مائی لارڈ

SHOPPING

پانامہ کیس جیسا سنگِ میل،جسے بلاشبہ مایاناز وکیل جناب نعیم بخاری نے سپریم کورٹ میں بحسن وِ خوبی عبور کیا اور وزیرِ اعظم نوازشریف نا اہل قرار پائے، 2007 میں آپ نے عدالتِ عظمی میں جب بد انتظامی محسوس کی تو تنِ تنہا اس کے خلاف آواز اٹھائی اور مشہورِ زمانہ “کھلا خط بنام قاضی القضا”، ارسال کیا۔آپ کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک انداز ہے کہ بندہ اس انگریزی خط کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے، گر قبول افتد زہے عز وشرف!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
در جنابِ مستطاب،
قاضی القضاء،
عزت ماب عالی جناب افتخار محمد چوہدری،
عدالتِ عظمیٰ پاکستان،
اسلام آباد،
پاکستان۔

سرکار والا تبار!

میں آپ کی بارگاہ میں یہ خط بطورِ مسئول عدالت عظمیٰ اور 1984 سے وکیل ِ آں جائے پناہ اور بطورِ وکیل عدالتِ عالیہ از 1972، لکھ رہا ہوں۔پیشہ ورانہ وکالت کے دوران بندہ، جو پرجوش طریقے سے معزز عدالت کی جانب سے بلا تعطل انصاف کی فراہمی اور عدالتِ عظمیٰ کے وقار کو ہمیشہ سربلند دیکھنےکا خواب دیکھتا رہا ہے، اپنے معاصر وکلا ،ساتھیوں اوراکابرین مرفوع الی العدالت برائے منصبِ قضاوت، سے زیادہ ٹیکس محصول ادا کرتا رہا ہے۔

متعدد جج صاحبان جنہوں نے منصبِ قضاوت کواپنے وجودِ پر نور سے مزین کیا، عشروں پر محیط عرصے سے مجھے ایک ایسے شخص کے طور پر جانتے ہیں جسے قدرت نے ناکامیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کی صلاحیت سے مستفیض کیا ہے اور عدالت کے باب میں میرا رویہ ہمیشہ منکسر اور محترم رہا ہے۔ عدالت کے احترام میں میرا جھکنا، امر کے وجوب سے نہیں بلکہ رقتِ قلب کی وجہ سے ہے اور فاضل جج صاحبان کو”مائی لارڈ(عالی جناب)” کہہ کر مخاطب ،بوجہ ضرورت نہیں،بطور دلی خواہش کرتا ہوں۔ میں عدالت کو ایسے ادارے کے طور پر دیکھتا ہوں جو وقار، معدلت اور ترحم سے مملو ہے۔

اس منصبِ قضاوتِ قاضی القضا(چیف جسٹس) پر 1980/1970 کے عشرے کے دوران میں نے عالی جنابان، جسٹس حمود الرحمان، جسٹس محمد یعقوب علی، جسٹس انوار الحق اورجسٹس محمد علیم کے زیرِ نگیں عدالت کا انتظام و انصرام دیکھا۔چیف جسٹس جناب سجاد علی شاہ کو بے دخل کیے جانے کی کارروائی میں ہم بھی وہیں موجود تھے،اور کارروائی کے دوران اندازہ ہوگیا تھا کہ اس دور کے وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف نے کچھ جج صاحبان کے ساتھ کچھ گٹھ جوڑ کی ہے اور سپریم کورٹ پر حملے کا عینی شاہد بھی رہا۔

میں چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں عدالت کی حالت زار ،اور چیف جسٹس شیخ ریاض احمد کے خلاف اشتعال انگیزی پر متحیر و ششدر رہا۔میں اس موقع پر بھی بہت خوفزدہ ہوا جب چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی جانب سے 5 ججز پر مشتمل بنچ ، ججز کی عمرِ عزیز برائے سبکدوشئ ملازمت میں کمی کے آئینی جواز پرتشکیل دیا گیا۔ان کا یہ اقدام محض عالی جناب کے تقرر برائے عدالتِ عظمی کو روکنے کے لیے تھا ، بندہ جناب امیر الملک کو جناب سے پیشتر چیف جسٹس بنانے پر نالاں تھا۔اور اپنے حلقۂ اثر سے(جو در حقیقت واقعتاً محدود ہے)، بندہ دل سے جناب کو اس منصب ِ جلیلہ پر متمکن دیکھنا چاہتا تھا، جسٹس جاوید بٹر کو میری اس حالت کا علم ہے، اور اٹارنی جنرل صاحب بھی بخوبی اس امر سے واقف ہیں۔ آپ کے بطور چیف جسٹس تقرر میں جو تعجیل ہوئی ،اس سے جسٹس صدیقی کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔

میں آپ کو بھرپور قوت و تحکم کے ساتھ سپریم کورٹ کے وقار کو بلند رکھنے والا، اور ساتھی معزز جج صاحبان کے ساتھ جذبۂ یگانگت کے تحت کام کرنے والا سمجھتا تھا تا کہ عرصۂ قدیم سے مفقود، شکوہ و توقیرِ عدالتِ عظمیٰ بحال ہو مگر افسوس! ایسا تا ہنوز نا ہوسکا۔
بندہ آپ کے پروٹوکول کو قائم کرنے کے مطالبے(جو کہ میری نگاہ میں ایسا ہےکہ آپ عوام کی نگاہ میں زیادہ محترم ہو جائیں گے اگر آپ اپنی اقامت گاہ سےعدالتِ عظمیٰ تک سبک خرامی سے تشریف لائیے۔ ہوٹر، پولیس اسکورٹ، اور سرکاری جھنڈے والی گاڑی فقط ظواہر ہیں،آپ کا جوہر نہیں)، سے ہر گز پریشان نہیں ہے،

آپ کے پشاور میں گارڈ آف آنر دیے جانے کی خواہش پر کچھ مسرور ہوں، اور آپ کو مرسڈیز بنز بطور سرکاری سواری ملنے،حکومتِ پنجاب کا سرکاری جہاز بہرِ فاتحہ خوانی در ملتان استعمال کرنے، اور اسی لیے ہیلی کاپٹرپرشیخوپورہ جانے، یا سندھ حکومت کے جہاز پر حیدر آباد، ہائی کورٹ فنکشن پر جانےاور چیف جسٹس کے چیمبر اور اقامت گاہ کی تزئین و آرائش کروانے،اپنے لئے سپریم کورٹ ججز کے لاہور میں موجودگیسٹ ہاؤس میں گوشہ مختص کرنے ،سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سندھ کی اقامت گاہ پرمستقل قابض ہونے،جو در ایں اثنا اپنے پدر بزگوار کے ساتھ سرداب(بیسمنٹ) میں رہنے پر مجبور ہیں، پر خنداں ہوں۔اور بطور ان کے ہم جماعت میں سمجھتا ہوں کہ سرداب میں رہنے سے کون سا کوئی قیامت آجائی گی۔

میں تو اس امر پر بھی چنداں مضطرب نہیں ہوں کہ آنجناب کے فرزندِ ارجمندڈاکٹر ارسلان نے سول سروسز کے امتحانات میں انگریزی میں فقط 100/16 نمبر حاصل کیے، اور ان کے خلاف بلوچستان کی کسی کورٹ میں مقدمہ زیرِ التوا ہے، مزید یہ کہ شعبۂ صحت بلوچستان سے موصوف نے اپنا تبادلہ ایف آئی اے میں کرالیا ہے، اور یہ کہ انہوں نے پولیس اکیڈمی سے تربیت حاصل کی ہے، اور شنید ہے کہ جناب بی ایم ڈبلیو 7 سیریز کار میں فراٹے بھرتے ہیں، اور یہ کہ ان کے خلاف نیب میں شکایت موجود ہے۔

عالی جناب، میرے شکوے شکایتیں ذرا مختلف النوع ہیں، میں اس بات پر پریشان ہوں کہ سپریم کورٹ ان کی جانب سے توضیحی بیان جاری کرے۔میں اس امر پربے چین ہوں کہ جسٹس وجیہ الدین احمد ایسی نستعلیق شخصیت کو آپ کےبارے میں یہ کہنا پڑ جائے کہ”شیشے کے گھر میں رہنے والوں کودوسروں پر سنگ باری نہیں کرنی چاہیے”۔ میں اسی بات پر تو بے قرار ہوں کہ جب میر شکیل الرحمان کو چیف جسٹس ،ڈاکٹر ارسلان کے معاملے میں طلب کرے۔

میں دہشت زدہ ہوں اس بات سے کہ آپ کورٹ میں مقدموں کازبانی اعلانِ فیصلہ کچھ کرتے جبکہ تحریری فیصلہ بر عکس ہوتا ہے۔ وفاقی وزیربرائے امورِپارلیمانی ڈاکٹر شیر افگن نیازی کی پٹیشن برائے اپیل(جس میں مدعا علیہ کی جانب سےجناب خالد انور اورجناب قادر سعید بطور وکلا پیش ہوئے)،آپ نے بھری عدالت میں زبانی طور سے رد کردی حالانکہ تحریری حکم نامےمیں ڈاکٹر نیازی کو2007/2/15 کو اجازت مرحمت ہوئی، جناب فخرالدین جی ابراہیم اس امر پر شاکی نظر آئے کہ کھلی کچہری میں آپ نے ان کی اپیل و استدعا قبول فرمائی مگر اسے تحریراًرد کردیا ۔

اگرسابق وزیر برائے آئین و قانون و پارلیمانی امور جناب خالد انور، اور بزرگ وکیل جناب فخر الدین جی ابراہیم کے ساتھ اس طور سلوک کیا جائے گا تو وہ وکلا جو مشاہیر میں سے نہیں ہیں،ان کا تو حشر خراب ہی ہوگا۔
مجھے اس ڈھنگ کا بھی قلق ہے عالی جناب!کہ جس سے آپ کی سربراہی میں انصاف کی یہ آخری امید یہ عدالت، امور نمٹا رہی ہے۔آپ کی جانب سے وکلا کی مسلسل اہانت جاری ہے۔ ہم سے سختی،درشتی،سرد مہری ،اکھڑ پن اور بد طینتی سے پیش آیا جاتا ہے۔ہمیں حقِ سماعت سے محروم رکھا جاتا ہے،ہمیں مقدمہ پیش کرنے کا اذن نہیں دیا جاتا۔اور اب کہ تجدیدِ وکالت کا امکان بہت کم ہے۔

بار روم ،”کورٹ نمبر 1″ کو قصاب خانے کے نام سے پکارتا ہے، اور آپ کی زیرِ قیادت بنچ، ہمیں جارحیت سے دھمکاتا ہے۔آپ کی جانب سے ہمیں فقط استکبار،جارحیت اورمخاصمت ملتی ہے۔آپ تحقیر کرتے ہوئے،”یہ ڈمسمسڈ ہے”،یوں کہہ کرفائل اچھال دیتے ہیں۔ ہاں مگر ایسی درشتی سب کے لیے کہاں، جب جناب شریف الدین پیرزادہ حاضر ہوتے ہیں تو آپ کا انداز فقط شیر و شکر ہی نہیں ہوتا بلکہ اس میں انکساری کی حد تک چاپلوسی بھی شامل ہوجاتی ہے۔تو پھر ہماری بے توقیری کے ساتھ ساتھ، جس کو آئینِ پاکستان کے تحت باقی رکھنا ناگزیر ہے، آپ اپنی کورٹ میں ہم سے امتیازی سلوک بھی روا رکھتے ہیں۔

میں عدالت میں مطلوب، ان بد قسمت پولیس والوں اور سول سرونٹس پر زبانی حملوں اور دھمکیوں کا معاملہ تو بالکل اٹھا ہی نہیں رہا ہوں، جنھیں تحقیر آمیز انداز میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ”یہ سپریم کورٹ ہے”۔ جو طریقہ عالی جناب نے مقدمات کی سماعت کا اپنایا ہے وہ انصاف کی فراہمی سےمطابقت نہیں رکھتا، بطریق وحسبِ قانون نہیں ہے بلکہ یہ تو اہانتِ عدالت ہے۔ میں اس بات سےتکلیف زدہ ہوں کہ عالی جناب جن مقدمات کی سماعت کو بنیادی حقوق کے ضمن میں سپریم کورٹ میں سماعت کرتے ہیں وہ باآسانی ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کی جانب بھیجے جاسکتے ہیں۔

میں میڈیا کی جانب سے ایک خاتون کی بازیابی کے موقع پر کی گئی کوریج پر بھی نالاں ہوں۔ بار روم میں اس حرکت کو”میڈیا سرکس”کہا جاتا ہے۔ حضورِ فیض گنجور!اس طریقے سے آپ سے رابطہ کرنا آپ کو برہم کر سکتا ہے اورحضور لمحہ البصر میں سریع الاشتعال ہو سکتے ہیں، مگر جناب ان گزارشات پر غور فرمائیے۔ باید و شاید سرکار کو اس امر کا ادراک نہیں ہے ججز صاحبان جناب کے بارے میں کیا سوچتے اور کہتے ہیں۔

سرکار، اس سے پہلے کہ آپ کے ساتھی معزز جج صاحبان بغاوت پر آمادہ ہوجائیں(جو کہ جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا)، قبل اس کے کہ بار، اس مدعے کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور تمام معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب چلاجائے، اپنے رویے سے رجوع فرمایا جاسکتا ہے۔
میں پر امید ہوں کہ جناب میں وہ دانائی وجرات موجود ہے جو سپریم کورٹ میں استحکام وطمانیت ،ترحم و ہمدردی، اور حق و صبر بحال کر سکے۔
عالی جناب ! ہم گردشِ لیل و نہار میں زیست گزارتے ہیں اور اپنے حال اور ماضی سے پہچانے جاتے ہیں، جنابِ والا! آپ کے بارے میں حالیہ رائے ،انتہائی مخالف ہے۔

SHOPPING

عرض کنندہ،
نعیم بخاری،
وکیل و ایڈوکیٹ،
عدالت ِ عظمیٰ(سپریم کورٹ ) پاکستان۔

SHOPPING

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *