آج کا مسلمان اور ہیروئنچی۔۔۔۔عمیر اقبال

شہر کے معروف پوش علاقے میں ایک ہیروئنچی گاڑی کی بیٹری چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ گاڑی میں اس قدر اطمینان سے بیٹھا تھا کہ یوں لگ رہا تھا کوئی مکینک کار کی مرمت کررہا ہو۔ ساتھ والے گھر کو کھٹکا گزرا تومتعلقہ گھر پر بطور تصدیق یہ کہہ دیا کہ ایک آدمی آ پ کی گاڑی میں بیٹھا ہوا کام کررہا ہے۔ آپ کے علم میں یہ بات ہے نا؟! بس پھر کیا تھا گھر کا مرد مشتعل ہوکر باہر نکلا۔ اس کو گاڑی سے کھینچ نکالا اور پیٹ ڈالا۔ واقعہ کی تفصیلات تو مجھے بعد میں پتہ چلی، لیکن اس بے گانہ چرسی کو میں نے اپنی آنکھوں سے پٹتے دیکھا۔ حال یہ تھا کہ مار کھانے کی صورت میں بھی ایک سرنج جس سے وہ اپنی زندگی کو دن بہ دن تباہی کے دہانے پر لا رہا تھا، اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامی ہوئی تھی۔ یقین مانیے! وہ زمین پر لیٹا پڑا تھا۔ سر سے خون رس رہا تھا۔ آدمی نے ڈنڈے سے مارا۔ گھونسے بھی کھلائے۔ لاتوں سے بھی تواضع کی، مگر مجال ہے اس کی طاقت میں کوئی کمی آئی ہو۔ وہ آدمی مارتے مارتے تھک گیا لیکن ہیروئنچی پٹتے پٹتے نہیں تھکا۔

بالاآخر بے بس ہوکر لعنت ملامت کرتے ہوئے اس کو وہاں سے بھگادیا تو ایسی برق رفتاری سے کھسکا کہ بندہ حیران رہ گیا گویا اس پر کچھ بیتی ہی نہ ہو۔ یہ عارضی طاقت اسی نشے کی  مرہون منت ہے جس کا آخری انجام موت ہوتا ہے۔ بعد میں اس آدمی نے خود بھی اعتراف کیا کہ ان کی جتنی بھی دھلائی کرلو، کچھ فائدہ نہیں۔ ان کو اپنا کچھ ہوش نہیں ہوتا۔ ادھر سے پٹنے کے بعد کہیں اور ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کریں گے، مگر باز نہیں آئیں گے۔ اس شخص نے بھی وقتی غصے کے تحت اس کو مار کر اپنا جوش ٹھنڈا کرلیا۔ واقعتا ً ہوا بھی ایسا ہی۔ چند دنوں بعد اسی گلی سےکسی اور کی گاڑی کی تقریبا ً پانچ ہزار کی بیٹری چوری ہوگئی۔ اب معلوم نہیں یہ وہی مضروب تھا یا کوئی اور، لیکن تھا اسی برادری کا۔

یہ جو کچھ بھی ہوا بہت برا ہوا۔ لیکن اس افسوس ناک واقعے نے احقر کو ایک بہت عظیم سبق سکھادیا۔ وہ یہ کہ ہم کلمہ گو مسلمان اور چرسیوں میں صرف “ہوش و حواس” کا فرق رہ گیا ہے۔ وہ بےچارہ جو کرتا ہے مد ہوشی کی حالت میں کرتا ہے جس کی اسے نقد سزا مل جاتی ہے۔ لیکن نتیجہ وہی ہوتا ہے ڈھاک کے تین پات۔ اور ہم ہوش و حواس میں رہ کرہر وہ کام کرتے ہیں جس سے ہم اپنے رب کی مار کے مستحق ہوتے ہیں۔

اللہ کی نافرمانیوں اور  اپنے گناہوں کے نشے میں ہم اس قدر دھت ہوچکے ہیں کہ کوئی سزا کوئی عتاب ہمارے احوال بدلنے میں کامیاب نہیں ہورہی۔ ٹارگٹ کلنگ، ڈاکہ زنی، نااہل حکومت، ناانصافیاں، اولاد کی والدین کے آگے سینہ زوری، گھریلو اختلافات، شوہر بیوی جیسے پاکیزہ رشتے میں ناچاقیاں وہ قہر الہٰی ہے جس کو ہم نے خود دعوت دی ہے اور خود اپنے اوپر مسلط کیا ہے۔ لیکن یا للعجب! مجال ہے کی ہم ٹس سے مس ہوجائیں۔ سچ پوچھیں تو ایک بات سے بڑا خوف آتا ہے کہ اس ہیروئنچی کو کیا پتہ اللہ تعالیٰ اس کے پاگل پنے کی وجہ سے جنت میں داخلہ دےدے، لیکن ایسی قوم کا کیا حال ہوگا جو سب کچھ جاننے کے باوجود بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے پاگل پنے اور دیوانگی پر اتر آئی ہے جو اللہ کو تو مانتی ہے لیکن اللہ کی نہیں مانتی۔

ہم رب کو جانتے تو ہیں پہچانتے   نہیں

بس ہے سبب یہی جو کہا مانتے نہیں!

اگر ان سب حقائق کے بعد بھی آپ کے الفاظ یہ ہیں  کہ “اللہ بڑا غفور و رحیم ہے” “ہم معذور ہیں” اور آپ کے خیال میں نعوذ باللہ واپسی کی ساری راہیں بند ہوچکی ہیں تو کل کلاں اگر کوئی دونوں جہاں سے غافل انسان آپ کی گاڑی کا ٹیپ یا بیٹری چوری کرتا ہوا پکڑا گیا تو وہاں پر اکڑفوں دکھانے کے بجائے اس کو معذور سمجھتے ہوئے حلم و بردباری کا مظاہرہ کیجیے۔ اگر ایسا کرنا آپ کے نزدیک محال ہے تو اس رازق اللہ کا بھی سوچ لیجے جس کی روٹی کھا کر ہم نمک حرامی کرتے ہیں اور اس کی دی ہوئی طاقت کو اسی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس حلیم نے کمال تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے ہم پر اجتماعی عذاب کے بجائے اپنے غصے کو ٹھنڈا رکھا ہوا ہے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتایے کیا اس عظیم مولا کا یہ ہی شکر ہے کہ کھائے کسی اور کا گائے کسی اور کا؟

یہ جو حال ہے ہم ہی نے تو کیا ہے

نشہ ہے گناہوں کا بھر کے پیا ہے!

عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *