بیچارہ شوہر۔۔کچھ تو اطاعت لازم ہے

جب بھی کسی محفل میں جانا ہو چاہے وہ شادی ہو یا مرگ یا کوئی اور فنکشن۔۔غورکرنے پر بہت سی باتیں مشاہدے میں آتی ہیں،بہت سے تجربات ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ ناآسودہ لوگوں کی زندگیوں سے حاصل کرتے ہیں لیکن وہی تجربات آپ کی زندگی کو آسودہ کر جاتے ہیں۔۔اور بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے جو آپ کو کچھ نیا سکھا جاتے ہیں ۔چند روز قبل ایک محفل میں کسی خاتون سے ملنے کا اتفاق ہوا۔۔۔ محترمہ مقامی کالج میں اردو کی لیکچرار تھیں۔۔ان سے کچھ دیربات کرنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ جیسے ہر بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔۔اورانداز میں قطعیت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ خیر بات چلتی چلتی شوہروں پر آن ٹھہری۔۔۔مجھے کہنے لگیں بھئی آپ کی شادی نہیں ہوئی نا ابھی اس لیے آپ کو یہ باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔

اب بات کیا تھی کہ شوہر کی اطاعت کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔۔یہ گزرے وقتوں کے قصے کہانیاں ہیں۔۔۔اور ہم مُصر تھے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔۔زمانہ گزرا ہو،موجودہ یا آنے والا۔۔ہر زمانے میں میاں بیوی کے رشتے اور ایک دوسرے پر حقوق فرائض میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے(اگرچہ بدلتے زمانے کے ساتھ اس سوچ کو بدلنے والی خواتین کی وجہ سے فرق آچکا ہے)۔۔لیکن وہ خاتون بار بار ایک ہی بات دہرائے چلی گئیں”بھئی آپ کی شادی نہیں ہوئی ہے ابھی،آپ کو کیا معلوم یہ سب”۔ خاتون ہم سے یہ منوانے پر بضد تھیں کہ اسلام کہتا ہے کہ اگر عورت الگ گھر چاہتی ہے،اس کا شوہر کے گھر والوں کے ساتھ گزارا نہیں ہو رہا تو شوہر پر فرض ہے کہ بیوی کو الگ گھر لے کر دے۔ سبحان اللہ۔۔۔کیا کہنے۔

میں نے عرض کی محترمہ آپ اسلام سے اپنی مرضی کی بات چُن رہی ہیں اصل بات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔۔ اور جو بات آپ کی مرضی پر پورا نہیں اتر رہی اسے آپ گزرے وقتوں کے سر منڈھ رہی ہیں۔۔یہ کہاں کا انصاف ہے۔لمحہ بھر کو خاموش ہو رہیں۔۔۔اور کچھ نہ سوجھا تو وہی تکرار لفظی۔۔۔”آپ کو کیا معلوم آپ کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے”۔ میں نے کہا شکر ہے نہیں ہوئی ہے۔۔اگر شادی کے بعد خواتین ایسے اسلام کے احکام میں اپنی مرضی سے رد و بدل کرنے لگتی ہیں تو شکر ہے کہ میرا دماغی توازن برقرار ہے۔۔اتنا کہنا تھا کہ خاتو ن نے اپنی پلیٹ اٹھا ئی اور دور جا کر ہماری طرف پیٹھ کیے دوسری میز پر بیٹھ گئیں۔

عرض یہ ہے کہ شوہر کی اطاعت کا حکم تو اللہ کریم نے فرمایا ہے۔مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔پھر ایک بیوی اس چیز کو کیوں قبول نہیں کرتی۔۔وہ شوہر کی جیب پر اپنا حق سمجھتی ہے کہ جو کمائے سارے کا سارا آپ کی ہتھیلی پر لا کر دھر دے۔شوہر کے وقت پر اپنا حق سمجھتی ہے کہ جیسے ہی گھر میں داخل ہو بس اس کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ جائے، اماں بہنوں کے پاس پھٹکے بھی نہ۔۔۔۔اور جب اسی شوہر کی اطاعت کرنے کی بات آتی ہے تو آپ کہتی ہیں یہ سب اب نہیں چلتا،آج کی عورت آزاد ہے،وہ کسی کی پابند نہیں رہ سکتی۔۔کسی کے طابع نہیں رہ سکتی۔

سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کا یہ فرض نہیں بنتا کہ جو شوہر اس کی ضروریات ِ زندگی پوری کررہا ہے،وہ اس کے گھر والوں کے ساتھ اچھا رویہ اپنائے،خوش اخلاقی سے پیش آئے۔(یہی بات سسرالی رشتہ داروں پر بھی لاگو ہوتی ہے کہ بیٹے کی بیوی کو عزت دیں،وہ اپنے ماں باپ،گھر چھوڑ کر آئی ہے،اسے ایڈجسٹ ہونے کے لیے کچھ وقت دیں)۔۔ایک دوسرے کی بات کو سمجھیں،بحث برائے بحث سے اجتناب برتیں۔بیوی شوہر کے مالی حالات کو مدِ نظر رکھے۔اگر شوہر آسودہ حال بھی ہے تو یہ ضرور سوچے کہ اس کا شوہر ہونے سے پہلے یہ شخص کسی کا بیٹا اور بھائی بھی ہے۔

میرے آنکھوں دیکھے واقعات ہیں جہاں ایک نئی نویلی بہو سسرال میں آکر چند ہی روز بعد فرماتی ہیں۔۔میں تو خود کو نہیں بدل سکتی،نہ اپنی کوئی عادت چھوڑ سکتی ہوں۔ہاں آپ لوگوں کو مسئلہ ہے تو آپ سب میرے جیسے ہو جائیے۔اب کوئی پوچھے۔۔محترمہ شادی کیوں کی تھی؟۔۔۔۔۔جب آپ اپنے اندر کچھ تبدیلی نہیں لا سکتیں،طبعیت میں ذرا انکساری اور جھکاؤ پیدا نہیں کر سکتیں تو پھر اماں باوا کا گھر ہی بہتر جگہ ہے، بجائے اس کے آپ سسرا ل جا کر دس لوگوں کو اپنی سوچ کے سانچے میں ڈھالنے کی تگ و دو میں مصرو ف ہو جائیں،خود بھی پریشان ہوں دوسرو ں کو بھی کریں اور ایسے حالات میں شوہر نامی مخلوق تو کسی کام کی نہیں رہتی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شوہر کی اطاعت کے لیے عورت کو اپنا آپ،کچھ خواہشات،شوق بہت کچھ تیاگنا پڑتا ہے۔۔اپنی انا کا گلہ گھونٹنا پڑتا ہے۔ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام انہی سمجھدار،معامہ فہم خواتین کی بدولت قائم و دائم ہے۔

اس سب کے باوجود شوہروں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایک عورت جو آپ کے لیے اپناآپ مار رہی ہے،آپ کی اطاعت کر رہی ہے،آپ کا دن رات خیال رکھتی ہے،بچے پیدا کرتی ہے،انہیں پالتی ہے،تربیت کرتی ہے،آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی انا کو روندتی ہے،آپ بھی اسے وہ مقام دیں جو آپ اس سے توقع رکھتے ہیں۔میاں بیوی کا رشتہ دونوں فریقین کی جانب سے معتدل رویے کی مانگ کرتا ہے۔ کبھی دوسرے کی مان لی اور کبھی دوسرے سے منوا لی،یہی چیز رشتوں کو اعتدال پر رکھتی ہے۔ ہٹ دھرمی،انا پرستی رشتوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ متوازن رویے ہی خوبصورت زندگی کی ضمانت ہیں۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *