• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے(زحل)۔۔۔۔زاہد آرائیں /قسط9

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے(زحل)۔۔۔۔زاہد آرائیں /قسط9

زحل ہمارے سورج سے چھٹے نمبر پر جبکہ ہمارے  نظام شمسی کا دوسرا بڑا سیارہ ہے۔ زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔ زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔ زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکے ہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔

طبعی خد و خال۔۔
کم کثافت، تیز رفتاری اور مائع حالت کی وجہ سے زحل چپٹا دائرے نما ہے۔ اس وجہ سے قطبین پر زحل پھیلا ہوا جبکہ خطِ استوا پر باہر کو نکلا ہوا ہے۔ دیگر گیسی دیو بھی اسی شکل کے ہیں۔ زحل ہمارے نظامِ شمسی کا واحد سیارہ ہے جو پانی سے کم کثافت رکھتا ہے۔ زحل کا وزن زمین سے 95 گنا زیادہ ہے۔

اندرونی ڈھانچہ۔۔
زحل کے اندرونی ڈھانچے کے بارے براہ راست کوئی معلومات نہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہ مشتری سے مماثل ہے یعنی اس کے اندر چھوٹا سا دھاتی مرکزہ ہے جس کے گرد ہائیڈروجن اور ہیلئم موجود ہے۔ یہ دھاتی مرکزہ زمین کے دھاتی مرکزے کے مماثل لیکن کم کثیف ہے۔ اس کے گرد دھاتی ہائیڈروجن مائع حالت میں موجود ہے جس کے بعد مائع شکل میں ہائیڈروجن اور ہیلئم پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد 1٫000 کلومیٹر کی فضاء موجود ہے۔ آتشگیر مواد بھی معمولی مقدار میں یہاں پائے جاتے ہیں۔ مرکزہ زمین کے کل وزن سے 9 سے 22 گنا زیادہ بھاری ہے۔ زحل کا اندرونی حصہ زمین کی نسبت بہت زیادہ گرم ہے جو 11٫700 ڈگری کے لگ بھگ ہے۔ زحل سورج سے آنے والی جتنی توانائی جذب کرتا ہے اس سے اڑھائی گنا زیادہ توانائی زحل خلاء میں خارج کرتا ہے۔

فضاء۔۔
زحل کی بیرونی فضاء میں 96.3 فیصد ہائیڈروجن اور 3.25 فیصد ہیلئم ہے۔ انتہائی معمولی مقدار میں امونیا، ایسیٹیلین، ایتھین، فاسفین اور میتھن بھی پائی جاتی ہیں۔ زحل کے بالائی بادل زیادہ تر امونیا کی قلموں سے بنے ہیں جبکہ زیریں بادل یا تو امونیئم ہائیڈرو سلفائیڈ سے بنے ہیں یا پھر پانی سے۔ ہیلئم سے زیادہ بھاری عناصر کی مقدار کے بارے یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ کیسینی خلائی جہاز کی بھیجی ہوئی تصاویر کے مطابق زحل کا شمالی نصف کرہ یورینس کی طرح چمکدار نیلے رنگ کا تھا۔

برقی کرہ۔۔
زحل کا اپنا مقناطیسی میدان عام نوعیت کا ہے جس میں دو قطب پائے جاتے ہیں۔ اس کی شدت زمینی مقناطیسیت سے کچھ کم ہے۔ نتیجتاً زحل کا مقناطیسی کرہ مشتری کی نسبت مختصر ہے اور ٹائیٹن کے مدار سے ذرا باہر تک پھیلا ہوا ہے۔

مدار اور گردش۔۔
زحل اور سورج کا درمیانی فاصلہ اوسطاً 1 ارب 40 کروڑ کلومیٹر ہے جو 9 شمسی اکائیوں کے برابر ہے۔ ایک شمسی اکائی زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے کو ظاہر کرتی ہے۔ مدار میں زحل کی حرکت کی رفتار 9.69 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ اس رفتار سے زحل تقریباً 30 زمینی سالوں میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ زحل کے مدار کی نوعیت کے اعتبار سے زحل اور سورج کا درمیانی فاصلہ ساڑھے 15 کروڑ کلومیٹر تک کم ہو سکتا ہے۔

حلقے۔۔
زحل کو اس کے حلقوں کی وجہ سے زیادہ جانا جاتا ہے جو اسے ہمارے نظام شمسی کا منفرد ترین سیارہ بناتے ہیں۔ یہ حلقے زحل کے خطِ استوا سے 6٫630 سے لے کر 1٫20٫700 کلومیٹر اوپر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی اوسط موٹائی 20 میٹر ہے اور 93 فیصد پانی کی برف اور 7 فیصد کاربن پر مشتمل ہیں۔ ان ذروں کا حجم دھول کے ذرے سے لے کر چھوٹی کار تک ہو سکتا ہے۔ ان حلقوں کے بارے دو آراء ہیں۔ پہلی رائے میں یہ حلقے کسی سابقہ چاند کی باقیات ہیں جبکہ دوسری رائے میں یہ حلقے اسی مادے کا بقیہ حصہ ہیں جس سے زحل بنا تھا۔ چند مرکزی حلقوں میں موجود برف زحل کے ایک چاند کے برفانی آتش فشانوں سے آئی ہے۔

مشاہدہ۔۔
زمین سے عام آنکھ سے دیکھے جانے والے پانچ سیاروں میں سے زحل سب سے دور ہے۔ اولین ستارہ شناس اسے 1781 تک ہمارے نظام شمسی کا آخری سیارہ مانتے تھے۔ اس سال یورینس کی دریافت ہوئی۔ زحل کے گرد موجود حلقوں کو دیکھنے کے لیے زیادہ تر افراد کو دوربین کی ضرورت پڑے گی جس کی طاقت کم از کم 20 ایکس ہو۔ زحل اور اس کے حلقوں کو دیکھنے کے لیے بہتر وقت وہ ہے جب زمین سورج اور زحل کے درمیان موجود ہو۔

خلائی مشنز۔۔
یکم جولائی 2004 کو کیسینی ہیخز (Cassini–Huygens) نامی خلائی جہاز زحل کے مدار میں داخل ہو کر اس کے گرد گھومنے لگا۔ مدار میں داخل ہونے سے قبل اس خلائی جہاز نے زحل کے نظام کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا۔ جون 2004 میں یہ ٹاٸیٹن کے قریب سے گزرا اور ہمیں اس کے بارے بہترین تصاویر اور مواد بھیجا۔ ٹاٸیٹن زحل کا ایک ذیلی سیارہ یا چاند ہے جسے زحل ششم بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اطراف کثیف فضا موجود ہے۔ اور زمین کے علاوہ ایک واحد دریافت شدہ فلکیاتی جسم ہے جس کی سطح پر مائع کے نشانات پائے گئے۔

ریڈار سے لی گئی تصاویر سے پتہ چلا ہے کہ ٹائیٹن پر بڑی جھیلیں اور ان کے ساحل کے علاوہ جزیرے اور پہاڑ بھی موجود ہیں۔ دو بار ٹائیٹن کے قریب سے گذرنے کے بعد کیسینی نے 25 دسمبر 2004 کو ہیخز نامی ایک چھوٹا سیارہ ٹائیٹن کی طرف روانہ کیا۔ 14 جنوری 2005 کو ہیخنز جہاز ٹائیٹن کی سطح پر پہنچا اور تصاویر کی بہت بڑی مقدار بھیجنے لگا۔ یہ تصاویر ٹائیٹن کی سطح پر اترنے کے عمل اور اترنے کے بعد فضا اور سطح سے متعلق تھیں۔ 2005 میں کیسینی نے ٹائیٹن کے گرد کئی چکر لگائے اور ٹائیٹن اور دیگر برفانی چاندوں کی تصاویر بھیجتا رہا۔ 23 مارچ 2008 کو کیسنی ٹائیٹن سے آگے کو روانہ ہو گیا۔ 2005 سے سائنس دان ٹائیٹن پر آسمانی بجلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس بجلی کی شدت زمینی بجلی سے تقریباً 1000 گنا زیادہ ہے۔ 2006 میں ناسا نے ایک اور امید افضا خبر دی کہ کیسینی نے زحل کے چاند انکلیڈس پر مائع پانی ڈھونڈ لیا ہے۔ یہ پانی آتش فشانی گیزروں سے نکل رہا تھا۔

تصاویر میں برفانی سوراخوں سے مائع پانی نکلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک سائنس دان کے مطابق ہمارے نظام شمسی کے دیگر چاندوں پر مائع پانی کئی کلومیٹر گہری برف کی تہ کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ تاہم انکلیڈس پر یہ پانی سطح سے چند میٹر ہی نیچے ہے۔ مئی 2011 میں ناسا کے سائنس دانوں نے اعلان کیا ہے کہ نظام شمسی میں زمین کے بعد دوسرا سب سے زیادہ رہائش کے قابل چاند انکلیڈس ہے۔ کیسینی خلائی جہاز کی بھیجی ہوئی تصاویر سے بہت سے دیگر حیران کن انکشافات بھی ہوئے ہیں جن میں ایک نئے حلقے کی دریافت بھی شامل ہے۔ جولائی 2006 میں کیسینی کی تصاویر نے ٹائیٹن کے قطب شمالی پر مائع ہائیڈروکاربن کی جھیلیں دریافت ہوئی ہیں۔ ان کی تصدیق جنوری 2007 میں ہوئی تھی۔ م

ارچ 2007 میں ٹائیٹن کی قطب شمالی کے قریب ہائیڈروکاربن کے سمندر دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا بحیرہ کیسپئن کے برابر ہے۔ اکتوبر 2006 میں زحل کے قطب جنوبی پر 8٫000 کلومیٹر قطر کا ہری کین یعنی سمندری طوفان بھی دریافت ہوا ہے۔ 2004 سے 2 نومبر 2009 تک کیسینی نے زحل کے آٹھ نئے چاند دریافت کیے جن کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ زحل کے گرد 74 چکر پورے کرنے کے بعد اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد 2008 میں پورا ہو گیا تھا۔ تاہم بعد میں مشن میں توسیع کرتے ہوئے اسے ستمبر 2010 تک بڑھا دیا گیا۔ مزید توسیع کے بعد یہ مشن 2018 تک بڑھا دیا گیا ہے جس میں زحل کے تمام موسموں کا جائزہ لیا جا سکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *