گندم عطیہ کرنے پرسیاست کی حقیقت۔۔۔سید علی احمد بخاری

گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ افغانستان کے موقع پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے حکومتِ افغانستان کو عطیہ کی جانے والی گندم کو لے کر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اِس تنقید میں شامل ن لیگ اور پی پی کے سوشل میڈیا سیلز اور خود ساختہ دانشور پروپیگنڈ ہ کرنے میں مصروف ہیں کہ اَگر حکومت کو گندم عطیہ ہی کرنی تھی تو تَھر کےغریب لوگوں کوعطیہ کی جاتی بھلا اَفغانستان کو دینے کا گناہ کیوں کیا گیا۔ گندم کو عطیہ کرکے تنقید کرنے والے دانشوروں کیلئے چند چِشم کُشاء حقائق پیشِ خدمت ہیں۔

افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حکومت ِپاکستان کی یہ گذشتہ کئی سالوں سے روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی پاکستانی حکمران افغانستان کا دورہ کرتا ہے تو جذبہ خیر سگالی کے طور پر افغان حکومت کو گندم کا تحفہ دیا جاتا رہاہے۔اِس کا آغاز پرویز مشرف دور سےہوا ،اور اس عمل کو پی پی اور ن لیگ کے دورحکومت میں بھی جاری رکھا گیا۔گذشتہ حکومتوں نے اِسی جذبہ خیرسگالی کے تحت جہاں ہزاروں ٹن گندم افغانستان کو عطیہ کی گئی وہاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے لاکھوں ڈالرز کی اِمداد نقدکے علاوہ تعلیم ،صحت اور زراعت کے شعبہ کے لئے ایک بلین امریکی ڈالر تک کی اِمداد دی گئی ہے۔ہزاوں افغان طلبہ کو پاکستان کےتعلیمی اداروں میں فری سکالرشپ دی گئیں۔افغان آرمی کو تربیت میں معاونت فراہم کی گئی۔اِس کے علاوہ افغان سر زمین پر پاکستان کی جانب سڑکیں ، عمارتیں اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر کر کےدیا گیا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

کیا گذشتہ سالوں میں تعلیم ،صحت اور خوراک کے شعبہ میں پاکستان خود کفیل ہو چکا تھا کہ گذشتہ حکومتوں کی طرف سے افغان حکومتوں کو دی جانے والی اِمدادجائز تھی ؟اگر ایسا نہیں تھا تو کیا اِن خود ساختہ دانشوروں نے بھنگ پی ہوئی تھی کہ اِن کو سابقہ اَدوار میں افغان سرزمین پر خرچ کی جانے والی خطیر رقم نظر نہ آئی ؟یا کہ اِن کو دانشور بنے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دِن ہی ہوئے ہیں؟حقیقت یہ ہے اِن میں سے اکثریت مریم نواز کے غیر قانونی سوشل میڈیا سیل کی پیداوار ہیں جن کو جھوٹ بولنے اور پروپیگنڈہ کرنے کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ مگر اِن عقل کے اَندھوں کو اِس بات کا ادراک ہی نہیں کہ کون سی بات سیاست کرنے والی ہوتی ہے اور کس بات پر سیاست کرنا ملکی مفادات کے خلاف ہوتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

در اصل افغان حکومت کو دی جانے والی امداد کا تعلق خطے میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو کنٹرول کرنے سےمتعلق ہے۔انڈیا افغانستان میں پاکستان سے کئی سو گنا زیادہ پیسہ خرچ کر کے افغان حکومت اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کر کے اُنھیں پاکستان کے خلاف اِستعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حکومت پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود انڈیا کی اِس پالیسی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے گندم عطیہ کرنے کے پیچھے بھی یہی عوامل کار فرماء ہیں۔موجودہ پی ٹی آئی حکومت پر گندم کولے پر تنقید کرنا صرف بد نیتی پر مبنی ہےوَرنہ نہ تو اِن دانشوروں کو تَھر کےغریب لوگوں کی فکر ستائے جارہی ہے ، نہ ہی پاکستانی گندم کی کوئی فکر لاحق ہے ۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سید علی احمدبخاری
سیّد علی احمد بخاری کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع حویلی سے ہے۔ ابتدائی تعلیم ضلع حویلی سے حاصل کی اور 2006 ء میں پنجاب ٹیکنکل بورڈ سےElectronics میں DAE کیا۔ B-Tech (Electronics & Telecom) آنرز کی ڈگری سرحد یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور سے2013 ءمیں حاصل کی- اِسکے بعدماسڑز اِن کمپیوٹرسائنس کی ڈگری ورچوئل یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے حاصل کی۔اِس کے ساتھ ساتھ آپ 2007 ءسے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات آزادکشمیر سے وابستہ ہیں۔آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں، اور حالاتِ حاضرہ ، ادبی اور دیگر سوشل سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔آپ ریفرل سسٹم (Direct Marketing ) سے تین سال وابستہ رہے۔آپ شروع ہی سے ٹیکنالوجی کے اِستعما ل کے لئے کوشاں رہے، 2006 ءمیں اپنے گاوٰں میں FM ٹرانسمیٹر بناکر دو ماہ تک تجرباتی ٹرانسمیشن کی- 2008 ء سے تا حال آپ انٹرنیٹ پر درجنوں بلاگز اور ویب سائٹس ، اور پیجز چلا رہے ہیں۔ اپنے ضلع کی پہلی ویب سائٹ بنانے اور چلانے کا اعزاز بھی آپ کے پاس ہے۔ آپ آزادکشمیر میں Android App ڈولپمنٹ کرنے والے چند سافٹ وئر ڈیولپرز میں شامل ہیں۔آپ گذشتہ کئی سالوں سے آزاد کشمیر کے دارلحکومت میں قیام پذیر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply