اصل چہرہ۔۔۔۔طلال انور

احساسِ سُود و زیاں نہ ہو تو زندگی صرف کھیل تماشہ ہے  اور  اس کھیل  میں  زیادہ تر چہرے تماشائی ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ چہروں پہ نظر پڑتے ہی   طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ جیسے یہ کوئی میرا بہت مانوس چہرہ ہے بلکہ میرا اپنا ہی چہرہ ہے اور پھر یہ احساس نہ تو  یک طرفہ ہوتاہے اور نہ ہی کسی خارجی  یا کسی بناوٹی اثر کے تحت ہوتا ہے۔اس احساس کے بعد وہ چہرہ دل و دماغ کے نہاں خانوں میں اپنے پورے وجود کے ساتھ بسیرا کر لیتا ہے کہ شاید یہی سچے اور سُچے تعلق کی  نشانی ہے۔تعلق بھی تو مالکِ کائنات کا عطا کردہ رزق ہی ہےاور تعلق کا رزق تو کبھی نہ  ختم ہونے والا رزق ہوتا ہے جو بعد از حیات بھی قائم رہتا ہے۔گردشِ لیل و نہار اورتلخیِ ایام میں انسان وہی  مانوس چہرے  ڈھونڈتا ہے کہ جن کی صحبت میں دلوں کے بوجھ کم کیے جا سکتے ہیں۔مانوسیت کسی کو جاننے کا نام نہیں بلکہ اپنی پہچان کرنے اور کروانے کا نام ہے، اپنے ہی عکس کواصل حالت میں پانے کا نام ہے۔ میں اورامجد دس سال سے دوست ہیں اور دوستی بھی ایسی کہ تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے۔

آج شام ہی سےمیری  طبیعت میں کچھ ٹھہراوتھا۔آٹھ بجے امجد کا فون آیا کہ وہ مجھ سے ملنے  آ رہا ہے۔جب ملا تو چہرے پہ افسردگی اور اداسی واضح تھی۔ہم دونوں   چائے کے شوقین ہیں  اورہماری کوئی بھی ملاقات چائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی بلکہ اکثر ملاقاتوں کا ہی بہانہ چائے بنی۔ چائے آنے سے پہلے اس نے سگریٹ سلگا ئی۔ وہ سگریٹ کے کش بھرنے کی بجائے  اس کے دھوئیں کو دیکھتا جا رہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہوا  کہ وہ آج خود اندر سے سلگا ہوا ہے۔کمرے میں موجود دھواں سگریٹ کا نہیں بلکہ امجد کا تھا۔خاموشی بھی عجب چیز ہے  کہ الفاظ کا سہارا لیے بغیر ہی سب کچھ کہہ جاتی ہے۔چائے آنے سے پہلے تک خاموشی کی زباں میں باتیں ہوتیں رہیں ۔چائے آئی تو پھروہ کافی دیر اسے یوں تکتا رہا کہ  جیسے کوئی گمشدہ میراث ڈھونڈ رہا ہو یا شاید اپنے ہی اصل چہرے تک رسائی کی کوشش کر رہا ہو ۔ وہ اپنے ذہن میں  اُٹھنے والی متلاطم موجوں کے اثر میں تھا۔

یار امجد تمہارے اندر کی بھڑاس چائے کو ٹھنڈا کر رہی ہے اور ٹھنڈے اجسام زندگی کے نہیں بلکہ موت کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ وہ مسکرایا اور سگریٹ کو یوں بجھایا جیسے کسی علاقے کو فتح کرنے کے بعد اپنا جھنڈا لگارہا ہو۔ مسکراہٹ سے اس کے دل کے ساحل پہ موجوں کے ٹکرانے میں کمی آئی اور بولا:

سعد۔۔۔!  مادہ پرست انسان کو آئینے میں کھڑا شخص بھی اجنبی لگتا ہے۔دنیا جیتنے کے چکر میں  وہ اپنے علاوہ دنیا کی ہر شےکو جانتا ہے۔ خود سے ناواقفیت  اسے ذہنی اور قلبی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔اپنے  اصل سے ناآشنا ، راستوں میں بھٹکا دیئے جاتے ہیں۔دل و دماغ پہ حجاب، انسان کو گمراہ کر دیتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ یوں چل دیا جیسے دشمن کو قابلِ رحم سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔وہ چلا گیا مگر میرے لیے سوال چھوڑ گیا۔میں اُٹھا اور خود کو آئینے میں دیکھا اور خود سے سوال کیا کہ کیا میرا اصل چہرہ یہی ہے یا پسِ آئینہ کوئی اور بھی ہے!

طلال انور
طلال انور
میں طائرِ لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *