کبھی ہم بھی خُوبصورت تھے ۔۔۔۔ہارون ملک

A glance into Pakistan’s forgotten history and revisiting the contrary years …..

پاکستان کا جب معرضِ وُجود میں آنا واضح ہوگیا تو قائدِ اعظم مُحّمد علی جِناح نے تقسیمِ برِصغیر کے سرکاری اعلان پندرہ اگست 1947 سے چند دِن قبل یعنی گیارہ اگست 1947 کو پاکستان کے بارے میں اپنا vision کُچھ یُوں بتایا تھا ،

“You are free. You are free to go to your temples, you are free to go to your mosques, or to any other place of worship in the State of Pakistan.”
“You may belong to any religion or caste or creed. That has nothing to do with the business of the state. We are starting with this fundamental principle that we are all citizens of one state… You will find that in due course of time, Hindus will cease to be Hindus and Muslims will cease to be Muslims, not in the religious sense … but in the political sense as citizens of the state.”

آپ کِسی بھی عقیدے ،مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتے ہوں ریاست کا اِس سے کُچھ لینا دینا نہیں ۔ ہم اِسی بُنیادی اُصول کہ ہم سب ایک ہی ریاست کے شہری ہیں اپنا آغاز کررہے ہیں۔
ہندو محض ہندو یا مُسلمان محض مُسلمان نہیں رہیں گے میں مذہبی طور پر نہیں کہہ رہا کیونکہ کسی بھی شخص مذہبی عقیدہ ذاتی عقیدہ ہوتا ہے ، میں سیاسی ( ریاستی ) طور پر بات کررہا ہُوں ۔

اور یہ بات میں نہیں کررہا بلکہ بانی پاکستان کی بات ہے کہ وُہ کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے اور اُن کے ذہن میں پاکستان کے بارے میں کیسا خیال تھا ۔ لیکن بدقسمتی سے زندگی نے وفا نہ کی اور اُن کے انتقال کے بعد لیاقت علی خان اور پاکستان مُسلم لیگ کے چند دیگر رہنماؤں نے قرارداد مقاصد کے ذریعے مذہبی طبقے کو سیاست میں آنے کا ایک راستہ دے دیا ۔


( آگے چلنے سے پہلے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ قائد اعظم لیاقت علی خان کو ناپسند کرتے تھے اور اُنھیں اورچند دیگر کو کھوٹے سِکوں میں شُمار کرتے تھے ۔ ایک جگہ Stanley Wolpert اپنی کتاب جناح آوو پاکستان میں لکھتا ہے کہ جب زیارت میں قائد fatally ill تھے تو لیاقت علی خان کابینہ کے چند دیگر ارکان کے ہمراہ اِن کی طبیعت پُوچھنے آئے تو اُن کے جانے کے بعد قائد نے فاطمہ جناح سے کہا کہ یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں مزید کتنا زندہ رہ سکتا ہُوں ۔)
قرارداد مقاصد کا پہلا بُنیادی پہلو یا مقصد غالباً یہی تھا کہ آنیوالے وقت میں پاکستان بننے کا مقصد کیسے بیان کیا جائے ۔ جلد بازی کہہ لیں یا سُستی کہ اِس Objective Resolution نے سیاست اور طاقت کے ایوانوں میں مذہبی طبقے کا راستہ بنادیا ۔
لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر وغیرہ کا اِسلام کو سمجھنا اور دیکھنا ، مولانا اُبوالاعلیٰ مُودودی اور جناب شبیر احمد عُثمانی اور ڈاکٹر اشتیاق حُسین قُریشی سے ظاہر ہے مُختلف تھا ۔لیاقت علی خان اور دیگر زُعماء کا خیال تھا کہ یہ modern interpretation اِس مُلک میں ہمارے ہاتھ میں ہی رہے گی اور عام مُلا کی دست برد سے محفوظ ۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا اور جلد ہی مذہبی طبقہ اپنا زور پکڑتا گیا ۔
لیاقت علی خان کے بارے میں حُسین حقانی اپنی کتاب میں Washington Herald کو quote کرتے ہُوئے لکھتے ہیں کہ امریکا کے اسسٹنٹ سیکریٹری آوو سٹیٹ George McGhee پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم کی اِس بات سے بُہت مُتاثر تھے کہ وُہ ہارڈ ڈرنکس کو بغیر ہوش کھوئے پی سکتے تھے ۔

(اِس کے اثرات ابھی تک واضح نہیں ہُوئے تھے 1956 کا آئین معمولی اثر لئے ہُوئے تھااور 1962 کے آئین میں ایوب خان جیسا ڈکٹیٹر جو ایک سیکولر خیالات کا حامی تھا اُس کو بھی مذہبی طبقے کے آگے گُھٹنے ٹیکنے پڑے اور جمہوریہ پاکستان سے نام اِسلامی جمہوریہ رکھنا / تبدیل کرنا پڑا ۔اِس  کے بعد بالاخر 1973 کا آئین ، موجودہ ایک واضح مذہبی رنگ اور چھاپ لیکر پاس ہُوا ۔ ایوب خان 1956 کے آئین کی منسُوخی کے بعد نئے آئین 1962 میں اِسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام واپس جمہوریہ پاکستان رکھنا چاہتا تھا ۔)اپریل 1953 میں مُنیر کمیشن رپورٹ کی فائنڈنگ میں بھی قرادادِ مقاصد کو تمام فساد کی جڑ اور آنیوالے وقت میں مزید خرابیوں کا قرار دیا گیا تھا ۔ .But nobody cared


قرادادِ مقاصد ، مذہبی گروہ کا بڑھتا ہُوا اثر رُسوخ تقریباً دو عشروں تک واضح نہ ہوسکا ۔ یقیناً اِس کی ایک وجہ مشرقی پاکستان میں غیر مُسلم ( ہندوؤں ) اقلیت کی ایک بڑی تعداد بھی تھی کہ مذہبی اجارہ داری ابھی تک کہیں کُھل کر سامنے نہیں آسکی تھی ۔
اِس سب عرصے کے دوران بار بار سیاسی رہنماؤں اور بیوروکریسی کی اقتدار کی بندر بانٹ اور چھینا چھپٹی اور بعدازاں جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ کی براہِ راست مُداخلت نے پاکستان کی نسبتاً نوزائیدہ ریاست کو ،ریاستی اداروں کو اور بالخُصوص جمہوریت کو کافی زیادہ کمزور اور بیک فُٹ پر لاکھڑا کیا تھا ۔


مُلک میں جب مسائل دِن بدن بڑھ رہے ہوں اور مُلک کی اکثریتی آبادی والا ونِگ یعنی مشرقی پاکستان میں آزادی کی تحاریک بھی سر اُٹھا رہی ہوں تو ایسے میں جو بھی غلط ہو جائے اُس کی اُمید کی جاسکتی تھی اور شومئی قسمت ایسا ہی کُچھ پاکستان کے ساتھ بھی ہُوا ۔
مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش ) میں یہ نعرہ بُہت مشہور تھا کہ مغربی پاکستان بالخُصوص پنجاب میں اُن کی محنت ، خُون پسینہ اور پٹ سن کی کمائی سے عیاشیاں ہورہی ہیں ، ترقی ہورہی ہے نئی نئی سڑکیں بن رہی ہیں اور جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں کتنی سچی اور کتنی غلط تھیں یہ الگ بحث ہے لیکن مشرقی پاکستان کی عوام میں نفرت دِن بدن بڑھ رہی تھی ۔اِس کو ابھی رہنے دیتے ہیں اور اِس بات تک محدُود رہتے ہیں کہ ہم ایک معتدل اور نسبتاً لبرل مُلک سے اِتنے شِدت پسند کیسے بنے ؟
پاکستان کی بھارت کے ساتھ کشیدگی پہلے دِن سے ہی تھی ، پھر مسئلہ کشمیر اور سرحدوں پر مسائل بھی اِسی پریشانی کا حصہ تھے ۔ 1965 میں ہونیوالی جنگ نے بھی پاکستان کی معشیت پر کاری ضرب ڈالی تھی اور یہ تب پہلا موقع تھا جب پُورے پاکستان میں اِس جنگ کی شِدت نہ صرف محسُوس کی گئی بلکہ اِس کا اثر سیاحت پر بھی نظر آنا شُروع ہوگیا تھا ۔
ابھی ہم بُھٹو کے دور تک نہیں پُہنچے جہاں سے اصل قصہ شُروع ہوتا ہے جِس کو ضیاالحق نے تباہی کی آخری نُکر تک کمال کامیابی اور مُنافقت سے ہمیں پُہنچا دیا ۔کوشش کروں گا کہ مزید ایک آدھ پوسٹ میں مکمل کردُوں ۔

جاری ہے ۔

نوٹ : یہ پوسٹ لکھنے کے لئے جو ریفرینسز استعمال کئے گئے ہیں وُہ یہ ہیں ، بحث برائے بحث کی بجائے ذرا go through کرنے کی زحمت کرلیں ۔اور مقصد صرف قراردادِ مقاصد کو ڈسکس کرنا نہیں تھا لیکن آج کی پوسٹ میں اِس سارے معاملے کا بیک گراؤنڈ ڈسکس کرنا ضروری تھا ۔شُکریہ ۔

1 : Jinnah of Pakistan by Stanley Wolpert ,
2 : Constitutional and Political History of Pakistan by Hamid Khan , ( recommended by Jameel Jaami)
3 : Pakistan A Hard Country by Anatol Lieven , ( recommended by Jago Bhi )
4 : Murder of History by K.K. Aziz ( Help sought from Rana Hakim for some dates, like 15 August as an Independence Day etc . )
5 : Article from The Friday Times 14/03/2014 ( Historic Blunder by Shahzad Raza )
06 : Objective Resolution , the root of religious orthodoxy ( Dawn , 20/06/2010 )
07 : The Objective Resolution Lives on , Uzair Younus’s article in The Express Tribune dated 10/07/2014
08 : A History of Pakistan and its Origins by Christofe Jafferlot ( With thanks to Ali Jibran who gave me this book back ten years back )
9: Magnificent Delusions by Husain Haqqani ,
10 : Islam’s Fault Line Pakistan ( article in National Geographic September 2007 Issue )

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *