• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/چھٹی ،آخری قسط

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔محمد اقبال دیوان/چھٹی ،آخری قسط

عمران۔تقابل۔ مشورے  تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا مضمون ۔
اقبال دیوان ہمارے مومن مبتلا، فقیر راہ گزر ہیں، نہ کسی کی راستہ روکتے ہیں ۔نہ کسی کا دامن تھامتے ہیں۔
وما علینا الاالبلاغ ا ل مبین کہ(سورہ یٰسین کی مشہور ترین آیت کہ ہمارا کام تو سچا صاف پیغام پہنچا دینا ہے) شہرت اور ہوس مال و منام سے بے نیاز ہیں۔طاہر ہ سید جب بہت اچھی لگتی تھیں تب بھی وہ بس من دی موج مویا ہنسنا کھیڈنا سنتے تھے اب بھی وہ یہی ایک گیت سنتے ہیں بس اس اضافے کے ساتھ کہ اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا، راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی سمجھتے ہیں۔ طے کر بیٹھے ہیں کہ جہاں جسٹن بی بیر،زین ملک اور جیکی راؤلنگ جیسے بھیڑ کھینچو(Crowd -Puller)موجود ہوں وہاں ان جیسے پل دو پل کے شاعرقسم کے کالم لکھنے والے کی کیا بساط)۔سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
: ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
چھٹی اور آخری قسط
فقیر محمد آف کالا باغ کو آپ سہل مت جانیں۔پھرتا ہے فلک برسوں، تب خاک سے ہوتے ہیں یہ گنج گراں مایہ پیدا۔جب جمائما نے پانامہ والے کیس سے جڑے حنیف عباسی منشیات فروش کے ریفرنس میں برطانیہ کے ایک بند بینک سے  ترسیل رقوم  کی رسیدیں بھجوائیں تو فقیر محمد کی جان میں جان آئی۔ان دنوں وہ جتنا پریشان تھا اتنا تو نعیم الحق اور عون چوہدری بھی نہ تھے۔اسی لپک جھپک میں وہ  کہیں سے انہیں رسیدوں کی طرح دفتر کے اخبارات کایہ تراشہ اٹھالایا۔ اس تراشے کی رو سے برطانوی لیبر پارٹی کے لیڈر جرمی کوربین کوپارٹی کے صدر کے طور پر ان کی پہلی اہلیہ پروفیسر جین چیپ مین نے بھی ووٹ دیا تھا۔

دنیا اخبار کا تراشا
جرمی کوربین
پروفیسر جین چیپ مین

اس کی اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہمیں قائل کرلے کہ اس کا باجی جمائما سے جو لگاؤ اور رکھ رکھاؤ والا گمان ہے، اس کی بنیاد یہ ہے کہ وہ ان رسیدوں کے حوالے سے اس کی قربانی کا دل سے قدر دان اور گرویدہ ہے۔
ہم نے فقیر محمد آف کالا باغ سے پوچھا کہ”یہ سب جنتی،فرشتہ صفت،نیک دل عورتیں یورپ اور امریکہ میں ہی کیوں پائی جاتی ہیں کہ طلاق کے بعد بھی دوست بن کے الفت کے تقاضے نبھائے چلی جاتی ہیں؟۔کہنے لگا آپ کی اور بیگم صاحبہ کی طلاق کی نوبت نہیں آئی ورنہ وہ بھی ان کے جیسی ہی نیک دل خاتون ثابت ہوتیں“۔ہم نے بیگم صاحبہ کو اس کی یہ خرافات نیویارک میں فیس ٹائم پر بتائیں تو کہنے لگیں۔”می لارڈ( جو عربی لفظ مولی انا کا انگریزی متبادل ہے  ہے یعنی میرے آقا مگر آپ کسی جج صاحب کو مولانا مت پکاریے گا۔ آجکل ڈیم اور ایان علی 25 مرتبہ کی غیر  حاضری پر وہ خوں بہ داماں ہیں۔۔ہم تو کسی ڈر کے مارے ڈیم فول تک نہیں کہتے کہ اس کا کچھ دوسرا مطلب ہی  نہ نکل آئے ورنہ ہائی کورٹ کے جج جو ہمارے ماتحت تھے ہم مولانا شاہ نواز ہی پکارا کرتے تھے) ہم دونوں آج سے گارن ٹیڈ جنتی ہوگئے۔ ۔میں نے تم سے شادی کرکے شکر کیا اور تم نے فقیر محمد آف کالا باغ کی حرکات پر صبر کیا، صبر بھی قیامت کا۔“

فقیر محمد نے ہمارے چہرے پر بے اطمینانی کے بادل منڈلاتے دیکھے تو کار کا اسٹیرنگ سنبھالنے سے پہلے ملائی والی چائے جسے سفید شٹل کاک برقعے کی نسبت سے حیدرآباد دکن میں برقعہ پوش چائے کہا جاتا ہے اس کی باقیات سے ہاتھ کی پشت سے لب صاف کیے اور کہنے لگا کہ صاحب اس کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ ہماری طرف کی عورت میاں کو اندھے کی لاٹھی سمجھ کر جو پکڑتی ہے۔اس وجہ سے اسکاپیچھاچھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

ملائی والی چائے جسےحیدراباد دکن میں برقعہ پوش چاۓ کہا جاتا ہے
سفید شٹل کاک برقع

اب میری بیوی کو ہی لے لیں گاؤں میں چینل پر احسن خان اور علی ظفر کو دیکھتی ہے۔اس کو رنبیر کپور کی فلمیں دیکھنے کا بھی بہت ہڑکا ہے مگر جب بھی گاؤں جاتا ہوں تو مجھ پچاس برس کے بوڑھے کو کہتی ہے کہ فقیر محمد رب دی سوں سوہنا تورنبیر کپور بھی ہے مگر تیرا جواب نہیں۔ہیر زندہ ہوتی تو کھیڑوں اور رانجھے کو چھوڑ میری سوکن ہوتی۔

احسن خان
علی ظفر
رنبیر کپور

عمران پر آخری قسط لکھنے کاآغاز ہماری توقع کے برخلاف پروفیسر جین چیپ مین والے واقعے سے ہوگیا۔
ہمارے محترم رضوان صاحب تو فقیر محمد کے ذکر پر ایسے جذباتی ہوگئے کہ ان کی تصویر شائع کرنے اور اُن پر ایک باقاعدہ کالم لکھنے کی فرمائش کربیٹھے ۔ہم نے انکار کیا تو بارٹر پر اتر آئے کہ فقیر محمد کی جگہ کوئی اور اہم راز اُن سے شئیر کریں۔ہم نے کہا یہ جو جمائما بی بی ہیں یہ تو اصل میں بی بی ایبی گیل کرافورڈ کی date- chaperone تھیں۔ پاکستانی مردوئے سے انہیں تنہا ڈیٹ کرنے میں کچھ دور دراز کے خدشات لاحق تھے سو یہ اپنی جوان سال سہیلی جمائما کو ساتھ لے گئیں۔اس دن وہ عمران خان کو زیادہ ہی اچھی لگ گئیں۔ایبی گیل بھی ہماری طرح کی تھیں انہوں نے جمائما کومسکرا کر کہا تسی لنگ جاؤ ساڈی خیر ہے۔یہ وجہ بنی کہ جمائما عمران میاں کے حبالہء نکاح (حبالہء۔بندھن) اور بی بی ایبی گیل نے ان کی شادی پر ڈھولک بجاکر بطور Bride’s maid   گایا بھی کہ بنے تیرے سہرے کی کلیاں نیاری۔بنے میں جاؤں واری واری۔حالانکہ عمران خان نے جمائما سے شادی کے وقت کوئی سہرا نہیں پہناتھا۔

ایبی گیل
شادی کے موقعے پر

بات ہورہی تھی انگلش Aristocracy کی خوش دل،پاکیزہ طینت بی بیوں کی۔اشرافیہ کی ان لڑکیوں کو ہمارے جیسے دیدہ وروں کی کیا کمی۔
انہی میں  سے  ایک ڈاکٹر جین گڈال تھیں،میاں کا دیہانت ہوگیا تو کہنے لگی میری ماں کی بھی توبہ کہ اب حرام ہے میں جو کسی مرد سے دل لگاؤں کم بخت ناہنجار ہر وقت کسی نہ کسی پر مرتے ہی رہتے ہیں۔اس کریا کرم اور تجہیز و تکفین سے میں تو باز آئی۔یوں بھی غالب کہتے تھے کہ دوسروں کے مرنے کا غم وہ کرے جسے خود نہ مرنا ہو۔اس فیصلے کو گلے لگا کر اس بیوگان الفت نے اگلے 55 برس چمپینزیوں میں گزاردیے۔

ڈاکٹر جین گڈال اور چمپانزی

کولمبیا یونی ورسٹی امریکہ میں ڈاکٹر صاحبہ کے  چمپینزیوں کے بود و باش والے پر مغز اور مشاہدات سے لدے پھندے لیکچر میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔دیر سے آنے والے پروفیسر طالب علم فرش پر بیٹھے تھے۔ آغاز میں ڈراؤنا منظر اور ماحول بنانے کے لیے بتیاں بجھادی گئیں ۔صرف ڈاکٹر صاحبہ پر اسپاٹ لائٹ مرکوز رہی۔انہوں نے کہا وہ سامعین کو ایسے ہی خوش آمدید کہیں گی جیسے چمپینزی ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے باقاعدہ بندروں کی آوازیں  نکالیں  نکالیں جس پر بھرا پرا ہال ان کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔۔ لیکچر والی یہ فلم دیکھنے کے لائق ہے۔ آپ ضرور دیکھیے  گا۔ایک درخواست اور بھی ہے کہ معدوم ہوتے کلچر کی جو بھی علامات دکھائی دیں ان کو کیمرے سے محفوظ کرکے انٹرنیٹ پر ضرور ڈال دیں۔ہمیں بہت ساری تصاویر بہت کم تعداد میں  ملتی ہیں۔

آپ نے غور کیا ہم نے ابھی تک ڈھنگ سے عمران کا ذکر بھی شروع نہیں کیا اور آپ کی جان بھی نہیں چھوڑی حالانکہ ساڑھے چھ سو الفاظ ہوگئے ہیں۔یہ بیوروکریسی اور افتخار عارف کا فن ہے کہ ع
اسی کو بات نہ پہنچے کہ جس کو پہنچنی ہو
یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

اسے آپ چال بازی نہ سمجھیں۔ یہ کوتاہی ہم نے خود اس لیے ظاہر کردی ہے کہ ہمارے ایک قاری محسن اعوان تو ایسے ہیں کہ اے ٹی ایم سے سو روپے رقم نکال کر اس کے سوراخ میں بھی انگلیاں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ کہیں دس روپے کا نوٹ تو پھنس کر نہیں رہ گیا۔
سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ہمارے کمرے میں ایک کتبہ انتباہ لگا رہتا تھا۔اس پر درج تھا کہ اگر کسی کو برباد کرنا ہو تو جوا اس کا تیز ترین ،عورتیں اس کا حسین ترین اور بیورکریسی اس کا یقینی ذریعہ ہے۔

ایسا ہی عالم عمران خان کا ہے کہ ان کے ساتھ بھی بیوروکریسی کے ایسے پیران تسمہ  پاجنہیں کمپیوٹر کے Trojan horse کہنا زیادہ درست ہوگا۔ وہ سسٹم میں گھس گئے ہیں ۔صاحب تو ایسے ہیں کہ ہیں کہ ان کے مکتب تجارت کے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ یہ آپ کے عمران نے کس کو مشاورت پر رکھ لیا ہمارے نیویارک میں ڈائنا سورس کے ڈھانچے تو میوزیم میں رکھے جاتے ہیں۔آپ نے وزیر اعظم ہاؤس میں رکھ لیا۔ہم نے کہا وہ خود بھی وزیر اعظم میٹریل ہیں ہر دفعہ نگراں وزرائے اعظم کی دوڑ  میں شامل ہوتے ہیں۔کہنے لگے وہ اتنا ہی وزیر اعظم میٹریل ہیں جتنا ادکارہ میرا دلہن اور بیگم میٹریل ہیں۔آپ بتائیں کہ مہاجر ہی مہاجروں کے  بارے میں ایسے کمینے تبصرے کریں تو ہم میمن تو تین میں نہ تیرہ میں۔

ڈائنو سار کا ڈھانچہ

امیر مقام جن کا مرتبہ اور شہرت بیوروکریسی کے بابا فوجاسنگھ جیسی ہے۔ان کی میراتھن دوڑ میں شمولیت محض اہتمام حجت کے لیے ہوتی ہے سب ہی کو مشورے دیتے ہیں کہ بیورکریسی کو کیسے ٹھیک کیا جائے اب ان کی کتاب پڑھیں تو لگتا ہے کہ وہ تو شاہنامہء شہباز شریف ہے۔ ان کی کتاب پڑھ کر تو رؤف کلاسرا کو لگا کہ کیا چین، کیا ہند، کیا سنگاپور،سبھی زینب اور ماڈل ٹاؤن کی درندگی کو نظر انداز کرکے ان سے آداب حکومت سیکھنے کو پاگل ہوئے جاتے تھے۔

فوجا سنگھ
شاہنامہ شہباز شریف
شاہ نامہء عشرت

اسی برس کے ہو چلے ہیں۔ ہمیں ان سے کیا گلہ۔ ہماری تو دعا ہے کہ اللہ انہیں سرکار سے دور رکھ کر اور طویل عمر دے۔افسر شاہی کو اصلاحات کا میر المدام(دائمی مرکز توجہ)کے طور پر ان کا نام سنا تو تلک گئے(پنجابی میں کسی پلو یا اسٹریپ کا کھسک جانا)۔ان کے آئی۔ بی۔ اے کے ستائے ہوئے ایک استاد کہنے لگے یہ آپ کے ڈاکٹر عشرت حسین اس بوڑھی بیوہ پھوپھی کی طرح ہیں جنہیں اپنی واکنگ اسٹک ڈھونڈنے میں آدھا گھنٹا لگ جاتا ہو مگر جنہیں عمران نے ڈی ایم جی کی جواں سال بھتیجیوں بھانجیوں کے ساتھ فارم ہاؤس کی پارٹی میں بطور محافظ بھیج دیا گیا ہو۔یہ استاد مہاجر نہیں اسی لیے انہوں نے عمران خان کی کابینہ کے ایک اور وزیر پر بھی بہت رکیک حملہ کیا کہ وزیر صاحب کو آئی ٹی کا شعبہ دیا گیا ہے اب انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اتنی ہی آتی ہے جتنی بل گیٹس کو پنجابی آتی ہے۔

ڈاکٹر عشرت حسین
فارم ہائوس پارٹی

پی ٹی آئی کی حکومت میں جو Services Reforms ہونی ہیں اس پر ڈی ایم جی گزیدہ اظہار الحق نے وہی تبصرہ کیا ہے کہ یہ اصلاحاتOf the DMGFor the DMG.By the DMG, ہوں گی سو میڈیا والے انہیں روزانہ کی بنیاد پر قتیل شفائی مرحوم کے الفاظ میں سمجھاتے رہتے ہیں کہ
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو

اب یہ ڈی ایم جی کی اہلیت اور قابلیت کا سن لیں۔۔
بھوتنی کی اولاد صبا لندن سے یہاں آگئی۔ہماری  ادھار دی ہوئی سرکاری گاڑی میں اور چیتے چالباز ڈرائیور کے ساتھ نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ اسے کوئی سندھ سیکرٹریٹ میں گھسنے دیتا۔ارے نہیں یہ وہ فقیر محمد آف کالا باغ ڈرائیور نہیں۔وہ تو کم بخت تین پولیس والے ایک جگہ دیکھے گا تو بلادھڑک گاڑی موڑ لے گا کہ پولیس مقابلہ جاری ہے۔حکم ہے کہ پویس روکے تو رک  جاؤ۔یاد کچھ رہتا نہیں ایک دن ایسے ناکے پر رکا تو ایک پھول کے گٹکا چباتے سندھی اے ایس آئی پوچھنے لگے”کون ہے اڑے ے بابا تم؟“ تو کہنے لگا پیچھے ایف۔ بی ۔آئی  دے بریگڈیئر صاحب بیٹھے نے اوناں کولوں پوچھ لو۔اب یہ پولیس والے تو بے چارے اتنے اچھے ہیں کہ یہ یونٹ انچارج اور سیکٹر کمانڈر سے ڈرتے ہیں چہ جائیکہ ایف۔ بی آ۔ئی دے بریگڈیئر صاحب۔ کراچی پیسے کمانے آئے ہیں۔ یہ ہی ان کا دوبئی اور سعودیہ ہے سو انہیں لگا کہ فقیر محمد سے مزید سوال جواب مبادا انہیں کسی نامعلوم مقام پر نہ منتقل کردے سو انہوں نے کہا وہ بات یہ ہے کہ یہاں سے ابھی رحمان ملک وزیر داخلہ کی سواری نے گزرنا ہے۔غیر سرکاری روٹ لگا ہے۔

سندھ سیکرٹیریٹ

صبا بالوں کی اسٹریک اور میک اپ سے بے نیاز عورت ہے۔سندھی اجرک کے کرتے،گلے میں مالا،امریکہ میں Corporate Merger کی چیندہ وکیل ہے۔پچھلے دنوں  یہاں یورپ کی دو بڑی ایرلائنوں کو کھنڈ کھیر (سندھی میں دودھ چینی کا ملاپ) کرکے آئی تھی۔ہم نے چھیڑا کہ ہماری سرکاری گاڑی اور ڈرائیور نہ ہوتے تو اسے سیکرٹیریٹ کے دروازے سے بھی کوئی آگے نہ بڑھنے دیتا۔وہ ہنسنے لگی کہ میں ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ  بنادوں جس میں آپ کے محبوب رہنما خادم  حسین رضوی ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کے نئے سربراہ اور آپ کے چیف سیکرٹری ڈاکٹر طاہر القادری کی جگہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ مقرر ہوجائیں گے تو مان لو گے۔وہ کہہ رہی تھی جو بیوروکریسی اپنے دفتر کے باہر پارکنگ ٹھیک نہیں کراسکتی وہ ملک اور صوبے کو  کیا ٹھیک رکھے گی۔

جناب عالی یہ ہے آپ کی ڈی ایم جی اور یہ ہیں اس کا معیار صلاحیت۔ع۔تم کو نہ ہو خیال تو ہم کیا جواب دیں۔ہم بھی آپ کے فوکس کا امتحان لے رہے تھے کہ دیکھیں دنیا کی بھیڑ میں آپ کو اسلام آباد کے کوفے میں گھرا وہ عمران خان کب یاد آتا ہے۔

دو قصے اور سنادیں:
ایک جو آپ کے جذبہء حسد اور احساس محرومی پر اعلی سفید فائٹر جیٹس والا پٹرول چھڑک دے
دوسرا جو آپ کے ادارک کو دس بارہ فیٹ اور نیچے یا اوپر رویوں (attitudes) کی روشنی میں نقطہء نگاہ (outlookکھوجنے میں مدد دے۔ہمارے اس سلسلہء مضامین کو آپ زیادہ سر پر نہ چڑھائیں۔یہ دوستوں کی محفل کی خوش گپیاں ہیں۔ان میں  جھوٹ سچ سبھی شامل ہے۔عثمان میاں نہ مچلتے اور ایک اصلی محکمہ ء زراعت والے ڈنگر ڈاکٹر بھائی جن کے اپنے والد بھی اسی قبیلہء آوارگاں کے فرد تھے جنہیں وہ اب استعمال شدہ کارتوس سمجھتے ہیں اور ہماری نویدہ بی بی اپنی بے دریغ تعریف سے ہمارا دماغ نہ خراب کرتیں تو شاید ہم لکھتے بھی نہ۔

جب بھی ہم کچھ لکھ لیتے ہیں تو ہم پر یہ کیفیت اپنے چاہنے والوں کے حوالے سے اور جنہیں ہم نے عزیز جاں رکھا ان کے حوالے سے یہ لگتا ہے کہ آپ بھی خوار ہوئے تیری بھی رسوائی کی۔
ان دنوں نیشنل اسٹدیم کراچی میں موسم سرما کی روپہلی دھوپ کا اجلا پن پھیلا تھا۔ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر کوئی اجلاس تھا۔سلیکٹر تو وہاں چل دیے۔ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا۔لوگ جارہے تھے مگر پویلین میں اہلیان اثر و رسوخ کے عزیز و اقربا،کھلاڑیوں  کی قربت کے خواہشمند میں کلپتی سجیلی بی بیاں جنہیں ڈاکٹر صاحب تحقیر سے Cricketer’s Meat کہتے تھے وہ کھلاڑیوں تک رسائی کا حصار توڑ کرآگے آنے کے طلب گار تھے۔ ۔

عمران خان صاحب کو اننگ کے اختتام پر کریز پر آنے کی وجہ سے نان اسٹڑائیکنگ اینڈ پر رہنا پڑا جس کی وجہ سے بیٹنگ کا موقع  نہیں مل پایا۔عاقب جاوید کے ساتھ نیٹ پریکٹس کرنے کے لیے جب وہ نیٹس کی جانب بڑھنے لگے تو ایک حسین خاتون نے اپنا چار سال کا بیٹا ہمارے حوالے کیا۔ہم جو افسر تھے۔ پولیس کے ایک باوردی ایس پی کے ساتھ کھڑے تھے۔ڈاکٹر ظفر الطاف کے معتمد خاص تھے۔ ہماری جان، ہمارے مان، قوم کی شان،پیارے عمران خان سے عاقب جاوید کی جگہ خود بالنگ کرنے کی فرمائش کی۔

عاقب جاوید

اب عمران خان اور محمد بن قاسم کی یہی بات ہمیں بہت اچھی لگتی ہے کہ عورت کی فرمائش و فریاد پر وہ دمشق سے سندھ تک چلے آتے ہیں۔یہ حسینہ جس نے شاید جوانی میں انگڑائی کے لیے اور شادی کے بعد دعا کے علاوہ کبھی ہاتھ بلند نہیں کیے ہوں گے ۔عمران کو باقاعدہ نیٹ میں کراچی کی اس روپہلی دھوپ کو منہ  چڑاکر اپنے جھلکیاں مارتے ریشمی سفید لباس میں نمایاں بدن کو لہراکرپورے دو اوور پھینکے۔وہ تو خیر ہو عاقب جاوید کی کہ وہ پاس ہی موجود تھے اور بال اٹھا اٹھا کر اس خاتون بریٹ لی کو دیے جاتے تھے۔

بریٹ لی

اس کے تیور دیکھ کر ہمیں تو لگا کہ اگلی صبح عاقب جاوید بارہویں کھلاڑی ہوں گے اور یہ بی بی دوسری اننگ کے آغاز پر نئی گیند سے وسیم اکرم کو دھول پھانکنے پر مجبور کررہی ہوں گی۔ یہ بعید نہیں ہمارے عمران خان صاحب ایسے فیاض اور دریا دل ہیں کہ جس کے گھر میں بتی لالٹین نہ ہو جب اسے وزیر اعلی بناسکتے ہیں تو یہ کون سا مشکل کام تھا۔وہ اس وقت بھی ٹیم کے کپتان اور مالک و مختار تھے۔

ہم آپ سے جب عمران خان صاحب کے حوالے سے ان کی کرکٹ کی گود میں پلی طبیعت اور گورننس کی بات کریں گے ۔ان رویوں کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ لیں گے، ان سے وہ نکات چھیڑیں گے جو انہیں آئندہ چل کر مدد دے سکتے ہیں یا مطلوبہ نتائج اور اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ دشوار کام ہے۔
طاقت ایک بھیانک سچائی ہے۔یہ دوسروں کے علاوہ خود کو بھی مگرمچھ کے جبڑے کی طرح دبوچ لیتی ہے۔ایوان طاقت میں بیٹھ کر مزے لوٹنے والو ں کو دو بہت جان لیوا غلط فہمیاں مسند اقتدار پر بیٹھتے ہی گھیر لیتی ہیں۔پہلی تو یہ کہ ان سے زیادہ دانشمند کوئی اور نہیں۔وہ طاقت کو دانائی کا نعم البدل سمجھتے ہیں۔ان کے حساب سے سوچیں تو آنتیں جو دماغ کی مانند اعضائے جسمانی میں شمار ہوتی ہیں وہ اپنے ساڑھے تین کلو کے حجم اور20 فیٹ کے سائز کے لحاظ سے ایک کلو کے دماغ پر بھاری ہیں۔ دوسری بڑی آفت جو ان طاقت ور لوگوں کو گھیر لیتی ہے وہ یہ غلط فہمی کہ ان کا اقتدار دائمی ہے۔ان کی نظر اہرام مصر پر نہیں جاتی جن کے نیچے وہ بادشاہ دبے ہوئے ہیں جن کے گھرانے میں بادشاہت تین ہزار برس تک رہی تھی۔

طاقت ور لوگ ہر شے پر ایک طائرانہ نگاہ Bird’s Eye-view ڈالنے کے عادی ہوتے ہیں عمران خان کو تو یوں بھی فٹبال اور پولو کے بعد تیسرے بڑے میدان کو ایک نظر میں سمیٹ کر فیصلہ کرنے کی عادت ہے۔طاقت ور  لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر اس دنیا میں طائر کی نگاہ ہے تو کیڑے بھی اسی دنیا میں جیتے ہیں۔ ان کی بھی نظر ہوتی ہے۔اس نگاہء کرمک Worm’s Eye-viewکا بھی پاس رہے تو اچھا ہے ورنہ جنوں کو بھی سلیمان علیہ سلام کی موت کی اطلاع اس وقت ہوئی جب آپ کے  عصائے مبارک سے لکڑی کو گھن کی طرح کھانے والا کیڑا باہر گر پڑا سورۃ سبا میں آیت نمبر درج ہے کہ ”جب اللہ کی جانب سے سلیمان علیہ سلام کا حکم اجل آگیا تو جن اس سے اس وقت بے خبر رہے جب تک وہ گر نہ پڑے اور ان کے عصا کو دیمک کھاگئی تھی۔اگر جن ایسا ہی غیب کا علم رکھنے والے ہوتے تو ذلت کے اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔ (قرآن ال عظیم)
اس آیت کو ہر کامیاب اور طاقت ور انسان کو اپنی میز پر سجا کر رکھنا چاہیے کہ بربادی کی خبر ان کی بجائے اس چھوٹی چھوٹی مخلوق کو پہلے مل جاتی ہے جسے وہ حقیر جانتے ہیں.
ہمیں بھی ایسی ہی مخلوق سمجھ لیں۔

آئیے رویوں کی بات کرتے ہیں۔لالو پرشادیادو جب پہلی دفعہ مکھ منتری بنے تو بہار میں بھاگلپور میں کانگریس کے راج میں مسلم ہندو فسادات ہوچکے تھے۔لالو کے انتخاب جیتنے میں کچھ مسلمان بدمعاشوں کا بھی رول تھا۔کراچی اور لاہور کی طرح بہار اور مہاراشٹرا کی سیاست پر بھی بدمعاشی کی بڑی گہر چھاپ ہے۔وہاں بھی گینگ اور مافیا کا راج ہے۔آپ کو یہ سب کچھ سمجھنا ہو تو بہار کے حوالے سے فلم گینگز آف واسع پور دیکھنا ہوگی۔ یہ بہار شریف کے مسلمان بدمعاشوں کی کہانی ہے۔فضل خان اور محسنہ کے روپ میں نواز الدین صدیقی اور ہما قریشی نے کیا اودھم اداکاری کی ہے۔

لالو پرساد یادیو
گینگ آف واسع پور
نواز الدین صدیقی اور ہما قریشی

ایسے میں لالو پرشاد یادو جی کو پہلا چیلنج اس وقت ملا جب لال کشن اڈوانی جن کی بعد میں نریندر مودی جی نے کھٹیا کھڑی کردی وہ بہارمیں رام رتھ یاترا پر نکل آئے،لالو پرشادنے انہیں پہلے تو روکا مگر جب نہ مانے تو 23 اکتوبر 1990کو لالو جی نے انہیں گرفتار کرلیا کہ ان کے راج میں بدمعاشی نہیں چلے گی۔ان کی اس حرکت سے ایسا کہرام آیا کہ مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت کا دھبڑ دھوس ہوگیا مگر وہ کہتے رہے کہ بہار کے چیف منسٹر ہم ہیں۔جنتا ہماری ہے۔سینٹر میں جو ہو سو ہو ہمارے بہار میں کسی کی بدمعاسی نہیں چلنے دیں گے۔ہندو مسلمان ہمارے لیے بروبر ہیں۔
ہمارے لالو جی کے ایک مسلمان وزیر ہوتے تھے۔نرے بدمعاش مگر پشتینی  کنگلے۔لالو جی کو بڑی حیرانی ہوتی کہ ان فائلوں پر جو ان وزیر صاحب کے ہاں سے آتی ہیں نہ صرف ان پر داغ ہوتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے جا بجا ان  پر پانی گرنے کی وجہ سے تحریر بھی ناقابل مطالعہ ہوجاتی ہے۔اب لالو جی شیخ رشید اور آصف زرداری کی طرح اسٹریٹ اسمارٹ تو بہت ہیں۔دھیان دوڑایا تو لگا کہ کہیں یہ داغ مئے نوشی کا نتیجہ نہ ہوں۔ ہند و پاک کے دیہاتیوں کو چینیوں کی طرح ہر اچھی بری چیز کو سونگھنے کی بہت لت ہوتی ہے۔کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے انہوں نے بھی جب اپنی دیہاتی عادات کے دباؤ میں سونگھا تو انہیں لگا کہ یہ پیشاب کی بو ہے۔اپنے پرنسپل سیکرٹری یعنی توقیر شاہ سے بھی یہ خدمت لی تو انہوں نے تصدیق کی کہ یہ شراب کی ہرگز بو نہیں۔اس مشک بار رفاقت کا انہیں بخوبی اندازہ ہے۔
وزیر صاحب کو بلا کر ڈرایا دھمکایا گیا ان کے مافیا بڑوں کے حوالے کیس کرنے کی دھمکی دی تو وزیر موصوف دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔کہنے لگے  کہ ایک خرگوش پالا ہوا ہے۔وہ دفتر لے آتےہیں ۔سسرے کو دکھائی بھی کم دیوت ہے۔ وہی جہاں تہاں پیشاب کردیتا ہے۔جس کی وجہ سے فائل پرجس کی وجہ سے فائل پر دھبے پڑجاتے ہیں۔مزید پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ موصوف جب بہت غریب تھے تو ایسا ہی ایک پلا ہوا نیپال کا انگورہ خرگوش ان کا شرابی باپ بھون کر کھاگیا تھا جس کا انہیں بہت صدمہ تھا۔اب وزیر بنے ہیں تو ویسا ہی ایک نایاب خرگوش ہاتھ  آیا ہے۔اسے دفتر لاتے ہیں۔جس پر لالو جی نے کہا اب فائل گندی ہوئی تو تیرے باپ نے تو خرگوش کو بھونا تھا میں تم دونوں کو کاٹ کر کھاجاؤں گا۔

انگورہ خرگوش

جن جنوں کے سہارے عمران خان نے حکومت چلانے کا فیصلہ کیا ہے ان میں ایک تو اسدعمر ہیں۔وہ کارپوریٹ سیکٹر کے پروردہ ہیں۔تعلیم واجبی ہے مگر سرکار کا تجربہ سرے سے مفقود۔ان کے ہاں دولت کی منصفانہ تقسیم کا کوئی واضح تصور نہیں۔اسحق ڈار کی ٹیم نے ان کا چومتے ہی گال کاٹ لیا ہے سی بی آر کے چیئرمین کے طور پر جہاں زیب لانے کا مطلب ہے کہ وہ ان تمام گناہوں سے پاک ہوگئے جن کا الزام ان پر ان کی پنجاب حکومت میں تعیناتی کے دوران احد چیمہ اور فواد حسن کی رفاقت میں لگتا رہا،گورنر اسٹیٹ بنک کے طور پر طارق باجوہ اور وزارت خزانہ کے تمام بڑے افسران پاکستان کی معاشی بدحالی کے ذمہ دار ہیں۔

طارق باجوہ

ایاز امیر اور عامر متین اور کلاسرا صاحب کے پروگراموں پر اتنا کچھ کہا گیا ہے کہ لگتا ہے کہ ان پر مزید کچھ کہنا غیر ضروری ہوگا۔عمران خان کو ہم کیا سمجھائیں کہ مارگریٹ تھیچر جب وزیر اعظم تھیں تو سرکار کا خزانہ خالی تھا انہوں نے ایک چیتے بینکر نیجل لاسن کو ذمہ داری سونپی کہ خزانہ بھر دو۔انہیں یہ چمتکار آتا تھا۔دوسری باری انہیں اسی عہدے یعنی چانسلر آف ایکس چیکر پر برقرار رکھنے کی باری آئی تو سب کا خیال تھا کہ یہ تو لارڈ لاسن کے لیے واک اوور ہے۔فیصلہ آیا تو قرعہ فال جان میجر کے نام نکلا تھا۔سب حیرت زدہ تھے کہ ایک عوامی نمائندہ جس کا پیشہ ورانہ پس منظر قانون کا ہے، وہ بھلا وزارت خزانہ کے لیے کیسے موزوں ہوسکتا ہے جواب ملا کہ لاسن کی بجائے جان میجر عوام کے زیادہ قریب ہیں اور قانون کے پس منظر میں ان کے Distributive Justice کے حوالے بہت مضبوط ہیں۔

نیجل لاسن
جان میجر

ہم سے عمران خان مشورہ کرتے تو ہم ایک نئی وزارت پبلک کارپوریشنز بناتے پی آئی اے اور اسٹیل مل اور پاکستان ریلوے  یا ایف بی آر اور نیشنل بنک کو بھی اسی میں شامل کردیتے۔اسد عمر کی بے پناہ صلاحیت کا فائدہ اٹھانا وہاں زیادہ آسان تھا۔ان کی صلاحیت منافع ڈبل کرنے کی ہے۔وہ اصلاحات ،تخلیق سرمایہ اورDistributive Justice کے شناور نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ان کے لیے چونکہ وزارت خزانہ کا پورٹ فولیو روز ازل سے طے تھا اس لیے کرکٹ کے اس رویے کا سہارا لیا گیا کہ بالر سلیم جعفر جیسا بھی ہو اوور پورا کرے گا بیٹسمن منصور اختر جیسا بھی ہو ٹیم میں ہے تو کھیلے گا ضرور۔یہی طرز عمل کے پی کے کی حکومت سے رشتہ ء تابعداری میں جڑے شہزاد ارباب اور اعظم خان کے حوالے سے اپنایا گیا۔جب کہ اعظم خان نہ صرف بہت جونئیر ہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں اور شہرت بھی کچھ ایسی قابل تعریف نہیں۔

پرنسپل سیکرٹری اعظم خان

ارباب شہزاد،لو وہ بھی کہہ رہے ہیں

عمران خان پر تنقید کا حق ہم دوسروں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔کالم نگار اور اینکروں کی رسائی ان معلومات پر ہم سے زیادہ ہے۔
ان پر ڈیم اور بیرون ملک پاکستانیوں سے رقم کی ترسیل کے حوالے سے بہت تنقید ہورہی ہے۔ان کے ناقدین کا خیال ہے کہ چندے دے دے کر ان کی ذات پر اندھا اعتماد کرکے قوم کے نوجوانوں نے انہیں وزارت عظمی کے منصب پر پہنچا دیا۔بیانیہ اب بھی وہ ہی ہے جو اقتدار سے پہلے کا تھا تو شاید یہ اتنا قابل قبول نہ ہوگا۔
ہمارے گھرانے کے نوجوان جو ان پر جان نچھاور کرتے ہیں وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بیوروکریسی کی ڈی ایم جی گروپ نے حکومت کو بوڑھے نابینا کی طرح لاکر موٹر وے پر چھوڑدیا ہے۔۔ان کو چھوٹے سودےکی چھابڑی لگا دی ہے۔ پی ایم ہاؤس کی بھینسوں سے فیصل جاوید کی اٹھکیلیاں کاریں نیلام۔پانچ دس روپے روپے کی دیہاڑی لگا کر حکومت کو چوک پر تماشا بنا دیا ہے۔۔یہ وہ بیوروکریسی نہیں جس میں قدرت اللہ شہاب،ڈاکٹر اختر حمید خان،ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی، اعجاز نائیک، آغا شاہی،ڈاکٹر ظفر الطاف،مسعود مفتی،مختار مسعود، فدا حسین، ڈاکٹر طارق صدیقی، الطاف گوہر جیسے افسر شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب تو خود سی ایس پی ہونے کے باجود اس ڈی ایم جی کو Valet Bureaucrats (مصاحبین افسر )کہا کرتے تھے۔انہوں نے یہ الفاظ مسعود نبی نور جو 1977 میں چیف سیکرٹری پنجاب تھے ان کے کسی ناجائز حکم کو ماننے سے انکار پر عبدالحفیظ کاردار صاحب کو کہے تھے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یحییٰ خان اور بھٹو کی طرح جنہوں نے بالترتیب تھری ناٹ تھری یعنی تین سو تین اور چودہ سو افسران کو یک جنبش قلم فارغ کیا تھا وہ انہیں بھی باہر کرتے۔بالخصوص انہیں جن کے مقدمات نیب میں چل رہے ہیں۔ ایک شدت پسند رویے کے مالک نوجوان کا جو میکاولی سے بہت متاثر ہے اس کا خیال تھا کہ عمران خان کو سختی ایک دم کرنی چاہیے تھی۔رفتہ رفتہ سختی سے سامنے والے کو عادت ہوجاتی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے31 دسمبر سن 1971 جب مختلف صنعتوں اور اداروں کو قومی تحویل میں  لیا تو وہ نیو ائیرپارٹی کی رات تھی۔پارٹی میں کئی مالکان ان کے ساتھ جام کھنکھناتے اور ساڑھی کے پلووں سے الجھ رہے تھے۔پہلی جنوری کی صبح جب وہ بیدار ہوئے تو جو رہی سو بے خبری رہی۔ادارے قومی تحویل میں چلے گئے۔اس کا یہ اثر ہوا کہ میمنوں کی کاروباری سوچ بدل گئی،ورنہ میمن سیٹھ نہ گھر خریدتے تھے نہ اچھی گاڑی۔

ایک شدت پسند نوجوان عزیز کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ عمران خان حلف اٹھانے کے بعد جنرل باجوہ اور چیف جسٹس صاحب کو تین تین برس کی ایکسٹنشن دیتے اسی اجلاس کے دوران مختلف نامعلوم مقامات سے اطلاع آرہی ہوتی کہ مہمان پہنچ گئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوتا کہ پرنس محمد بن سلمان کی طرح ٹرپل ون بریگیڈ نے سو مالدار ترین جرنیل،جج،بیورکریٹ،سیاست دان اور مافیا قسم کے تاجران کو اٹھالیا ہے ان کے گھر کے باہر فوج کا پہر ہ ہے،جب تک رقم واپس نہیں ہوتی۔بابی والے گانے کی طرح اندر سے کوئی باہر نہ آسکے،باہر سے کوئی اندر نہ جاسکے والا معاملہ رہےگا۔اسی دن اٹھارویں ترمیم منسوخ، سینٹ ڈائیریکٹ ووٹ سے،جتنے ڈویژن اتنے صوبے،عمران خان صدر،کابینہ ٹیکنوکریٹس کی قسم کی اصلاحات کا بھی اعلان کردیتے۔

ایک اور جذباتی دوست مگر نیم شدت پسند کا خیال تھا کہ سبق سکھانے کے لیے بیس پچیس گریڈ بائیس کے افسران کو نوکری سے نکال کر گرفتار کرتے۔
ہم نے کہا عمران خان مروت کے مارے ہیں۔جتنی رعایت انہوں نے نواز شریف کو بیگم کی تدفین پر دی اتنی پنجاب پرزن رولز کی دفعہ پانچ سو بیالیس میں نہیں۔یہ قانون زیادہ سے زیادہ بارہ گھنٹے کی رعایت دیتا ہے۔ہمیں نہیں پتہ قول اور فعل کے اس تضاد کی ان کے پاس کیا وضاحت ہوگی جو وہ مختلف قوموں کی بربادی کے اسباب بیان کرتے وقت اپنی انتخابی تقاریر میں دیا کرتے تھے کہ پچھلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں کہ ان کے ہاں امیر کے لیے ایک قانون اور غریب کے لیے دوسرا قانون۔ان کی آمد کے بعد بھی لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے جو ادارتی سدھار – (Institutional (Correction دور دور تک نظر نہیں آرہا وہ ان کی بہت بڑی کمزوری کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ بائیس برس کی جدوجہد،یہ تعلقات کا بھرم کے مہاتر محمد سے لے کر مودی سبھی آپ کے مداح اور یہ بھونڈا ہوم ورک۔

مہاتیر محمد

ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بمشکل آج ایک ماہ ہوا ہے۔یہ تنقید،یہ تبرہ نواز اور زرداری پر بھیجنے میں آپ نے کبھی اس عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا تو ہمارے جیسے خوگران حمد کہتے ہیں کہ ان کی خاطر ووٹ کی بھرمار سے پرانا آرڈر تہس نہس کردیا۔
اسمبلی کواسفند یار ولی،محمود خان اچک زئی،نواز شریف،خواجہ آصف، فضل الرحمن سے پاک کردیا،کراچی سے ایم کیو ایم کے جبڑہ چوک سے اٹھا کرچودہ سیٹیں دلادیں۔جب کہ سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں ان کی پی ٹی آئی کا عمل دخل بہت کم تھا۔شہری علاقوں میں تو ڈاکٹر عارف علوی کو چھوڑ کر منتخب نمائندوں کی اکثریت ایسی تھی کہ ان کی بیگمات نے ووٹ تو کجا نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے بھی ان کی موزونیت کے حوالے سے کئی بار سوچا ہوگا۔ بول عمران تیرے عشق میں ہم اور کیا کر تے۔سر دست تو ان کے ہاں ایوب خان کی اصلاحات اور خوف سرکار،ذوالفقار علی بھٹو کی تیزی اور چلت پھرت،بے نظیر بھٹو کا وژن من موہن سنگھ جیسی سنجیدگی کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ایک ماہ میں حکومت کے اقدامات میک اپ اور اس کی آپٹکس بہت ناگفتہ بہ رہی ہیں۔
۔ کرپشن کے معاملے میں تو وہ بانوے برس کے قبر میں پیر لٹکائے آپ کے آئیڈیل مہاتر محمد آپ سے بدرجہا بہتر ثابت ہوئے۔حکومت سنبھالنے کی سہ پہر ہی پونے تین بجے اسی سال تین جولائی کو وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق کو ان کے گھر سے Malaysian Anti-Corruption Commission (MACC) نے اٹھالیا۔گرفتاری کے وقت میڈیا بھی ان کی رہائش گاہ جو جالان(بھاشا ملائشیا میں سڑک) لانگک دتا پر واقع ہے پہنچا ہوا تھا۔

ڈاکٹر نجیب عبدالرزاق ،گرفتاری کے وقت،سابق وزیراعظم

ان پر الزام تھا کہ انہوں Malaysia Development Berhad (1MDB) جو ملائشیا کا سرکاری فنڈ ہے اس میں خرد برد کرکے 681 ملین ڈالر کا خطیر سرمایہ اپنے نجی اکاؤنٹ میں منتقل کیا اس چوری کی نشاندہی پہلی مرتبہWall Street Journal نے کی۔۔۔ان کے نوجوان مداح اور ہمارے اور ایڈیٹر ان چیف انعام رانا جیسے فدائین کا عمران خان سے یہ بھی ہرگز مطالبہ نہیں کہ وہ فلپائین کے سخت گیر صدر راڈریگو ڈوٹرٹے ( Rodrigo Duterte )کی طرح دیوار کے ساتھ پیشاب کرنے والے،گٹکا تھوکنے والے اور بغیر قمیص رات کو گھومنے والوں کو بند کردیں نہ ہی ہم ان سے ایسی توقع رکھتے ہیں کہ وہ مریم اورنگ زیب، سلیم صافی اور فضل الرحمان خواجگان کرپشن کا وہ حشر کریں جو صدر صاحب نے اپنے ویری سینٹر انتونیو ٹریلن کا کیا ہے۔

فلپاءن کے صدر ڈوٹرٹے

ٹریلین روڈریگو ڈوٹرٹے کے مخالف سینٹر ٹریلن

عمران خان سے عوام کو اس لیے امید اور اتاولے نتائج کی توقع ہے کہ ان کا کرپشن اور خاندانی بیگج کوئی نہیں۔پچھلی ربع صدی سے وہ عوام کو اپنی تقاریر سےء اسی طرح باشعور بناتے چلے آرہے ہیں۔انہوں  نے پاکستانی عوام کو بہت بڑی Conceptual Awareness دی ہے۔
جیسے ان کے ایک محبوب لیڈر ڈاکٹر علی شریعتی نے شاہ ایران کے خلاف اپنی تحریر و تقریر سے ایرانی عوام کو کیا تھا جس کی وجہ سے ایک ایسی فکری اساس ملی جسے ان کے ایرانی طالبان انقلاب کی صورت میں چادر ڈھانپ کر جدیدیت کے حصار سے اغوا کرگئے۔

ڈاکٹر علی شریعتی

ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ نئی دولت کے ڈھیر بھلے لگائیں مگر جنہوں نے پرانی دولت لوٹی ہے اس کا احتساب اس طرح تو نہ کریں جیسا ایک سردار جی نے بنیان پر چلتی جوں دیکھ کر کیا تھا۔سردار جی بار بار بنیان کے اندر جھانکتے اتارتے،سیدھا الٹا کرتے اور پہن لیتے،جواں سال سردارنی جو چھاچھ لسی اور ساس کے سر میں تیل مل کر فارغ ہوچلی تھی اس حرکت پر سیخ پا ہوکر کہنے لگی:
وے درشنا کی پیا کرنا ای
جوں پئی وکھدی اے
مار چھوڑ انتظار کادا اے
سردار درشن سنگھ عدالت اور نیب والے کہنے لگے
کنجری نوں ٹرا ٹرا کے ماراں گا۔
ہم ان کے  سابقہ تجربے کی روشنی میں چند موضوعات یعنی چین،بلوچستان،زراعت،اسلحہ،فوجی تربیت  اور معاشی تطہیر کے حوالے سے اپنی کچھ معلومات اور تجاویز پیش کرتے ہیں ۔عمران خان یوں بھی ٹرانس فورمیشن کے بادشاہ ہیں ان کے لیے یہ اس طرح کی تجاویز پر عمل درآمد کرنا مشکل نہ ہوگا۔گو ان کا چین سے ڈائیلاگ دوسری طرز کا ہونا چاہیے۔وہ چین پر سی پیک کے حوالے سے مطالبہ کریں کہ
۱۔ پاکستان میں اس حوالے سے جو معاہدے ہوئے ہیں وہ بند کمروں کے معاہدے ہیں۔ان کی شفافیت اورSustainability (پائیداری) پر گاہے بہ گاہے بہت سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ان کی افادیت بمقابلہ لاگت و ضرورت جب بات کی جاتی ہے تو ان پروجیکٹس میں لوٹ مار میں مصروف افراد اسے سی پیک کی مخالفت اور قومی سلامتی کے حوالے سے خطرہ قرار دینے میں ایک منٹ نہیں چوکتے۔اس پورے میگا ڈالر منصوبے کی شق در شق جانچ پڑتال اوران کی قومی اسمبلی اور اس کی قائم کردہ کمیٹیوں کے ذریعے توثیق لازم ہے۔
۲۔ انفرا اسٹرکچر نیٹ ورک کی جو تعمیر اس منصوبے کے تحت ہونی ہے اس کے بارے میں یہ بات اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ہم اس میں آدھا خرچہ اپنے موجودہ وسائل سے لگائیں گے اور آدھا چین ہمیں قرضے کی صورت میں دے گا۔ اس میں اندرون لاہور کی اورنج لائین جیسے خرچیلے اور بہت ہی معمولی اہمیت کے منصوبے بھی زبردستی گھسیڑ دیے گئے ہیں۔ صرف اس ایک فینسی منصوبے کے لیے ہم نے چین سے 162ارب روپیہ چین سے سود پر قرضہ لیا ہے۔جس کا سالانہ سود ہی دس ارب روپے ہے جو اس پراجیکٹ کی سالانہ آمدنی سے بہت زیادہ ہے۔ جو محض ڈھائی لاکھ افراد کو لاہور شہر کے اندر ہی سفر کی سہولت فراہم کرے گا۔ یہ سہولت اپنی لاگت کے حساب سے فی ٹکٹ 175 روپے پڑے گی۔ یوں یہ اندرون شہر کسی بھی ریلوے لائن کا دنیا کا مہنگا ترین منصوبہ ہوگا۔ ایک صوبے کے ایک شہر کے اس برائے نام افادیت والے منصوبے کا بوجھ سارا پاکستان اٹھائے گا۔

۳۔ پاکستان جو چین کو بے دریغ رسائی مشرق وسطی تک دے رہا اور جس کی وجہ سے خود ان کے ملک میں پریشر ککر والی بے چینی کا تدارک یہ منصوبہ یوں کرے گا کہ ان کی ماحولیاتی کثافت پیدا کرنے والی انڈسٹری کو مشرقی حصے سے مغربی حصے تک منتقل کردے گا ۔اس کی پاکستان نے چین جیسے دوست سے کوئی خاص امداد نہیں لی۔بہتر ہوتا کہ یہ منصوبہ کچھ سیاستدانوں کی بجائے جوڑیا بازار کراچی کے چند میمن بزنس مین کرتے تو اس سے کہیں زیادہ بہتر ڈیل چین سے پکڑ سکتے تھے جو اس وقت منظر عام پر آرہی ہے۔پاکستان فوری طور اس معاہدے کے عوض چین سے ایک دفاعی معاہدہ کرے جس کی رو سے ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا۔ اس میں بعد میں سعودی عرب اور ایران و افغانستان کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
۴۔ جس طرح کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے عوض مصر نے امریکہ سے دور رس اور کثیر المقاصد فوائد حاصل کیے تھے اس طرح پاکستان بھی چین سے ہر پچاس میل پر اس شاہراہ پر ایک اسکول ہر سو میل پر ایک کالج ہر اس ڈسٹرکٹ میں جہاں سے یہ شاہراہ گزرے ایک یونی ورسٹی اور ہسپتال اور پاکستان بھر سے مقابلے کے ذریعے منتخب کرکے ہر سال کے تین ہزار کھلاڑیوں اور تین ہزار طالب علموں کی چین میں تعلیم و تربیت کا مطالبہ کرے۔اس میں بھی کمپوٹر کے حوالے سے روبوٹکس،ڈیپ لرننگ، اورcreative displacement through automation پر خاص زور ہو
۵۔ہر وہ سامان جو آئے جائے اس پر فی ٹن تین ڈالر ڈیوٹی کی ادائیگی کی جائے
۶۔ چین اپنے تمام سابقہ قرضے معاف کرے
۷۔جہاں مقامی لیبر اور ماہرین دستیاب ہوں وہاں چینی مزدور اور ماہرین کی ضرورت نہ مانی جائے۔
۸۔ چینی باشندوں اور حکومت پر پاکستان میں جائداد خریدنے پر پابندی ہو۔
سی پیک اسی صورت شاہراہء سہولت و معاشی ترقی بن سکتا ہے ورنہ پاکستان موجود شرائط پر تو ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی کو گھر میں دعوت دے کر بلا رہا جو پڑوسی بھی ہے اور جس کی ایک طویل تاریخ تلوار کے زور پر اپنی بات منوانے والے حکمرانوں سے عبارت رہی ہے۔
بلوچستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے نواز شریف صاحب کے دور ثانی میں ہماری رفاقت میں سردار عاطف سنجرانی کے ہمراہ دالبدین کا مطالعاتی دورہ کیا تھا۔بلوچستان کا ایک ضلع چاغی صوبہ کے پی کے نصف رقبے کے برابر ہے،یہ پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا رقبہ 44,748 km2 یعنی (17,277) مربع میل ہے۔اس کی ایک تحصیل دالبدین ہے۔ہم نے اور ڈاکٹر ظفر الطاف نے اس میں جیپ پر دو سو میل گھوم کر دیکھا،زمین ہموار ہے۔لینڈ لیولنگ کا خرچہ یوں زیرو،زیر زمین پانی وافر مقدار میں۔ٹیوب ویل کے لیے ایرانی ڈیزل بکثرت اور سستا۔

چاغی بلوچستان
چاغی

واپسی پر ایک سمری بنائی۔یہ نواز شریف کی وزارت عظمی کے آخری ماہ تھے غالباً 1998-99کے برس کی بات ہوگی۔شاید وزارت زراعت یا وزیر اعظم میں یہ سمری پائی جاتی ہو۔
اس میں ایک پراجیکٹ تجویز کیا گیا تھا جس کی لاگت پچاس کروڑ روپے اور پانچ سال کی مدت تکمیل مانگی گئی تھی۔نواز شریف صاحب نے بقول ڈاکٹر صاحب  نے اس پر کوئی خاص مسرت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ منصوبہ اچھا تھا مگر لاہور کے نزدیک پنجاب کے لیے ہوتا تو وہ پچاس چھوڑ سو کروڑ روپے دیے دیتے۔ڈاکٹر صاحب نے یہاں جو زیر زمین پانی کی مدد سے رزاعت کرنی تھی اس میں پورے پاکستان کے لیے گوشت،خوردنی تیل، پھل اور کپاس پیدا کرنی تھی۔دس ہزار ملازمتیں بھی وجود میں آنی تھیں۔بلوچستان کے نوجوانوں میں پچاس ایکڑ زمین ا تقسیم کرنی تھی ور پاکستان کے زراعتی تعلیمی اداروں کے گریجویٹس کے لیے ایک نئی بیوروکریسی کا منصوبہ تھا۔ ساتھ ہی کارپوریٹ فارمنگ کا بھی تصور شامل تھا۔پانچ ہزار ایکڑ کے کارپوریٹ فارم۔

مائی نیم از بونڈ، جیمز بونڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے نامی پرائز بونڈز پر پابندی لگ جائے۔ہر بینک میں موجود اکاؤنٹ میں یہ سہولت ہو کہ دو ماہ تک اکاؤنٹ میں بونڈز کا اندراج ہوجائے گا۔بینک اس کی ایک فیس فی بونڈ بیس روپے لے گا۔انعام بھی بینک سے ملے گا،اس سے کالا دھن سفید ہوگا،نئی ملازمتیں پرائیوٹ سیکٹر میں بینک میں وجود میں آئیں گی۔دو سے چار ماہ تک بونڈ کا اندراج بونڈ کی رقم کے دس فیصد پر ہوگا۔چار سے چھ ماہ پر پچاس فیصد پر اور چھ ماہ کے بعد پرائز بونڈ بے وقت ہوجائے گا۔ جس طرح خواجہ سعد رفیق کا ہر پرائز بونڈ قرعہ اندازی کے وقت چیخ رہا ہوتا تھا کہ مائی نیم از بونڈ، جیمز بونڈاور رقم دودھ میں نہاکر فیر اینڈ لولی کے بغیر ہی اجلی ہوجاتی تھی یہ اس کا علاج ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ چھاپے کے وقت کرپٹ سرکاری ملازمین کے پاس کیش سے زائد پرائز بونڈ نکلتے ہیں۔اسی طرح کیپٹل فارمیشن کرنی ہے تو پانچ سو اور ہزار کا بونڈ جاری کرکے اس کی ہر ماہ قرعہ اندازی کردیں اور پہلا انعام بیس لاکھ سے پچاس لاکھ رکھ دیں۔بہت دولت جمع ہوجائے گی۔بونڈ کے ذریعے بہت دولت جمع کی جاسکتی ہے اور اکاؤنٹ میں بونڈز کیش کی جگہ جمع بھی کیے جاسکتے ہیں۔
اسلحہ لائسنس
۔۔۔۔۔
ممنوعہ بور اور بلالائسنس تمام ہتھیار سرکار کے ہاں ایک ماہ میں جمع کرادیے جائیں۔ ورنہ قید اور جرمانہ۔ سمری کورٹس کے ذریعے  لازمی فوجی تربیت  عمران خاں صاحب نے اگر قوم کو اپنے جیسے گھبرو اور دل فریب بنانا ہے تو مرد طالب علموں کے لیے پہلے فیز میں لازمی فوجی تربیت کا انتظام کریں۔جو یہ تربیت نہیں کرے گا اس کو پاسپورٹ اور سرکاری ملازمت نہیں ملے گی۔بچیوں کے لیے یہ تربیت گھر کے پاس ہو۔
اس سے قومی یک جہتی اور ڈسپلن میں بہت مدد ملے گی
باتیں تو اور بھی ہیں مگر سب کچھ پہلی ملاقات میں تو نہیں ہوتا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *