• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے۔۔یورنیس،نیپچون۔۔۔ زاہد آرائیں /آخری قسط

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے۔۔یورنیس،نیپچون۔۔۔ زاہد آرائیں /آخری قسط

ترتیب کے لحاظ سے سورج سے ساتواں سیارہ یورینس ہے۔ یہ سیارہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے نظام شمسی کا تیسرا جبکہ وزن کے اعتبار سے چوتھا بڑا سیارہ ہے۔ اس کا نام یونانی دیوتا یورینس کے نام پر رکھا گیا ہے جو آسمان کا دیوتا کہلاتا تھا۔ اگرچہ دیگر پانچ روایتی سیاروں کی طرح یورینس بھی رات کو عام آنکھ سے دکھائی دیتا ہے لیکن زمانہ قدیم کے کسی سائنس دان نے اسے بطور سیارہ شناخت نہیں کیا تھا کیونکہ اس کی محوری گردش انتہائی سست ہوتی ہے۔سر ولیم ہرشل نے 13 مارچ 1871کو اس کی دریافت کا اعلان کیا جس سے ہمارے نظام شمسی کے حدود کو وسعت ملی۔ دوربین کی مدد سے دریافت ہونے والا پہلا سیارہ یورینس ہی ہے۔

یورینس کی ایک منفرد بات اس کے محور کا اس کے مدار سے انتہائی ترچھا زاویہ ہے۔ اس کا محور سورج کے گرد اس کے مدار سے 98 درجے کا زاویہ بناتا ہے۔ اس منفرد زاویے کی وجہ سے یورینس پر دن اور رات کی تشکیل باقی سب سیاروں کی نسبت بالکل مختلف ہے۔اس کے قطبین پر بھی یورینسی سال میں ایک بار سورج عین سر پر آجاتا ہے اور لمبے عرصے تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا۔ اس کا مرکز باقی گیسی دیو سیاروں کی نسبت ٹھنڈا ہے اور اس سے بہت کم حرارت خلامیں خارج ہوتی ہے۔ بناوٹ کے اعتبار سے یورینس نیپچون سے بہت مشابہہ ہے اور دونوں ہی کیمیائی ساخت کے اعتبار سے دیگر دو بڑے گیسی دیو یعنی زحل اور مشتری سے فرق ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ماہرین انہیں ایک الگ درجہ بندی میں رکھتے ہیں جو برفانی دیو ہے۔ یورینس کی فضاء زحل اور مشتری سے ملتی جلتی ہے اور اس میں ہائیڈروجن اور ہیلیئم پائی جاتی ہے۔ اس کی فضاء میں پانی، امونیا اور میتھین سے بنی برف زیادہ پائی جاتی ہے۔ ہمارے نظام شمسی کی یہ سرد ترین فضاء ہے جس کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 224 ڈگری سینٹری گریڈ ہے۔ اس کی ساخت انتہائی پیچیدہ اور تہہ دار بادلوں سے بنی ہے جس میں پانی سے بننے والے بادل زیریں تہہ پر موجود ہیں جبکہ میتھین سے بننے والے بادل سب سے اوپر ہیں۔ اس کے برعکس یورینس اندر سے مختلف اقسام کی برفوں اور چٹانوں سے بنی ہے۔

دیگر گیسی دیوؤں کی مانند یورینس کے گرد بھی چھلے پائے جاتے ہیں اور اس کا اپنا مقناطیسی فضائی کرہ اور کئی چاند بھی ہیں۔ دیگر سیاروں کے برعکس یورینس اپنے افقی محور کی بجائے عمودی محور پر گھومتا ہے اس طرح اس کے شمالی اور جنوبی قطب جہاں ہیں، وہاں دیگر سیاروں کے خط استوا پائے جاتے ہیں۔ زمین سے دیکھا جائے تو اس کے چھلے اور چاند بھی دکھائی دیتے ہیں۔ 1986 میں جب وائجر 2 اس کے پاس سے گذرا تو تصاویر سے پتہ چلا کہ عام روشنی میں اس سیارے کے جغرافیائی خدوخال دکھائی نہیں دیتے اور بادل یا طوفان بھی نہیں ہیں جبکہ دیگر گیسی دیو ؤں پر بادل اور طوفان عام بات ہے۔ حالیہ برسوں میں زمینی مشاہدین کو یورینس پر موسمی تبدیلیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یورینس پر ہوا کی رفتار 250 میٹر فی سیکنڈ یعنی 900 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

1995 تا 2006 یورینس اتنا روشن تھا کہ زمین سے عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا تھا۔ تاہم عام حالات میں کسی بھی شہری مقام سے دوربین کی مدد سے اس کا مشاہدہ آسان ہوتا ہے۔ 15 سے 23 سینٹی میٹر قطر کی دوربین سے یہ سیارہ ہلکے نیلے رنگ کی تھالی کی شکل دکھائی دیتا ہے۔ 25 سینٹی میٹر قطر یا اس سے بھی بڑی دوربین سے اس کے بڑے چاند اور بادل بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

چاند۔
یورینس کے کل 27 قدرتی چاند ابھی تک دریافت ہوۓ ہیں۔ ان کے نام شیکسپیئر اور الیگزینڈر پوپ کی تحاریر سے لیے گئے ہیں۔ پانچ بڑے چاندوں کے نام میرانڈا، ایریل، امبریل، ٹائیٹانیہ اور اوبیرون ہیں۔ تاہم سارے چاند مجموعی طور پر بہت کم وزن رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ پانچ سب سے بڑے چاند مل کر بھی ٹریٹن کے وزن کے نصف سے بھی کم ہیں۔ سب سے بڑے چاند کا رداس ہمارے چاند کا نصف ہے اور 788.9 کلومیٹر ہے۔ یہ چاند بہت کم روشنی منعکس کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مشاہدہ آسان نہیں۔ ان چاندوں کا نصف حصہ چٹانی جبکہ نصف حصہ برفانی ہے۔ سطح کے مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ ایریل سب سے کم عمر ہے کیونکہ اس پر بہت کم گڑھے پڑے ہیں جبکہ امبریل سب سے پرانا ہے۔ میرانڈا کی کھائیاں 20 کلومیٹر تک بھی گہری ہیں۔

خلائی  مشنز۔

1986 میں ناسا کے وائجر 2 کا گزر یورینس کے پاس سے ہوا۔ تاہم یہ دورہ بہت مختصر تھا اور فی الوقت مستقبل قریب میں ایسی کوئی مہم ترتیب نہیں دی گئی۔ 1977 میں روانہ ہوئے وائجر 2 نے 24 جنوری 1986 کو بادلوں کی اوپری تہہ سے 81500 کلومیٹر کے فاصلے سے تصاویر بھیجی تھیں اور پھر آگے نیپچون کو روانہ ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ بادلوں اور سیارے کی کیمیائی ساخت کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے 5 بڑے چاندوں کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ 10 نئے چاند بھی دریافت کئے۔
ناسا کے منصوبوں میں یورینس کے محور میں گردش کرنے والے ایک خلائی جہاز اور اس پر اترنے والی ایک خلاٸ مشین کا منصوبہ 2020 سے 2023 کے درمیان بھیجنا شامل ہے جو 13 سال کے سفر کے بعد یورینس پر جا پہنچے گا۔

These two pictures of Uranus — one in true color (left) and the other in false color — were compiled from images returned Jan. 17, 1986, by the narrow-angle camera of Voyager 2. The spacecraft was 9.1 million kilometers (5.7 million miles) from the planet…

No automatic alt text available.

8. نیپچون ۔۔Neptune۔۔

ہمارے نظامِ شمسی میں نیپچون آٹھواں اور
سورج سے بعید ترین سیارہ ہے۔ اسے روم کے سمندری دیوتا کے نام پر نیپچون کہا گیا ہے اور نصف قطر کے لحاظ سے چوتھا جبکہ کمیت کے اعتبار سے تیسرا بڑا سیارہ ہے۔ نیپچون زمین سے 17 گنا زیادہ وزن رکھتا ہے اور اپنے جڑواں یورینس سے کچھ زیادہ بھاری ہے۔ زمین کی نسبت اس کا سورج سے اوسط فاصلہ 30 گنا زیادہ ہے۔ 23 ستمبر 1846 کو نیپچون دریافت ہوا تو یہ مشاہدے کی بجائے ریاضیاتی پیشین گوئی سے دریافت ہونے والا پہلا سیارہ تھا۔ یورینس کے مدار میں ناقابلِ توجیہ گڑبڑ کی وجہ سے الیکسز بووارڈ نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ اس کی وجہ ایک اور سیارہ ہے۔ جوہان گالے نے جس جگہ یورینس کو دریافت کیا، وہ اربین لی ویریئر کی بتائی ہوئی جگہ سے ایک ڈگری کے فرق پر تھا۔ فوراً بعد ہی اس کا سب سے بڑا چاند ٹریٹن بھی دریافت ہوا۔ تاہم 20ویں صدی تک اس کے دیگر بارہ چاند دوربین سے کبھی نہ دیکھے جا سکے۔ نیپچون تک آج تک صرف ایک خلائی جہاز وائجر دوم گیا ہے۔ یہ جہاز 25 اگست 1989 کو نیپچون کے پاس سے گزرا تھا۔
یورینس کی بے جان فضاء کے برعکس نیپچون کی فضاء خاصی متحرک اور موسمیاتی تبدیلیاں رکھتی ہے۔ 1989 میں وائجر دوم جب اس کے پاس سے گزرا تو اس کے جنوبی نصف کرے پر ایک بڑا دھبہ دکھائی دیا جس کا حجم مشتری کے عظیم دھبے کے برابر تھا۔ یہ دھبے طوفانی ہواؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہوائیں نظامِ شمسی کی تیز ترین ہوتی ہیں اور ان کی رفتار 2100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ سورج سے دوری کی بنا پر اس کی فضاء ہمارے نظامِ شمسی کے سرد ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ بادلوں کے بالائی سرے پر درجہ حرارت منفی 218 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے جبکہ سطح پر درجہ حرارت اندازہً 5000 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ نیپچون کے گرد مدھم سے حلقے پائے جاتے ہیں جنہیں پہلی بار 1960 کی دہائی میں دریافت کیا گیا لیکن ان کی تصدیق 1989 میں وائجر دوم نے کی۔
1846 میں اپنی دریافت سے لے کر 1930 میں پلوٹو کی دریافت تک نیپچون کو نظامِ شمسی کا بعید ترین سیارہ شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم پلوٹو کا مدار اسے 1979 سے 1999 تک اسے نیپچون سے آگے لے آیا۔ 1992 میں کوئیپر کی پٹی کی دریافت سے فلکیات دان اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا پلوٹو کو سیارہ ماننا چاہئے یا اس پٹی کے دیگر شہابیوں اور بونے سیاروں کی مانند ایک۔ 2006 میں بین الاقوامی فلکیاتی یونین نے پلوٹو کو بونا سیارہ قرار دے دیا جس سے نیپچون ایک بار پھر سے نظامِ شمسی کا بعید ترین سیارہ بن گیا ہے۔
نیپچون اور سورج کا اوسط درمیانی فاصلہ ساڑھے چار ارب کلومیٹر ہے جو 30.1 فلکیاتی اکائیاں بنتا ہے۔ سورج کے گرد ایک چکر 164.79 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ 1846 میں اپنی دریافت کے بعد 12 جولائی 2011 کو نیپچون نے سورج کے گرد پہلا چکر پورا کیا ہے۔
سورج کے گرد نیپچون کا مدار بیضوی ہے جس کی وجہ سے سورج سے نزدیک ترین اور بعید ترین فاصلوں میں تقریباً 101 ملین یعنی 10 کروڑ دس لاکھ کلومیٹر کا فرق ہے۔ زمین اور مریخ کی مانند نیپچون اپنے مدار پر ترچھی حرکت کرتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے موسم بھی زمین سے مماثل ہیں۔ تاہم ہر موسم زمینی اعتبار سے 40 سال طویل ہوتا ہے۔
نیپچون کے اب تک 14 معلوم چاند ہیں۔ سب سے بڑا اور تمام چاندوں کے مجموعی وزن کے 99.5 فیصد کمیت کا حامل چاند ٹریٹن ہے جو کُروی شکل کا ہے۔ اسے ولیم لاسل نے نیپچون کی دریافت کے محض 17 دن بعد دریافت کیا تھا۔ پورے نظامِ شمسی میں یہ واحد چاند ہے جس کی حرکت سیارے کے مخالف سمت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چاند بنا نہیں بلکہ کوئیپر کی پٹی کا کوئی بونا سیارہ تھا جسے نیپچون کی کششِ ثقل نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ کم ہوتے ہوئے مدار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چاند آج سے تقریباً 3.6 ارب سال بعد نیپچون کے اتنا قریب پہنچ جائے گا کہ اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ 1989ء میں کی گئی پیمائش سے ٹریٹن ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے سرد اجرامِ فلکی ہے جو منفی 235 ڈگری سینٹی گریڈ ماپا گیا ہے۔ دریافت کے اعتبار سے نیپچون کا دوسرا چاند بے ڈھنگا نیریڈ ہے جس کا مدار پورے نظامِ شمسی کے عجیب ترین مداروں میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے مدار پر حرکت کرتے وقت اس کا نیپچون سے قریب ترین اور بعید ترین فاصلہ سات گنا فرق ہوتا ہے۔ جولائی تا ستمبر 1989 وائجر دوم نے نیپچون کے چھ مزید چاند دریافت کیے۔ ان میں سے پروٹیوس اتنا بڑا ہے کہ اپنی کششِ ثقل کی وجہ سے گول ہوئے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ دوسرا سب سے زیادہ کمیت والا چاند ٹریٹن کی کمیت کے محض چوتھائی فیصد کے برابر ہے۔ 2002 اور 2003 میں 5 مزید بے ڈھنگے چاند دریافت ہوئے تھے جن کا اعلان 2004 میں کیا گیا۔ چونکہ نیپچون سمندر کے دیوتا کے نام سے منسوب ہے، اس لیے اس کے چاند سمندر کے دیگر غیر اہم دیوتاوں سے منسوب ہیں۔
نیپچون عام انسان کو کبھی دوربین کی مدد کے بغیر دکھائی نہیں دیتا۔ عام دوربین سے اسے دیکھا جا سکتا ہے جس میں نیپچون ایک چھوٹی نیلی تھالی کی شکل میں یورینس جیسا دکھائی دیتا ہے۔ طویل فاصلے کی وجہ سے اس کا دکھائی دینے والا چھوٹا حجم مشاہدے کو بہت مشکل بنا دیتا ہے اور ہبل خلائی دوربین کے بننے سے قبل اس کا مشاہدہ بہت محدود تھا۔
25 اگست 1989 کو وائجر دوم نیپچون کے قریب تر پہنچا۔ چونکہ وائجر کے راستے میں آنے والا یہ آخری بڑا سیارہ تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ وائجر دوم اس کے چاند ٹرائیٹن کا بھی مشاہدہ کرے گا۔ اسی طرح وائجر اول نے زحل اور اس کے چاند ٹائیٹن کے حوالے سے کیا تھا۔ اس دوران وائجر دوم سے آنے والے سگنل 246 منٹ بعد زمین پر پہنچے۔ اس وجہ سے خلائی جہاز نے پہلے سے دی گئی ہدایات کے مطابق کام جاری رکھا۔ خلائی جہاز ایک چاند نیریڈ کے بہت قریب سے گزرا اور پھر نیپچون کی فضاء سے 4400 کلومیٹر پر 25 اگست کو گزرا اور پھر اسی دن بعد میں سب سے بڑے چاند ٹرائٹن کے پاس سے گزرا۔ وائجر دوم نے نیپچون کے مقناطیسی میدان کی موجودگی کی تصدیق کی اور یہ بھی معلوم کیا کہ یورینس کی طرح اس کے مقناطیسی میدان کا مرکز سیارے کے مرکز سے ہٹا ہوا ہے۔ وائجر دوم سے یہ بھی پتہ چلا کہ نیپچون کا موسم بہت متحرک ہے۔ اس کے علاوہ وائجر دوم نے چھ نئے چاند اور ایک نیا دائرہ بھی دریافت کیا۔ 2003 میں ناسا نے ایک مشن تجویز کیا تھا جو کسینی کی طرح کا ہو لیکن اس میں ایٹمی ری ایکٹر نہ ہو یہ منصوبہ جیٹ پروپلشن لیب اور کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یعنی کالٹیک کا مشترکہ ہے جس پر ابھی تک بھی کام جاری ہے۔۔

Image may contain: night

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *