عدلیہ ، ڈیم، حکومت اور سیاست۔۔۔۔عبید اللہ چوہدری

ڈیم بنانے کے معاملے پر فوج، حکومت، بڑی سیاسی جماعتیں اور ساری ریاستی مشینری قاضی اعلی عزت مآب جناب ثاقب نثار کے ساتھ ہے۔ میڈیا بھی دن میں کئی بار ڈیم کے اشتہار چلاتا ہے تو پھر ڈیم بنانے کا مخالف کون ہے؟ جس کو آپ آرٹیکل 6 کی دھمکی لگا رہے ہیں ؟ جان کی امان  ہو تو عرض کیا ہے!

شرم ،دہشت،۔ جھجک، پریشانی، ناز سے کام کیوں نہیں لیتے
آپ ،وہ، جی، مگر یہ سب کیا ہے؟ تم میرا نام کیوں نہیں لیتے

آپ کا اشارہ غالبا ً سوشل میڈیا کے “ نافرمان اور بھٹکے ہوئے چند پاگلوں “ کی طرف ہے۔ حضور اعلی ہم خود ہی ہمت کر کے کچھ سوال اٹھا رہے ہیں اور ایک دو وضاحت بھی کر رہے ہیں تاکہ سند رہے اور باوقت ضرورت کام آئے۔

وضاحت یہ ہے کہ ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میں اور میرے جیسے کچھ نا فرمان شہری پاکستان میں پانی کے تحفظ ، کفایت شعاری اور چھوٹے بڑے بے شمار ڈیم بنانے کے نا صرف حمایتی ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ یہ ڈیم کل کے بنتے آج بنیں۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات بھی نہیں ہو سکتی کہ سب صاحب اقتدار بھی ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہیں۔

اب پھر وجہ اختلاف کیا ہے؟

1- ڈیم بنانا حکومت اور انتظامیہ کا کام ہے عدلیہ کا نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ حکومت سازی عوام کا کام ہوتا ہے فوج کا نہیں۔ کیا ہم غلط ہیں؟

2- بڑے منصوبوں کیلئے حکومت سرمائے کا انتظام کرتی ہے۔ مال داروں پر تگڑا ٹیکس لگا کر۔ بچت کر کے اور یا پھر عوام یا بینکوں سے سرمایہ لے کر۔ چندہ اکھٹا کر کے 1500 ارب روپے اکھٹا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ ایک پبلک سیکٹر کمپنی بنا کر عوام کو شئیر فروخت کر کے بھی کافی رقم اکھٹی کی جا سکتی ہے۔ نیت ٹھیک مگر طریقہ کار ایسا کہ ناکامی یقینی اور آئندہ کیلئے عوام کا اعتبار ہمیشہ کیلیے کھو دینا۔ ریاست اور عوام میں اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے وہ ہی کمزور پڑ گیا تو روس بھی نہ  بچ سکا تھا اور ہم ! کیا ہمارا خدشہ بے معنی ہے؟ ۔۔۔۔ خیر!

3- آپ مقدمات میں ملزمان کو سزا سنا رہے ہیں کہ ڈیم فنڈ میں اتنا چندہ جمع کروا دو۔ حضور یہ عدالتی بھتہ ہے۔ اور ہم نہیں چاہتے کہ ہماری عدلیہ بھتہ خور کہلائے۔ یہ عدلیہ کے خیر خوا ہی نہیں تو اور کیا ہے؟

4- آپ خود اٹھ کر جائے واردات پر پہنچ جاتے ہیں۔ کٹاس راج کا تالاب آپ نے دیکھ تو لیا مگر یہ عدلیہ کا کام بلکل بھی نہیں کہ وہ کبھی حکومت بن جائے اور کبھی خود ہی تفتیشی ادارہ بن جائے۔ حضور آپ کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر آپ کے اس اقدام سے ادارے مضبوط نہیں بلکہ اور کمزور ہو رہے ہیں۔ آپ حکومت وقت کو کٹہرے میں کھڑا کریں اور اسے کہیں کہ وہ اپنے اداروں کے ذریعے کام کروائے۔ کیا یہ مطالبہ ناجائز ہے؟

آپ کو سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے ان سوالات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو آپ کی درست راہنمائی کرتے ہیں۔ آپ قاضی اعلی بھی ہیں اور بادشاہ وقت بھی۔ آگے آپ کی مرضی ۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ یاد رہے وقت سب سے بڑا جج ہوتا ہے۔ آپ سے پہلے بھی اس کرسی پر اک قاضی براجمان تھا؟ اور پھر کیا ہوا؟

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *