• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پختون خوا اور تحریک انصاف کی دوبارہ جیت۔۔۔۔عامر کاکازئی

پختون خوا اور تحریک انصاف کی دوبارہ جیت۔۔۔۔عامر کاکازئی

SHOPPING
SHOPPING

پختون خوا کی ریت ہے کہ یہ کسی بھی پارٹی کو دوسری باری نہیں دیتے۔ لیکن اس بار حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف باوجود  اپنی  بُری کارکردگی کے دوسری بار بھی جیت  گئی ۔ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ عمران خان کی پارٹی نے پختون خوا کے لوگوں کا دوسری بار حکومت نہ دینے کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔
اس ناقابل یقین جیت کا اگر ہم سائینٹیفکلی تجزیہ کریں تو کچھ یہ صورت حال بنتی ہے۔ اس جیت کے مندرجہ ذیل وجوہات تھیں۔

۱۔عورتوں کا ووٹ : اس بار جو سب سے اہم فیکٹر عمران خان کی جیت کا رہا وہ عورتوں کا باہر نکل کر ووٹ ڈالنا تھا۔ تقریباً %47 فیصد عورتوں نے ووٹ ڈالے۔ ہمارے پاس ٹیسٹ کیس کے لیے دیر کے علاقہ کے مستند فگرز وجود ہیں۔
ستر کے الیکشن سے ہی دیر کی عورتیں ووٹ نہیں ڈالتی تھی مگر اس بار الیکشن کمیشن نے اس بات کو لازمی قرار دے دیا کہ %10 ووٹ ہر حالت میں کاسٹ ہونگے.
2018 میں پاکستان میں پہلی بار دیر کے علاقے میں عورتوں نے ووٹ ڈالا. NA 5 میں 179,280 عورت ووٹرز میں سے اس بار 67,995 عورتوں نے ووٹ کاسٹ کیا جو کہ %38 ہے.عورتوں نے بہت جوش کے مظاہرہ کیا حتّیٰ کہ پہاڑی علاقوں سے بھی عورتوں نے ا کر ووٹ ڈالے

PK 10 میں 22,594 عورتوں نے ووٹ کاسٹ کیا
PK 11 میں 21,372 عورتوں نے ووٹ کاسٹ کیا
PK 12 میں 23,377 عورتوں نے ووٹ کاسٹ کیا

دیر میں پہلی بار ایک عورت حمیدہ شاہد بھی عمران خان کی پارٹی کی طرف سے کھڑی ہوئیں  اور اس نے 10904 ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی حمیدہ شاہد PK10 سے کھڑی ہوئی  تھی۔

یاد رہے کہ 2013 میں دیر میں مُلا نے عورتوں کو ووٹ دینے نہیں دیا تھا اور %99 عورتوں نے ووٹ نہیں ڈالا تھا. صرف 231 عورتوں نے ووٹ ڈالا تھا

۲۔ دی نیشن کی اپریل 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد  آبادی پچیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ سب تقریباً بیروزگار اور اپنی ماوں کے زیرِ اثر ہیں۔ ان نوجوانوں نے بھی ایک اہم رول ادا کیا تحریک انصاف کو جتوانے میں۔

۳۔ ناراض ووٹرز : ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں پر بھی مشتمل تھی، جو تحریک انصاف سے ان کے نکمے پن کی وجہ سے ناراض تھی۔ پشاور کے انفرا سٹرکچر کو تباہ کرنے کے باوجود ان ووٹرز نے عمران کو ووٹ دیا اور پشاور کی تمام سیٹس تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دیں ۔

۴۔حالیہ کچھ سالوں میں سندھ میں جیسے” بھٹو زندہ ہے” اور سندھ کے باسی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتے ہیں، کچھ ایسی ہی صورت حال   پختون خوا  میں بھی  ہو چکی ہے۔ ادھر بھی اب عمران خان کے نام پر ووٹ ملتا ہے۔ پختون خوا  میں بھی “عمران زندہ ہے” تحریک انصاف کچھ کرے یا نہ کرے، اگلے کافی عرصے تک تحریک انصاف کو ووٹ عمران کے نام پر ملتا رہے گا۔

ان انتخابات میں خواتین ووٹرز نے اپنے گھر کے مردوں سے ببانگِ دُہل بغاوت کی۔ پختون خوا  کی عورتوں نے اپنی مرضی سے اپنا جمہوری حق کا استعمال کیا۔ کافی دور دراز کے علاقوں سے یہ خبر ملی کہ مرد کی قطاریں تو جلد ہی ختم ہو گئیں ، مگر عورتیں وقت ختم ہونے کے بعد بھی موجود تھیں۔ یہ ہے اصل تبدیلی کہ پاکستانی مرد کو اب یہ احساس کرنا ہو گا کہ اب یہ عورت کو اپنے حکم کے تحت گھر میں بند کر کے نہیں رکھ سکتے۔ ان کی راۓ پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ اس الیکشن میں عورتوں نے مذہبی پارٹیوں کو بھی یکسر مسترد کیا۔ ہم کہے سکتے ہیں کہ اس بار عورتوں کے ووٹ نے مذہبی پارٹیوں کو اس الیکشن سے نکال باہر کر دیا۔

مذہبی پارٹیوں کو سوچنا پڑے گا کہ وہ ہر وقت عورتوں کو گھروں کے اندر قید کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو جب عورتوں کی باری آئی  تو انھوں نے مُلا کو بتا دیا کہ ہم آزاد ہیں  اور ملا ازم کو ریجیکٹ کر دیا۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ باوجود نکمہ پن اور کچھ نہ کرنے کے  آخر پختون خوا  کے ووٹرز نے تحریک انصاف کو کیوں جتوایا؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ پختون خوا کے باسیوں نے اپنے صوبے کا سوچنے کے بجاۓ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچا۔ ان کے خیال میں پاکستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف عمران خان کے وزیراعظم بننے میں ہے۔ اس طرح نظریہ پاکستان کے زیر اثر جو لوگ ہر وقت پختون خوا  پرغداری کا الزام لگاتے ہیں اور ان کی پاکستان سے وفاداری پر شک کرتے ہیں، پختون خوا  کے لوگوں نے اپنی جمہوریت پسندی سے یہ حقیقت  آشکار کی کہ ان سے زیادہ پاکستان كا وفادارکوئی  اور نہیں۔

SHOPPING

ریفرینس : شفقت علی کا مضمون، دی نیشن اپریل 2017
خورشید ندیم صاحب کا دنیا اخبار میں ایک کالم!

SHOPPING

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *