مذہبی بیانیہ کیا ہے؟

ایک مذہبی ذہن کے لیے خود راستی /خود راستبازی ( righteousness self ) سے بچنا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اپنے عقیدے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ اسے درست اور دوسروں کے عقائد کو غلط سمجھا جائے۔ایک مذہبی ذہن اپنے وظائف کی عمارت خود راستی کے احساس کی بنیاد پر استوار کرتا ہے۔احساس خود راستی ہی مذہبی ذہن کو تبلیغ سے لے کر اقامت دین ، دعوت و ارشاد اور قتال و جہاد تک لے جاتا ہے۔
خود راستی صرف اپنے عقائد کے درست اور برتر ہونے تک محدود نہیں رہتی بلکہ دوسروں کے غلط اور گمراہ ہونے کا احساس اور بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔اپنی حقانیت اور دوسروں کی گمراہی کے مابین فاصلہ مذہبی ذہن کے لا ئحہ عمل کا فیصلہ کرتا ہے۔بےپایاں احساس خود راستی کا لازمی نتیجہ تکفیر اور تشدد کی صورتوں میں برآمد ہوتا ہے۔
جناب خورشید ندیم صاحب نے متشدد گروہوں کے جن نظریات کی نشاندہی فرمائی ہے وہ تمام عصر حاضر کے مذہبی ذہن کی علامات ہیں، جن میں سے بعض کا پیرایہ اظہار سیاسی اور بعض کا سماجی ہے۔لیکن ان کی اصل خود راستی کا ایک راسخ احساس ہے۔ ان متشدد گروہوں کی جس علامت کا خورشید صاحب نے تذکرہ نہیں فرمایا وہ ان کی فرقہ واریت ہے۔ یہ علامت بہت قریب اور وضاحت سے مذہبی ذہن کی اصل پیچیدگی کا پتا دیتی ہے۔تمام شدت پسند گروہ بالا التزام فرقہ پرست ہیں ۔ یہ سب اپنے کو درست اور دوسروں کو نہ صرف گمراہ، خارج از دین بلکہ واجب القتل سمجھتے ہیں۔ان کا احساس خود راستی دوسروں کو حق حیات سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ایک مذہبی ذہن ہو سکتا ہے کہ دوسرے مذہبی فرقوں کو واجب القتل نہ گردانتا ہو، تاہم یہ تسلیم کرنا پھر بھی قدرے مشکل ہوتا ہے کہ دوسرے مسالک کے پاس بھی اپنے عقائد کی اصابت اور اثبات کے قوی دلائل ہو سکتے ہیں۔
دا عش اور طالبان کی جمہوریت دشمنی بھی صرف ایک علامت ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت ہر طرح کا عقیدہ رکھنے والوں کو معاشرتی نظام کی تعریف اور نفاذ کے فیصلوں میں مساوی شرکت کا موقع اور مقام عطا کرتی ہے۔احساس خود راستی سے معمور اور مخمور ذہن یہاں محمود و ایاز کو ایک صف میں کھڑا نہیں دیکھ سکتا۔نام لئے اور مثالیں دیے بغیر فقط یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ مذہبی ذہن چاہے مدرسے میں تشکیل پائے یا یونیورسٹی میں، خود راستی کے احساس سے بچ نکلنا اس کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
خود راستی کی موجودگی اور مقدار کا اندازہ اپنے عقائد و نظریات کی تشہیر و تبلیغ اور دوسروں کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس بات کو تسلیم کرنے میں تامل ہو مگر تبلیغ سے تکفیر اور تشدد تک کا فاصلہ زیادہ نہیں ہے۔
خود راستی کے احساس پر استوار مذہبی ذہن ہر دور کی سیاسی کشا کش میں استعمال ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ سیاسی کشا کش کے اسباب بنیادی طور پر اقتصادی ہوتے ہیں لیکن ان کو مذہبی رنگ دیے بغیر وسیع پیمانے پر احساس گناہ سے عاری قتل عام شاید ممکن نہ ہو پاتا ہو۔
گذشتہ چار دہائیوں سے انسانی تاریخ خود راستی کی دولت سے مالامال مذہبی ذہن کو ایک مرتبہ پھر استعمال ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے. یہ معاملہ بیانیہ کا نہیں، بنیادی ذہنی ڈھانچے کا ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے یا بچائو کا راستہ ایک متبادل مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ مذہبی ذہن کی بنیاد میں موجود و متحرک احساس خود راستی کی نفی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ علم نفسیات کا یہ مبتدی طالب علم سمجھتا ہے کہ پڑھنے والے اس سوال کا جواب دینے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”مذہبی بیانیہ کیا ہے؟

  1. مجھے اس سارے بیانیہ سے اتفاق نہیں ہے، تاریخ کا تسلسل اسے مستقلا درست نہیں سمجھتا، تھوڑے وقفوں کے لیے سیاسی عزائم کے حامل افراد نے نیم خواندہ افراد میں اس نوع کی عصبیت پھونک کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے ہیں کبھی بھی درجہ اول کی مذہب دانش اس نوعیت کی خود راستگی کا شکار نہیں رہی جس کے مقابل دوسرے کے برسر غلط ہونے کا نظریہ ہو. یہ محض دانش چوبیں کا اظہار ہے اور بس

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *