• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مجنوں جو مرگیا ہے توجنگل اداس ہے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

مجنوں جو مرگیا ہے توجنگل اداس ہے۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

ایدھی صاحب سے جڑی کچھ ذاتی یادیں
دو اقساط کی پہلی قسط

ایدھی صاحب سے میری ملاقات 1983 کے وسط میں چھاجوں برستی ہوئی بارشوں میں ہوئی۔تب تک بھارتی فلم ”نمک حلال“ ریلیز ہوچکی تھی۔تین موٹی کیسٹوں والا وی سی آر اور پلاسٹک کے کیس میں لپٹی نازک سی آڈیو کیسٹوں پر ہم اس کا وہ جان لیوا گانا بہت شوق سے سنتے اور دیکھتے جس میں امیتابھ بچن اور سمیتا پاٹل ایسی ہی برستی برسات میں لہرا لہرا کر گاتے ہیں کہ ع
آج رپٹ جائیں تو ہمیں نہ اٹھائیو۔

سمیتا پاٹل فلم نمک حلال میں

چند دن بعد خاکسار نے جب بوڑھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سائیں لطف علی خاص خیلی کو کہا ازراہ تفنن کہا کہ ”کہ نصیب کی بات ہے برسات میں امیتابھ کو سمیتاپاٹل جیسے لوگ ملتے ہیں،ہمیں آپ اور ایدھی صاحب نصیب ہوئے“۔انہوں نے قربت شاہ کے حصول میں یہ جملہ ڈی سی صاحب کو سنایا تو وہ کہنے لگے
Oh! I miss her too
ضلع غربی کے سا ئٹ والے دفتر میں ڈپٹی کمشنرصاحب کب سے سر تھامے بیٹھے تھے۔سولجر بازار کی موبائیل بھیج کر مجھے اپنے گارڈن ایسٹ والے گھر سے طلب کیا گیا۔علاقہ ایک پٹواری سے ترقی کرتے کرتے اسسٹنٹ کمشنر اور علاقہ مجسٹریٹ کے عہدے پر پہنچنے والے عبدالغفور میمن کا تھا۔ اے ڈی سی صاحب اپنی مصیبت کم کرنے کے لیے ہر علاقے میں ہماری ڈیوٹی لگادیتے تھے کہ ہم ڈی سی صاحب کو اچھے لگتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ہم میں سکت اور صلاحیت دونوں دوسرے افسران سے نسبتاً زیادہ ہے۔
سول سروس میں نا اہلی، بگاڑ،بے دریغ کرپشن اور سیاسی مداخلت کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہوا، کوٹہ سسٹم اور رشتہ دار بہنوئی سالےLateral Entry (وسطی دخول) کے ذریعے اعلی ملازمت میں گھسیڑ دیے گئے۔اسی دور میں سندھ میں 35ایسے ڈی ایس پی بھی براہ راست بنے جن میں سے ایک یعنی امتیاز احمد بارکزئی کے علاوہ پبلک سروس کمیشن سے امتحان بھی نہ پاس کرسکے۔ضیا الحق نے ان سب کو نوکری سے نکال دیا مگر بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو سب کو واپس لے کر ایسی ترقی دی گئی کہ ایک افسر تو آئی جی بھی بنے۔
سول سروس میں بعد کی بربادی کا  ذمہ جسٹس افتخار چوہدری اور مشرف کا ہے جنہوں نے انتظامی مجسٹریسی کو ختم کیا۔اب عوام کے پاس نفاذ کا کوئی درمیانہ راستہ نہیں۔ فرض کرلیں کہ کہیں ریڈ کرنا ہے۔کہیں قانونی مداخلت یا برآمدگی ہے تو پولیس جس کے خلاف یہ سب معاملہ ہے وہ  آ پ کو عدالت سے مجسٹریٹ صاحب تک پہنچائے گی جو سیشن جج کی اجازت سے عدالت کو چھوڑ کر اس نیم عدالتی خالص انتظامی مسئلے کو نمٹانے جائیں گے۔انہیں نہ علاقے کا پتہ ہے نہ وہ انتظامی موشگافیوں سے واقف ہیں۔وہ کیا خاک مظلوم کی داد رسی کریں گے۔انتظامی مجسٹریٹ ہوتے توجنرل مشرف کے بعد سے ہر قسم کی فرقہ واریت اور فسادات،دہشت گردی کی روک تھام میں بہت مدد مل سکتی تھی۔

ہمارے جیسے معاشرے میں قانونی انصاف سے پہلے ایک انتظامی اورHealing Justice System اسی انتظامی مجسٹریسی کے پاس تھا۔کسی بیوہ کا گھر خالی کراناہے۔کسی بے کس کو قبضہ دلوانا ہے۔تجاوزات کو ہٹانا ہے۔کسی غریب کو نوکری دلوانی ہے۔کسی کی کتابیں کاپیاں،ذہین بچے کا اچھے اسکول میں داخلہ۔کسی بے آسرا عورت کا ٹھکانہ یہ کام ڈی سی بطور مجسٹریٹ کے علاقے سے وابستگی کی بنیاد پر باآسانی کرسکتا تھا۔موجودہ نظام میں عدالتی مجسٹریٹ اور سیشن جج کا علاقے سے واسطہ بذریعہ ایف آئی آر ہے اس سے زیادہ نہیں۔وہ تو اپنے متعلقہ تھانے کی دو گلیوں  کو  بھی ٹھیک سے نہیں جانتا۔اس کا مجرمان سے محدود سامنا ہے علاقے کے مسائل کا اس کو ککھ پتہ نہیں ہوتا منگوپیر مچھر کالونی اور اعظم بستی کے مجسٹریٹ نے تو یہ علاقے دیکھے بھی نہیں ہوں گے۔۔
ایک پولیس افسر کے بھانجے اور ہونے والے داماد نے احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والی ایک مفلوک الحال ملازمہ کی نو برس  کی بچی سے زیادتی کردی۔پولیس نےattempt to rape کا کمزور مقدمہ بنایا کیوں کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 اس وقت ریپ کے معاملے میں بیانیے کی حد تک بھی بہت شرمیلی اور ناگفتہ بہ تھی ۔شہادت اور گواہی کا معاملہ تو اب بھی بہت کمزور ہے۔ملزم کو سسر کی رفاقت اور معاونت سے  اگلے دن سیشن عدالت میں پیش کیا۔پراسیکیوٹر بھی پولیس کا ہی تھا اس نے ضمانت پر کوئی اعتراض نہ کیا۔۔ایڈیشنل جج صاحب بھی بزدل اور کرپٹ تھے۔فوراً رہائی دے دی۔ تین ہٹی پر یہ ایک جلوس کی شکل میں لڑکے کو کھلی کار میں بٹھا کر ہار پہنائے آتے تھے۔ہم تک یہ اطلاع آئی تو دکھ ہوا۔بطور سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس۔ ڈی۔ ایم۔)علاقہ ہمیں لگا کہ عدالتی انصاف بہت غیر معیاری رہا ہے۔ہم نے اس نوجوان کو کار سے اتار کر موقع پر گرفتاری ڈالی۔دفعات نقص امن کی تھیں۔عام ایام اور حالات میں تو ہم ایسے مقدمات میں فون پر ہی ضمانت دے دیتے تھے۔اگلے دن دو چیتے وکیل  فاروق نائیک اور خواجہ حارث کو دھول چٹانے والے آگئے۔تب تک ہم ایس پی صاحب سے اس ماموں پولیس افسر کو اپنی ڈسٹرکٹ سے نکال کر ہیڈ آفس بھجواچکے تھے۔ضمانت منسوخ ہوئی تو تفصیلی فیصلہ اس چیلنج کے ساتھ مانگا کہ ہائی کورٹ سے نہ صرف ضمانت لے کر آئیں گے بلکہ ہمارے خلاف Court Stricture(قانونی تنبیہ) بھی پاس کراکے لائیں گے۔ہم نے کہا ایسا نہ ہوا تو ۔۔۔؟
وہ کہنے لگے پھر ہم دونوں ضلع وسطی میں ایس ڈی ایم صاحبان کی عدالتوں کا مقدمہ نہیں لیں۔ ضمانت ہونے کی صورت میں ہم نے وعدہ کیاکہ ہم اگلے دن سے ایس ڈی ایم کی پوسٹ چھوڑ دیں گے۔ہم نے مختصر سا فیصلہ اجلی شرارتی دھمک والی انگریزی میں لکھا کہ محرم کی دوسری تاریخ کے دن مجلس کے موقع پر اس سنی نوجوان کو ہمراہ ایک جلوس کے امام بارگاہ کے سامنے سے ڈھول پتاشوں کے جھرمٹ میں دیکھا۔ منتخب جمہوری حکومت کا مارشل لا کے سیاہ اندھیر ے دور کے خاتمے کے بعد عوامی سکون کی دھوپ میں پہلا محرم ہے اور ہمارا   علاقہ ماضی میں چھوٹے چھوٹے واقعات کی بنیاد پر فرقہ وارنہ فسادات کی زد میں رہا ہے۔بچی کا تعلق ایک مظلوم طبقے ‘ شعیہ فرقے سے ہے۔چالیس دن تک اس کا جیل سے باہر رہنا باعث نقص امن ہوگا۔اسے اگر کوئی باختیار عدالت رہائی دے گی تو علاقے میں فسادات کا ذمہ انتظامیہ پر عائد نہیں ہوگا۔ایک فون ایڈوکیٹ جنرل کو بھی کردیا جنہوں نے ہمارے نقطہء نظر کی کھل کر حمایت کی۔ عدالت نے چہلم تک اس کو جیل میں رکھنا قرین مصلاحت جانا۔جج بھی بے نظیر صاحبہ کی آنکھ کے تارے تھے ۔وہ کیوں چاہتے کہ اس پارٹی میں خلل پڑے ۔بعد میں ہمارے دفتر میں منتخب نمائندوں کے یہ سب گنہ گار آئے،لڑکی کی والدہ کو کسی اور بستی میں بیس ہزار کا گھر اور بیس ہزار نقد دی گئی۔رہائی راضی نامے کی صورت میں ہوئی۔ملزم کا سسر پولیس افسر  سے کہنے لگا کہ ایس ڈی ایم صاحب پتلون کے علاوہ جو کہو آپ کے قدموں میں ڈال دوں۔برے تو بہت لگتے ہومگر ایمان سے مرد آدمی ہو۔

ہم ایسے ہی انتظامی مجسٹریٹ تھے کہ ملک کی ایک بہت اہم خفیہ ایجنسی کے ساتھ ہم نے ایک ملک دشمن آپریشن کے خاتمے میں حصہ لیا۔اس آپریشن میں ہماری بطور علاقہ مجسٹریٹ کی موجودگی کی وجہ سے کوئی نقص امن نہیں ہوا،۔گولی نہیں چلی اور خاد اور را کے انتہائی مطلوب دہشت گرد ہاتھ لگ گئے۔جانو مکھن میں سے بال نکل گیا۔
موضوع سے دور تو چلے جائیں گے مگر بات کو واضح کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔بہت سارے اناڑی اور نیم خواندہ ناقدین ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ادارے کی تجدید کے مخالف ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ پاکستان جیسے کئی صدیوں میں جینے والے معاشرے کے لیے بہت لازم ہے کہ لیگل انصاف سے بہت پہلے مرہمی انصاف Healing Justice سے کام چلایا جاسکتا ہے جو صرف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا ادارہ دے سکتا ہے جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جسٹس امیر المسلم ہانی کی سربراہی میں جو کمیشن سندھ میں کام کررہا ہے وہ اسسٹنٹ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی مدد سے کام ہی چلا پارہا ہے۔اس ادارے سے جڑا ایک واقعہ جو اس کی افادیت ثابت کرے گا۔
ایک دفعہ یوسف پلازہ کراچی سے خاد کے تین ایجنٹوں کو پکڑنا تھا۔افغان جنگ زوروں پر تھی۔را اور خادکے ایجنٹ کراچی میں بھرگئے تھے۔یوسف پلازہ ہزار سے زائد فلیٹوں کی ایک برباد بستی ہے۔تین عدد کاروں میں خلائی مخلوق والے افسر آئے تھے۔۔یہ سب چھاپہ مارنے کے لیے وہاں جانا چاہتے تھے۔ہماری موجودگی کی بطور علا قہ مجسٹریٹ انہیں ضرورت تھی۔ہم ان کا لیگل کور تھے۔
ہم نے سمجھایا کہ اتنی کاریں تو وہاں بارات میں نہیں آتیں آپ دو افسر ہماری جیپ میں بیٹھیں۔باقی تھانے میں۔ہدایات وائرلیس پر کوڈز میں آئیں گی۔ایک افسر ہمارے پیغامات سننے کے
لیے تھانے میں وائرلیس کے ساتھ رہے۔سیل فون کا زمانہ نہ تھا۔

یوسف پلازہ

تھانے کے ایس ایچ او اور سادہ لباس میں تین مسٹنڈے ساتھ لیے جو علاقے کے چپے چپے سے واقف تھے۔وہاں پہنچے تو مطلوبہ فلیٹ پر تیسری منزل پر اپارٹمنٹ کے باہر تالا تھا ۔ خلائی مخلوق تو لوٹ جانا چاہتی تھی۔ہم نے کہا پڑوسی ماں جایوں سے قریب ہیں۔ان سے پوچھ لیتے ہیں۔تھانے کے مشنٹنڈے نے جنہیں علاقے کے ہر بدکار کا پتہ تھا کہنے لگے کہ ساتھ کے اپارٹمنٹ میں تین عدد ہیجڑے رہتے ہیں۔دروازہ کھٹکھٹانے پر مچلتا ہوا ایک اٖفغانی ہیجڑہ برآمد ہوا۔پیچھے دو اور بھی بناؤ سنگھار میں مصروف دکھائی دیے۔ہمیں وہ چہرے مہرے سے یوسف پلازہ کے ماحول سے کچھ عدم مطابقت رکھنے والے اور غیر موزوں لگے۔ساتھ میں کون ہے تو کہنے لگے ایک مہینے سے کوئی نہیں آیا۔ہم نے ایس ایچ او کو کہا ان تینوں کو موبائیل میں بٹھالیں۔


افسروں کو کہا ایک یہاں اپنی  وردی  سمیت موجود رہے۔مشٹنڈے اسپیشل والے بھی نہ ہلیں۔ خلائی مخلوق کے افسر نے تھانہ جوہر آباد کے راستے میں پوچھا یہ کیا ہے۔ہم نے کہا اس فلیٹ سے جو بند تھا کھانا پکانے کی تازہ خوشبو آرہی تھی۔یہ ایک ماہ سے کسی طور بند نہیں ہوسکتا۔ایک ہیجڑے کی تھانے سے دور لے جاکر ایک ویرانے میں واٹر بورڈنگ کی تو بتانے لگا کہ اس گھر میں عورتیں ہیں اس لیے مرد تالہ لگا کر باہر جاتے ہیں۔تالہ توڑا تو ایک مطلوبہ ایجنٹ ہاتھ آگیا۔تصویر دیکھ لیں نیاز و ناز کا ایسا ہی منظر تھا۔ وہیں فلیٹ میں مشٹنڈوں سے ایسی کٹ لگوائی کہ ناک سے خون آگیا۔

واٹر بورڈنگ، جس میں ملزم کو لگتا ہے اسے پانی میں ڈبویا جارہا ہے

اس  خبیث پاکستان دشمن تخریب کار کو تھانے لائے باقی دو کا پوچھا۔پہلے مارا تو مجال ہے اف سے ارے کی ہو۔ہم نے افسران کے مشورے سے جب اس کی شلوار کے پائنچے رسی سے باندھ کر دوچوہے منگواکر ازار بندھ کھلواکر اندر انڈیلے تو چیخنے لگا۔ہم نے ہنس کر کہا پٹھان ہو کر میمنوں کے سامنے ہشیاری جھاڑتا ہے۔سرجانی میں اس گھر پر لے گیا جہاں وہ بقایا در نایاب بھی آرام فرمارہے تھے یوں تین تخریب کار پکڑے گئے اور ان کے ہیجڑوں کا سلیپر سیل Burst ہوگیا۔ جو دراصل ایکHost Cell تھا۔

پیکر نسوانیت گرفتار تخریب کار

ہمارے بارے میں جب ایجنسی کے بڑوں سے بات ہوئی تو ڈی سی صاحب بتانے لگے کہ ان کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ ہنگاموں میں یہ چھ سات بندوق بردار بندے ڈھیر کرکے نزدیکی آغا خان ہسپتال کی کینٹین میں ایس ڈی ایم اور ڈی۔ایس۔ پی ستار شیخ اچھا کھانا بھی آئس کریم کی  بڑی ڈش سے کھاتے ہیں۔دونوں چین کے وزیر اعظم ژو۔این۔ لائی سے بہت متاثر ہیں۔وہ بھی بندہ پھڑکا کر سگار سلگاتے اور شاعری کرتے تھے۔

ژو۔این۔ لائی

ژواین لائی سے پاکستان کے دو پرانے بیوروکریٹ الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب بھی بہت متاثر تھے۔ان کا تفصیلات پر دھیان کمال کا تھا۔ وزیر اعظم ژو۔ این۔ لائی کی پانچ گھنٹے کی ایک بریفنگ جو امریکی صدر کے نکسن کے دورے سے پہلے ہوئی تھی اس میں ان کے ہاتھ میں کوئی نوٹس کا پرچہ نہ تھا۔انگریزی میں کوئی رکاوٹ نہ تھی اور یہ دھیان بھی تھا کہ کس کی چائے کی پیالی خالی ہے۔کس کی پیالی کا ڈھکن سرکا ہوا ہے اور کس نے کیا سوال کیا تھا۔
ہمیں ایک گرگ باراں دیدہ افسر جو دو مرتبہ ان کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں شریک ہوئے وہ عمران خان کے بارے میں بتارہے تھے کہ ان کی State-Craft کی معلومات بھیانک حد تک غیر متاثر کن ہیں۔ کرکٹ کی طرح انہوں نے بھی حکومت کا کام شعبوں میں بانٹ دیا ہے کہ بالر کون ہے،وکٹ کیپر کون ہے اور بلے باز ی کس کا فرض ہے۔دوران گفتگو جلد بور ہوجاتے ہیں۔وقت کی شدید قلت کا مستقل احساس دلاتے رہتے ہیں۔میٹنگ میں ایکMad-Rush کی کیفیت ہوتی ہے۔
پوری ٹیم بھان متی کا ایک ایسا خوشامدی کنبہ ہے جس کا بائیس سال کا ہوم ورک باہر کے کسی حکمران کے بائیس گھنٹوں جتنا بھی نہیں۔ تفصیلات پر دھیان دینے کے لیے ان کے پاس عزرائیل،میکائیل جبرئیل ہیں جن کا نام اعظم خان،اسد عمر اور سینٹر فیصل جاویدہے جن کو اپنی چھریاں تیز کرنے سے فرصت نہیں۔یہ بیورکریسی گھریلو ملازمین اور جاگیردار گھرانے کی ناآسودہ بہووں کی طرح ہوتی ہے۔ ذرا سماعت ہمدردانہ مل جائے تو آپس میں کرتہ اونچا کرکے پیٹ پکڑ کر گھر کی ساری باتیں چائے کی ایک پیالی اور ٹکیلا کا ایک جام اور شین کے رقص میں آپس میں کھسر پسر (جنہیں اردو سے لونڈی کے برتاؤ والا لطف لینے کے لیے میمن خسر جو پسر کہتے ہیں) سارے راز ایک دوسرے کو بتادیتے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان کا معاملہ ایسا ہے کہ ان کے سب افسر نواز شریف والے،سارے وزیر جنرل پرویز مشرف والے،طرز حکومت کرکٹ والا کہ میچ اور سیریز جائیں بھاڑ میں منصور اختر اوپن کرکے گا اور سلیم جعفر ایک اوور میں انیس رن دے گا ) 1987کا ورلڈ کپ کا لاہور والاسیمی فائنل یاد ہے نا ) اور ان کے سارے وعدے قیامت کے بعد کے ہیں۔

شین جاوید ایک گھریلو مجرے میں
میں نے پہلے بھی تمہیں کہیں دیکھا ہے
اجنبی سے ہو مگر غیر نہیں لگتے ہو
وہم سے بھی جو ہو نازک وہ یقین لگتے ہو

آئیں ایدھی صاحب سے ملاقات کا احوال چھیڑیں۔

ایدھی

یہ تو یاد ہے نہ کہ اس رات بہت برسات ہوئی تھی۔شہر جل تھل ہوگیا تھا۔سرجانی کے قریب کچھ غریب لوگ آن بسے تھے۔ناجائز قبضہ گروپ۔ برسات ہوئی تو سرکاری اسکول میں سو،سوا سو کے قریب خاندان برسات سے بچنے کے لیے پناہ گزین ہوگئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر چاہتے تو سوچ سکتے تھے کہ اسکول محکمہ تعلیم کا ہے،کچی آبادی کا معاملہ میونسپل کارپوریشن یا کراچی ڈیولپ منٹ اتھارٹی کا ہے۔میرے پاس اس طرح کی ایمرجنسی کے لیے کوئی فنڈ نہیں۔وہ کھدبداتے چینلوں والے میڈیا سے لاعلم ، سیل فون سے انجان معاشرہ تھا۔وائرلیس بھی نہ تھے، موت کوئی نہ ہوئی تھی۔مگر ڈی سی اور ایس پی صبح چھ بجے سے پریشان بیٹھے تھے کہ ان کے قیام طعام اور علاج کا کیا کیا جائے۔

برسات میں کراچی

اس کی نسبت وہ بھی دن تھے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عدالتی اختیارات چھین کر عدلیہ نازاں اور فرحان تھی۔سیشن جج اپنے Ivory Tower میں بیٹھ کر قانونی انصاف کرکے گھر چلا جاتا تھا۔ سیشن جج درجہ دوم یا سوم کا کوئی وکیل ہوتا تھا جسے معمولی امتحان یا سفارش پر جج بنادیا جاتا،جب وہ ہائی کورٹ پہنچ جاتا تو پھر اس کا اپنا ایک ٹولہ ہوتا ہے جسے وہ چیف جسٹس بن کر عدالت کے جج بنانے پر لگ جاتا تھا۔
جب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ختم ہوئے تو پاکستان نے وہ دن بھی دیکھا کہ بے نظیر پر قاتلانہ حملے کے سلسلے میں ہونے والے 2007 کے فسادات کی وجہ سے باقاعدہ وائرلیس پر پیغام دیا گیا کہ تھانے کی نفری کو علاقے میں جاکر عوام سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، تھانے کے مین گیٹ بند کرکے نفری کو اندر رکھیں اور حالات کے نارمل ہونے پر نئی ہدایات کا انتظار کریں۔
وائرلیس پر پیغام ملا کہ یہ لوگ اسکول میں پناہ گزین ہیں اور بھوکے ہیں۔

2007
2007 کے فسادی

ضلع میں ایسے ہنگامی فنڈز نہیں ہوتے تھے۔ ڈی سی خود 1972 کی سفید کرولا میں نجی نمبر پلیٹ لگائے گھومتا تھا۔نہ ہری نیلی تفاخر بھری کارکردگی زیر و ظاہر کرنے والی نمبر پلیٹں تھیں نہ گن مین،اب تو ایسا لگتا ہے کہ تین چوتھائی پولیس ایک چوتھائی حاکمین کی حفاظت میں ہلکان ہورہی ہے۔ عوام جائیں بھاڑ میں۔

ٹیوٹا کرولا،1972

ان بے سہارا لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا تھا۔ کچھ رقم لے کر گن پوائنٹ کے خوف سے بے نیاز،مشہور سگریٹ کے۔ ٹو کے مالک مغل ٹوبیکو والے ہاشم سیٹھ آگئے تھے۔ میرا ذمہ میمن ہونے کے ناطے یہ ٹھہرا کہ ایدھی صاحب سے تمام تر رابطہ میرا ہوگا۔ وہ کھارا در سے نکل کر اپنے نو تعمیر شدہ سہراب گوٹھ والے مرکز پر آنے کے لیے نکل گئے تھے۔میں انہیں لے کر دفتر آیا تو انہیں لگا کہ سیٹھ ہاشم کو غریبوں کی امداد سے زیادہ شاہ کی حضوری مطلوب ہے۔

ایدھی ہوم ،سہراب گوٹھ

ایدھی صاحب نے گفتگو مختصر کرکے ڈی سی صاحب کو گزارش کی۔”آپ سیٹھ صاحب کے ساتھ مل کر باقی انتظامات کرو۔میں اور دیوان صاحب کھانے اور ڈاکٹر کو لے کر وہاں جائیں گے۔ تین دن کیمپ میں قیام اور طعام کا ذمہ ہمارا ہوگا۔ بعد میں سیٹھ ہاشم کا ۔
15اپریل 1985 کا دن کراچی پر بہت بھاری تھا۔پاکستان پر نواز شریف کے 33 برس اور کراچی پر اس کے 33 سال ایک عرصہء قیامت بن کر ٹوٹے ہیں۔اس دن کے بعد سے کراچی وہ رہا ہی نہیں۔   اس دن کی رات بھی بہت بھیانک تھی۔صبح سویرے بہاری ڈرائیور راشد حسین کی منی بس نے سرسید کالج کے سامنے اس کی تین طالبات کو کچل دیا تھا۔ہندوستان چونکہ۔گولڈن ٹمپل کے ناکام آپریشن ، اندرا گاندھی کے قتل اور ا س کے نتیجے میں دہلی میں تین ہزار سکھوں کا قتل سبھی میں پاکستان کا ہاتھ دیکھ رہا تھا۔ لہذا اس نے K for K یعنی خالصتان اور کشمیر کا بدلہ کراچی میں کی پالیسی کے تحت کراچی میں پختون مہاجر فسادات کی آگ بھڑکا دی۔
ایک اندو ہ ناک حادثے کو اس نے فسادات پیہم کا روپ دے دیا۔

بشری زیدی یہ ان کی بہن محلے کی ایک لڑکی جنہیں این روٹ کی منی بس نے کچلا تھا
کراچی اس موت کے بعد وہ نہیں رہا
سر سید گرلز کالج
کراچی فسادات کی زد میں

بوڑھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سائیں لطف علی خاص خیلی دفتر کے غسل خانے میں ڈی سی صاحب کے دفتر میں ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر میجر جنرل شیر افضل کی اچانک آمد اور اس کے ساتھ ہی خاص خیلی صاحب کی فوری طلبی پر وہ کچھ ایسے ہڑبڑائے کہ غسل خانے میں گرے تو پہلے سے گوشت سے محروم کولہے کی ہڈی بے قدروں کی یاری کی طرح چٹخ گئی۔ باتھ روم کا دروازہ گھوڑا رے گھوڑا کی چیخوں پر ایس ایس جی کے کمانڈوز نے توڑا۔ شلوار کا ازار بند باندھنے اور انہیں باتھ روم سے لاکر صوفے تک لٹانے کے مرحلہ بھی انہی  آہنی ہاتھوں سے طے ہوا۔
اس نازک مرحلے پر ایک دفعہ پھر فوری جانشین کی طلبی ہوئی تو نخل دار پر بقول میرؔ سر منصور کا ہی بار آیا۔اب کی دفعہ اتنی احتیاط ہوئی کہ خاکسار کے آستانے پر خفیہ ایجنسی کے میجر اعظم اس ہدایات کے ساتھ پہنچے کے دفتر آن کر کرفیو پاس کے انتظامات کی بجائے پہلے سیدھا اورنگی تھانے جاکر ان کا دستہ اور ہم گٹر میں موجود چند لاشوں کی تدفین کا انتظام کرلیں۔۔
میجر اعظم دل چسپ اور روشن خیال آدمی تھے۔ سویلین افسران سے مرعوب دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے تجویز مان لی کہ یہ پیچیدہ سا کام نرا پولیس کی بہو بیٹیوں کے بس کا نہیں ۔ اس میں کئی مراحل ہوں گے ۔ہم اورنگی تھانے سے پہلے سہراب گوٹھ کے ایدھی ہوم پہنچے۔
آمد کی اطلاع ہوئی تو فقیر منش ایدھی صاحب نے نیند سے بیدار ہوکر منہ  پر پانی کا چھینٹا مارا اور چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ ان کا لباس تھا ۔ملیشیا (سرمئی رنگ کا ایک سادہ موٹا کپڑا جسے غریب محنت کش پہنتے تھے) کا چوڑے پائنچوں والا گجراتی پاجامہ اور آڑھا ٹیڑھا سلا ہوا کرتا ۔جس کی سامنے کی جیب کبھی ایک سیدھ میں نہ ہوتی اور سائیڈ کی جیب ہمیشہ سردیوں میں دریا کنارے پڑے مگر مچھ کی مانند منھ کھولے رہتی تھی۔ اس سوٹ کو پہنے وہ سورہے تھے ۔ یہ سوٹ ہمیشہ وہیں ایدھی ہوم کی کوئی پناہ گزین سلائی سے معمولی شد بد رکھنے والی عورت سی لیتی تھی۔اسی لباس عاجزانہ میں وہ چل پڑے۔


علاقے کے گٹر میں اڑسی ہوئی لاشوں تک تھانے کا عملہ لے گیا تھا۔ کسی نے ان مزدوروں کو قتل کرکے وہاں پھینک دیا تھا۔ہم نے آپ کو عرض کیا نا کہ مہاجرین میں را کے کارندے گھس آئے تھے اور 5,پختون آبادیوں میں  افغانستان کی خاد کے کئی سلیپر سیل تھے۔یہ Push and Pull Factor کے حساب سے کام کرتے تھے۔ان کا آپس میں گہرے  تال میل کا -Synchronized -Patternُ ہمارے جیسے جان لاکارے، فریڈرک فورستھ، سڈنی شیل ڈن اور جاسوسی کتب کے شوقین افسر کو جلد سمجھ میں آجاتا تھا۔ان میں تشدد،بے رحمی،چونکا دینے والی پھرتی اور ٹائمنگ اور پھر دونوں طرف ان کی پروردہ پارٹیوں کارد عمل جلد سامنے آجاتا تھا۔پولیس کو کہیں سے واردات کی خفیہ اطلاع ملی تولاشوں کو نکالنے کی بات آگے بڑھی۔ ایدھی صاحب نے بہ نفس نفیس خود ان ہولناک لاشوں کو گٹر سے نکالنے میں مدد کی۔ ہم انہیں لے کر عباسی شہید ہسپتال آگئے۔ایدھی صاحب کو ہماری پرانی مون سون والی ملاقات یاد تھی۔

 

 

 

عباسی شہید ہسپتال
عباسی شہید ہسپتال

سرکاری ملازمتوں اور قومی اسمبلی میں میمن،ہندوؤں سے بھی کم ہیں۔ہم نے جنرل حمید گل کو بہت کہا تھا کہ ہمیں وہ Bureau of Research and Profiling اور ہمیں خلائی مخلوق اور سوئلین ادارے کے درمیان کا ایک برج ادارہ بنانے دیں مگر جنرل صاحب تنہا طارق بن زیاد کی طرح جبرالٹر فتح کرنا چاہتے تھے۔وہ ہم سے متاثر تو ضرور تھے مگر کراچی کی نجی محافل کی حد تک۔
ایدھی صاحب جو خود بھی Iconoclast تھے۔وہ ہماری اس بات پر خوش تھے کہ میں ان ہی کی طرح دو دوّنی چار کے چکر میں باپ کے کاروبار میں نہیں پڑا۔ تب تک انہوں  نے میرے سارے خاندان کے کوائف نکال لیے تھے جن میں میرے کچھ بڑوں کے جو جوناگڑھ کے وزیر بھی تھے۔ ان کے نام انہیں یاد تھے۔
عباسی شہید ہسپتال میں جب لاشوں کو منتقل کیا تو ایس ایچ او عابد نقوی کو الٹی آگئی۔چرغہ اور وہسکی دونوں غارت ہوگئے۔فرش پر جیسے ہی ان لاشوں کو رکھا تو اٹھنے والے تفنن اور کھدبداتے کیڑوں کودیکھ کر ہسپتال کا مردہ خانے اور باتھ روم کی صفائی کا عملہ بھاگ لیا۔

عباسی شہید ہسپتال ،مردہ خانہ

”اس مشکل کو دیکھ کر ایدھی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے لاش کو غسل دینا اور کفن دفن کرنا آتا ہے؟“۔ اس استفسار پر مجھے بڑی خجالت ہوئی۔
میری اس بے بسی کو انہوں نے ایک موقع ء شفقت میں بدل دیا۔ فرمانے لگے ”ہر مسلمان مرد کو نکاح پڑھانا، دولہا بننا، غسل دینا اور میت کو دفن کرنا آنا چاہیے۔“
جانے کیوں مجھے یہ دو اہتمام کچھ بے جوڑ اور بناسنگت لگے۔میں نے کسی لمحے کے توقف کے بغیر پوچھ لیا۔۔”کس کی دولہا کی میت کو؟“ میرے جواب پر انہوں نے جیب میں اڑسا ہوا موٹا سا چشمہ ناک پر ٹکایا۔ غور سے دیکھا اور اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ دیا۔
آپ کو اگر یاد ہو کہ کچھ دیر پہلے ایدھی صاحب لاشوں کی گٹر سے برآمدگی میں کس حد تک چلے گئے تھے تو آپ کو یہ بھی اندازہ ہوجائے گا کہ بیوروکریسی جو اپنی نازک سی ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتی۔اس کا اس بدبو سے کیا حال ہوا ہوگا۔
میرے جملے پر وہ دریا مہربانی پھر سے رواں ہوا اور کہنے لگے ”میمن ہو اس لیے مجاک (مذاق) کرلیتے ہو۔ کھالی (خالی)بیوروکریٹ ہوتے تو ہر وکت (وقت)جیب میں تھگلے(پیوند) لگاتے رہتے۔“
میں گرم پانی ڈالتا رہا اور وہ لاشوں کو دھوتے رہے۔کیڑے جو لاشوں سے باہر نکل نکل کر ہسپتال کے فرش پر رینگ رہے تھے۔ ان کو مارنے کے لیے میرے ہاتھ میں ایک اسپرے کا کین یہ کہہ کر تھما دیا گیا کہ لو اپنا بیوروکریٹس والا  مار دھاڑ کا شوق بھی پورا کرلو۔
میں نے موقع غنیمت جان کر پوچھ لیا کہ ”انہیں سب لوگ ایدھی کیوں کہتے ہیں؟ یہ تو ایک منفی صفت ہے۔ میمنی زبان میں جو سندھی زبان اور گجراتی زبان کی ملی جلی بولی ہے۔میمنی نے گجراتی کو گلے لگانے کی کوشش میں سندھی زبان کے وہ حلق میں سوجھن پیدا کرنے والے کرخت حروف تہجی کھوکراپار اور کیٹی بندر کے اس طرف چھوڑ دیے۔ایدھی ان تینوں زبانوں میں کام چور اور سست کو کہتے ہیں۔
.وہ بتانے لگے کہ اوائل جوانی میں انہیں فلمیں دیکھنے اور صبح دیر تک سونے کا بہت ہڑکا تھا۔ ماں ناراض ہوکرانہیں ایدھی پکارتی تھی۔اب یہی نام ناک کر طرح چہرے پر سج گیا ہے۔ میرا ایک دوست تھا بچپن میں حج کیا تھا اس لیے سب اس کو حاجی کہتے تھے بعد میں اس نے جوئے کی بک چلانا شروع کردی تو سب اسے حاجی جگاری (جواری) پکارنے لگے۔اس کے بچوں سے بھی کوئی پوچھتا کہ تمہارے والد صاحب کون ہیں تو وہ کہتے تھے حاجی جگاری۔
مولانا, انہیں جنرل ضیا الحق کے دور میں پکارا جانے لگا۔ جنرل صاحب کو اپنے اقتدار کے لیے لبادہ تقدیس درکار رہتا تھا اور شرف قبولیت و منزلت بخشنے کے لیے ایسے غیر متنازعہ ناموں کی تلاش رہتی تھی۔ایدھی صاحب انہی  کے زمانے میں مشہور ہوئے۔ ورنہ وہ عبادات سے بہت پرے دین میں  مسلک فقیری و خدمت کے قائل تھے۔ وہ ہیئت(Form) سے زیادہ روح دین یعنی Substance کے قائل تھے۔ اشفاق احمد کے ڈیرے والے بابے کی طرح ایدھی صاحب بھی بہت پہلے سے جانتے تھے کہ نماز کی ْقضا ہے خدمت کی کوئی قضا نہیں۔
لاشوں کو غسل دینے کے دوران ایک ان کی موبائل جب عباسی شہید کسی زخمی کو لے کر آئی تو انہوں نے کفن اور مارکر لانے کو کہا۔ وہ یہ سامان دے کر چلا گیا اور ہم نے کفن دفن کرلیا تو ہر لاش کے کفن پر تاریخ اور ایک نمبر اور علاقہ لکھ دیا گیا۔اس دوران انہیں یاد آیا کہ وہ پولو رائیڈ کیمرہ تو منگوانا بھول گئے۔میں نے پوچھا وہ کیوں تو کہنے لگے کہ دفن ہونے کے بعد کسی کا رشتہ دار آئے تو تصویر دیکھ کر وہ پہچان سکے کہ اس کا عزیز کس قبر میں دفن ہے۔ یہ تھی وہ کامن سینس جو ان کے جذبہء خدمت کو مہمیز و  ممتاز کرتی تھی۔ میں نے کہا کہ فون کرلیتے ہیں  سہراب گوٹھ وہاں سے کوئی لے آئے گا۔ کہنے لگے نہیں چلو تم کو پیالہ ہوٹل کی چائے بھی پلاتے ہیں۔فلم والا کیمرہ آپ چلانا۔پولا رائیڈ میرے کو آتا ہے۔

پیالہ ہوٹل،نارتھ ناظم آباد

چلنے لگے تو میجر صاحب کو انہوں نے ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا۔ اس لیے کہ تب تک دو عدد اور فوجی جیپیں اعانت کے لیے آگئی تھیں۔
وہاں موجود ان کی ذات سے بے خبر فوجی افسران اس فقیر عالی مقام کو دیکھ کر حیرت و تحسین کے ایک بحر بے یقینی میں ڈبکیاں لگا رہے تھے کہنے لگے میجر اعاجم(اعظم) آپ ادھر بندوق لے کر بیٹھو۔ پھل(فل) کمانڈ کے ساتھ۔کراچی میں لاسیں (لاشیں) بھی غائب ہوجاتی ہیں۔
پیالہ ہوٹل کی چائے کا اثر تھا کہ جانے کیا سہراب گوٹھ تک ایدھی صاحب طلعت محمود کا اپنا پسندیدہ گیت گنگنا رہے تھے جس سے میرے بھی کان آشنا تھے کہ
یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی تری اک ادا پر نثار ہے۔
مجھے کیوں نہ ہو تیری آرجو(آرزو) تیری جستجو میں بہار ہے

صبح سے کچھ دیر پہلے ہم نے میجر جنرل شیر افضل کو باور کرانے میں کامیابی حاصل کرلی کہ اس ایدھی سیٹ اپ کے لیے ایک Dedicated Frequency والے وائرلیس نیٹ ورک کی ضرورت ہے تاکہ سینٹرز اور ایمبولینسوں میں رابطہ رہے۔تب تک ایدھی سینٹر کے پاس وائر لیس سیٹ موجود نہیں ہوتے تھے۔

SHOPPING

جاری ہے ۔۔۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *