اللہ گنجے کو ناخن نہ دے

“ڈاکٹر روتھ فاؤ ” مذہب سے عیسائی ،ایک جرمن ڈاکٹر تھیں ،1960 کے عشرے میں طالب علموں کی ایک جماعت کے ساتھ جذام “کوڑھ”کے مرض پر تشخیص کے ليے پاکستان آئیں اور پھر یہیں رہ گئیں ۔جذام کے مریضوں کے لیےاس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کی خدمات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔1988 میں انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی ،ڈاکٹر روتھ کل رات دنیاء فانی سے کوچ کر گئیں ۔۔۔

صبح جہاں اخبارات ان کی خدمات کے صلے میں خراج تحسین پیش کرتے کالموں سے بھرے تھے،وہیں کچھ ایسے کالم بھی نظر سے گزرے جن میں ڈاکٹر صاحبہ کے مذہب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔۔اور ڈاکٹر روتھ فاؤ کے جنت یا جہنم میں جانے کی قیاس آرائیوں سے کاغذ کالے کیے گئے،کوئی شک نہیں کہ انسانیت کے لیے ان کی خدمات لازوال اور ناقابلِ فراموش ہیں ،لیکن کیا ان کے لیے یا کسی بھی اور غیر مسلم یا مسلم کے لیے الله کا حکم یا قرآن و حدیث کو جھٹلایا جا سکتا ہے ؟۔۔ ڈاکٹر روتھ اپنے اعمال کی نسبت جنت کی حقدار ہے یا جہنم کی، اس کا فیصلہ میں نے، آپ نے یا کسی بھی عالم یا مفتی نے نہیں کرنا، یہ الله نے کرنا ہے اور الله ایسے معاملات کو قرآن میں اور ہمارے نبی صلّی ﷺ اپنی احادیث میں بیان فرما چکے ہیں۔

اب جو بھائی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر روتھ نے انسانیت کے لیے ،پاکستان کے لیے جذام کے مریضوں کے لیے اپنی پوری زندگی اپنا ملک اپنی جوانی سب کچھ بھلا دیا اس کو یہ علماء اس کی ان گراں قدر خدمات کے باوجود جہنم میں بھیج کر رہیں گے ۔۔ان کو چاہیے کہ اسلام یا علماء پر تنقید کرنے کی بجا ئے الله کے احکام قرآن کی آيات اور نبی کریم ﷺ کی احادیث پر توجہ دیں ۔ میں خود ڈاکٹر روتھ کی خدمات کا معترف ہوں اور ان کو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار لوگوں کے لیے مشل راہ کہتا ہوں لیکن میرا الله ،میرا نبی ﷺ ،قرآن و حدیث سب مجھ سے اور سب سے زیادہ سچے ہیں ۔ایسے لوگوں کا معاملہ الله پر ہی چھوڑ یں اور جانتے بوجھتے ہوئے انارکی والے معاملات مت پیدا کریں ،اپنے گنجے سر کو اپنے ہی ناخنوں سے مت چھیلیے!

Avatar
Ajaz Bhatti
electronics engineer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *