• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چاہت مصطفیٰ۔۔سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔حافظ کریم اللہ

چاہت مصطفیٰ۔۔سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔حافظ کریم اللہ

SHOPPING

جس نے حق کربلامیں اداکردیا اپنے ناناکاوعدہ وفاکردیا
گھرکاگھرسب سپردخداکردیا کرلیانوش شہادت کاجام
اس حسین ابن حیدرؓپہ لاکھوں سلام

ارشادباری تعالیٰ ہے۔”اور(وہ وقت یادکرو)جب ابراہیمؑ کوان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایاتوانہوں نے وہ پوری کردیں (اس پر)اللہ پاک نے فرمایا”میں تمہیں لوگوں کاپیشوابناؤں گاانہوں نے عرض کیا(کیا)میری اولادمیں سے بھی؟ارشادہوا(ہاں مگر)میراوعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتا۔(البقرہ ۴۲۱)اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اپنے اولی العزم اوربزرگ پیغمبرحضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کومختلف آزمائشوں میں مبتلاکرنے اوران سے کامیابی سے گزرنے اورپھراس پرانعام کاتذکرہ فرمایاہے جولوگ آزمائش سے بھاگ جاتے ہیں وہ پست رہتے ہیں اورجولوگ آزمائش کوسینے سے لگاتے ہیں وہ عظیم ہوجاتے ہیں آزمائش ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی آزمائش میں ڈالابھی اسی کوجاتاہے جس سے اللہ پاک کوپیارہوتاہے اوروہ اپنے محبوب بندوں کوآزمائش میں ڈالتاہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پیارکیااوراس پیارکے نتیجے میں انہیں آزمائش میں ڈالااوروہ ہرآزمائش میں سُرخرو رہے سلسلہ آزمائش جوحضرت ابراہیم علیہ السلام سے شرو ع ہواتھاحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرآکرختم ہوا۔

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت باسعادت5 شعبان ہجرت کے چوتھے سال ہوئی سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم تشریف لائے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کان میں اذان کہی دعافرمائی اورآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ”حسین“نام رکھاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام رکھنے کی روایت یوں ہے حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ جب امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیداہوئے توان کانام حمزہ رکھااورجب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیداہوئے توان کانام ان کے چچاکے نام پرجعفر رکھا (حضرت علی المرتضی شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں)مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے بلاکرفرمایامجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کاحکم دیاگیاہے (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا ”اللہ اوراس کا رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم بہترجانتے ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ان کا نام”حسن وحسین“رضی اللہ تعالیٰ عنہمارکھے۔(مسنداحمدبن حنبل) حدیث مبارکہ میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا”کہ مجھے حکم آیاہے کہ میں دونوں نام بدل دوں اس کامطلب یہ ہواکہ ولادت کے ساتھ ہی امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا معاملہ زمینی نہ رہانام تک بھی زمینی رکھنے کی اجازت نہ ہوئی بلکہ نام بھی آسمان سے بھیجے گئے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودنیاکے پیمانوں پرتولنے والو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام بھی دنیاسے نہیں آیابلکہ آسمانوں سے بھیجاگیا۔حضرت عمران بن سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حسن اور حسین اہل جنت کے ناموں میں سے دونام ہیں جو کہ زمانہ جاہلیت میں کسی کے نام نہیں رکھے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے حسن اورحسین کے نام چھپا رکھے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے نواسوں کے نام”حسن اورحسین“رضی اللہ تعالیٰ عنہما رکھے۔پانچ سوسال کے پورے عرصہ میں کسی بچے کانام حسن وحسین نہیں رکھاگیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی محبت کی خاطراللہ پاک کویہ گوارانہیں ہواجومصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے محبوب ہونے والے ہیں ان کانام بھی کسی اورکارکھاگیاہو۔

جنت کی زینت سیدناامام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالی عنہما
سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم خداکی چاہت اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی چاہت جوحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتکلیف دے وہ مسلمان کیسے رہ سکتاہے حسن وحسین جنت کے دوستون ہیں حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاحسن اورحسین عرش کے دوستون ہیں لیکن وہ لٹکے ہوئے نہیں اورآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاجب اہل جنت جنت میں مقیم ہوجائیں گے توجنت عرض کرے گی اے پروردگارتونے مجھے اپنے ستونوں میں سے دوستونوں سے مزین کرنے کاوعدہ فرمایاتھااللہ تعالیٰ فرمائے گاکیامیں نے تجھے حسن اورحسین کی موجودگی کے ذریعے مزین نہیں کردیا(یہی تومیرے دوستون ہیں) (طبرانی،المعجم الاوسط) ایک اورحدیث پاک میں آتاہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاایک مرتبہ جنت نے دوزخ پرفخرکیا اورکہامیں تم سے بہترہوں دوزخ نے کہامیں تم سے بہترہوں جنت نے دوزخ سے پوچھا کس وجہ سے؟دوزخ نے کہا اس لیے کہ میرے اندر بڑے بڑے جابرحکمران فرعون اورنمرودہیں اس پرجنت خاموش ہوگئی اللہ پاک نے جنت کی طرف وحی کی اورفرمایاتوعاجز ولاجواب نہ ہومیں تیرے دو ستونوں کوحسن اورحسین کے ذریعے مزین کروں گاپس جنت خوشی اورسرورسے ایسے شرماگئی جیسے دلہن شرماتی ہے۔ (طبرانی المعجم الاوسط)جنت حسن اورحسین کے نام پرفخرکرتی ہے اوردوزخ کومخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اے دوزخ حسن اورحسین میرے پا س ہیں اس لئے میں بہترہوں۔

آقاﷺکی بارگاہ میں حسنین کریمین کامقام محبوبیت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتاہوں کہ ہم حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے ساتھ (سفرمیں)نکلے ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی آوازسنی دونوں رورہے تھے اوردونوں اپنی والدہ ماجدہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاکے پاس تھے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ان کے پاس تیزی سے پہنچے راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوسیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاسے یہ فرماتے ہوئے سنامیرے بیٹوں کو کیاہواکیوں رورہے ہیں؟ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھانے بتایاانہیں سخت پیاس لگی ہے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم پانی لینے کے لئے مشکیزے کی طرف بڑھے ان دنوں پانی کی سخت قلت تھی اورلوگوں کوپانی کی شدیدضرورت تھی آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے لوگوں کوآوازدی کیاکسی کے پا س پانی ہے؟ہر ایک نے کجاؤں سے لٹکتے ہوئے مشکیزوں میں پانی دیکھامگران کوقطرہ تک نہ ملاآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے سیدہ فاطمہ الزہراسلام اللہ علیھاسے فرمایاایک بچہ مجھے دیں انہوں نے ایک پردے کے نیچے سے دے دیاپس آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسکوپکڑکراپنے سینہ مبارک سے لگایامگروہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رورہاتھااورخاموش نہیں ہورہاتھا

پس آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اس کے منہ میں اپنی زبان مبارک ڈال دی وہ اُسے چوسنے لگاحتیٰ کہ سیرابی کی وجہ سے سکون میں آگیامیں نے دوبارہ اس کے رونے کی آوازنہ سنی جب کہ دوسرابھی اسی طرح(مسلسل رورہاتھا)پس حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایادوسرابھی مجھے دے دیں توسیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھانے دوسرے کوبھی حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے حوالے کردیاحضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اس سے بھی وہی معاملہ کیا(یعنی زبان مبارک اس کے منہ میں ڈالی)سووہ دونوں ایسے خاموش ہوئے کہ میں نے دوبارہ ان کے رونے کی آوازنہ سنی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں تشریف لائے کہ ایک کاندھے پرحضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورایک کاندھے پرحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کبھی حضرت امام حسنرضی اللہ تعالیٰ عنہ کوچومتے تھے اورکبھی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے  عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم”آپ ان دونوں کوبہت محبوب رکھتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاجس نے ان دونوں کومحبوب رکھابیشک اس نے مجھے محبوب رکھااور جس نے ان دونوں سے بغض رکھااس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھا۔(البدایہ والنہایہ)حضرت سعدبن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوااس وقت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپکی پشت مبارک پرکھیل رہے تھے “میں نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کیاآپ ان دونوں سے بہت محبت ر کھتے ہیں فرمایاکیوں نہ محبت رکھوں جبکہ یہ دونوں دنیامیں میرے پھول ہیں۔(کنزالعمال)حضرت زیدبن ابی زیادرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا کے گھرکے دروازے کے پاس سے گزرے اورحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رونے کی آوازسنی توآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا!بیٹی اسکورونے نہ دیاکروکیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسکے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔(نورالابصار)

حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات کسی کام کے سلسلے میں آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہواآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اس حالت میں باہرآئے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے پاس کوئی چیزکپڑے میں لپیٹی ہوئی تھی میں نے عرض کیااے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم یہ کیاہے؟پس آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے کپڑااٹھایا وہ سیدناحضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے فرمایایہ دونوں میرے اورمیری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ میں ان کومحبوب رکھتاہوں توبھی ان کومحبوب رکھ اورجوشخص ان کومحبوب رکھے تواسکوبھی محبوب رکھ۔(کنزالعمال)حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے سناکہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم فرماتے تھے کہ سیدناحضرت امام حسن و سیدناحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ دونوں میرے بیٹے ہیں جس نے ان دونوں کومحبوب رکھااس نے مجھ کومحبوب رکھا اورجس نے مجھ کومحبوب رکھااس نے اللہ پاک کومحبوب رکھا اورجس نے اللہ پاک کومحبوب رکھااللہ پاک نے اس کوجنت میں داخل کیااور جس نے ان دونوں سے بغض رکھااس نے مجھ سے بغض رکھااور جس نے مجھ سے بغض رکھااس نے اللہ پاک سے بغض رکھااورجس نے اللہ پاک سے بغض رکھااللہ پاک نے اسکودوزخ میں داخل کیا۔

حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہواآپ نے حضرت امام حسن وحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کواپنی پشت پربٹھایاہوا تھااورآپ دونوں ہاتھوں دونوں گھٹنوں پرچل رہے تھے تومیں نے کہا(اے شہزادو) تمہاری سواری کتنی اچھی ہے؟توآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاسوار بھی بہت اچھے ہیں۔(کنزالعمال،البدایہ والنہایہ)حضرت یعلیٰ بن مرُّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلمنے فرمایا”(سیدناامام) حسین مجھ سے ہے اورمیں (سیدناامام)حسین سے ہوں جو (سیدناامام) حسین کومحبوب رکھتاہے وہ اللہ کومحبوب رکھتاہے حسین فرزندوں میں سے ایک فرزندہے۔(ترمذی،مشکوٰۃ)حضرت حذیفہ الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک دن حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوبہت مسرور دیکھاتوعرض کیا۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!آج ہم آپ کوبہت مسرور و خوش دیکھتے ہیں رحمت دو عالم نورِمجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلمنے فرمایا”میں کیوں نہ خوش ہوں جبکہ جبریل امینؑ میرے پاس آئے ہیں اورانہوں نے مجھے بشارت دی ہے کہ بلاشبہ حضرت امام حسن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اوران کاباپ ان سے بھی افضل ہے۔(کنزالعمال)

فرمان رسول ﷺمیرے ماں باپ حسنین پرقربان

SHOPPING

حضرت زربن حیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ”ہم نے ایک روزدیکھاسجدے میں شہزادے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے کندھوں پرچڑھ جاتے ہیں۔۔پھرآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی پشت مبارک سے اترآتے ہیں۔۔۔۔ساری نمازمیں یہی کیفیت رہی۔۔۔۔کچھ لوگ جنہیں معلوم نہ تھاکہ شہزادے حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے کندھوں پر روزانہ چڑھتے ہیں انہوں نے اشاروں سے شہزادوں کوروکناچاہاحضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایامیری نمازکے دوران میرے سجدوں میں حسن وحسین کندھوں پرچڑھیں یامیری گودمیں بیٹھیں انہیں کوئی منع نہ کرے دعوھمابابی وامیانہیں چھوڑدو (یعنی سوارہونے دو)میرے ماں باپ ان پرقربان ہوں (بیہقی،السنن الکبریٰ)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ خداکی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں ہماری جان ہے ہم نے اپنے کانوں سے سناکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاسے مخاطب تھے وہ نبی جسے ہرکوئی حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم میرے ماں باپ”آپ“ پرقربان ہوں کہہ کرپکارتاہے خداکی قسم ہم نے سناحضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیھاسے بات کی توفرمایا”میری فاطمہ میرے ماں باپ تجھ پرقربان “۔اورآج فرمارہے ہیں حسن وحسین میرے ماں باپ تجھ پرقربان۔آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اللہ پاک کے پیغمبرہیں نمازمیں آئیں توشہزادوں کوکندھوں پربٹھالیں خداجانے اس محبت کاعالم کیاہے جن کے قد م چومنے کوعرش ترستاہے،جن کااستقبال اللہ پاک قاب قوسین پروہ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم باہرسے نکلتے ہیں توحسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے کندھوں پرسوارہوتے ہیں۔حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکوحضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے کندھوں پرسواردیکھا توحسرت بھرے لہجے میں کہاکہ آپ کے نیچے کتنی اچھی سواری ہے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاذرایہ بھی تودیکھوکہ سوارکتنے اچھے ہیں۔اللہ پاک اپنی رحمت کے صدقے،نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اورنواسہ  ء  رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے صدقے ہمارے گناہ معاف فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین!

SHOPPING

Avatar
حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *