انوشکا شرما کا خصوصی انٹرویو۔۔۔ ریحان خان

انوشکا شرما ان دنوں یش راج فلمز کے بینر تلے شرت کٹاریہ کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم “سوئی دھاگہ” کی تشہیر میں مصروف ہیں جس میں وہ ایک گاؤں کی عام خاتون کا کردار ادا کررہی ہیں۔ ہینڈ کرافٹ انڈسٹری پر مبنی اس فلم میں ورون دھون انوشکا شرما کے معاون ہیں۔ فلم کے پروموشن کے دوران یش راج اسٹوڈیو میں انوشکا شرما سے ہوئی گفتگو!

سوال: آپ اپنی ہر فلم کے ساتھ بہتر ہوتی جارہی ہیں، سوئی دھاگہ کے ٹریلر میں آپ بالکل فطری معلوم ہورہی ہیں۔
انوشکا: میں اس لحاظ سے خود کو بہت خوش قسمت تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے مختلف طرح کے کردار پیش کئے گئے ہیں، طرح طرح کے مواقع مل رہے ہیں، میری کوشش رہتی ہے میں خود کو ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے چیلنج کروں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سوئی دھاگہ کے ٹریلر میں مجھے بھرپور توجہ حاصل ہوئی ہے۔

سوال : انوشکا یہ بتائیں کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے چٹکلے آپ تک پہنچتے ہیں، جس میں آپ کی تصویروں کو ٹرول کیا جارہا ہے۔
انوشکا: (ہنستے ہوئے) مجھے لگتا ہے کہ ان سب کیلئے یش راج کی جانب سے مجھے ایک علیحدہ چیک دیا جانا چاہیے۔ ورون اور فلم یونٹ کو جب بھی کوئی نیا میم ملتا ہے وہ سب سے پہلے مجھے فارورڈ کرتے ہیں، میں انہیں تسلیم بھی کرتی ہوں اور اس پر رائے بھی دیتی ہوں۔ مجھے سب سے اچھا میم وہ لگا ہے جس میں مجھے ہندوستانی پرچم تھامے ہوئے بتایا گیا ہے۔ لیکن اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہماری فلم عوامی توجہ حاصل کررہی ہے۔

سوال: فلم میں آپ ممتا بنی ہیں اور ورون موجی، ٹریلر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلم کا مرکزی کردار ممتا ہے، کیا آپ نے بھی یہی محسوس کیا ہے؟
انوشکا: آپ فلم کے نام پر غور کریں، سوئی دھاگہ ایک دوسرے کے بغیر بے معنی ہیں، تو فلم میں موجی کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ممتا کا کردار اہم ہے۔ ممتا اور موجی سوئی دھاگہ ہی ہیں، ایک بنا دوسرا ادھورا ہے۔ ہماری فلم ممتا کے دماغ اور موجی کے ہنر کا احاطہ کرتی ہے۔

سوال: ٹریلر میں آپ ورون کو لیڈ کرتی نظر آرہی ہیں، کیا آپ حقیقی زندگی میں ایسا محسوس کرتی ہیں کہ کوئی عورت ہی فیملی کی باس ہوتی ہے؟
انوشکا : جی نہیں، حقیقی زندگی کے بارے میں ایسا نہیں کہا جاسکتا، ہم فلم کی بات کریں تو موجی کا کردار ایسا ہے کہ اسے رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ موجی آرٹسٹ ہے لیکن اس کے پاس کاروباری دماغ نہیں ہے اس مرحلے میں ممتا اس کی رہنمائی کرتی ہے جبکہ حقیقی زندگی میں باہمی افہام و تفہیم سے معاملہ چلتا ہے۔

سوال: کریئر میں پہلی بار آپ نے کسی دیہاتی خاتون کا کردار نبھایا ہے، اتنی فطری اداکاری کس طرح ممکن ہوسکی ہے؟
انوشکا : اس دوران میں نے حتی الامکان کوشش کی کہ خود کو اپنے سرکل سے الگ کرلوں، فلم کیلئے ہم دو ماہ چندیری میں رہے۔ وہاں کی خواتین کو اور ان کے طرز زندگی کو دیکھا۔ اس دوران میں اور ورون کرداروں کے گیٹ اپ میں چندیری کی سڑکوں پر نکل گئے اور خوشی ہوئی کہ کسی نے ہمیں پہچانا نہیں، مکالموں کی ادائیگی کیلئے بھی ہم نے خصوصی ٹرینر رکھا تھا جس نے ہمیں دہلی ہریانہ بارڈر پر رائج زبان اور لہجے کی مشق کرائی۔ اس کے علاوہ فلم کی کاسٹیوم ٹیم نے ہمارے کرداروں کو فطری رنگ دینے میں بہت معاونت کی۔

سوال : ورون کے ساتھ سائیکل پر بیٹھنے کا تجربہ کیسا تھا، ورون نے بتایا کہ انہوں نے آپ کو سائیکل سے گرا دیا تھا۔
انوشکا : سب سے پہلے تو میں ورون کا شکریہ ادا کروں گی کہ اس نے مجھے صرف ایک بار ہی گرایا، مجھے اس کے ساتھ سائیکل پر بیٹھنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ سین ایسا تھا کہ ہم سائیکل سے گزر رہے ہیں لیکن ورون نے بیلنس کھو دیا اور ہم گر گئے، پھر ہدایتکار نے سائیکل سے گرنے کا سین ہی فلم میں شامل کرلیا کہ وہ فطری تھا۔ اس وقت مجھے چوٹ بھی لگی جس نے بعد میں شدت اختیار کی۔

سوال: آپ نے زیادہ فلمیں یش راج کے ساتھ کی ہیں اور آپ لانچ بھی یہیں سے ہوئی تھیں، کیا آپ یہاں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔
انوشکا : میں خود کو یہاں محفوظ سمجھتی ہوں کیونکہ ادتیہ چوپڑا جانتے ہیں میں کیسی فلمیں کرنا چاہتی ہوں اس لئے انہوں نے ‘سلطان’ اور ‘سوئی دھاگہ’ جیسی کہانیاں مجھے دکھائی۔ اس کے علاوہ میں نے خود کو یش راج سے الگ نہیں کیا، میرا خود پروڈکشن ہاؤس ہے لیکن میرے پبلک ریلیشنز یش راج کے توسط سے ہی ہیں۔

سوال : آپ کامیابی اور ناکامی کو کس طرح دیکھتی ہیں؟
انوشکا: کامیابی اور ناکامی کی اہمیت ہوتی ہے لیکن میں اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیتی، ‘سلطان’ اور ‘پی کے’ بہت بڑی ہٹ ہوئی تھیں لیکن میں نے ان کامیابیوں کو خود پر سوار نہیں کہا، وہی جب ‘ہیری میٹ سجل’ توقعات کے برخلاف فلاپ ہوئی تھی لیکن اس سے بھی مجھے خاص فرق نہیں پڑا۔ میں میانہ روی کی قائل ہوں اس لئے کامیابی اور ناکامی میرے لئے اتنا معنی نہیں رکھتی۔

سوال: ‘زیرو’ میں ایک مرتبہ پھر سے آپ شاہ رخ خان اور کترینہ کیف کے ساتھ نظر آنے والی ہیں، اس کے بارے میں کچھ بتائیں گی؟
انوشکا: اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، زیرو کے وقت بھی آپ سے ملاقات ہوگی اس وقت تفصیلی بات کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *