باسٹھ تریسٹھ کی ضرب کاری، عمران خان اب تیری باری؟

قیامِ پاکستان کی تحریک سے لے کر اب تک کی سیاست میں خواتین کا ایک اہم کردار رہا ہے اور خواتین ہر موقع پر نمایاں رہی ہیں۔ خواہ جلسے جلوس ہوں یا جیلوں میں کاٹی جانے والی تکالیف، خواتین سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں حالات و واقعات بدلے، وہیں ہماری اقدار و روایات میں بھی تبدیلی دیکھنے کو آئی۔ لیکن ایک چیز جو نہیں بدلی وہ سیاست اور معیشت کی دوڑ میں خواتین کا نظر انداز نہ ہو سکنے والا کردار۔
تحریکِ انصاف کی پارٹی رکن اور ایم این اے عائشہ گلالئی کی پریس کانفرنس، سمیت تمام الزامات ، ایک نازک موڑ پر ڈرامائی انداز میں سامنے آئی۔ جس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور ارکان پر سنگین الزامات لگائے گئے۔ ان کے مطابق خان صاحب نے انہیں 2013 میں بلیک بیری فون سے غیر اخلاقی میسیجز کئے اور یہ کہ خان صاحب دو نمبر پٹھان اور نفسیاتی مریض ہیں اور مزید یہ کہ ان کی پارٹی میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔
اس بات سے انحراف ممکن نہیں کہ خواتین کا عزت و احترام ہر معاشرے پر لازم ہے۔ جلسہ گاہیں ہوں، ورک پلیس یا سیاست کا میدان، خواتین کو تعصب سے پاک اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہاں میں ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ جو خواتین، لڑکیاں اور بچیاں پی ٹی آئی کے جلسے اور ریلیوں میں ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتی ہیں تو کیا انہیں اپنی عزت پیاری نہیں؟ ان کے والدین کیا اس چیز سے بے خبر ہیں کہ ان جلسوں میں ان کی ماؤں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں؟
2013 میں آپ کو ہراساں کیا گیا تو آپ نے 2017 میں اس کا اظہار کیوں کیا؟ چار سال کے عرصے کے دوران آپ کیوں خاموش رہیں؟ اور اگر پی ٹی آئی کی میٹنگز کی ویڈیوز یا تصویری ریکارڈ دیکھیں تو آپ خان صاحب کے ساتھ ساتھ رہیں۔ جبکہ آپ کو 2013 میں ہی پارٹی کو چھوڑ دینا چاہیئے تھا۔
یہ ایک ہی رات میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ سارا عمرانی ٹولہ برا ہو گیا
پھر آپ نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ پر کرپشن کے جو الزامات لگائے اور بقول آپ کے کہ ان کے خلاف ثبوت لے کر خان صاحب کے پاس گئی تھیں جو کہ انہوں نے مسترد کر دیئے۔ محترمہ عائشہ صاحبہ، آپ نے وہ ثبوت کل اپنی کی جانے والے پریس کانفرنس میں کیوں نہ پیش کر دیئے؟ آپکی پریس کانفرنس الجھی ہوئی دکھائی دے رہی تھی اور لگ رہا تھا کہ یہ سارا ڈرامہ پلان کر کے اور کسی کے ایماء پر کیا جا رہا ہو۔ اور جیسا کہ دنیا نیوز کے مطابق اس کانفرنس سے پہلے امیر مقام کے ساتھ آپ کی میٹنگ بھی ہوئی۔ اس کے باوجود آپ کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ اسی لئے شاید آپ کے والد بیچ بیچ میں آپ کو “رہنمائی” فراہم کر رہے تھے۔آپ نے کہا کہ آپ پختون ہیں جن کو اپنی عزت بہت پیاری ہے تو میں عرض کروں کہ اگر آپ خود کو پاکستانی کہتیں تو بات کچھ اور ہوتی۔ آپ کے کہنے کے مطابق صرف پختون عورت کی عزت ہے تو باقی خواتین؟؟؟ اگر تو یہ الزامات سچ ہیں تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے اور اس سے باقی عورتیں جو سیاست سے وابستہ ہیں ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
اور پھر جو 62/63 کی بات کی گئی تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی کٹھ پتلی تماشا چل رہا ہے۔ کردار بدل رہے ہیں۔ پہلے 62/63 کی تلوار خان صاحب ہاتھ میں لے کر للکار رہے تھے جو کہ بعدازاں نواز شریف پر چلی۔ اب پھر وہی لوگ جنہوں نے یہ تلوار خان صاحب کو دی تھی وہ ان سے لے کر کسی اور کے حوالے کر دی گئی ہے، اور اب کے نشانے پر خان صاحب آپ خود ہیں۔ پھر شاید آپ کے بعد کوئی اور۔
عائشہ گلالئی صاحبہ کہ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی تھا اور آپ کو پی ٹی آئی پر تحفظات تھے تو جو پہلا کام آپ کو کرنا چاہیئے تھا وہ پارٹی اور عہدے سے استعفیٰ دینا تھا۔ پھر تمام ثبوتوں اور میسیجز کو لے کر خان صاحب پر مقدمہ کرنا چاہیئے تھا اور ان کی بنیاد پر عدالت فیصلہ کرتی۔ ان سارے الزامات پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اگر جرم ثابت ہو تو ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیئے۔ لیکن ان چند دنوں میں جو واقعات رونما ہوئے ان میں جاوید ہاشمی صاحب کی گلفشانیاں بھی ہیں جو ان کو اس نازک موقع پر کرنی یاد آئیں۔ پہلے شاید وہ سو رہے تھے یا سلائے گئے تھے۔ اور پھر آپ کے لگائے جانے والے الزامات جو کہ انتہائی خطرناک ہیں۔ تو عرض ہے کہ پارٹی بے شک چھوڑیں، جو کہ آپ کا حق بھی ہے، لیکن کسی کا آلہ کار مت بنیں۔ حالات و واقعات کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔اب جب کہ الزاماتی کانفرنس کے بعد کپتان کی کھلاڑی خواتین میدان میں آ چکی ہیں اور اس پریس کانفرنس کی پر زور مذمت کر رہی ہیں تو عائشہ صاحبہ آپ پر لازم ہے کہ اپنے الزامات کو ثابت کریں ورنہ خواتین جو کسی مجبوری یا معاشی حالات سے تنگ آ کر روزگار کیلئے نکلتی ہیں ان پر راستے بند ہو جائیں گے۔

Avatar
مہر ارم بتول
وومنز سٹڈیز اور انتھرپالوجی میں ڈگری حاصل کی اور سیاسی و سماجی موضوعات پر قلمکاری کے ذریعے ان موضوعات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے جڑے ایشوز پر روشنی ڈالنے کی سعی کرتی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *