گردش کرتی افواہیں اور ہمارےرویے۔۔۔۔سید ممتاز علی بخاری

اللہ پاک نے قرآن شریف میں فرمایا کہ اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ.
ہمارے معاشرتی رویے بہت عجیب ہیں۔۔ ہم عموماً اپنے نظریے، عقیدے، پارٹی، علاقے ، مسلک اور برادری کی حمایت اور تشہیری سلسلے میں بلند و بانگ دعوؤں والی تصاویر، تحریریں وغیرہ شئیر کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور پھر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو ہم اس کی  کوئی بات نہیں سنتے اور اسے اوراس کے خاندان والوں کو اس قدر برا بھلا کہتے ہیں کہ اسے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہم سے اتنا نہیں ہوتا کہ جو بات ہم سوشل میڈیا کے ذریعے جان رہے ہیں اس کی تصدیق کے لیے چند منٹ نکال سکیں۔

یہاں میں اس کی چند مثالیں دینا چاہوں گا تاکہ بات سمجھنی آسان ہو جائے۔سوشل میڈیا پر پچھلے چند  برسوں  سےسڑک کی ایک تصویر گردش کر رہی ہے جس کے بارے میں لوگوں کے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں کوئی اسے خیبر پختونخوا  کی حکومت کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے   کے پی کے کا کوئی شہر بتاتا ہے تو کوئی اسے مسلم لیگ ن کی پچھلی پنجاب حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے پنجاب کے کسی شہر سے اس سڑک کو منسوب کرتا ہے اور جیالے اسے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کا کام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ سندھ کے فلاں شہر کی تصویر ہے۔ میں نے جب وہ تصویر دیکھی تو مجھے خیال آیا کہ اس کی حقیقت معلوم کروں ۔ میں نے وہ تصویر ڈاؤن لوڈ کی اور گوگل پر سرچ کیا تو پتا چلا کوریا کی سڑک کی تصویر تھی جسےہر کوئی اپنا کارنامہ قرار دے رہا تھا۔۔۔جہاں جہاں وہ تصویر دیکھی وہاں میں نے گوگل سرچ کا سکرین شاٹ لے کر بتایا کہ یہ کوریا کی تصویر ہے آپ خود گوگل سے تصدیق کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ دھڑا دھڑ اس غلط انفارمیشن کو پھیلا رہے ہیں۔ یہ صرف اس تصویر تک ہی محدود نہیں ہیں۔

پچھلے عرصے میں عمران خان کے بیٹوں کی تصویر شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے بیٹے یہودیوں کے مذہبی لباس میں تل ابیب میں موجود تھے۔ جب یہ موضوع سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو جمائما نے ٹویٹ کی کہ وہ میکسیکو میں چھٹیوں پر تھے اور یہ میکسیکو کا مقامی لباس ہے یہودی لباس نہیں۔۔۔ لیکن حیرت کی بات ہے ابھی تک وہ تصویر شئیر ہو رہی ہے۔۔۔انہی افواہوں اور تحقیق کی عدم موجودگی کے باعث کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے بھی تذبذب کی فضا چھائی رہی یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اسی طرح پاکستانی نژاد ارب پتی امریکی بزنس مین شاہد خان کی طرف سے ایک بلین ڈالر ڈیم فنڈ میں دیے جانے کی افواہ اٹھی تو دیکھتے ہی دیکھتے حکومت کی حامی سوشل میٖڈیا ٹیم نے بنا تحقیق اس خبر کو پھیلانا شروع کر دیا یہاں تک کہ شاہد خان کو خبر ہوئی تو اس نے تردید کر دی لیکن ابھی تک شاہد خان کے اس فیاضانہ کارنامے کی داد دی جا رہی ہے۔۔۔اس طرح کی ان گنت مثالیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کی پوسٹیں اور خبریں پھیلانے سے پہلے تصدیق ضروری ہے ورنہ بعد میں انسان خود ہی شرمندہ ہوتا ہے۔
جب بھی سوشل میڈیا پر آپ کی نظروں سے کوئی تحریر، پوسٹ گزرے تواسے شئیر کرنے سے پہلے انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں۔
اور بنا دیکھے، بنا  مکمل  تحریر پڑھے کسی کی کوئی بھی پوسٹ وغیرہ شئیر نہ کی جائے۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *