیگر خفیہ ایجنسیاں سبھی اس صورت حال میں گہری  دل چسپی لے رہے تھے اس فسادی گروہ کی سربراہی آپ کو حیرت ہوگی کون کر رہا تھا۔مولوی نعمت اللہ خان۔
تنظیم کے حساب سے یہ علاقہ ان کے زیر اثر تھا۔ جی وہی مولوی نعمت اللہ خاں جو بعد میں کراچی کے میئر بنے۔فسادات میں وہ سب سے پیش پیش تھے۔وہ کسی طرح قرب و جوار میں واقع لڑکیوں کے کالج میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا چاہتے تھے۔ہمارا احترام کرتے تھے۔

نعمت اللہ خان

ہم سیشن کی عدالت سے فارغ ہوکر پہنچے تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے خصوصی طور پر ہمیں طلب کیا تھا۔دیگر مجسٹریٹ صاحبان کو بھی اس فساد عظیم سے نمٹنے کے لیے بلالیا گیا تھا۔ہمیں نعمت اللہ خان جو کراچی میں مئیر بن کر بہت معتبر ہوگئے انہیں سنبھالنے کا حکم دیا۔نعمت اللہ خان ہمیں اپنی جماعت کے ایک نفیس انسان کے ذریعے جانتے تھے۔ان کا نام تھا ڈاکٹر اطہر قریشی۔وہ لیاقت آباد میں  جماعت اسلامی کے رہنما تھے۔دھیمے مزاج،سادہ لوح،شائستہ طبیعت،بات ماننے والے۔ہم سے بہت بات چیت کرتے تھے۔
ایک دفعہ ڈاکٹر اطہر قریشی اور راشد محمود میٹنگ میں ذرا دیر پہلے آگئے تھے۔ باتوں باتوں میں پوچھنے لگے کہ مسلمان حکمرانوں میں ہمیں کون اچھا لگتا ہے۔ہم نے چھیڑنے کے لیے جواب دیا کہ مغل اعظم شہنشاہ اکبر،حجاج بن یوسف اور سیدنا امیر معاویہ ؓ۔ حجاج بن یوسف اور سیدنا امیر معاویہ ؓ۔
حجاج بن یوسف اور سیدنا امیر معاویہ ؓ پر ان کی سوئی اٹک گئی۔
اکبر کو وہ بہت پہلے بدکار قرار دے چکے تھے۔اکبر کے گلے میں یہ ذلت نامہ لٹکانے سے پہلے انہوں نے باقاعدہ اجازت مانگی۔اسی دھیمے،شائستہ لہجے میں کہ”آپ کو برا نہ لگے تو ہمیں کہنے دیجئے کہ یہ آپ کے اکبر صاحب تو بہت ہی بے راہ رو اور بے دین تھے۔ہم نے شرارتاً کہا کہ آپ کا کہنے کا انداز ایسا ہے کہ ”مہارانی جودھا بائی کو بھی برا نہیں لگے گا۔وہ بھی کہیں گی کہ اب کیا ہے نا ٹھاکراطہر بھیا،کہ آپ کے اسی نپٹ اناڑی جیجا جی (بہنوئی) سے ہماری لٹ(زلف) الجھ گئی ہے۔انہوں نے ہی ہماری ساری (ساڑھی) اناری بھگودی ہے۔ہمارے تو پتی پرمیشور (ہندی میں مجازی خدا) ہیں۔ اب ہماری بھی آپ کے مولانا مودودی سے ملاقات ہوگئی ہوتی تو ہم ان کی آشیر باد لے کر میاں طفیل محمد سے ہاتھ پیلے کرلیتے۔ہماری شرارت میں وقفہ آیا تو کہنے لگے آپ ہمیں حجاج اور سیدنا معاویہ کے بارے میں کچھ بتلارہے تھے موضوع پر لوٹ جائیں ہماری خاطر پھر میٹنگ شروع ہوجائے گی اور ملاقات کا لطف جاتا رہے گا۔
ہم نے کہا حجاج بن یوسف اس لیے کہ اسے جب اموی خلیفہ عبدالمالک نے 694 عیسوی میں (جس نے قبتہ الصخری بنانے کا آغاز کیا جسے اکثر مسلمان غلط فہمی میں مسجد الاقصی سمجھتے ہیں)

قبتہ الصخری
اصلی مسجد اْقصی
اصلی مسجد اقصی کا راستہ

شر پسندوں کے شہر کوفہ میں عراق کا گورنر بنا کر بھیجا تو اس نے پہلے خطبے میں معتبران شہر کو کہا کہ” اس مجمع میں کئی ایسی داڑھیاں اور عمامے دکھائی دے رہے ہیں جو خون میں تر ہونے اور خاک میں لتھڑے جانے کے لیے بے تاب ہیں۔اے لوگو تم پر امیر کی اطاعت فرض ہے۔کسی شر پسند نے پوچھا کیسی اطاعت؟ منبر سے جواب ملا اگر میں تمہیں کہوں مسجد کے بائیں دروازے سے نکلو اور تم کسی اور دروازے سے نکلو تو تمہارا قتل مجھ پر واجب ہے۔اسی طرح امیر معاویہؓ نے فرمایا تھا کہ”میرا لوگوں سے تعلق ایک بال سے بھی بندھا ہو تو میں نہیں توڑوں گا۔وہ ڈھیل دیتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں،وہ کھینچتے ہیں تو میں ڈھیل دے دیتا ہوں۔جہاں الفاظ کافی ہوں میں کوڑا نہیں اٹھاتا،جہاں کوڑے کی ضرورت ہو میں تلوار نہیں چلاتا اور جب تلوار چلانی ہو تو میں بالکل نہیں ہچکچاتا“۔
مولوی نعمت اللہ ایڈوکیٹ جیسا وہ اپنے آپ کو ان دنوں انتظامیہ کو ڈرانے کے لیے ایڈوکیٹ کہلانا پسند کرتے تھے ان کا ارادہ تھا کہ ان کے بلوائے ہوئے لڑکے ،لڑکیوں کے دو عدد کالج جو پاس پاس واقع تھے ان میں گھس کر ہنگامہ آرائی اور اتش زدگی کریں۔
ان کی نگاہوں اور سماعت کا بھرم رکھتے ہوئے ہم نے ستار شیخ ڈی ایس پی صاحب کو کہہ کر چند سپاہی تھری ناٹ تھری رائفل بردار سرسید گرلز کالج کی چھت پر اس ہدایت سے متعین کردیے کہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اگر گیٹ کے پاس دکھائی دے تو گولی مارو۔ہمارا آرڈر ہے۔ سر کے علاوہ کہیں اور گولی لگی اور بھیجا باہر نہیں نکلا تو خود کو معطل سمجھیں ۔ہمارے احکامات وہ سن رہے تھے۔گیٹ کے قریب آنے سے باز رہے اور ہم نے لڑکیوں کو بسوں میں گھر بھیجنے کا انتظام باحفاظت کیا۔بعد میں جب کبھی ملاقات ہوئی۔وہ میئر بن چکے تھے۔نیک نامی بھی کمالی تھی۔چیف سیکرٹری کے دفتر میں جب ملاقات ہوتی ہمیں جتاتے کہ ایسا لگتا ہے کہ پہلے آپ کی ہماری ملاقات ہوئی ہے۔ہم یاد دلاتے کہ گیٹ کراس کرلیتے تو وہ آخری ملاقات ہوتی۔۔

303 رائفل

آئیے ایدھی صاحب کی بات کریں۔۔۔۔۔۔


ان کا اپنا گھر (ایدھی ویلفئیر ہوم) جو گلبرگ سہراب گوٹھ کے نزدیک تھا وہ لیاقت آباد سب ڈویژن میں واقع تھا۔دوران مصروفیت کبھی اچھی چائے پینی اور مزے مزے کی گفتگو سننی ہوتی تو میں  اور کبھی کبھار ڈی ایس پی عبدالستار شیخ وہیں چلے جاتے تھے۔زندگی کے لطف و کرم سے ایدھی صاحب بھی ناآشنا نہیں تھے۔ صوفیہ لارین،نرگس، مدھوبالا اور وجینتی مالا کا ذکر کرتے تو شاعر اتل اجنبی کا سا حال ہوتا کہ ع
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی میری دیوار میں آجاتی ہے

ایدھی ہوم ،سہراب گوٹھ
صوفیہ لورین
مدھو بالا
نرگس
وجنتی مالا

ایک ملاقات اس لیے یاد ہے کہ اس دن سر شام ہی سے لیاقت آباد میں،ہم پورا دن علاقے میں رہے تھے۔گھر گئے۔شادی کی سالگرہ تھی بیوی کو کھانے پر لے گئے۔ ہر ایسی سالگرہ پر وہ ہمیں جتاتی تھیں کہ یہ   شادی ہم دونوں کا نجی دکھ ہے۔ اسے Celebrate بھی صرف ہم دونوں کو کرنا چاہیے۔
شام کو ذرا ہنگامے تھمے تو پولیس موبائیل میں علاقہ گشت پر مامور سب انسپکٹر شکیل زیدی نے دو پیگ جلدی چڑھا لیے۔ دس نمبر کی امام بارگاہ کے نزدیک کسی بیٹر (وہ بدمعاش ایجنٹ جو پولیس کے لیے بھتہ جمع کرتا ہے )کی دعوت پر یہ پولیس پارٹی کیفے دولت سے ہتھیائے ہوئے تکے موبائیل میں بیٹھ کر اڑا رہے تھے کہ چار نمبر لیاقت آباد جہاں غلام فرید صابری بردارن اور ایم کیو ایم کے رہنما شاہد لطیف، عابد شریف اور عامر خان کے گھر تھے اس گلی سے لڑکے آئے، موبائل پر  چھیڑ چھاڑ کی خاطر پتھراؤ کیا تو جیالا پولیس والا بدک گیا آؤ دیکھا نہ تاؤ خود کلاشنکوف سے فائرنگ کی اورتین لڑکے لٹا دیے۔
لیاقت آباد والے ہمیشہ سے اپنے رہنما الطاف حسین کے مندرجہ پسندیدہ شعر کے متوالے پیروکار تھے۔
وفا کروگے، وفا کریں گے،جفا کرو گے، جفا کریں گے
ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے، جو تم کرو گے، وہ ہم کریں گے

الطاف حسین اپنی ہنڈا ففٹی پر

جواباً وہ فائرنگ شروع ہوئی کہ سب انسپکٹر شکیل زیدی اور اس کی نفری وہ سوزوکی موبائیل جسے تھانے والے علاقے کی تنگ اور پُر پیچ گلیوں سے گرفتار شدگان کو ٹھونس ٹھانس لانے کی وجہ سے کتا گاڑی کہتے تھے وہ اور اسلحہ چھوڑ کر اپنی گیلی پتلونیں سنبھالتے ہوئے روڈ کراس کرکے تھانے میں گھس کر چھپ گئے۔
ڈی سی فیصل سعود صاحب کو علم تھا کہ ہم کچھ دیر پہلے ہی علاقے سے گئے ہیں لہذا ہمیں ڈیوٹی کے لیے دوبارہ نہ بلایا جائے مگر شاہد عزیز جو اس وقت کمشنر تھے انہیں یقین تھا کہ ہماری موجودگی کا ہنگاموں کی روک تھام پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔
حکم کی تعمیل تو کریں مگر کیسے۔وائرلیس پر مسلسل خراب حالات اور فائرنگ کی اطلاع تھی۔ہم نے لمبا چکر کاٹا اور راشد منہاس روڈ سے ہوتے ہوئے سہراب گوٹھ پر ایدھی صاحب کے اپنا گھر پہنچے۔ اتفاقاً ایدھی صاحب وہاں موجود تھے۔ہم نے کہا کہ ایک ایمبولینس میں ہمیں کفن اوڑھا کر لٹا دو اور تھانے بھیج دو۔ہم نے یہ ڈرامہ اس وقت رجسٹر کرلیا تھا جب 20 نومبر سن1979 کو خانہ کعبہ پر قبضہ کا منصوبہ بنا تھا۔ مفسدین اور اسلحہ جنازوں کی صورت میں حرم پاک میں لایا گیا تھا۔

ایدھی صاحب ہماری تجویز پر متفکر ہوئے مگر کراچی کے علاقے کھارادر کے میمن ہونے کے ناطے بہت Street Smart تھے۔کہنے لگے ایمبولنس میں چلاتا ہوں، دو عورتوں کو ساتھ بٹھالیتے ہیں۔آپ کفن اوڑھ کر لیٹ جاؤ۔ روکیں گے تو میں بولوں گا کہ پی۔ آئی۔ بی کالونی میں میت چھوڑنے جارہا ہوں۔ فاروق بھائی تو ملک سے باہر ہیں نہیں تو وہ بھی موجود ہوتے۔ایدھی صاحب کی ترکیب کارگر ہوئی انہیں اور خواتین کو سر نیہوڑائے بیٹھا دیکھ کر لڑکوں نے ایمبولینس روکی ضرور،قریب بھی آئے مگر جب ایدھی صاحب نے کہا پھاروق (فاروق) بھائی کے سسرالیوں کی میت ہے تو وہ احتراماً کئی قدم پیچھے ہٹ گئے اور بندوق برداروں کو بھی چھپنے کا اشارہ کردیا۔ تھانے پہنچ کر ہم نے آپریشن سنبھالنے سے پہلے ایدھی صاحب سے میمنی بولی میں پوچھا۔
”آئیں فاروق ستار بھا جو نالو کولائی گنیا؟(آپ نے فاروق ستار کا نام کیوں لیا)
تو آنکھ مار کر کہنے آئین مجے منھ سی ستار سنیا۔ آوؤ ں تو کھالی (خالی) پھاروق بھائی
(فاروق)چووم۔ گناں بھی ہوت تو پھاروق بھا خوش تھیا ہوت کہ ہکڑو تو اوچھو تھیو۔(آپ نے میرے منہ  سے ستار سنا تھا کیا۔ میں نے تو   کھالی (خالی) پھاروق کہا تھا۔ اگر میں لے بھی لیتا فاروق بھائی خوش ہوتے کہ ایک سسرالی عزیز) تو کم ہوا۔“

اس کے بعد جو سب سے قابل ذکر ملاقات ہوئی۔قصہ طویل ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نصیب اور قدر کو نہیں مانتے ایک سبق آموزقصہ ہے۔ اس میں ایدھی صاحب تو مہمان اداکار ہیں ان کی بیگم اور ان کا ادارہ اہم کردار۔
خاتون دوست کا نام نازلی مان لیں۔ماں نیم دیسی نیم گوری تھی۔باپ دل پھینک۔ دونوں میں بنی نہیں۔ وہ چلی گئی۔نازلی شکل صورت میں واجبی مگر دماغ اور رویوں میں بہت اعلیٰ۔تعلیم مکمل کرکے لندن چلی گئی۔کام ایسا تھا کہ کہیں ٹک کر ہی نہ بیٹھتی تھی۔دوران مسافت ایک یورپی مرد ملا اور اس پر ریجھ گیا۔ پاکستانیوں سے نالاں تھی اور ہم شادی شدہ تھے۔
وہ ان پاکستانی خواتین میں سے تھی جن کی اکثریت کا خیال ہے کہ پاکستان کے سب اچھے مرد یا تو شادی شدہ ہیں، یا پھانسی کے منتظر ہیں یا میانی صاحب اور میوہ شاہ کے قبرستانوں میں قیامت برپا ہونے کے منتظر۔ مرد کا نام تو کچھ اور تھا مگر ہم اسے رچرڈ شیردل کہیں گے۔ لندن کی ریجنٹ مسجد میں مسلمان بھی ہوا اور نکاح بھی پڑھا نام بھی بدلا۔رچرڈ سے سلمان بن گیا، تین ممالک کی شہریت تھی۔ خانوادہ کچھ یہودی اور کچھ کیتھولک عیسائی۔
ہم اسے رچرڈ شیر دل ہی پکارتے رہے۔ شیردل اس لیے کہ نازلی مزاجاً ایسی عور ت  تھی کہ اس کے نام کا تعویز اگر ہاتھی کے گلے میں ڈالدیں تو وہ بھی اس کی نازک مزاجی کا لحاظ کرتے کرتے گھل کر فکر کے مارے خرگوش بن جائے۔ دونوں یہاں پاکستان آئے تو کئی خواتین نے سوچا کہ مجبور مشرقی عورت ہونے کے ناطے میں انہوں نے کن فضول مردوں کی بیوی بننے کی ہاں کردی۔ ان میں اکثریت ان کی تھی۔ جن کی شادی اپنے کزنوں سے ہوئی تھی۔مرد ہو تو رچرڈ سا۔آئے مزا پھر کیسا پیار میں۔وجہیہ، بیوی کو پیر و مرشد مان کر ہر بات پر توجہ دینے والا۔ بالکل عمران خان جیسا سجدہ ریز،ہم نے بمشکل سمجھایا کہ ع
ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لیے بھی

سو خود کو مزار مناکحت کا گلُِ تقدیس سمجھ کر میاں کو خاموشی سے بھگتو اور جنت میں بہتری کی امید رکھو۔ شرما شرمی میں وہاں پھر اس ناہنجار کی بیوی اور حور بننے پر ضد نہ کرنا ۔وفاداری کے لیے چار پیر وں پر چلنا ،دم دبا کر رکھنا اور راتوں کو جاگ کر کتا بننا پڑتا ہے۔ا ب ایک ہی غلطی کتنی دفعہ کرو گی۔ مان گئیں۔
یہاں آئے تو رچرڈ شیردل کو پاکستان اچھا لگا۔سوات اور نتھیا گلی وغیرہ۔ کراچی دیکھ کر اس کی طبیعت اُوب گئی۔ کام کے سلسلے میں وہ مختلف منازل پر دوبئی سے روانہ ہوئے تو ائیر پورٹ پر فیصلہ کیا کہ پاکستان سے ایک بچہ گود لینا چاہیے۔2004 کا زلزلہ تازہ تازہ تھا۔دونوں کا فیصلہ تھا کہ بچی ہو، ماں  با پ دونوں طرف سے یتیم ہو تاکہ بلوغت پر جائیداد کے نویلے حصہ دار سینہ ٹھوک کر نہ کھڑے ہوجائیں۔جلد کی اور آنکھوں کی رنگت رچرڈ شیردل جیسی ہو یا کم از کم نازلی جیسی۔نازلی کی رنگت گوال منڈی لاہور کی دھندلی شام اور آنکھیں ٹھنڈی ایکسپریسو کافی کی طرح لگتی تھیں۔نازلی کا فون فرانس سے آیا تو ہم نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے بچی کیوں گود لینی ہے۔ابھی تو شادی کو بمشکل دس سال ہوئے ہیں۔روہانسی ہوکر کہنے لگی کہ ع حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں۔
فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ بچی پاکستان سے لے کر بطور بیٹی پالنے کی ضد اصل میں رچرڈ شیردل کی ہے۔ میں تو اداکارہ انجلینا جولی کی طرح ملاوی، صومالیہ اور نائیجر کی بیٹی بھی گود لینے خوش ہوں۔ رچرڈ کہنے لگا کہ انجلینا جولی نے شوہر بھی پانچ چھ پالے ہیں تم نے اس کی کچھ اور مثالوں کو بھی نہیں اپنایا تو اسے بھی جانے دو۔ہم نے چھیڑا کہ رچرڈ جتنے پیسے ہمارے پاس ہوتے تو بچے نہ سہی بیویاں اتنی ہی پالتے جتنے انجلینا جولی نے بچے گود لے رکھے ہیں۔مصنوعی غصے سے کہنے لگی”اسٹاپ اٹ اینڈ جسٹ ڈو اٹ“۔۔

انجلینا جولی کے بچے

اگلے دن ہم نے گاڑی نکالی، اپنے ایک جگارو ماتحت اور خوش اطوار سیکرٹری کو ساتھ لیا اور ایدھی صاحب کے  مرکز بلقیس ایدھی ہوم۔ میٹھا در پہنچ گئے۔ ایدھی صاحب موجود نہ تھے۔مسز بلقیس ایدھی بہت No- Nonsense قسم کی خاتون ہیں۔اچھے اچھوں کو خاطر میں نہیں لاتیں۔بتانے لگیں کہ بچوں کو گود لینے والی لائن میں ہمارا نمبر دس سال بعد آئے گا۔ہم نے بچی کے جسمانی کوائف کے حوالے سے تفصیلات درج کرائیں تو چڑ کر کہنے لگیں کہ” بچہ گود لینے آئے ہو کہ مہندی کی رسم کی ڈیکوریشن اور کیٹرنگ کرانے“۔

بلقیس ایدھی بچوں کے ہمراہ(فوٹو کے یو فاروق)

ہم نے میمنی بولی، میاں سے پرانی واسطے داری کے قصے چھیڑے تو بتدریج نرم پڑتی گئیں ہم نے مزید رجھانے کے لیے اپنی نانی دادی کی بات چھیڑی تو کہنے لگیں کہ”پاکستان بنا تو میں تو بہت چھوٹی تھی۔ہم نے کہا ملکہ نورجہاں اور تاج محل والی ممتاج (ممتاز) کا نام سنا ہے۔ تب تو آپ پیدا بھی نہیں ہوئیں تھیں۔ ان کو کیسے پہچانتی ہیں ا س دوران ہماری سیکرٹری عنبرین بھی ان کی وہاں موجود کسی ذمہ دار خاتون سے اپنی بھابھی کی پھوپھی کی بیٹی کے میاں کے حوالے سے نہ صرف تعلق نکال چکی تھی بلکہ سیل فون نمبروں کا بھی چپکے چپکے تبادلہ ہوچکا تھا۔چلتے وقت مسز ایدھی نے کہا ”وعدہ نہیں کرتی۔ میاں سے پوچھوں گی۔وہ بادشاہ آدمی ہے بولے گا تو اسپیسل (اسپیشل) کیس بنے گا۔ ہم کرتے نہیں۔ مگر کیا ہے کہ نو گھر تو موئی ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے نا۔“

تین دن بعد اس کے سیل فون پر ادارے کی جانب سے فون آیا کہ ان کے پاس گود لینے کے لیے فوری طور پر ایک بچی موجود ہے۔ زلزلے والے علاقے کی ہے۔ وہ آن کر لے جائے۔اس نے نازلی کو فوراً ای۔میل کی مگر نازلی   کا جواب آیا کہ وہ کسی طور پر پندرہ دن سے پہلے پاکستان نہیں آسکتی، وہ خود اس وقت مراکش میں ہے اور رچرڈ شیردل کہیں ویت نام میں بیٹھا ہے۔ ہم نے خود بچی لینے میں اس لیے عجلت نہیں دکھائی کہ ایسے مواقع پر جو فارم وغیرہ بھرے جاتے ہیں ان کی وجہ سے بچی کی آئندہ قومیت پاسپورٹ دیگر دستاویزات اور ملکیت میں پہلے ہمارا نام آجاتا اور بعد میں رچرڈ کا۔اس کی وجہ سے قانونی مسئلے کھڑے ہوجاتے۔
بات آئی گئی ہوگئی۔ نازلی اور رچرڈ ایک ماہ بعد پاکستان آن پہنچے۔ خاکسار انہیں لے کر اس ادارے کے دفتر جب اگلی صبح پہنچا۔مسز ایدھی نے انہیں خوب ڈانٹا اور وہ فارم دکھایا جس پر خاکسار کے نام کے آگے سرخ روشنائی سے انگریزی میں لکھا تھا “Non-Serious” یعنی درخواست گذار غیر سنجیدہ ہے۔ چند دن بعد ہم نے ایک ملاقات میں ایدھی صاحب کو شکوہ کیا کہ ہمارے نام کے آگے آپ کی بیگم نے لال انک سے رجسٹر میں Non-Serious” لکھا ہے تو کہنے لگے کہ بلقیس نے تو میرے نام کے آگے بھی نکاح نامے میں Non-Serious” لکھا ہے۔ آپ بولو اس گھیلی(پاگل) کا میں کیا کروں۔آپ کا کام ہوگا۔ ہر بات دل پر لینے کی نہیں ہوتی۔“

ادارے میں اسوقت کافی لوگ اسی مقصد کے تحت آئے ہوئے تھے۔ اکثریت بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد جوڑوں کی تھی۔ وہاں انہیں بتایا گیا کہ ادارے کو روزانہ نو سے دس نوزایئدہ بچوں کی لاشیں مختلف مقامات سے ملتی ہیں اور اتنے ہی نو مولود بچے انہیں شہر میں جو ان کے مختلف مقامات پر سینٹر ہیں وہاں پر باہر رکھے ہوئے جھولوں میں زندہ حالت میں ملتے ہیں۔عنبرین یعنی ہماری سیکرٹری کو وہاں ملازم اس کی دوست نے بتایا تھا کہ یہ بچے زیادہ تر ان آبادیوں میں زیادہ ملتے ہیں جہاں پردہ اور عورتوں مردوں کا میل جول بہت گھٹن زدہ ہے۔ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے کہ ان بچوں کے ممکنہ باپ کون سے قریبی عزیز ہوسکتے ہیں۔

ایدھی سینٹر کے باہر رکھا بے آسرا چھوٹے بچوں کا جھولا

خاکسار چونکہ ان بچوں کی لاشیں چھوٹے سفید کفنوں میں لپٹی پہلے بھی ان کے سہراب گوٹھ والے ایدھی ہوم میں دیکھ چکا تھا لہذا اسے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی مگر وہاں موجود لوگوں کے لئے یہ ایک جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا انکشاف تھا۔
جب سب لوگ چلے گئے تومسز ایدھی نے انہیں کہا کہ وہ ایک چودہ سال کی بہت خوبصورت لڑکی سے ملوانے اندر لے جائیں گی، یہ بچی سات ماہ کی حاملہ ہے۔وہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھیں۔ جب اس کے ولادت ہوجائے گی تو وہ اس کا بچہ نازلی اور رچرڈ کو دے دیں گی۔اسکے ساتھ ہی اس نے خاکسار کے ہاتھ میں ایک فائل سے نکال کرایک خط دیا کہ وہ انہیں پڑھ کر سنائے۔ خط میں لکھا تھا۔”میڈم صاحبہ۔ہم غیرت مند لوگ ہیں۔بچی کو میرا ارادہ قتل کرنے کا تھا۔مگر اس کی ماں نے بہت واسطے دیئے، یہ ہماری ایک ہی اولاد ہے،حالات کچھ ایسے ہیں کہ ہم دوسرا بچہ پیدا نہیں کرسکتے۔میری بیوی اور اس کی ماں نے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے اسے قتل کیا تو وہ خودکشی کرلے گی اس طرح میری گردن پر تین لوگوں کا خون ہوگا، میں اس آدمی کو بھی قتل کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا، مگر نہ توبچی اس کا نام بتاتی ہے نہ ماں،میں کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔بچی کی جان اور میری عزت اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔”
ہم نے خط پڑھ کر جب سنایا تو سبھی رو رہے تھے حتی کہ رچرڈ شیر دل بھی۔اس لئے کہ نازلی اس خط کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ کرتی جارہی تھی۔
نازلی نے پوچھا اس نے آپ کو بتایا کہ”یہ کس کی حرکت تھی؟“۔ تو مسز ایدھی نے جواب دیا کہ وہ اس کی ماں کا قریبی رشتہ دار ہے۔وہ لوگ ایک شادی میں گاؤں گئے تھے۔وہاں یہ سب کچھ ہوگیا،بیٹی نے ماں کو بھی بہت بعد میں پتہ چلنے دیا۔اب آپ لوگ اسکو دیکھ لیں یہاں اور بھی بچے ہیں مگر ایک تو ان میں لڑکے ہیں اور زیادہ تر ذہنی طور پر معذور ہیں۔آپ کو تو لڑکی چاہیے نا اور وہ بھی صحتمند۔
نازلی نے کہا کہ ایک تو میرے میاں کو بیٹی کا شوق ہے اور دوسرے وہ خود بھی اتنی مصروف ہوتی ہے کہ ایک ذہنی طور پر معذور بچّے کو پالنا شائد اس کے لئے ممکن نہ ہو۔
مسز ایدھی انہیں اند رلے گئیں،یہاں بچے کھیل رہے تھے۔ معصوم اور اپنے والدین کے پیار سے محروم دنیا کی زیادتیوں سے بے خبر، ایک استانی نے گھیرا بناکر کچھ بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دینے کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔انہیں یہ دیکھ کر مسرت ہوئی کہ بچے کافی آرام سے تھے اور قدرے خوش بھی۔شائد یہ سب اتنے چھوٹے اور معصوم تھے کہ انہیں ماں کے وجود کا اور اپنی موجودہ حالت کا شعور ہی نہ تھا۔ان بچوں کے کمرے سے لے کروہ انہیں ایک ایسے ہال میں لے گئیں جہاں کچھ لڑکیاں اور عورتیں سلائی اور دیگر امور میں مصروف تھیں۔انہی میں وہ لڑکی رافعہ بھی تھی۔ نازلی کو لگا کہ وہ ہندوستانی اداکارہ پریٹی زینٹا کا سراپا دیکھ رہی ہے، جامنی رنگ کے ایک ڈھیلے فراک اور گہری سبز رنگ کی شلوار پر بڑا سا چنری کا دوپٹہ اوڑھے وہ کوئی کپڑے پر گوٹا ٹانک رہی تھی۔وہ ایک نظر اس پر ڈال کرکچھ بات کئے بغیر آگے بڑھ گئے۔

ایدھی ہوم کا اندرونی منظر
پریتی زنٹا

نازلی اور اس کا میاں کچھ اداس تھے۔بچی کی موجودگی اورشائد یہ سوچ کر کہ وہ اس کے آنگن میں کھلنے والا پھول اس کو بتائے بغیر توڑ کر کہیں ایسے ملک میں لے جائیں گے جس کا اس بے چاری نے نام بھی نہ سنا ہو، اس کا بچہ ایک ایسے گھر میں پلے گا جس کا ہر دروازہ، ہر کھڑکی ماں کے لئے بند ہوگی۔
خاکسار سوچنے لگا کہ کیا وہ خواتین جو کسی زیادتی کا شکار ہو کر بچوں کو جنم دیتی ہیں، انہیں بھی اس بچے سے اتنا ہی پیار ہوتا ہے،اسے بوسنیا کی وہ مسلم خواتین بھی یاد آئیں جنہیں وہاں کے عیسائی سپاہیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حاملہ کیا جسے وہاں نسلی صفائیEthnic Cleansing کا نام  دیا۔ کیا ان عورتوں کو جن کے بچے ایک نفرت کے تحت ان کے وجود کا زبردستی حصہ بنادئیے گئے انہیں بھی ان کی مائیں اسی طرح چاہیں گی جس طرح وہ اپنے سماجی طور پر مروجہ اور محبت کے واسطوں سے پیدا ہونے والے بچوں کو چاہتی ہیں۔ میرے ذہن میں اس بچی کو دیکھ کر سوالات کا ایک سونامی پھٹ گیا۔ ان بیچارے بچوں کا جانے کیا بنا ہوگا اور ان کی ماؤں کا کیا ہوا ہوگا۔؟

اگلے دن وہ تینوں کسی کے ہاں کھانے سے رات کو لوٹ رہے تھے۔واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا۔ یہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔رچرڈ نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیئے گا۔نازلی نے احتجاج کیا کہ شیشہ صحت کے لئے اچھا نہیں مگر رچرڈ نے ضد کی کہ کھبی کبھار پینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کراچی میں تو ویسے بھی اتنا کاربن فضا میں موجود ہے کہ یورپ کے بعض صنعتی شہروں میں اس سے کم کاربن وہاں کی فضا میں ہوگا۔وہ کہنے لگا کہ برصغیر کے کچھ شہروں میں ستر فیصد فضائی آلودگی وہاں کی گاڑیوں کی وجہ سے ہے۔
جب وہ بیٹھ کر وہاں عربی قہوہ اور شیشہ پی رہے تھے تونازلی کچھ کھوئی کھوئی اور چپ چاپ سی تھی خاکسار نے اس سے اردو میں پوچھ ہی لیا کہ وہ کیوں اتنی اداس ہے۔؟
نازلی نے ایک دھماکہ کیا کہ” وہ اس لڑکی کے  بچّے کو گود نہیں لینا چاہتی“۔
وہ کیوں؟ ہم نے اس سے استفسار کیا۔

کہنے لگی کہ “اس کا کلیجہ اس خیال سے ہی کٹ رہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ ایک تو پہلے ہی بہت ظلم ہوا۔ وہ بمشکل موت کے منہ سے واپس آئی ہے، بچہ پیٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ جس جذباتی کرب سے گذر رہی ہوگی اس کا اندازہ ایک عورت ہونے کے ناطے وہ بہت اچھی طرح کر سکتی ہے۔دوسرا ظلم اس لڑکی پر یہ ہوگا کہ جب بچہ پیدا ہوگا تو اس بچے کو اس سے یہ کہہ کر جدا کردیا جائے گاکہ اس کی موت واقع ہوگئی ہے اور اسے خاموشی سے دفنا دیا گیا ہے۔مجھے یقین ہے ادارے والے، اُسے بچہ پہلے بھی نہ دیتے۔اس کا جذباتی پہلو کچھ بھی ہو مگر ان کا فیصلہ دور رس، بے حد پریکٹیکل اور عمدہ ہے۔اس کا تکلیف دہ پہلو بھی ہے مگر اس کی عملی افادیت اس کی جذباتی نا آسودگی پر بہت بھاری ہے۔ ہمیں افسرانہ تریبت کے اعلی مدارج میں دوران تربیت سکھایا گیا کہ زندگی کے تمام فیصلے رائٹ اور رانگ کے ڈبے میں بند نہیں کرنے ہوتے۔مشکل فیصلے وہ ہوتے ہیں جن میں دو رائٹ یا دو رانگ شامل ہوں۔ جو زیادہ رائٹ اور کم رانگ ہو وہ چن کر کام چلانا ہوتا ہے۔
نازلی کہے جارہی تھی کہ اس ادارے کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ لڑکی واپس اپنے والدین کے پاس چلی جائے اور یہ راز کہ وہ ایک بچے کی ماں بن چکی ہے ہمیشہ کے لئے اس گھر کی چار دیواری میں دفن ہوجائے جہاں اس نے بچے کو جنم دیا۔میرے لئے یہ سارا معاملہ ایک بہت بڑااخلاقی تضاد ہے اور میں اس سے سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔”
اس بیان کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے،رچرڈ نے کھڑے ہوکر اپنے کرتے کے دامن سے اس کے آنسو پونچھے۔
نازلی نے ہچکیوں کے درمیان اسے بتایا کہ ” اس نے آج مغرب کی نماز میں اللہ سے دعا کی ہے کہ اسے کوئی اور بچہ گود لینے کے لئے دے۔ وہ اس لڑکی کا بچہ وہ نہیں لے گی۔”
رچرڈ نے اس سے درخواست کی کہ ” کیا وہ کچھ اور بندوبست نہیں کرسکتا۔؟”
نازلی کہنے لگی وہ تین دن بعد واپس فرینکفرٹ چلی جائے گی۔ اگر کل کچھ ہوجائے تو اچھا ہے وہ دو دن کے لئے رچرڈ کو پرانا لاہور دکھانا چاہتی ہے۔
خاکسار چونکہ صبح خود تو سرکاری طور پر مصروف تھا لہذا وہ نعیم اور عنبرین کو گاڑی کے ساتھ بھیج دے گا۔نعیم اس کا ایک بہت سمجھدار اور تعلقات والا افسر ہے۔وہ چاروں واپس اس ادارے کی سربراہ کے پاس جائیں،ان کو اپنی مشکل بتادیں اللہ مسبب الاسباب ہے۔ہوسکتا ہے کہ کوئی حل نکل آئے۔
واپسی پر انہیں اس ادارے کی کلفٹن برانچ پر رکھا ہوا جھولا دکھایا جس میں بعض دفعہ لوگ خاموشی سے اپنے بچے ڈال جاتے ہیں۔
اگلے دن جب یہ چاروں سینٹر پر پہنچے تو مسز ایدھی انہیں وہاں دیکھ کر شدید برہم، ہوگئیں اور فرمانے لگیں ”کیا سمجھتے ہو تم لوگ، بچہ لینا کوئی نانی واڑہ (نانی کا آنگن ہے) ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ تمھارے پاس دولت ہے تو تم ساری دنیا خرید سکتے ہو،چپ کر کے  یہاں کونے میں بیٹھ جاؤ جب تک میں نہ بولوں،یہاں سے ہلنا نہیں ورنہ آئندہ میرے سینٹر پر مت آنا۔رچرڈ تو بے چارہ اس کی ڈانٹ کھا کر کمرۂ ملاقات سے باہر نکل گیا اور باہر گلیوں میں ٹہلنے لگا۔جس معاشرے کا وہ فرد تھا وہاں گفتگو کبھی بھی ان الفاظ میں یا اس طور نہ ہوتی تھی۔
نازلی کو یہ فکر ہوئی کہ وہ ان پرانی کراچی کی گلیوں میں گم نہ ہوجائے،لہذا اس نے آنکھ کے اشارے سے نعیم کو اس کے ساتھ باہر رہنے کو کہا اور خود اس سوچ میں پڑگئی کی ادارے کی سربراہ نے انہیں سب کے سامنے ڈانٹ کو چپ چاپ بیٹھ جانے کو کیوں کہا۔

آج مسز ایدھی کا موڈ بہت خراب لگ رہا تھا۔بچہ گود لینے کے لئے جتنے بھی جوڑے آئے ہوئے تھے تقریباً سب ہی کو ڈانٹ پڑ رہی تھی۔ نازلی نے سوچا کہ آخر میں وہ اس کا اور رچرڈ کا نہ جانے کیا حشر کریں گی۔جب ملاقاتی ہال سے آخری جوڑا رخصت ہوا تو ا نہوں  نے دروازہ بند کرنے کو کہا اور والنٹیر کو حکم دیا کہ اس کے میاں کو بھی اندر بلالے۔رچرڈ ڈرتے ڈرتے ہال میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے دھڑ سے دروازہ بند ہوگیا، نعیم بے چارہ ہال کے باہر ہی رہ گیا۔ نازلی کی ہمت نہ پڑی کہ  وہ اسے بھی اندر بلانے کا کہے۔
رچرڈ کے اندر آتے ہی وہ کچھ کہا گیا کہ جس کی وہاں موجود کسی بھی فرد کو ہرگز توقع نہ تھی۔مسز بلقیس ایدھی نے کہا، “چل تیرے کو تیرا بچہ دوں “۔وہ انہیں عین اس جگہ لے گئیں جہاں کل ان کی ملاقات اس لڑکی، وہاں موجود بچوں اور وہاں کام کرنے والی والنٹئرز سے ہوئی تھی۔چند قدم کا یہ فاصلہ عنبرین، نازلی اور طیب کو بھی صدیوں کی مسافت لگا۔
جب وہ اندر پہنچے توانہوں نے ایک بی بی کو کہا ” الماس! جا وہ بچی لے آ۔”
وہ گئی اور برابر کے کمرے سے ہلکے گلابی Fluffyکمبل میں لپٹی ایک کومل سی بچی لے آئی جو آنکھیں کھولے اپنے نئے ماں باپ کو دیکھے جاتی تھی۔بچی خوبصورت بھی تھی اور کمبل کو دیکھنے سے لگتی تھی کہ وہ کسی اچھے گھرانے کی تھی۔اس کی ناف پر جو ایک کلیمپ clamp لگا تھا۔وہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ اور اس کی پیدائش بھی بحفاظت اور صحت مندطریقے سے ہوئی ہے۔بچی کو پیدا ہوئے ایک آدھ دن سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔۔۔
مسز ایدھی نے نازلی کا ماتھا چوما اور آہستہ سے دعا دی کہ ” اللہ تیرا اور اس کا دونوں کا نصیبہ اچھا کرے۔
تیرا میاں بہت اچھا آدمی ہے، ادھر کے ہمارے مردوں جیسا وائڑہ (سندھی میمنی اور گجراتی زبان میں متکبر، اڑیل، غیر سنجیدہ اور نخریلا) نہیں۔ کل رات کو ساڑھے دس بجے ہمارے وہ کلفٹن والے سینٹر پر رات کو ساڑھے دس بجے ایک ٹیکسی آکے رکی۔ ہمارے سینٹر کا انچارج باہر ہی کھڑا تھا۔جو بڑی بی بچی کو جھولے میں ڈالنے کے لئے کار سے اتری تھی وہ گھبرا گئی مگر ہمارا انچارج بولا کہ میں اندر چلا جاتا ہوآپ فکر مت کرو اور بچی کو ڈال دو تو عورت نے بچی کو اس کو دے دیا اور خود چلی گئی ٹیکسی میں بیٹھ کے۔”
سادہ لوح نازلی نے پوچھا کہ اچھا وہ لوگ ٹیکسی میں آئے تھے۔؟
مسز ایدھی کہنے لگیں “اب وہ ٹیکسی میں آئے تھے کہ پانی کے جہاز میں تو اتنی پنچات(فکر) کیوں کرتی ہے۔تو اور تیرا میاں فارم پر سائین کر اور بھاگ بچی کو لے کر۔ ایک سال بعد تو اس کا فوٹو بھیجنا۔
جس وقت وہ فارم پر سائین کررہے تھے ادارے کی سربراہ کہنے لگی۔۔”یہ مالدار لوگ ادھر ٹیکسی میں آتے ہیں بچے ڈالنے، گھر کے مردوں اور ڈرائیوروں سے چھپانا ہوتا ہے بات کو،اپنی گاڑی کا نمبر بھی چھپانا ہوتا ہے نا۔ گھیلی(پاگل)۔ادھر یہ چھوڑ کر گئے اس کو ادھر میرے کو سیل فون پر انچارج کا فون آیا، میں بولی اس کو فوراً تو ادھر ایمبولنس میں ڈال کر پارسل کر میرے پاس۔آج تیرا وہ بوائے ٖفرینڈ نہیں آیا ۔کیا ناراج (ناراض)ہوگیا ہے میرے سے۔وہ جرا (ذرا) ناجک(نازک)مزاج لگتا ہے۔ آفیسر ہے نے۔میرا میاں اس کی بہت تعریف کرتا ہے۔۔بولا کہ اپنے کو اس کو کام جرور (ضرور)کرنا ہے۔
وہ ہدایت دینے لگیں کہ” نوزایئدہ بچوں کو شروع میں یرقان ہوجاتا ہے وہ جائے اور پہلے اس کا ٹیسٹ وغیرہ کرائے اور وہ  اس کا نام کیا رکھے گی۔اس کے بعد میونس پالٹی(میونسپلٹی) سے اس کا برتھ سارٹی ٖ فیکیٹ(سرٹیفکٹ) بنے گا وہ جو تیرا دوست ہے نا اس کو بولے گی تو سارا کام فون پر ہوجائے گا۔دیکھ تیرے ساتھ اپنے دو فرشتے بھیجے ہیں نا۔یہ مارا ماری کرکے سب کام کردیں گے۔ہمارے ادھر آفیسروں کا بہت جور (زور)ہے۔سمجھ لے اللہ دین کا جن ہوتے ہیں ان لوگ۔
“مبارکہ “ نازلی نے تمام تٖفصیلات میں صرف نام بتانے کو مناسب جانا۔
نعیم نے بچی کے ہاتھ میں پانچ سو روپے کا ایک نوٹ دیا۔ نازلی انکار کرتی رہی مگر نعیم کہنے لگا کہ یہ ہماری طرف رسم ہے۔
مسز ایدھی نے اس پر کہا کہ بچی خوش نصیب ہے۔جس پرنازلی نے اپنا پرس کھول کر جتنے ڈالرز تھے وہ تو ان کے عطیات کے بکس میں ڈال دیئے اور پاکستانی نوٹ وہاں عملے میں تقسیم کردئیے، عملہ پیسے لینے پر رضامند نہ تھا۔ وہ یہ سب خدمت بے لوث جذبے کے طور پر کرتے تھے، مگر جب نازلی نے بہت اصرار کیا اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ اتنی اچانک ہوا ہے اسے اپنی اور میاں کی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس کی معافی دی جائے۔
ایدھی صاحب کے مرکز پر اس وجود متروکہ کے ایسے بھاگ جاگے کہ مبارکہ بی بی کی پیدائش کا سرٹیفکٹ اسی دن، جرمنی کا پاسپورٹ دوسرے دن بن گیا۔آغا خان ہسپتال میں اسے کراچی کی سب سے مشہور ماہر امراض طفل پروفیسر در شہوار اکرم جو پاکستانی مندوب منیر اکرم کی ہم شیرہ ہیں۔انہوں نے اس کا خاکسار کی درخواست پر تفصیلی طبی معائنہ کیا ، ہسپتال سے نکل کر یہ معصومہ سیدھی کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے بزنس سوئیٹ میں رہنے پہنچ گئی اور پاسپورٹ جاری ہونے کے پانچویں دن اپنے گھر اپنے دادا دادی کے پاس گاؤں جا پہنچی وہاں ان کی بڑی جائداد تھی، رچرڈ ان کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناطے اس جائداد کا تنہا وارث تھا بلکہ اسکی بیوہ نانی کی جائداد بھی اس ہی ملنی تھی جو جرمنی کی ایک مالداریہود ن تھی۔
سوچ کے کئی متوازی دھارے ہیں جو ذہن میں بہتے ہیں:
نازلی اور رچرڈ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس جدوجہد میں نازلی کے اس لڑکی کے ہونے والے بچے کو گود نہ لینے کے فیصلے کا کیا رول تھا۔
خاکسار، ندیم اور عنبرین ، جو اس پوری کاوش میں شریک رہے، یہ کردار اس ایک نصیب دار وجود کو اپنے والدین تک پہنچانے میں اللہ نے کہاں سے ایک نقطہ پر جمع کردیے۔وہ بچی مبارکہ،اسکی ماں کی بے خبری اور نصیب کا کیا رول تھا، کیا اس کے ماں باپ  کو پتہ ہوگا کہ اس کی  بچی کس ناز و نعم میں پلے گی۔ کیا زندگی میں نصیب سے بڑھ کر بھی کسی اور شے کا دخل ہے؟
ہندوستان کا مشہور اداکار راج کپور کہا کرتا تھا۔ “ماں جنم دے سکتی ہے، کرم(نصیب) نہیں دے سکتی۔”مبارکہ کی ماں نے بھی اسے صرف جنم دیا تھا اور اسے کرم رضائے الہٰی سے ملا تھا۔
ائیرپورٹ پر جب اس نے دعا دیتے ہوئے مبارکہ کو چوما، نازلی اور رچرڈ کو گلے لگایا تو آہستہ سے وقتِ رخصت ایر پورٹ پر اداکار راج کپور کے الفاظ دہراتے ہوئے صرف اتنا کہا۔” The Show must go on! ”

خوش گوار اتفاق کے سات آٹھ برس بعد ہم فرینکفرٹ کے ہوائی اڈے پر  منتظر تھے کہ نازلی اتفاقاً  چارلس ڈیگال ایرپورٹ پر بیٹھی Skypeپر مل گئی موسم کی  شدید خرابی نے اس کی فلائٹ کا معمول درہم برہم کردیا تھا۔اس نے بتایا کہ مبارکہ، کو خیر سے اب ساتواں برس لگ گیا۔رچرڈ کی والدہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سوئزر لینڈ کے علاقے انٹر لاکن میں ان کے گھر منتقل ہوگئی ہیں۔ وہ سب وہاں رہتے ہیں۔مبارکہ بھی انہی  کے ساتھ ہے۔

مبارکہ کا گاؤں

اسے انگلستان کی شہزادی بیٹریس،دوبئی کی شیخا حیا اور ٹینس کی مشہور کھلاڑی مارٹینا ہنگز کی طرح گھڑ سواری کا بہت شوق ہے۔۔ساتویں سالگرہ پر دادی نے اسے ایک دس ہاتھ کا شیٹ لینڈ پونی (چھوٹے قد کے گھوڑے) تحفے میں دیا ہے۔جس کا نام اس نے فرانسیسی زبان میں Filou(شریر لڑکا) رکھ دیا ہے۔پڑھائی میں اسے کوئی خاص دل چسپی نہیں۔

SHOPPING
شہزادی-بیٹ-ریس
شیخا حیا
مارٹینا ہینگز
مارٹینا ہینگز گھڑ سواری کرتے ہوئے
شیٹ لینڈ پونی

پڑوس میں رہنے والی ایک ہندوستانی فیملی کی وجہ سے ستار بجانے اور گانے میں بہت مزا آنے لگا ہے اور فلم نوبہار کا گیت اے ری میں تو پریم دیوانی میرا درد نہ جانے کوئی، موہئے پنگھٹ پر نند لال چھیڑ گیو رے اور اے دل ناداں آرزو کیا ہے جستجو کیا ہے بہت عمدگی سے گاتی ہے۔اسکول میں تیراکی کی چمپئین ہے ہم نے جب پوچھا کہ مبارکہ کو یہ پرانے گانے کیوں گانے کا شوق ہے تو نازلی ہنس کر کہنے لگی کہ I think she has an archaic soul like her dad(میرا خیال ہے کہ اس میں بھی والد کی طرح کسی قدیم روح کا بسیرا ہے) وہ بھی بیتھون، شوپن اور موزارٹ کی سمفنیاں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر سنتا ہے۔ دوسرے موسیقی جو عورت یعنی ہماری پڑوسن سکھا تی ہے اسے ہندوستان چھوڑے تیس برس سے اوپر ہوگئے۔اسی نے اس کے لئے چھوٹی ستار بنارس سے منگوائی ہے۔
ہمیں ایدھی صاحب کو یا ان کی بیگم کو یہ سب بتانے کا موقع نہیں ملا۔
مجھے یقین ہے وہ یہ سب سن کر خوش ضرور ہوتے مگر یہ دونوں میاں بیوی تو نیکی کر دریا میں ڈال قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے غالب نے کہا تھاع ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا۔ ایسے کئی واقعات ہوں گے جو ان کے ان مراکز خدمات سے جڑے ہوں گے۔ہر وہ بے آسرا اور دل شکستہ وجود جو اللہ نے ایدھی صاحب کی وجہ سے سنوارا وہ یقینا ً ان کے حق میں صدقہ جاریہ ثابت ہوگا۔اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ وہ جو کذب و ریا، ظاہری حلیے کی تبدیلی ،بیان کی چاشنی اور تشدد کو دین کو سمجھ بیٹھے ہیں اللہ ان کے قلوب ہائے گمراہ کو ایدھی صاحب کی تقلید میں بے لوث خدمت انسانی کی جانب پلٹ دے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مجنوں جو مرگیا ہے توجنگل اداس ہے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/دوسری اور آخری قسط

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *