واقعہ کربلا تاریخ کے آئینے میں۔۔۔۔راؤ شاہد

حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امام حسن ؑ شہید کر دیے گئے تھے۔ یزید خلیفہ کے مسند پر براجمان ہو چکا تھا۔ اور اس کے لیے سب سے بڑاخطرہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ اور دین اسلام پر ڈٹ جانے والے حضرت اما م حسین ؑ تھے۔ جنہوں نے اپنے ناناکے دین حق پر مر مٹنے اور اسے بچانے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یزید سمجھ رہا تھا کہ والد اور بھائی کی شہادت کے بعدحضرت امام حسینؓ کمزور ہو چکے ہیں۔ اس نے سوچا کہ اپنی طاقت کو مزید بڑھانے اور حکومت کو مکمل طور پر اپنے اختیار میں لینے کے لیے آپؓ کو سرنگوں یا راستے سے ہٹانا فائدہ مند ہو گا۔ لیکن اسے شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ سردارِ جنت کے لیے دنیاوی خلافت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بعض روایات کے مطابق یزید حضرت اما م حسینؑ سے جو کہ قبیلہ قریش سے تھے اپنے اجداد کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے آپ کے قتل کا منصوبہ تیار کر کے ایسے حالات پیدا کیے کہ آپؓ کربلا تشریف لے آئیں جہاں آپ کو شہیدکر دیاجائے۔ اور پھر وہی ہوا کوفہ والوں کے سینکڑوں خطوط حضرت امام حسینؓ کومو صول ہوئے جن میں یزید اور اس کے آلہ کاروں کے مظالم بیان کیے جاتے تھے۔ اور دین اسلام کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا جاتا تھا۔ ایک اطلاع آپکو یہ بھی ملی کہ شراب نوشی عام ہو چکی ہے حتی کہ ایک امام مسجد کو لوگوں نے پکڑا جو کہ شراب کے نشے میں دھت تھا۔ اپنے والد امیرالمومینین حضرت علیؓ کی جائے شہادت پر جانے اور اپنے لوگوں کی رہنمائی کے لیے آپ نے مدینہ سے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 28 رجب سن 60ہجری کو آپ اپنے 72ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے براستہ مکہ حضرت اما م حسینؓ اپنے 18اہلِ بیت اور 50اصحاب کیساتھ کربلا پہنچے

۔8ذی الحج کو آپکو کوفہ والوں کی عہد شکنی کا اندازہ اس وقت ہو چکا تھا جب آپ نے اپنے چچا ززاد بھائی مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر سنی۔ لیکن آپ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ شاید آپ اپنے نانا حضرت محمد مصطفیﷺ کی اس پیش گوئی کا انتظار کر رہے تھے جس کا ذکر حضرت محمد مصطفیﷺ نے اپنی زوجہ ام المومنین حضرت ام سلمیٰ سے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپﷺ نے ام سلمیٰ کو مٹی دی تھی اور کہا تھا کہ یہ کربلا کی مٹی ہے جب یہ سرخ ہو جائے تو سمجھ لینا میرا جگر گوشہ اور میرے گھر کا پھول حسین ابن علی شہید کر دیا گیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق جن کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں ان کا مفہوم ہے کہ آپ کو حسین سے اتنا پیار تھا کہ کب آپﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیمؑ کی ولادت ہوئی انہی دنوں حضرت اما م حسنؑ کی بھی ولادت ہوئی۔ حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے انہوں نے فرمایا کہ اللہ آپ کے دونوں بیٹوں یعنی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اما م حسنؑ میں سے ایک کی قربانی چاہتا ہے۔ اور فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے۔ اہل عقل یہاں یہی سمجھیں گے کہ فیصلہ بہت مشکل ہو گا۔ لیکن اہل عشق سمجھتے ہیں کہ نبی نے کیا فیصلہ کیا اور کیوں کیا۔ جن کی ماں کے لیے آپ نے اپنی کملی بچھائی ہو۔ جن کے لیے آپﷺ نے سجدہ لمبا کر دیا ہو۔ اور جن کو دورانِ خطبہ آپﷺ نے گود میں لے کر کہا کہ پہچان لو یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔تو جب قربانی کی باری آئی ہو گی تو آپﷺ نے کس کو قربان کیا ہو گا۔ جی ہاں آپﷺ نے اپنے لخت جگر بیٹے حضرت ابراہیمؑ کی قربانی پیش کی۔ یہ تھا محبت اور عشق کا عالم اپنے نواسوں کے ساتھ ہمارے نبیﷺ کا۔حضرت امام حسینؓ اپنے اہلِ بیت کے ہمراہ 2محرم الحرام سن 61ہجری کو کربلا پہنچے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب آپکی سواری کربلا کے ریگستان میں پہنچی تو آپکے گھوڑے پر ایک عجیب سی بے چینی طاری تھی جیسے وہ یہاں سے آپکو لیکر دور بھاگ جانا چاہتا ہو۔آپؓ نے پوچھا یہ کونسا مقام ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ سر زمین کربلا ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ قافلے کویہاں روک دیا جائے ہم یہیں قیام کریں گے۔ اصحاب نے آپکے حکم کی تعمیل کی اور کربلا کے بنجر ریگستان میں خیمے لگا دیے گئے۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ آپؓ نے آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ میرے نانا کے دین کی حفاظت فرما اور اسے زندہ و آباد رکھ ۔آپ کو اطلاع مل چکی تھی کہ آپ کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل جن کو آپؓ نے اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تھا تا کہ وہاں حالات معلوم کر کے آپؓ کو خبر کریں انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ کوفے کے لوگ جو آپؓ کو بار بار خطوط بھیج رہے تھے وہ گورنر کوفہ ابن زیاد کے خوف یا لالچ سے حضرت مسلم بن عقیل کو تنہا چھوڑ چکے تھے۔ اور وہ کوفے کی گلیوں سے بالکل نا واقف تھے۔ ابن زیاد کے ایک سپہ سالار نے انکو امان کا وعدہ دے کر گرفتار کیا اور بعد میں انہیں کوفہ کے محل کی چھت سے دھکا دے کر شہید کر دیا گیا۔ اپنے چچا زاد کی شہادت کا صدمہ اور کوفے والوں کی بے وفائی کا افسوس آپ کو آگے بڑھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اور مقصد اتنا بڑا تھا کہ آپؓ پیچھے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
حضرت امام حسینؓ کو کوفہ سے سینکڑوں خطوط موصول ہوئے انکے جواب میں آپ نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ جو خط بھیجا اس کے الفاظ کچھ یوں تھے فرمایا
میں اپنے خاندان کے سب سے با اعتماد چچا زاد بھائی کو آپکی طرف بھیج رہا ہوں تا کہ وہ مجھے آپ لوگوں کے حالات سے آگاہ کرے اگر اس نے مجھے یہ خبر دی کہ آپ لوگ وہی ہو جنہوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں تو میں آپکے یہاںآؤ ں گا۔ امام صرف وہ ہے جو کتابِ خدا پر عمل پیرا ہو۔ عدالت قائم کرے ۔دین حق پر یقین رکھتا ہو اور اپنے آپکو خداکے لیے وقف کرے۔
لیکن افسوس سفیر حضرت امام حسینؓ حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا۔ خیمے لگ چکے تھے اور ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ سب سے آگے پہلا خیمہ حضرت عباسؓ کا تھا۔حضرت عباسؓ کا نام سنتے ہی جو الفاظ ذہن میں آتے ہیں وہ ہیں وفا۔ سچائی۔بہادری اور حق پر ڈٹ جانا۔ یہ ایسے شہید ہیں جو غازی کہلاتے ہیں
حضر ت عباس علمدار کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ کی فوج کے علمدار تھے۔ یزیدی فوج 3محرم الحرام کو امام کی فوج کے راستے میں پڑاؤ ڈال چکی تھی۔ حالات کشیدگی کی کیطرف جا رہے تھے۔ حضرت حبیب ابن مظاہرؓ جو سن 61ہجری میں تقریباََ 75 سال کی عمر کے ضعیف صحابی تھے۔ اور حضر ت علیؓ اور آلِ علی پر جان چھڑکتے تھے۔حضرت امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کی کہ میں آپکی رکاب میں دشمن سے مقابلہ کرنا چاہتا ہوں مجھے جنگ لڑنے کی اجازت دی جائے۔ حضرت امام حسینؓ نے حضرت حبیب ابن مظاہرؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا آپ محبت اور جانثاری قابلِ قدر ہے لیکن آپ ضعیف آدمی ہیں۔یہ سننا تھا کہ حضرت حبیب ابن مظاہرؓ نے ایک کپڑا اپنی کمر کے گرد کس کر باندھا جس میں کمال مہارت سے تلوار لٹکائی اور دوسرے کپڑے کو اپنے سر کے گرد اس انداز میں باندھا کہ سفید بھنوں نظرنہ آئیں۔ اور کہا کہ دیکھیں میں کہاں سے ضعیف ہوں۔ یزیدی فوج کی طرف سے ایک قاصد حضرت امام حسینؓ کی خدمت میں حاضر ہوا پیغام تھا کہ یا تو یزید کی بیعت کر لیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔

حضرت امام حسینؓ نے اپنے اصحاب اور اہلِ بیت کو اکٹھا کیا آپ نے فرمایا کہ میں آپ سب لوگوں سے اپنی بیعت اٹھاتا ہوں آپ آزاد ہیں جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔ سب نے کہا ہم آپ پر جان نثار کریں گے اپنے خون کے آخری قطرے تک دینِ حق کے لیے لڑیں گے۔یزید کی بیعت کا مطلب تھا کہ اس کے تمام اقدامات کی توثیق جس کا دین اسلام متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا آپ کے پاس دو راستے تھے یا واپس چلے جائیں یا حق پر رہتے ہوئے جنگ لڑیں۔ معلوم ہوا کہ واپسی کا راستہ یزیدی فوج بند کر چکی ہے۔اب صرف جنگ تھی یا یزیدکے ہاتھ پر بیعت۔ حضرت حبیب ابن مظاہرؓ جو قبیلہ بنی اسد سے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے قبیلے کے لوگوں کو جنگ کے لیے اکٹھا کرنے کی اجازت طلب کی اور روانہ ہو گئے لیکن یزیدی فوج پہلے ہی دریا کے پل پر قبضہ کر چکی تھی۔حضرت حبیب ابن مظاہرؓ کو اکیلے ہی واپس لوٹنا پڑا۔ اب جناب حضرت حبیب ابن مظاہرؓ کی ڈیوٹی تھی کہ جو شخص بھی حضرت امام حسینؓ سے ملاقات کے لیے تشریف لاتا آپ اسکے کوائف چیک کرتے اور ملاقات کرواتے۔ آج تقریباََ 1400سال بعد اگر حضرت حبیب ابن مظاہرؓ اور حضرت امام حسینؓ کے روضہ مبارک کو دیکھا جائے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ آج تک ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ سامنے والے دروازے سے روضہ مبارک کی طرف آئیں یا سائیڈ والے دروازوں سے آپ کو حضرت حبیب ابن مظاہرؓ کی قبر مبارک سے ہی حضرت امام حسینؓ کی قبر تک جا سکتے ہیں۔اب اس کو محض اتفاق کہیں یا نقشہ ،اہلِ عشق کے ہاں اس کو نصیب اور کامیابی سمجھا جاتا ہے۔جن کے قدموں کی خاک ہونا بھی کامیابی کی دلیل ہے اگر کسی کو انکے گھر کا دربان بننے کا موقع میسر آجائے تو کیا نصیب ہو گا اسکا یہ وہی خوش قسمت ہی سمجھ سکتا ہے۔ جس کے دل میں آل نبی کا عشق ہو۔ روضہ مبارک ہر حاضری دینے سے پہلے اور بعد دونوں مرتبہ حضرت حبیب ابن مظاہرؓ کی قبر مبارک سے گزر کر جانا پڑتا ہے جیسے وہ ہر آنے والے کا نام نوٹ کر رہے ہوں۔
2محرم الحرام کو جب حضرت امام حسینؓ کربلا کے ریگستان میں آئے اور خیمے لگائے تو آپ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی جیسے اللہ تعالیٰ آپکو آنے والے دنوں کے حالات دکھا رہا ہو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ امام نے تمام لوگوں کو جمع کر کے فرمایا تھا کہ آپ لوگ آزاد ہیں۔حضرت امام حسینؓ نے کربلانامی زمین کا یہ ٹکڑا قبیلہ بنی اسد سے 60ہزار دینار میں خریدا تھااور شرط رکھی گئی کہ آپ لوگ ہماری شہادت کے بعد ہمیں یہاں دفن کریں گے اور ہماری زیارت کے لیے جو لوگ کربلا آئیں گے آپ انہیں پانی پلائیں گے اور مہمان نوازی کریں گے۔آج بھی اگر عراق لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو کربلا کا 4×4مربع میل کا علاقہ حسین ابن علی کے نام رجسٹرڈ ہے۔ اور بنی اسد شرط کے مطابق آج تک کربلا میں آنے والے زائرین کی خدمت کرتے ہیں ۔زائرین کو پانی پلایا جاتا ہے۔کھانا کھلایا جاتا ہے اور اپنے گھروں کے دروازے زائرینِ کربلاکے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ادھر یزیدی فوج حضرت امام حسینؓ کے راستے میں حائل تھی اور دوسری طرف گورنر کوفہ آپؓ کو قتل کرنے کے لیے رائے عام ہموار کر رہا تھا۔ تاکہ لوگوں کو آپؓ کے خلاف کر کے اپنا مقصد حاصل کر لے۔

ابنِ زیاد قاضی کوفہ سے حضرت امام حسینؓ کو باغی کہلوا کر قتل کا فتویٰ لے چکا تھا اور اس نے مزید فوج کربلاروانہ کر دی تھی تاکہ یزید کی خوشنودی حاصل کر سکے۔روایات کے مطابق حضرت امام حسینؓ کے 72افراد کے مقابلے ابن زیاد نے 4محرم سن 61ہجری کو مزید 30ہزار فوج کا لشکر کوفہ سے کربلا روانہ کیا۔حضرت امام حسینؓ کے ساتھ یزیدی فوج کے مذاکرات بھی جاری تھے۔ 2 محرم الحرام کو یزیدی فوج کے جس پہلے دستے نے حضرت امام حسینؓ کا راستہ روکا اس دستے کے سربراہ حر الریاحی ان کی ڈیوٹی یہ لگائی گئی تھی کہ آپ کو آگے بڑھنے اور کوفہ داخل ہونے سے روکا جائے۔ تبھی آپ نے کربلا میں قیام کا فیصلہ کیا۔ چند دنوں میں ہی حر نے جناب حر تک کا سفر طے کر لیا۔ حر چند ملاقاتوں میں ہی حضرت امام حسینؓ کو جان چکے تھے اور انکی کوشش تھی کہ یزیدی فوج اور حضرت امام حسینؓ کے بیچ میں مصالحت ہو جائے۔ حر کے دستے نے ایک طرف تو حضرت امام حسینؓ کا راستہ روکے رکھا تھا دوسری طرف وہ روزانہ نماز حضرت امام حسینؓ کے پیچھے پڑھتے تھے۔ 7 محرم الحرام کو یزیدی فوج نے طاقت کے نشے میں دھت ہو کر حضرت امام حسینؓ کو پیغام بھیجا کہ آپؓ اپنے خیمے پانی کے قریب سے اٹھا لیں اور راستے میں یزیدی فوج کو بٹھا دیا گیا۔امام نے پانی بند کرنے کا یہ ظلم شاید اس لیے برداشت کر لیا کہ کہیں بعد میں لوگ یہ نہ کہیں کہ حضرت امام حسینؓ اور یزیدی فوج میں اصل تنازعہ پانی کا تھا جس پر لڑائی ہوئی۔ آپ نے ظلم برداشت کیا اور اپنے اصحاب کے ساتھ خیموں کو پانی سے دور لے گئے۔ تپتے صحرا میں سب لوگ پانی کی پیاس سے تڑپنے لگے۔لوگوں نے پانی کا تقاضا کیا لیکن یزیدی فوج نے امام پر پانی بند کر دیا
بچوں سے زیادہ دین اسلام کی فکر تھی کہ یہ کن ظالموں کے ہاتھ اقتدار آ گیا ہے۔یہ لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ خطرناک اور گمراہ تھے۔امام کسی صورت یزید کے ہاتھ بیت کرنے کو تیار نہ تھے۔امام نے فرمایا کہ ہمارا راستہ چھوڑدو ۔ہم کوفہ یا کہیں اور چلے جاتے ہیں۔۔لیکن یزیدی فوج کسی بدقسمت جانور کی طرح طاقت کے نشے میں چور تھی ۔اس کے سربراہ نے کہا کہ دو ہی صورتیں ہیں آپؓ یا تو یزید کی بیت کر لیں یا جنگ لے لئے تیار ہو جائیں۔۔9محرم الحرام کی شمر یزید کے ساتھ کربلا کے میدان میں داخل ہوا۔بعض روایات کے مطابق 9محرم الحرام کو یزید کی فوج میں 60ہزار جنگجو تھے جو حضرت امام حسینؑ کی فوج کے 72جانثاروں سے جنگ کرنے کربلا میں آئے تھے۔۔شمر نے آتے ہی اپنی عیاری اور مکاری کا استعمال کرنا چاہا اور اس نے حضرت عباس ؑ اور ان کے بھائیوں کے نام امان نامہ بھجوایا کہ آپ لوگ اس لڑائی سے الگ ہو جائیں تو آپ کو امان ہے۔شمر نے کہا کہ آپ کی والدہ میرے قبیلے سے اور اس رشتے سے میں آپ کا ماموں لگتا ہوں۔۔لہذا آپ کو آپ کے بھائیوں سمیت امان دیتا ہوں آپ جہاں چاہیں چلے جائیں۔۔حضرت عباسؑ جن کا نام ہی وفا کا پیکر ہے وہ کہاں ایسی باتوں میں آ کر اپنے بھائی کو چھوڑنے والے تھے۔۔آپ کی ماں کا ذکر آیا تو حضرت عباس ؑ نے شمر کو کہا ۔او ۔ملعوں اپنی ناپاک زبان سے میری ماں کا نام نہ لے۔اسی کی تربیت اور حکم سے آج میں یہاں موجود ہوں ۔حضرت عباسؑ کی والدہ کا نام حضرت امُ البنین تھا ۔حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد جب حضرت علیؓ کا رشتہ حضرت امُ البنین کیلئے گیا تو ان کے والد نے ان سے مرضی معلوم کرنا چاہی تو انہوں نے فرمایا بابا میں تو رات سے ہی سیدہ فاطمہُ ازاہرہ کو ہاں کر چکی ہوں۔۔وہ کل رات میرے خواب میں آئیں اور مجھے کہا کی میرے بچوں کی ماں بن جاؤ۔میرے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ میں جنت کے سرداروں کی ماں کہلاؤں۔حضرت علیؓ اور حضرت امُ البنین نے نکاح کے بعد اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ہمیں ایسی اولاد نصیب فرما جو اس گھر کی حفاظت کرے اور دین اسلام کی ترویج کرے ۔حضرت امُ البنین کے بدن سے حضرت علیؓکے چار بیٹے پیدا ہوئے۔عثمان بن علی ۔جعفر بن علی۔عبداللہ بن علی اور عباس بن علی۔حضرت عباس چونکہ بڑے بیٹے تھے اس لئے ان کا ذکر زیادہ ملتا ہے اور آپ عملدار بھی تھی۔آپ نے شمر کی امان کو ٹھکرا دیا۔حضرت عباس اپنے باقی تمام بھائیوں کے ساتھ حضرت امام حسینؑ پرمر


مٹنے کو تیار تھے ۔بعض روایات میں حضرت عباسؑ کو زہرا کی دعا بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ حضرت فاطمہ الزہریٰ کی وہ دعا ہیں جو اپنوں نے اپنے بیٹوں حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کے لئے کی کہ میرے بیٹوں کو باوفا ساتھی نصیب ہوں۔آپ کی شکل و صورت میں اپنے والد حضرت علی ابن ابو طالبؓ کی طرح تھی ۔شخصیت ایسی کامل کہ جب گلی سے گزرے تو لوگ دور تک آپ کو دیکھتے رہتے اور جب تلوار ہاتھ میں لے کر گھوڑے پر سوار ہوتے تو علی کی بیت آپ سے جھلکنے لگتی۔آپ کی والدہ حضرت امُ البنین کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کبھی بھی گھر میں کمروں یا صحن کے درمیان میں نہیں چلتی تھی کہ کہیں آپ کا پاؤں حضرت فاطمہ ؑ کے رکھے ہوئے پاؤں کی جگہ نہ آ جائے آپ ہمیشہ دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں اور یہی عقیدت اپنوں نے اپنے بچوں میں بھی منتقل کی تھی۔۔حضرت عباس ؑ نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنے بھائیوں حضرت امام حسینؑ اور حضرت امام حسن ؑ کے لئے وقف رکھا۔۔اگر لوگ حضرت علیؓ کے گھر کو دیکھیں تو حضرت عباس ؑ کا کمرہ گھر کے عقبی طرف ہے یعنی جیسا کہ اس کمرے کا مکین گھر کی حفاطت پر مامور ہو گا اور کربلا کے خیموں کی تربیت دیکھیں تو سب سے آگے حضرت عباسؑ کا خیمہ ہے یعنی حضرت امام حسینؑ اور اہل بیت تک کوئی اس وقت تک نہیں جا سکتا جن تک حضرت عباسؑ اس کو اجازت نہ دے دیں ۔یہی وہ تربیت اور عشق تھا جو آپ کو اپنی ماں حضرت امُ البنین سے ورثے میں ملا تھا۔۔
9محرم الحرام کی رات حضرت امام حسین ؑ کو یقین ہو چکا تھا کہ یزیدی فوج آپ کا خون بہانے کے در پر تھے۔آپ نے اپنے تمام اصحاب اور اہل بیت کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ آپ میں سے جو جانا چاہے جا سکتا ہے۔دشمن اپنے لئے جہنم خریدنا چاہتا ہے ۔میری خواہش ہے کہ میرے نانا کے امتی جہنم سے بچ جائیں لیکن وہ ہمارے خون کے پیاسے ہیں ۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت امام حسینؑ نے روشنی اس لئے مدہم کی کہ شاید روشنی کی وجہ سے کوئی جانے کی ہمت نہ جتا پائے ان کی آسانی کے لئے آپؓ نے ایسا کیا ہو گا۔کچھ دیر بعد آپ نے اپنے باوفا بھائی اور ساتھی کو کہا کہ عباس روشنی بڑھا دو یعنی حضرت امام حسین کو یقین تھا یہ میرا بھائی مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔پھر حضرت امام حسین فرداً آآفرداً تمام خیموں میں گئے تمام اصحاب کے ساتھ الگ الگ وقت گزارا۔سب سے زیادہ وقت اپنی بہن کے خیمے میں گزارا۔آپؓ نے فرمایا میرے بعد نانا کے دین کی حفاظت کرنا ۔سجاد یعنی حضرت امام زین العابدین کا خیال رکھنا ۔حضرت سجاد حضرت امام حسین ؑ کے بیٹے تھے اور میدانِ کربلا میں کسی ایسی بیماری کا شکار تھی کہ بستر سے نہیں اُٹھ سکتے تھے اس لئے وہ جنگ میں حصہ بھی نہیں لے سکے شاید اللہ نے حضرت امام حسینؑ کی نسل کو آگے بڑھانے کے لئے مصلحتً ایسا کیا ہو۔حضرت امام حسین ؑ نے حضرت بی بی زینبؓ سے فرمایا کہ اپنی عبادت خاص کر نماز تہجد میں مجھے یاد رکھنا۔اپنی بہن سے آپ کو بہت محبت تھی۔ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بہن حضرت زینبؓ سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔اگر کربلا میں بی بی زینبؓ اور حضرت امام حسین ؑ کے خیموں کو دیکھیں تو دونوں کی پشت ملی ہوئی ہے،اس سے صاف لگتا ہے کہ دونوں بہن بھائی دیر تک رازو نیاز کی باتیں کرتے ہوں گے۔تمام اصحاب ،اہل بیت اور اپنی ازواج حضرت لیلیٰ اور اُم رباب سے ملاقات کے بعد آپؓ اپنے مقتل کی طرف گئے اور نشاندہی کی کہ یہاں مجھے شہید کیا جائے۔آپ کے اصحاب اور اہل بیت جان چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سب کچھ دکھا چکا ہے پھر بھی ان کو موت کا خوف نہیں تھا اور وہ دنیا کی اس معمولی تکلیف کو اپنی آخرت کے بدلے منافع کا سودہ سمجھ رہے تھے۔

10محرم الحرام کا سورج طلوع ہوا۔تمام اصحاب اور اہل بیت نے رات جاگ کر گزاری تھی ۔سب لوگ پیاس سے نڈھال تھے۔7محرم کی شام کو حضرت امام حسینؑ کے حکم سے حضرت عباس اپنے چند افراد کے ساتھ یزیدی فوج کو دھکیلتے ہوئے فرات سے پانی کا مشکیزہ بھر لائے تھے۔لیکن آج 10محرم کو فوج کئی گناہ بڑھ چکی تھی۔شمر ملعون راستے میں حائل تھا پیاسے بچوں کی ڈوبتی چیخیں اور سسکیاں ماحول کو پر آشوب بنا رہی تھیں۔حضرت امام حسینؑ کی 4سالہ بیٹی حضرت بی بی سکینہؑ پیاس سے نڈھال تھیں انہوں نے اپنے چچا حضرت عباس سے پانی کا تقاضا کیا۔حالات اور نسبت کا اندازہ کریں کہ کونسی ہستی کس ہستی سے کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے ۔یعنی شہزادی سکینہ اپنے چچا عباس سے پانی کا سوال کر رہی ہیں۔وہ چچا جس کو آسمان سے تارے لانے کا کہا جائے تو ستارے خود اس کے قدموں میں آنے کو سعادت سمجھیں ۔اس سے مانگا بھی گیا ہے تو کیا پانی۔۔ادھر جب حر نے دیکھا کی ماحول کسی بھی طرح جنگ سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بیٹے اور 2ساتھیوں سمیت حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی کہ میں اپنے گناہوں کا کفارہ اس طرح ہی کر سکتا ہوں کہ میں آپ کی طرف سے یزیدی فوج سے جنگ کروں اور لڑتے لڑتے میں ، میرا بیٹا اور میرے ساتھی آپ پر اپنی جان قربان کر دیں۔حر نے کہا کہ میرے بیٹے کو اجازت دیں کہ آپؓ کی طرف سے سب سے پہلے میدان میں جائے حضرت امام حسینؑ پہلے اپنے اہل بیت اور خود میدان میں جانا چاہتے تھے۔۔اصحاب کے اسرار پر آپ نے اُن کو اجازت دی اور اس طرح آپؓ میدان کربلا میں آپکو حضرت حرؑ کا بیٹا پہلے شہید کے طور پر نصیب ہوا۔اس کے بعد حر میدان میں گئے کمال بہادری سے دشمن جوچند لمحے پہلا انکا دوست تھا ۔اس کا مقابلہ کیا ۔یزیدی فوج کے کئی سپاہیوں کو جہنم واصل کیا اور خود بھی جام شہادت نوش کیا۔اس طرح حر چند دنوں میں ہی حر سے جناب حر ہو گئے۔آپ کی قبر مبارک پر آج بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری دیتے ہیں اور آپ کی قسمت پر رشک کرتے ہیں کہ کس طرح خدا آپ پر مہربان ہوا اور ان 60ہزار جنگجوں میں سے اللہ نے آپ کا انتخاب کیا اور آپ کا دل بدل گیا۔روایات میں آتا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسینؑ نے فرمایا کہ میرے زائرین جو میری شہادت کے بعد میری قبر پر آئیں وہ حر کی زیارت ضرور کریں۔اسی لئے آج بھی حضرت حر کے روزے پر ایک پُر سکون سی ٹھنڈی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ادھر حضرت عباسؑ بی بی سکینہ ؑ اور حضرت علی اصغرؑ کے لئے پانی لینے نکلے آپ کے ایک ہاتھ میں علم تھا اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔آپ نے مشکیزہ اپنی پشت پر لٹکایا اورحضرت امام حسینؑ کی اجازت سے پانی لینے روانہ ہو گئے۔یزیدی دشمن گھاٹ لگائے بیٹھے تھے ۔علی ذارے کی ہیبت اتنی تھی کہ کوئی سامنے آنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔یزیدی فوج کو پیچھے دھکیلتے اور روندتے ہوئے حضرت عباسؑ پانی تک پہنچ گئے آپ نے مشکیزہ پانی سے بھرا اور گھوڑے پر اپنے سامنے رکھ لیا۔حضرت عباسؑ تیزی سے خیموں کی طرف گھوڑا دوڑا رہے تھے کہ کسی تیر انداز نے ایک تیر مشکیزہ پر مارا پانی ضائع ہو نے لگا۔آپ نے اپنے مولا کا علم نیچے نہیں کیا اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آپ نے تلوار والا ہاتھ مشکیزے کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے استعمال کیا اور پرچم بلند رکھا ۔تلوار ہاتھ میں نہ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک یزیدی سپاہی نے جو درخت کی اوڑھ میں چھپا ہوا تھا تلوار سے ایک زور دار وار کیا اور جس ہاتھ میں علم تھا وہ بازو شہید کر دیا۔حضرت عباسؑ نے درد کی شدت کے باوجود علم دوسرے ہاتھ میں تھام لیا۔چند تیر اور مشکیزے پر لگے پانی تیزی کے ساتھ ضائع ہونے لگا اس اثنا میں آپ کا دوسرے بازو بھی شہید کر دیا گیا۔علی ذادے کو بے دردی سے زخمی کر دیا گیا تھا اور آپ کے دونوں بازو شہید ہو چکے تھے لیکن آپ حیات تھے شاید اسی نسبت سے آپ کو غازی کا لقب دیا جاتا ہے۔ایک بدبخت نے پیچھے سے آپ کے سر مبارک پر برچھی کی ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے۔حضرت علیؓ کا جگر گوشہ حضرت امام حسینؑ کا فخر کس مظلومیت سے شہید کر دیا گیا آج بھی اگر آپ کے جائے شہادت اور بازو شہید ہونے کے مقامات کو دیکھا جائے تو پہلے اور دوسرے بازو کے شہید ہونے کے مقام میں بہت فاصلہ ہے اور جائے شہادت دوسرے بازو کی جائے شہادت سے کافی دور ہے یعنی آپ نے حضرت بی بی سکینہؑ کو پانی پہنچانے کی آخری سانس تک کوشش کی۔جہاں آپ کا دوسرا بازو شہید ہوا اور پھر اس سے آگے آپ کی شہادت ہوئی دونوں مقامات حضرت امام حسینؑ سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھے
یعنی حضرت امام حسینؑ نے اپنے بھائی کی شہادت کا منظر دیکھا ہو گا۔ایک طرف 6ماہ کا علی اصغر اور 4سالہ سکینہ بلک رہی تھی اور بیبیوں کی سسکیاں تھیں اور دوسری طرف آپ کے اصحاب اور بھائی شہید ہو رہے ہوں گے اور حضرت امام حسینؑ اپنی آنکھوں سے یہ سب قیامت خیر منظر دیکھ رہے تھے۔۔ایک ایک کر کے تمام جانثارآپ پر جانیں قربان کر رہے تھے لیکن ایک بات تھی کہ آپ کا ایک سپاہی بیسیوں یزیدیوں کو جہنم واصل کر کے جام شہادت نوش کرتا تھا۔یہی پریشانی تھی جس کی وجہ سے یزیدی فوج اب ایک ایک کی جنگ سے مکمل جنگ کی طرف آنا چاہتی تھی۔ایک ایک کی اسی جنگ میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا آپ کے ایک صحابی حضرت ابو ثمامہ صہدامی آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ۔عرض کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی امامت میں آخری نماز باجماعت ادا کریں آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے ثمامہ روز محشر اللہ تجھے نمازیوں میں اُٹھائے۔اذان ہوئی اور پھر حضرت امام حسینؑ کی امامت میں نماز ظہر شروع ہوئی۔یزیدی فوج نے نماز کے دوران آپ پر تیر برسائے اور تمام اصحاب کو دوران نماز میں ہی شہید کر دیا ۔چند افراد جو اہل بیت سے بچ گئے تھے وہ نماز کے بعد شہید کر دیئے گئے۔حضرت امام حسینؑ اپنے اصحاب اور اہل بیت کے لاشے اکھٹے کر تے رہے۔آپ نے اپنے لختِ جگر حضرت علی اکبر کا لاشا اُٹھایا ۔اپنے بھتیجے حضرت قاسم کا لاشا اُٹھایا اور با آواز بلند فرمایا کہ حسین غریب ہو گیا۔آپ کو کربلا میں موجود بیبیوں کی فکر تھی تبھی آپ نے تمام خیمے اس طرح لگوائے تھی کہ خواتین کے خیمے درمیان میں رہیں ۔عصر کی نماز کا وقت قریب تھا آپ خیمے میں تشریف لے گئے ۔حضرت علی اصغر پیاس سے بلبلا رہے تھے۔آپ نے ان کوگود میں لیا اور باہر آگئے۔عرب کی روایات کے مطابق آپ نے باآواز بلند اپنا تعارف کروایا۔اہل بیت اور اصحاب شہید ہو چکے تھے۔اس وقت بھی آپ کو فکر تھی کہ آپ کے نانا کی اُمت جہنم سے بچ جائے اور آپ کا خون بہا کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔آپ نے فرمایاکہ میں حسین ابن علی ہوں اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نواسا اور فاطمہ کا بیٹا ہوں کیوں مجھے قتل کر کے جہنم خریدتے ہو۔۔؟؟۔۔دیکھو یہ 6ماہ کا بچہ میرا بیٹا علی اصغر پیاس سے تڑپ رہا ہے۔ظلم اور گناہ کا راستہ ترک کر دو ۔آپؓ نے حضرت علی اصغر کو اپنے بازو میں لے کر ہوا میں بلند کیا تبھی ایک دو منہ والا تیر حضرت علی اصغر کے حلق میں لگا اور سوکھا گلا خون سے تر ہو گیا۔راوی لکھتا ہے کہ حر ملہ نامی تیر انداز نے حضرت علی اصغر پر تیر چلایا اور وہ تیر سائز میں بہت بڑا اور دو منہ والا تیر تھا۔عموماً اُس طرح کے تیر جنگوں میں گھوڑوں یا جنگلوں میں جانوروں کو مارنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔حرملہ کو ماہر تیر انداز تھا وہ کہتا تھا کہ جب شمر نے مجھے حضرت علی اصغر کے حلق پر تیر مارنے کا حکم دیا تو وہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا جب میرا ہاتھ لڑکھڑایا اور مجھے دو مرتبہ ایسا لگا کہ کوئی غیبی طاقت میرا ہاتھ دوسری طر ف کو موڑ دیتی ہے۔لیکن تیسری مرتبہ میں کامیاب ہو گیا اور تیر سیدھا حضرت علی اصغر کے حلق پر لگا اور ان کو ایک کان سے دوسرے کان تک ذبح کر دیا ۔حضرت امام حسین ؑ جناب علی اصغرکے چھوٹے سے لاشے کو لے کر خیموں کی طرف واپس آئے۔آپ کے بازو اور کرتا حضرت علی اصغر کے خون سے سرخ تھا۔نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا ۔آپ نے ریت سے تیمم کیا اور اپنی شہادت کے لئے اسی جگہ کا انتخاب کیا جو قدرے نیچی تھی۔ویسے توآپ شب آشور کو ہی اپنی مقتل گاہ کا انتخاب کر چکے تھی۔ان دھول اُڑنے اور اپنے ہاتھوں میں 6ماہ کے جگر گوشے کی شہادت کے بعد شاید مقتل گاہ کو ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا تھا۔خیمے چونکہ تھوڑی سی اونچی جگہ پر تھے اور ان کے ساتھ ایک ٹیلہ تھا جہاں حضرت زینبؓ موجود تھیں اور وہ کربلا کا سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں۔حضرت امام حسینؑ اپنے آپ کو اپنی بہن سے چھپانا چاہتے تھے دونوں بہن بھائیوں میں اتنی محبت تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی بہن اپنے بھائی کو قتل ہوتے دیکھے۔چنانچہ ریت سے وضو کرنے کے بعد حضرت امام حسینؑ نے ٹیلہ سے قدرے نیچے نماز کی نیت باندھی تھی ۔تبھی حضرت زینبؓ پریشانی کے عالم میں اوپر ہو کر بھائی کو دیکھتیں۔روایات میں آتا ہے کہ کبھی زمین اوپر ہوتی تو کبھی یعنی حضرت زینبؓ کے حکم سے ٹیلہ اونچا ہو جاتا اور وہ بھائی کو دیکھتیں اور حضرت امام حسینؑ کے حکم سے زمین نیچے ہو جاتی تا کہ زینبؓ نہ دیکھ سکیں۔آج بھی مقتل گا اور ٹیکہ زینبیاکو دیکھیں تو وہ اسی طرح موجود ہیں مقتل گاہ سے کھڑے ہو کر ٹیلہ زینبیا کی طرف دیکھیں تو وہ اونچا ہے اور ٹیلے سے کھڑے ہو کر حضرت امام حسینؑ کی مقتل گاہ کی طرف دیکھیں تو وہ کافی نیچے ہے۔
عموماً ریگستانوں میں زمین ہموار ہوتی ہے اتنا اونچی ٹیلہ نہیں ہوتا۔امام نے نماز عصر کی نیت باندھی۔ یزیدی فوج کے بزدل سپاہی جو قریب ہی منڈلا رہے تھے اور حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔حضرت امام حسینؑ کے نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے آپ پر حملہ کرنے کی جرات جُتا پائے اور چاروں طرف سے آپ پر تیروں کی برسات کر دی۔نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے حضرت امام حسینؑ کو تیروں کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں تھا۔یزیدی بدبختوں کو شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ علی زادہ ہے اور حضرت علیؓ بھی جب نماز میں مشغول ہوتے تھے تو اس قدر خدا کی یاد میں ڈوب جاتے تھے کہ تکلیف کا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ایک مرتبہ کسی جنگ میں تیر سے زخمی ہوئے تو طبیب نے مشورہ دیا کہ جب حضرت علیؓ نماز میں مصروف ہوں تو ان کو پتہ نہیں چلے گا۔لیکن یزیدی فوجیوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا ۔جب حضرت امام حسینؑ سجدے میں گئے تو شمر ملعون نے اپنی تلوار کی ضرب سے آپکا سر مبارک جسم سے الگ کر دیا اور اس کو نیزے پر بلند کیا۔حضرت زینبؓ یہ سارا منتظر دیکھ رہی تھیں،خیموں سے بیبیوں کے رونے کی آوازیں آئیں تو یزیدی فوج نے خیموں کو آگ لگا دی۔خواتین سروں سے دوپٹے چھین لئے اور سب کو قیدی بنا کر یزید کے دربار میں پیش کیا۔حضرت زینبؓ نے امام زین العابدین کو اس وقت شدید علیل تھے اپنے کندھوں پرسوار کر کے کربلا سے شام تک کا سفر بیڑیوں میں طے کیا۔بی بی زینبؓ نے یزید کے دربار میں ایک یادگار خطبہ دیا آپ نے یزید کو کہا کہ تو ساری طاقت بھی لگاتو نامراد ہی رہے گا۔تو میرے نانا کے دین کو نہیں مٹا سکے گااسلام اور ہمارا نام قیامت تک رہے گا اور ایسا ہی ہوا۔آج یزید کا نام لیوا کوئی نہیں ہے اور شہداء کربلا کے مزارات1400سو سال بعد بھی آباد ہیں اور اسلام کے نام لیوا پوری دینا میں موجود ہیں۔نواسہ رسول کو میدانِ کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر کس بے دردی سے قتل کر کے ان کے سر کی بے حرمتی کی گئی ۔یہ تاریخِ اسلام کی پہلی اور بدترین مثال ہے۔یزید کی خلیفہ نامزدگی یقیناًگناہ کبیرہ تھی۔ باطل قوتوں کے سامنے سرنگوں مہ ہو کر حضرت امام حسینؑ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالا دستی اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کیا اور اسلامی روایات کی لاج رکھی۔آپ کی قربانی حق و باطل کے درمیان وہ واضح لائن ہے جو قیامت تک حق والوں کی رہنمائی اور صبر کی تلقین کرتی رہے گی۔۔

ابنِ زیاد قاضی کوفہ سے حضرت امام حسینؓ کو باغی کہلوا کر قتل کا فتویٰ لے چکا تھا اور اس نے مزید فوج کربلاروانہ کر دی تھی تاکہ یزید کی خوشنودی حاصل کر سکے۔روایات کے مطابق حضرت امام حسینؓ کے 72افراد کے مقابلے ابن زیاد نے 4محرم سن 61ہجری کو مزید 30ہزار فوج کا لشکر کوفہ سے کربلا روانہ کیا۔حضرت امام حسینؓ کے ساتھ یزیدی فوج کے مذاکرات بھی جاری تھے۔ 2 محرم الحرام کو یزیدی فوج کے جس پہلے دستے نے حضرت امام حسینؓ کا راستہ روکا اس دستے کے سربراہ حر الریاحی ان کی ڈیوٹی یہ لگائی گئی تھی کہ آپ کو آگے بڑھنے اور کوفہ داخل ہونے سے روکا جائے۔ تبھی آپ نے کربلا میں قیام کا فیصلہ کیا۔ چند دنوں میں ہی حر نے جناب حر تک کا سفر طے کر لیا۔ حر چند ملاقاتوں میں ہی حضرت امام حسینؓ کو جان چکے تھے اور انکی کوشش تھی کہ یزیدی فوج اور حضرت امام حسینؓ کے بیچ میں مصالحت ہو جائے۔ حر کے دستے نے ایک طرف تو حضرت امام حسینؓ کا راستہ روکے رکھا تھا دوسری طرف وہ روزانہ نماز حضرت امام حسینؓ کے پیچھے پڑھتے تھے۔ 7 محرم الحرام کو یزیدی فوج نے طاقت کے نشے میں دھت ہو کر حضرت امام حسینؓ کو پیغام بھیجا کہ آپؓ اپنے خیمے پانی کے قریب سے اٹھا لیں اور راستے میں یزیدی فوج کو بٹھا دیا گیا۔امام نے پانی بند کرنے کا یہ ظلم شاید اس لیے برداشت کر لیا کہ کہیں بعد میں لوگ یہ نہ کہیں کہ حضرت امام حسینؓ اور یزیدی فوج میں اصل تنازعہ پانی کا تھا جس پر لڑائی ہوئی۔ آپ نے ظلم برداشت کیا اور اپنے اصحاب کے ساتھ خیموں کو پانی سے دور لے گئے۔ تپتے صحرا میں سب لوگ پانی کی پیاس سے تڑپنے لگے۔لوگوں نے پانی کا تقاضا کیا لیکن یزیدی فوج نے امام پر پانی بند کر دیا
بچوں سے زیادہ دین اسلام کی فکر تھی کہ یہ کن ظالموں کے ہاتھ اقتدار آ گیا ہے۔یہ لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ خطرناک اور گمراہ تھے۔امام کسی صورت یزید کے ہاتھ بیت کرنے کو تیار نہ تھے۔امام نے فرمایا کہ ہمارا راستہ چھوڑدو ۔ہم کوفہ یا کہیں اور چلے جاتے ہیں۔۔لیکن یزیدی فوج کسی بدقسمت جانور کی طرح طاقت کے نشے میں چور تھی ۔اس کے سربراہ نے کہا کہ دو ہی صورتیں ہیں آپؓ یا تو یزید کی بیت کر لیں یا جنگ لے لئے تیار ہو جائیں۔۔9محرم الحرام کی شمر یزید کے ساتھ کربلا کے میدان میں داخل ہوا۔بعض روایات کے مطابق 9محرم الحرام کو یزید کی فوج میں 60ہزار جنگجو تھے جو حضرت امام حسینؑ کی فوج کے 72جانثاروں سے جنگ کرنے کربلا میں آئے تھے۔۔شمر نے آتے ہی اپنی عیاری اور مکاری کا استعمال کرنا چاہا اور اس نے حضرت عباس ؑ اور ان کے بھائیوں کے نام امان نامہ بھجوایا کہ آپ لوگ اس لڑائی سے الگ ہو جائیں تو آپ کو امان ہے۔شمر نے کہا کہ آپ کی والدہ میرے قبیلے سے اور اس رشتے سے میں آپ کا ماموں لگتا ہوں۔۔لہذا آپ کو آپ کے بھائیوں سمیت امان دیتا ہوں آپ جہاں چاہیں چلے جائیں۔۔حضرت عباسؑ جن کا نام ہی وفا کا پیکر ہے وہ کہاں ایسی باتوں میں آ کر اپنے بھائی کو چھوڑنے والے تھے۔۔آپ کی ماں کا ذکر آیا تو حضرت عباس ؑ نے شمر کو کہا ۔او ۔ملعوں اپنی ناپاک زبان سے میری ماں کا نام نہ لے۔اسی کی تربیت اور حکم سے آج میں یہاں موجود ہوں ۔حضرت عباسؑ کی والدہ کا نام حضرت امُ البنین تھا ۔حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد جب حضرت علیؓ کا رشتہ حضرت امُ البنین کیلئے گیا تو ان کے والد نے ان سے مرضی معلوم کرنا چاہی تو انہوں نے فرمایا بابا میں تو رات سے ہی سیدہ فاطمہُ ازاہرہ کو ہاں کر چکی ہوں۔۔وہ کل رات میرے خواب میں آئیں اور مجھے کہا کی میرے بچوں کی ماں بن جاؤ۔میرے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ میں جنت کے سرداروں کی ماں کہلاؤں۔حضرت علیؓ اور حضرت امُ البنین نے نکاح کے بعد اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ہمیں ایسی اولاد نصیب فرما جو اس گھر کی حفاظت کرے اور دین اسلام کی ترویج کرے ۔حضرت امُ البنین کے بدن سے حضرت علیؓکے چار بیٹے پیدا ہوئے۔عثمان بن علی ۔جعفر بن علی۔عبداللہ بن علی اور عباس بن علی۔حضرت عباس چونکہ بڑے بیٹے تھے اس لئے ان کا ذکر زیادہ ملتا ہے اور آپ عملدار بھی تھی۔آپ نے شمر کی امان کو ٹھکرا دیا۔حضرت عباس اپنے باقی تمام بھائیوں کے ساتھ حضرت امام حسینؑ پرمر


مٹنے کو تیار تھے ۔بعض روایات میں حضرت عباسؑ کو زہرا کی دعا بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ حضرت فاطمہ الزہریٰ کی وہ دعا ہیں جو اپنوں نے اپنے بیٹوں حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ کے لئے کی کہ میرے بیٹوں کو باوفا ساتھی نصیب ہوں۔آپ کی شکل و صورت میں اپنے والد حضرت علی ابن ابو طالبؓ کی طرح تھی ۔شخصیت ایسی کامل کہ جب گلی سے گزرے تو لوگ دور تک آپ کو دیکھتے رہتے اور جب تلوار ہاتھ میں لے کر گھوڑے پر سوار ہوتے تو علی کی بیت آپ سے جھلکنے لگتی۔آپ کی والدہ حضرت امُ البنین کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کبھی بھی گھر میں کمروں یا صحن کے درمیان میں نہیں چلتی تھی کہ کہیں آپ کا پاؤں حضرت فاطمہ ؑ کے رکھے ہوئے پاؤں کی جگہ نہ آ جائے آپ ہمیشہ دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں اور یہی عقیدت اپنوں نے اپنے بچوں میں بھی منتقل کی تھی۔۔حضرت عباس ؑ نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنے بھائیوں حضرت امام حسینؑ اور حضرت امام حسن ؑ کے لئے وقف رکھا۔۔اگر لوگ حضرت علیؓ کے گھر کو دیکھیں تو حضرت عباس ؑ کا کمرہ گھر کے عقبی طرف ہے یعنی جیسا کہ اس کمرے کا مکین گھر کی حفاطت پر مامور ہو گا اور کربلا کے خیموں کی تربیت دیکھیں تو سب سے آگے حضرت عباسؑ کا خیمہ ہے یعنی حضرت امام حسینؑ اور اہل بیت تک کوئی اس وقت تک نہیں جا سکتا جن تک حضرت عباسؑ اس کو اجازت نہ دے دیں ۔یہی وہ تربیت اور عشق تھا جو آپ کو اپنی ماں حضرت امُ البنین سے ورثے میں ملا تھا۔۔
9محرم الحرام کی رات حضرت امام حسین ؑ کو یقین ہو چکا تھا کہ یزیدی فوج آپ کا خون بہانے کے در پر تھے۔آپ نے اپنے تمام اصحاب اور اہل بیت کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ آپ میں سے جو جانا چاہے جا سکتا ہے۔دشمن اپنے لئے جہنم خریدنا چاہتا ہے ۔میری خواہش ہے کہ میرے نانا کے امتی جہنم سے بچ جائیں لیکن وہ ہمارے خون کے پیاسے ہیں ۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت امام حسینؑ نے روشنی اس لئے مدہم کی کہ شاید روشنی کی وجہ سے کوئی جانے کی ہمت نہ جتا پائے ان کی آسانی کے لئے آپؓ نے ایسا کیا ہو گا۔کچھ دیر بعد آپ نے اپنے باوفا بھائی اور ساتھی کو کہا کہ عباس روشنی بڑھا دو یعنی حضرت امام حسین کو یقین تھا یہ میرا بھائی مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔پھر حضرت امام حسین فرداً آآفرداً تمام خیموں میں گئے تمام اصحاب کے ساتھ الگ الگ وقت گزارا۔سب سے زیادہ وقت اپنی بہن کے خیمے میں گزارا۔آپؓ نے فرمایا میرے بعد نانا کے دین کی حفاظت کرنا ۔سجاد یعنی حضرت امام زین العابدین کا خیال رکھنا ۔حضرت سجاد حضرت امام حسین ؑ کے بیٹے تھے اور میدانِ کربلا میں کسی ایسی بیماری کا شکار تھی کہ بستر سے نہیں اُٹھ سکتے تھے اس لئے وہ جنگ میں حصہ بھی نہیں لے سکے شاید اللہ نے حضرت امام حسینؑ کی نسل کو آگے بڑھانے کے لئے مصلحتً ایسا کیا ہو۔حضرت امام حسین ؑ نے حضرت بی بی زینبؓ سے فرمایا کہ اپنی عبادت خاص کر نماز تہجد میں مجھے یاد رکھنا۔اپنی بہن سے آپ کو بہت محبت تھی۔ہر فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بہن حضرت زینبؓ سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔اگر کربلا میں بی بی زینبؓ اور حضرت امام حسین ؑ کے خیموں کو دیکھیں تو دونوں کی پشت ملی ہوئی ہے،اس سے صاف لگتا ہے کہ دونوں بہن بھائی دیر تک رازو نیاز کی باتیں کرتے ہوں گے۔تمام اصحاب ،اہل بیت اور اپنی ازواج حضرت لیلیٰ اور اُم رباب سے ملاقات کے بعد آپؓ اپنے مقتل کی طرف گئے اور نشاندہی کی کہ یہاں مجھے شہید کیا جائے۔آپ کے اصحاب اور اہل بیت جان چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سب کچھ دکھا چکا ہے پھر بھی ان کو موت کا خوف نہیں تھا اور وہ دنیا کی اس معمولی تکلیف کو اپنی آخرت کے بدلے منافع کا سودہ سمجھ رہے تھے۔

10محرم الحرام کا سورج طلوع ہوا۔تمام اصحاب اور اہل بیت نے رات جاگ کر گزاری تھی ۔سب لوگ پیاس سے نڈھال تھے۔7محرم کی شام کو حضرت امام حسینؑ کے حکم سے حضرت عباس اپنے چند افراد کے ساتھ یزیدی فوج کو دھکیلتے ہوئے فرات سے پانی کا مشکیزہ بھر لائے تھے۔لیکن آج 10محرم کو فوج کئی گناہ بڑھ چکی تھی۔شمر ملعون راستے میں حائل تھا پیاسے بچوں کی ڈوبتی چیخیں اور سسکیاں ماحول کو پر آشوب بنا رہی تھیں۔حضرت امام حسینؑ کی 4سالہ بیٹی حضرت بی بی سکینہؑ پیاس سے نڈھال تھیں انہوں نے اپنے چچا حضرت عباس سے پانی کا تقاضا کیا۔حالات اور نسبت کا اندازہ کریں کہ کونسی ہستی کس ہستی سے کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے ۔یعنی شہزادی سکینہ اپنے چچا عباس سے پانی کا سوال کر رہی ہیں۔وہ چچا جس کو آسمان سے تارے لانے کا کہا جائے تو ستارے خود اس کے قدموں میں آنے کو سعادت سمجھیں ۔اس سے مانگا بھی گیا ہے تو کیا پانی۔۔ادھر جب حر نے دیکھا کی ماحول کسی بھی طرح جنگ سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بیٹے اور 2ساتھیوں سمیت حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی کہ میں اپنے گناہوں کا کفارہ اس طرح ہی کر سکتا ہوں کہ میں آپ کی طرف سے یزیدی فوج سے جنگ کروں اور لڑتے لڑتے میں ، میرا بیٹا اور میرے ساتھی آپ پر اپنی جان قربان کر دیں۔حر نے کہا کہ میرے بیٹے کو اجازت دیں کہ آپؓ کی طرف سے سب سے پہلے میدان میں جائے حضرت امام حسینؑ پہلے اپنے اہل بیت اور خود میدان میں جانا چاہتے تھے۔۔اصحاب کے اسرار پر آپ نے اُن کو اجازت دی اور اس طرح آپؓ میدان کربلا میں آپکو حضرت حرؑ کا بیٹا پہلے شہید کے طور پر نصیب ہوا۔اس کے بعد حر میدان میں گئے کمال بہادری سے دشمن جوچند لمحے پہلا انکا دوست تھا ۔اس کا مقابلہ کیا ۔یزیدی فوج کے کئی سپاہیوں کو جہنم واصل کیا اور خود بھی جام شہادت نوش کیا۔اس طرح حر چند دنوں میں ہی حر سے جناب حر ہو گئے۔آپ کی قبر مبارک پر آج بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری دیتے ہیں اور آپ کی قسمت پر رشک کرتے ہیں کہ کس طرح خدا آپ پر مہربان ہوا اور ان 60ہزار جنگجوں میں سے اللہ نے آپ کا انتخاب کیا اور آپ کا دل بدل گیا۔روایات میں آتا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسینؑ نے فرمایا کہ میرے زائرین جو میری شہادت کے بعد میری قبر پر آئیں وہ حر کی زیارت ضرور کریں۔اسی لئے آج بھی حضرت حر کے روزے پر ایک پُر سکون سی ٹھنڈی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ادھر حضرت عباسؑ بی بی سکینہ ؑ اور حضرت علی اصغرؑ کے لئے پانی لینے نکلے آپ کے ایک ہاتھ میں علم تھا اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔آپ نے مشکیزہ اپنی پشت پر لٹکایا اورحضرت امام حسینؑ کی اجازت سے پانی لینے روانہ ہو گئے۔یزیدی دشمن گھاٹ لگائے بیٹھے تھے ۔علی ذارے کی ہیبت اتنی تھی کہ کوئی سامنے آنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔یزیدی فوج کو پیچھے دھکیلتے اور روندتے ہوئے حضرت عباسؑ پانی تک پہنچ گئے آپ نے مشکیزہ پانی سے بھرا اور گھوڑے پر اپنے سامنے رکھ لیا۔حضرت عباسؑ تیزی سے خیموں کی طرف گھوڑا دوڑا رہے تھے کہ کسی تیر انداز نے ایک تیر مشکیزہ پر مارا پانی ضائع ہو نے لگا۔آپ نے اپنے مولا کا علم نیچے نہیں کیا اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر آپ نے تلوار والا ہاتھ مشکیزے کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے استعمال کیا اور پرچم بلند رکھا ۔تلوار ہاتھ میں نہ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک یزیدی سپاہی نے جو درخت کی اوڑھ میں چھپا ہوا تھا تلوار سے ایک زور دار وار کیا اور جس ہاتھ میں علم تھا وہ بازو شہید کر دیا۔حضرت عباسؑ نے درد کی شدت کے باوجود علم دوسرے ہاتھ میں تھام لیا۔چند تیر اور مشکیزے پر لگے پانی تیزی کے ساتھ ضائع ہونے لگا اس اثنا میں آپ کا دوسرے بازو بھی شہید کر دیا گیا۔علی ذادے کو بے دردی سے زخمی کر دیا گیا تھا اور آپ کے دونوں بازو شہید ہو چکے تھے لیکن آپ حیات تھے شاید اسی نسبت سے آپ کو غازی کا لقب دیا جاتا ہے۔ایک بدبخت نے پیچھے سے آپ کے سر مبارک پر برچھی کی ضرب لگائی اور آپ شہید ہو گئے۔حضرت علیؓ کا جگر گوشہ حضرت امام حسینؑ کا فخر کس مظلومیت سے شہید کر دیا گیا آج بھی اگر آپ کے جائے شہادت اور بازو شہید ہونے کے مقامات کو دیکھا جائے تو پہلے اور دوسرے بازو کے شہید ہونے کے مقام میں بہت فاصلہ ہے اور جائے شہادت دوسرے بازو کی جائے شہادت سے کافی دور ہے یعنی آپ نے حضرت بی بی سکینہؑ کو پانی پہنچانے کی آخری سانس تک کوشش کی۔جہاں آپ کا دوسرا بازو شہید ہوا اور پھر اس سے آگے آپ کی شہادت ہوئی دونوں مقامات حضرت امام حسینؑ سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھے
یعنی حضرت امام حسینؑ نے اپنے بھائی کی شہادت کا منظر دیکھا ہو گا۔ایک طرف 6ماہ کا علی اصغر اور 4سالہ سکینہ بلک رہی تھی اور بیبیوں کی سسکیاں تھیں اور دوسری طرف آپ کے اصحاب اور بھائی شہید ہو رہے ہوں گے اور حضرت امام حسینؑ اپنی آنکھوں سے یہ سب قیامت خیر منظر دیکھ رہے تھے۔۔ایک ایک کر کے تمام جانثارآپ پر جانیں قربان کر رہے تھے لیکن ایک بات تھی کہ آپ کا ایک سپاہی بیسیوں یزیدیوں کو جہنم واصل کر کے جام شہادت نوش کرتا تھا۔یہی پریشانی تھی جس کی وجہ سے یزیدی فوج اب ایک ایک کی جنگ سے مکمل جنگ کی طرف آنا چاہتی تھی۔ایک ایک کی اسی جنگ میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا آپ کے ایک صحابی حضرت ابو ثمامہ صہدامی آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ۔عرض کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی امامت میں آخری نماز باجماعت ادا کریں آپ نے ان کے لئے دعا کی کہ اے ثمامہ روز محشر اللہ تجھے نمازیوں میں اُٹھائے۔اذان ہوئی اور پھر حضرت امام حسینؑ کی امامت میں نماز ظہر شروع ہوئی۔یزیدی فوج نے نماز کے دوران آپ پر تیر برسائے اور تمام اصحاب کو دوران نماز میں ہی شہید کر دیا ۔چند افراد جو اہل بیت سے بچ گئے تھے وہ نماز کے بعد شہید کر دیئے گئے۔حضرت امام حسینؑ اپنے اصحاب اور اہل بیت کے لاشے اکھٹے کر تے رہے۔آپ نے اپنے لختِ جگر حضرت علی اکبر کا لاشا اُٹھایا ۔اپنے بھتیجے حضرت قاسم کا لاشا اُٹھایا اور با آواز بلند فرمایا کہ حسین غریب ہو گیا۔آپ کو کربلا میں موجود بیبیوں کی فکر تھی تبھی آپ نے تمام خیمے اس طرح لگوائے تھی کہ خواتین کے خیمے درمیان میں رہیں ۔عصر کی نماز کا وقت قریب تھا آپ خیمے میں تشریف لے گئے ۔حضرت علی اصغر پیاس سے بلبلا رہے تھے۔آپ نے ان کوگود میں لیا اور باہر آگئے۔عرب کی روایات کے مطابق آپ نے باآواز بلند اپنا تعارف کروایا۔اہل بیت اور اصحاب شہید ہو چکے تھے۔اس وقت بھی آپ کو فکر تھی کہ آپ کے نانا کی اُمت جہنم سے بچ جائے اور آپ کا خون بہا کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔آپ نے فرمایاکہ میں حسین ابن علی ہوں اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نواسا اور فاطمہ کا بیٹا ہوں کیوں مجھے قتل کر کے جہنم خریدتے ہو۔۔؟؟۔۔دیکھو یہ 6ماہ کا بچہ میرا بیٹا علی اصغر پیاس سے تڑپ رہا ہے۔ظلم اور گناہ کا راستہ ترک کر دو ۔آپؓ نے حضرت علی اصغر کو اپنے بازو میں لے کر ہوا میں بلند کیا تبھی ایک دو منہ والا تیر حضرت علی اصغر کے حلق میں لگا اور سوکھا گلا خون سے تر ہو گیا۔راوی لکھتا ہے کہ حر ملہ نامی تیر انداز نے حضرت علی اصغر پر تیر چلایا اور وہ تیر سائز میں بہت بڑا اور دو منہ والا تیر تھا۔عموماً اُس طرح کے تیر جنگوں میں گھوڑوں یا جنگلوں میں جانوروں کو مارنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔حرملہ کو ماہر تیر انداز تھا وہ کہتا تھا کہ جب شمر نے مجھے حضرت علی اصغر کے حلق پر تیر مارنے کا حکم دیا تو وہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا جب میرا ہاتھ لڑکھڑایا اور مجھے دو مرتبہ ایسا لگا کہ کوئی غیبی طاقت میرا ہاتھ دوسری طر ف کو موڑ دیتی ہے۔لیکن تیسری مرتبہ میں کامیاب ہو گیا اور تیر سیدھا حضرت علی اصغر کے حلق پر لگا اور ان کو ایک کان سے دوسرے کان تک ذبح کر دیا ۔حضرت امام حسین ؑ جناب علی اصغرکے چھوٹے سے لاشے کو لے کر خیموں کی طرف واپس آئے۔آپ کے بازو اور کرتا حضرت علی اصغر کے خون سے سرخ تھا۔نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا ۔آپ نے ریت سے تیمم کیا اور اپنی شہادت کے لئے اسی جگہ کا انتخاب کیا جو قدرے نیچی تھی۔ویسے توآپ شب آشور کو ہی اپنی مقتل گاہ کا انتخاب کر چکے تھی۔ان دھول اُڑنے اور اپنے ہاتھوں میں 6ماہ کے جگر گوشے کی شہادت کے بعد شاید مقتل گاہ کو ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا تھا۔خیمے چونکہ تھوڑی سی اونچی جگہ پر تھے اور ان کے ساتھ ایک ٹیلہ تھا جہاں حضرت زینبؓ موجود تھیں اور وہ کربلا کا سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں۔حضرت امام حسینؑ اپنے آپ کو اپنی بہن سے چھپانا چاہتے تھے دونوں بہن بھائیوں میں اتنی محبت تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کی بہن اپنے بھائی کو قتل ہوتے دیکھے۔چنانچہ ریت سے وضو کرنے کے بعد حضرت امام حسینؑ نے ٹیلہ سے قدرے نیچے نماز کی نیت باندھی تھی ۔تبھی حضرت زینبؓ پریشانی کے عالم میں اوپر ہو کر بھائی کو دیکھتیں۔روایات میں آتا ہے کہ کبھی زمین اوپر ہوتی تو کبھی یعنی حضرت زینبؓ کے حکم سے ٹیلہ اونچا ہو جاتا اور وہ بھائی کو دیکھتیں اور حضرت امام حسینؑ کے حکم سے زمین نیچے ہو جاتی تا کہ زینبؓ نہ دیکھ سکیں۔آج بھی مقتل گا اور ٹیکہ زینبیاکو دیکھیں تو وہ اسی طرح موجود ہیں مقتل گاہ سے کھڑے ہو کر ٹیلہ زینبیا کی طرف دیکھیں تو وہ اونچا ہے اور ٹیلے سے کھڑے ہو کر حضرت امام حسینؑ کی مقتل گاہ کی طرف دیکھیں تو وہ کافی نیچے ہے۔
عموماً ریگستانوں میں زمین ہموار ہوتی ہے اتنا اونچی ٹیلہ نہیں ہوتا۔امام نے نماز عصر کی نیت باندھی۔ یزیدی فوج کے بزدل سپاہی جو قریب ہی منڈلا رہے تھے اور حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔حضرت امام حسینؑ کے نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے آپ پر حملہ کرنے کی جرات جُتا پائے اور چاروں طرف سے آپ پر تیروں کی برسات کر دی۔نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے حضرت امام حسینؑ کو تیروں کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں تھا۔یزیدی بدبختوں کو شاید معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ علی زادہ ہے اور حضرت علیؓ بھی جب نماز میں مشغول ہوتے تھے تو اس قدر خدا کی یاد میں ڈوب جاتے تھے کہ تکلیف کا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ایک مرتبہ کسی جنگ میں تیر سے زخمی ہوئے تو طبیب نے مشورہ دیا کہ جب حضرت علیؓ نماز میں مصروف ہوں تو ان کو پتہ نہیں چلے گا۔لیکن یزیدی فوجیوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا ۔جب حضرت امام حسینؑ سجدے میں گئے تو شمر ملعون نے اپنی تلوار کی ضرب سے آپکا سر مبارک جسم سے الگ کر دیا اور اس کو نیزے پر بلند کیا۔حضرت زینبؓ یہ سارا منتظر دیکھ رہی تھیں،خیموں سے بیبیوں کے رونے کی آوازیں آئیں تو یزیدی فوج نے خیموں کو آگ لگا دی۔خواتین سروں سے دوپٹے چھین لئے اور سب کو قیدی بنا کر یزید کے دربار میں پیش کیا۔حضرت زینبؓ نے امام زین العابدین کو اس وقت شدید علیل تھے اپنے کندھوں پرسوار کر کے کربلا سے شام تک کا سفر بیڑیوں میں طے کیا۔بی بی زینبؓ نے یزید کے دربار میں ایک یادگار خطبہ دیا آپ نے یزید کو کہا کہ تو ساری طاقت بھی لگاتو نامراد ہی رہے گا۔تو میرے نانا کے دین کو نہیں مٹا سکے گااسلام اور ہمارا نام قیامت تک رہے گا اور ایسا ہی ہوا۔آج یزید کا نام لیوا کوئی نہیں ہے اور شہداء کربلا کے مزارات1400سو سال بعد بھی آباد ہیں اور اسلام کے نام لیوا پوری دینا میں موجود ہیں۔نواسہ رسول کو میدانِ کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر کس بے دردی سے قتل کر کے ان کے سر کی بے حرمتی کی گئی ۔یہ تاریخِ اسلام کی پہلی اور بدترین مثال ہے۔یزید کی خلیفہ نامزدگی یقیناًگناہ کبیرہ تھی۔ باطل قوتوں کے سامنے سرنگوں مہ ہو کر حضرت امام حسینؑ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالا دستی اور خدا کی حاکمیت کا پرچم بلند کیا اور اسلامی روایات کی لاج رکھی۔آپ کی قربانی حق و باطل کے درمیان وہ واضح لائن ہے جو قیامت تک حق والوں کی رہنمائی اور صبر کی تلقین کرتی رہے گی۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *