جنازے پر خوشی، کم عقلی یا تربیت میں سقم؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

پچھلے دنوں بیگم کلثوم نواز اپنے حقیقی خدا سے جا ملیں۔ کئی بے حس انسان سوشل میڈیا پہ دانتوں کی نمائش کرتے دکھائی دیے۔ مرحومہ کا مجازی خدا اور حقیقی بیٹی ان کی وفات کے وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے قاضی وقت کی جانب سے متعین سزا کاٹ رہے ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ میاں صاحب چور، ڈاکو، لٹیرے، اور جانے کیا کیا ہیں۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ خروٹ آباد میں حاملہ عورت کی جانب سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دہائیاں دینے کے باوجود فائرنگ کرنے کے ذمہ دار پرویز مشرف نہیں البتہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے پہ قاتل نواز شریف ہی ہیں۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ بائیس کروڑ عوام کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر قتل بھی نواز شریف نے کیا ہے۔ اور ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ نواز شریف کی کرپشن کی سزا ریاستی مہمانوں جناب عزت مآب احسان اللہ احسان، جناب کلبھوشن یادو اور حضرت راؤ انوار سے کہیں زیادہ بنتی ہے۔ ہم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ بیگم کلثوم کا گناہ کبیرہ اپنی اولاد یا شوہر سے ان کی دولت کے بارے میں سوال نہ کرنا تھا۔ بیگم کلثوم کا  مزید ایک جرم یہ بھی مان لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو برطانیہ کی شہریت لینے دی۔

ان سب باتوں کو فرض کرنے کے بعد بھی سوال یہ ہے کہ کیا ایک شوہر کی بیوی اور ایک بیٹی کی ماں کی موت پہ ہمدردی بنتی ہے یا نہیں؟ کینسر کی تکلیف تو اپنے خان صاحب کو کئی لوگوں کی نسبت بہتر معلوم ہوگی کہ والدہ ماجدہ کی تڑپ کے شاہد رہے۔ کیا کومے کی حالت میں ایک بزرگ عمر خاتون کی اپنی بیٹی اور شوہر سے دور موذی مرض کی اذیت سوچ کر ہمدردی بنتی ہے یا نہیں؟

اس کے بعد وہ بزرگ خاتون اس جہان فانی سے کوچ فرما جاتی ہیں تو اکثر من الناس یاد کرتے ہیں کہ چور کی بیوی تھی یا ایسی دولت کس کام کی کہ اولاد جنازے میں شامل نہ ہوسکے وغیرہ وغیرہ۔ کبھی ہم پاکستانی اپنے طور طریق اور خاندانی و انسانی اقدار پہ فخر کیا کرتے تھے۔ آج عجیب سا وقت ہے کہ جنازے کے موقع پر ہمیں ایک جسد خاکی سے عبرت تو بالکل ہی نہیں ہوتی الٹا ہم اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے مرحومہ کو “تو تیری” کے انداز میں یاد کرتے ہیں یا مرحومہ کے اہل و عیال پہ طعنے بازیاں شروع کر دیتے ہیں۔

میرے نزدیک یہ تربیت کا نقص ہے۔ یعنی دنیا سے سدھار جانے والے انسان کا ذکر بد تہذیبی سے کرنا والدین کی تربیت میں سقم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس بات کا اظہار اپنی فیس بک وال پر کیا تو ایک دو بھائی جیسے دوستوں کو چھوڑ کر باقی جگہ اتفاق پایا گیا۔ اختلاف کرنے والے بھائیوں کے نزدیک یہ تربیت کا نہیں عقل و شعور کا معاملہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک بہت ہی پیارے اور حقیقتاً  دانا بھائی کے بقول:

“کسی دوسرے کی کم عقلی پر اس کے والدین کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے۔”

یہاں کم عقلی ایک گرے ایریا ہے جس میں ہم کافی سارے غلط کام اور اعمال ڈال سکتے ہیں۔ میں اپنا تجربہ سامنے رکھتا ہوں۔ بچپن میں ہماری والدہ گھر پہ کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بھی آپ جناب کا استعمال کرواتیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ چار لوگوں کے سامنے بات کرتے ہوئے اپنے بدترین مخالفین کے لیے بھی تو تڑاخ سے گریز رہتا ہے۔

ایک واقعہ سنیے۔ بچپن میں پھوپھی کے گھر دعوت تھی۔ ایک فیملی مدعو تھی جن کے گھر میں “آپ جناب” والے طرز تخاطب کا فقدان تھا۔ ان کا ایک بیٹا تھا، کوئی سات آٹھ سال کا۔ کزن نے اس کے ساتھ تھوڑی چھیڑ چھاڑ کی تو روتا ہوا اپنی والدہ کے پاس گیا اور کہنے لگا، “امی محمود کا بیٹا مجھے گھوڑے کے منہ والا کہہ رہا ہے”۔ (کہا میرے کزن نے تھا بہرحال اسے پہچان محمود کے بیٹے یعنی میری ہی تھی)۔ میرے والد اس کے لیے چچا، تایا کا درجہ رکھتے تھے پھر بھی “محمود کا بیٹا”۔ کوئی بیس سال بعد یہی بچہ بڑا ہوکر میرے گھر کی ایک شادی میں بطور کیمرہ مین مووی بنا رہا تھا۔ اسی اثنا میں اسے گھر سے فون آیا، اپنے گھر والوں سے وہ کچھ یوں مخاطب ہوا “جی میں محمود کے گھر مووی بنانے آیا ہوا ہوں، اس کے گھر سے فارغ ہوکر آتا ہوں”۔ ہم اسے بچپن میں بھی فوزیہ آنٹی کا بیٹا کہتے ناکہ “فوزیہ کا بیٹا”، آج بھی یہی کہتے ہیں (نام ذہن میں نہیں رہتا)۔ یہ چند مثالیں ہیں۔ اس طرح اور کئی مثالیں نظر سے گزریں۔

چند دن پہلے کی سنیے۔ پچھلے دنوں بیٹے سے کوئی سوال پوچھا۔ جواب آیا “ہاں”۔ بیگم نے گھورتے ہوئے بیٹے سے پوچھا “ہاں؟” شرمندگی سے بولا “اوہ سوری، جی”۔ اب مستقبل بعید میں چار لوگوں سے بات کرتے ہوئے امید ہے کہ بیٹے نے “جی ہاں” کا استعمال ضرور کرنا ہے۔ نہ کر پایا تو میں اسے اپنی تربیت میں کوتاہی ماننے کو تیار رہوں گا۔ 

جنازے کے آداب بھی عموماً بچہ گھر والوں سے سیکھتا ہے۔ میرے نزدیک بیگم کلثوم نواز کی وفات پر طوفان بدتمیزی مچانے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہیں والدین کی جانب سے مناسب تربیت نہ مل سکی۔ ہم اس رویے کو سو فیصد والدین پہ نہ بھی ڈالیں تب بھی انسانی رویہ بہت حد تک ارد گرد کے ماحول کے مرہون منت ضرور ہوتا ہے۔ ہم اس “کسی حد” کے تناسب میں اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس سے انکار ہرگز نہیں کر سکتے۔ 

اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کیجیے کہ ان سے بات کر کے لوگ خوشی محسوس کریں ناکہ انہیں دیکھ یا سن کر کوفت محسوس ہو۔ اچھی تربیت کا نتیجہ ایک اچھی اولاد ہوتا ہے اور اچھی اولاد صدقہ جاریہ ہے۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *