خان اور میاں کا فرق اور ہماری حالت زار

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کو بھی وہی ادارے وہی سیکیورٹی فراہم کریں جو عمران خان کو دھرنے میں کی گئی- حالت، جس کا میں خود عینی نشاہد ہوں ، جناح ایونیو پر ، فیصل ایونیو فلائی اوور سے لیکر کلثوم انٹرنیشنل ہاسپیٹل تک صبح “نو بڈی اِن نو بڈی آؤٹ” والی تھی – جگہ جگہ پولیس کھڑی تھی، راستے روکے ہوئے تھے، دفاتر آنے جانے والوں کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا جاتا – بہت سی جگہوں پہ خاردار تار لگائی گئی، ایک جگہ سے تار ہٹی ہوئی تھی اور ایک صاحب وہاں سے گھسے تو پولیس اہلکار نے انتہائی بدتمیزی سے انہیں نہ صرف واپس کیا بلکہ کہا کہ تم نے تار ہٹائی ہے کیوں نہ تمہارے اوپر پتہ نہیں کونسی دفعہ کہہ رہا تھا کے تحت پرچہ دیاجائے- ان کا مزید فرمانا تھا کہ کل رات سے اعلانات ہورہے ہیں پھر بھی عوام مان نہیں رہی جہاں دل کررہا ہے ٹریفک گھسارہی ہے-
یہ دو سے تین کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہوگا، اندازہ کیجئے پنجاب ہاؤس سے بذریعہ گرینڈ ٹرنک روڈ لاہور تک کے دوسو اٹھانوے کلومیٹر مسافت کا-عمران کے ڈی چوک دھرنا میں پورا جناح ایونیو سیکیورٹی فری زون بنتا ہوتا تھا، آپ جہاں سے چاہتے ڈی چوک کا رخ کرسکتے تھے-سوال یہ ہے کہ میاں صاحب قانونی طور پہ کسی سیاسی جماعت کے راہنما تک نہیں رہے پھر بھی اتنا سیکیورٹی پروٹوکول؟ ہم پھر بھی مان لیتے ہیں کہ عوام میں جانا، ریلی کرنا، لانگ مارچ نکالنا ان کا بنیادی سیاسی حق ہے اور عدالتی فیصلہ ان سے ان کا یہ حق نہیں چھینتا اور وہ عوام میں اپنا مقدمہ بذریعہ جلسے جلوس رکھنا چاہتے ہیں تو جناب کونسی عوام میں رکھنا چاہتے ہیں؟ اسلام آباد جیسے شہر میں ان راستوں کی جہاں سے انہوں نے گزرنا ہے وہاں تو آپ نےعوام کی نقل و حمل کی ایسے ناکہ بندی کردی ہے جیسے ہر دوسرا شخص خودکش جیکٹ پہنے پھرتا ہو اور خاکم بدہن نشانہ میاں صاحب کی ذات والا تبار ہو!!
میٹرو بس نام کی ایک چیز عوامی سہولت کے لئے حکومت پنجاب راولپنڈی صدر سے اسلام آباد سیکریٹرٹ تک چلاتی ہے، یہ عوامی سہولت کی سروس پنجاب حکومت نے آج حقیقی معنوں میں عوام کے حوالے کردی ہے تاکہ عوام عدالت سے نااہل اپنے محبوب قائد کیساتھ ، موٹر بائیکس پر نواز لیگ، جس کے اب قانونی طورپہ میاں صاحب کچھ بھی نہیں لگتے، کے جھنڈے لگا کر اظہار محبت کرسکیں-مجھے یقین ہے کہ آج کے دن سے پہلے تک میٹروبس کا ایسا بہترین “قانونی” اور “عوامی سہولت” کا استعمال عمل میں نہ آسکا ہوگا- یہ اپنی نوعیت کی تاریخی اور منفرد ریلی ہوگی، ریلی نواز لیگ نکال رہی ہے، ریلی کی قیادت ایک ایسا شخص کرے گا جو نواز لیگ کا کچھ بھی نہیں لگتا، سہولیات پنجاب حکومت فراہم کررہی ہے-
دو ہزار آٹھ (2008) میں میاں صاحب رانا ثناءاللہ کے تایا زاد بھائی کو بطور چیف جسٹس بحال کرانے کے لئے فیروزپورروڈ لاہور پہ نمودار ہوئے اور کلمہ چوک کی جانب پیش قدمی کی جسے کنٹینرز اور گورنر سلمان تاثیر کی پولیس نے آہنی دیوار بنایا ہواتها-اس وقت میرے ایمپلائر کا دفترفیروزپورروڈ پہ ہی تها-آج آٹھ سال بعد میاں صاحب جناح ایونیوسے گزرے، میرا دفتر جناح ایونیوکی ہی ایک ہائی رائزبلڈنگ میں ہے -عمران کا 2014کادهرنا ڈی چوک میں تها،اور دهرنے کو اور اس خوفناک رات کو قریب سے دیکها جب عمران نے پی ایم ہائوس پہ دهاوا بولنے کے لیے پیشقدمی کی اور پنجاب پولیس کی آنسوگیس کو تحریک انصاف کے ورکروں نے جهیلا-
میرا مشاہدہ ہے کہ وہ جوش اور جذبہ اور تعداد جو پی ٹی آئی کے ورکر اپنی قیادت کو دان کرتے ہیں نوازلیگ اس کےصرف خواب دیکھ سکتی ہے-انجم عقیل خان کے نام کے پوسٹر اچانک جناح ایونیو پہ لگ جانا اس بات کی علامت ہے کہ آج بهی نون لیگ کے جلسوں دهرنوں ریلیوں میں اپنے حلقوں سے روایتی انداز میں اپنے زیر اثر ان لوگوں کو لایا جاتا ہے جن لوگوں کی ایم این اے نے تهانے تحصیل میں جائز ناجائز مدد کی ہوتی ہے-
سب سے زیادہ ترس مجهے اس افلاس زدہ شخص کی حالت زار پہ آیا جو شاپر میں بهری پهول کی پتیاں میاں صاحب کی گاڑی پہ پهینک رہا تها- صاحبو! میں پوری دیانتداری سے کہہ سکتا ہوں یہ وہ جوش و جذبہ سے بهرا ورکر نہیں ہے جس کی قربت و سپورٹ تحریک انصاف انجوائے کرتی ہے-ایک انتہائی کسمپرسی کی حالت کے شکار سفیدریش نحیف ونزار باباجی کو دیکھ کر میرادل دکھ سے بهرگیا،باباجی نے پهولوں کی تهیلی اور ایک پانی والی ادھ بهری بوتل اٹهائی ہوئی تهی،خستہ حال لباس تها اور قیامت خیز گرمی اور بهیڑ میں سے رستہ بناتے ہوئے میاں صاحب کی گاڑی کی طرف پهول برسانے کے لئے کوشاں تهے-
ایسی حالت کے کسی بهی شخص کو کسی بهی پارٹی کے جلسہ میں دیکهوں تو ماتم ہی کروں- کیونکہ یہ سیاست دان کرتے ہی کیا ہیں اس مفلوک الحال کلاس کے لئے-مجهے ایسا ہر منظر افسردہ کردیتا ہے- میں تو دل پشوری کرنےکے لئے ریلی میں شریک ہوا تها-آزردگی اور افسوس کی بهاری سل سینے پہ رکھ لایا ہوں- کاش ہمیں سمجھ آجائے بلٹ پروف یخ بستہ گاڑی کا سوار ہمارا لیڈر ہماری تلخیوں اور گرمیِ حیات میں کوئی خاص تبدیلی نہ لایا ہے اور نہ لانے کا امکان ہے- آئیے اپنی بہترین صلاحیتوں کے زورِ بازو سے تبدیلی کی بنیاد رکھیں-

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *