ایک دن اس کا جہاز آ جائے گا۔۔۔محمد اظہار الحق

شہروں میں شہر ہے اور بہشتوں میں بہشت! افسوس! شاہ عباس صفوی کو اس شہر کا پتہ نہ تھا ورنہ تبریز کو چھوڑا تو اصفہان کے بجائے یہاں کا رخ کرتا۔ تیمور اسے دیکھتا تو سمرقند کا درجہ دیتا۔ بابر کا گزر ہوتا تو کابل کو یاد کرکے آنسو نہ بہاتا۔ شاہ جہان اسی کو آگرہ بنا لیتا۔ بادشاہ نے بخارا سے دور پڑائو ڈالا۔ واپسی کا نام نہیں لے رہا تھا۔ رودکی نے بخارا کو یاد کرایا تو چل پڑا ؎ بوئی جوئی مولیاں آید ہمی یاد یار مہرباں آید ہمی میر مہ است و بخارا آسماں ماہ سوئی آسماں آید ہمی میر سرو است و بخارا بوستاں سرو سوئی بوستاں آید ہمی مولیاں ندی کی مہک آ رہی ہے جیسے یار مہرباں کی یاد بادشاہ چاند ہے اور بخارا آسماں چاند آسماں کی طرف چل پڑا ہے۔ بادشاہ سروہے اور بخارا باغ سرو باغ کی طرف چلا آ رہا ہے رودکی ایبٹ آباد کی ہوا کے جھونکے چکھتا تو بخارا کی یاد میں آنسو نہ بہاتا۔ تعجب تو ہندوستان کے وائسرائے جان لارنس پر ہے جس نے 1863ء میں شملہ کو موسم گرما کا دارالحکومت قرار دیا اور نظر ایبٹ آباد پر نہ پڑی۔ دس سال پہلے میجر ایبٹ، ایبٹ آباد شہر کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ کہاں شملہ اور کہاں ایبٹ آباد۔ ایبٹ آباد تو شمالی علاقہ جات کا دروازہ ہے۔ تاہم ایبٹ آباد کی قسمت اچھی تھی۔ انگریزوں کی نظر اس پر اس اعتبار سے نہ پڑی ورنہ شملہ کا تو وہ حشر ہوا جو شام کا فرنگیوں نے کیا تھا۔ بقول اقبال ؎ فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا متاع عفت و غم خواری و کم آزاری صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے مے و قمار و ہجوم زنان بازاری شملہ راجدھانی بنا تو برطانیہ سے آئی ہوئی زنان بازاری نے اس پر ہلہ بول دیا۔ شوہروں کی تلاش میں جوان میموں کی بھی لائن لگ گئی۔ جوئے، شراب اور حرام کاری کے طوفان نے شملہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شہروں میں ایبٹ آباد شہر ہے اور بہشتوں میں بہشت۔ کیا اس کی خنک ہوا ہے۔ منوچہری دامغانی یاد آ گیا۔ خوارزم کی طرف سے چلنے والی ہوا پر پکار اٹھا ع باد خنک از جانب خوارزم وزان است اس کالم نگار نے خوارزم بھی دیکھا ہے۔ اس کی بغل میں رواں جیحوں (آمو) دریا کے کنارے کنارے بھی چلا ہے اور خوارزم کی ہوائوں سے بھی لطف اٹھایا ہے مگر اس پروردگار کی سوگند، جس نے اس ناشکر گزار قوم کوشمالی علاقوں کی نعمت عطا کی ہے، خوارزم کی ہوا ایبٹ آباد کی خنک، دل آویز اور روح کو ٹھنڈک پہنچانے والی ہوا کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ شہروں میں ایبٹ آباد شہر ہے۔ شہر کے اندر داخل ہونے سے بہت پہلے شاہراہ قراقرم کی خوشبو ہوا میں اپنا نشان بتاتی ہے۔ خوبصورت پہاڑیوں نے شہر کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ جیسے چاند کے گرد ہالہ۔ پرانے ایبٹ آباد کی گلیوں میں ایک سو پینسٹھ برس پرانی مہلک اس زمانے کی یاد دلاتی ہے جب شتر اور اسپ سامان سے لدے یہاں آتے تھے اور یہاں سے جاتے تھے۔ مانسہرہ روڈ پر جوں جوں آگے بڑھیں، ایک دلربا حسن مسافر کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے جس کا سحر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بٹراسی، شنکیاری، ڈاڈر۔ ایک سے ایک بڑھ کر۔ بہتے ہوئے جھرنے ہیں۔ پتھروں سے سر ٹکراتی، گنگناتی، مست ندیاں ہیں۔ پہاڑوں پر چنار کے درخت ہیں۔ ڈھورڈنگر چراتے چاند جیسے چرواہے ہیں۔ آسمان ہے جو نیلگوں سمندر کا ٹکڑا لگتا ہے۔ زمین ہے جو چاندی کا تھال نظر آتی ہے۔ وہ اشعار یاد آ گئے جو ایک چاندنی رات میں، تاشقند، برف پہنے درختوں کے درمیان چہل قدمی کرتے کہے تھے ؎ شبیں تھیں اطلس کی، دن تھے سونے کے تار جیسے بہشت اترا ہوا تھا جیحوں کے پار جیسے گلاب سے آگ، آگ سے پیاس بجھ رہی تھی زمیں وہاں کی فلک، فلک تھے ہزار جیسے رات کو چاند نکلا ہو تو ایبٹ آباد کی شاہراہوں پر گھوم کر دیکھو، پہاڑوں پر بنے اونچے مکانوں کی روشنیاں جھک جھک کر چاند کو سلام کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ چلتے جائو۔ انہی راستوں پر را کا پوشی اور کے ٹو کی شہزادیاں آسمان سے خراج حسن لیتی ملیں گی۔ یہیں سے وہ شاہراہ پھوٹتی ہے جو سیب اور خوبانی کے باغوں کو جاتی ہے۔ جہاں شہتوت اور شفتالو کے درختوں کے جھنڈ ہیں۔ جہاں تاکستان ہیں۔ جہاں پیڑوں کی ٹہنیاں بادام اور اخروٹ سے لدی ہیں۔ آہ! ہم تو اس نعمت سے فائدہ ہی نہ اٹھا سکے۔ ہم نے سیاحت کا محکمہ ہمیشہ سفارشی اور سیاسی مگرمچھوں کے مکروہ دہانوں میں ڈالا اور نقصان اٹھایا۔ ہم نے سیاحوں کے لیے سہولیات نہ مہیا کیں۔ انفراسٹرکچر صفر سے بھی نیچے ہے۔ مگر یہ مرثیہ خوانی پھر کبھی۔ اس وقت تو سامنے ایبٹ آباد ہے اور اس کی حیرت زدہ کرتی تاثیر۔ ایبٹ آباد میں شاعر، دانشور اور ماہر تعلیم واحد سراج ہے۔ ساری زندگی تعلیم اور طلبہ کی خدمت میں گزار دی۔ دونوں میاں بیوی، امریکہ سے اور نہ جانے کہاں کہاں سے پڑھ کر، پڑھا کر اور تربیت لے کر اور دے کر، ایبٹ آباد میں ملک کا بہترین تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ کتنے ہی نادار لائق طلبہ ان کی فیاضی سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ پھر اپنی عمارتوں کو اور بڑے بڑے ہال نما کمروں کو ادیبوں اور شاعروں کے اجتماعات کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ فضل تو خدا کا ہن کی طرح بہت سوں پر برستا ہے مگر اس فضل کو آگے بانٹنا کم ہی ثروت مندوں کے حصے میں آتا ہے۔ واحد سراج خوش بخت ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی سرپرستی کر رہا ہے۔ ایبٹ آباد میں احمد حسن مجاہد ہے۔ شاعر اور دوستوں کا دوست۔ بالا کوٹ 2005ء کے زلزلے میں برباد ہوا تو اس کی تباہی پر اور اس کی بحالی کے لیے جمع ہونے والی امداد کے ساتھ ہونے والی بددیانتی پر پوری کتاب لکھی۔ اب ’’رموز شعر‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جو عروض اور شعری گرامر پر سند کا درجہ رکھتی ہے اور آنے والے تحقیقی حوالوں میں اس کا مذکور ہوگا۔ ایبٹ آباد میں ادیبوں اور شاعروں کی پوری کہکشاں ہے جس نے ہزارہ کے جغرافیائی حسن کو معنوی خوبصورتی سے بھی مالا مال کر رکھا ہے۔ محمد حنیف، میجر امان اللہ، امتیاز احمد امتیاز، ڈاکٹر ضیاء الرشید، پرویز ساحر، نسیم عباسی، سفیان صفی، شعیب آفریدی اور عامر سہیل ان میں سے صرف چند ہیں۔ بزرگ شاعر سلطان سکون اب صاحب فراش ہیں اور ہمارا یار شاعر خوش بیان خالد خواجہ کبھی امریکہ میں ہے اور کبھی ایبٹ آباد کے مرغزار میں۔ اور ہاں! رستم نامی بھی تو اسی شہر کا مکین ہے۔ حادثے میں جوان بیٹا شہید ہوا اور خود ایک ٹانگ سے محروم۔ کیا شعر کہا ہے ظالم نے ؎ وہ بچھڑ جائے گا ہم سے ایک دن ایک دن اس کا جہاز آ جائے گا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *