جب لاد چلے گا بنجارا۔۔۔۔ محمد اظہار الحق

مکان بنتے دیکھا۔ کل میں نے بھی بنانا ہوگا۔ خوب دلچسپی لی۔ ایک ایک بات پوچھی۔ نقشہ کہاں سے بنوایا؟ ٹھیکہ کسے دیا؟ کمروں کا سائز کیا ہے؟ غسل خانے پر کیا خرچ آیا؟ ٹائلیں لگوائیں یا فرش ماربل کا رکھا؟ سیوریج کے پائپ کون سے برانڈ کے بہترین ہیں؟ نقشہ پاس کیسے ہوگا؟ فلاں راج کی شہرت کیسی ہے؟ ایک ایک تفصیل، سوئچ تک، کنڈی تالوں تک کی۔ شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ مجھے بھی بیٹے کی شادی کرنی ہے۔ سب کچھ پوچھا۔ کون سا شادی ہال مناسب ہے۔ کھانے کا مینو کیا تھا؟ زیورات کہاں سے اچھے بنے؟ لہنگا کتنے میں بنا؟ ہم ہر کام ہوتا دیکھ کر کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ اپنے فائدے کے لیے۔ زندگی پر نظر دوڑائیے۔ بچے کے سکول میں داخلے سے لے کر گیس کا میٹر لگوانے تک۔ ویزہ لینے سے لے کر ہوٹل کا کرایہ جاننے تک۔ مگر یہ عقلمندی، یہ دور اندیشی، یہ باریک بینی۔ اس وقت ہوا ہو جاتی ہے جب کسی کی موت دیکھتے ہیں۔ خدا کے بندو، قبر کھودی جا رہی ہو تو اس کی تفصیلات بھی تو پوچھو۔ کل تمہارے لیے قبر کون سی مناسب ہوگی؟ کتنی گہرائی والی؟ اپنے لیے سلیں تو چن لو۔ باتھ روم میں لگانے کے لیے ایک ایک ٹائل کی کوائلٹی اور قیمت پوچھتے ہو، ان سلوں کے بارے میں بھی کچھ جاننے کی کوشش کرو جو تمہارے بے جان جسم کے اوپر رکھیں گے اور پھران پر گارا تھوپیں گے؟ کلثوم نواز اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ یہ کیوں کہتے ہو کہ نوازشریف کی دولت کام نہ آئی؟ اپنے بارے میں سوچو۔ تمہارا کیا بنے گا؟ تم سے نوازشریف کی دولت کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ اپنی خیرمنائو، اپنے بارے میں سوچو، کلثوم نواز نہ رہیں تو تم کس کھیت کی مولی ہو؟ کسی سے اتنا ہی پوچھ لو کہ تدفین کے بعد، مٹی ڈالنے کے بعد، پھول چڑھانے کے بعد، دعا مانگنے کے بعد جب سب لواحقین اور دوست احباب واپس جا رہے ہوں گے اور ان کے دور ہوتے قدموں کی آہٹ تمہیں سنائی دے رہی ہوگی تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ تم سے پوچھا جائے گا مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ مان لیا زرداری اور شریفوں نے بہت کچھ جوڑا اور غلط طریقے سے جوڑا مگر سوال یہ ہے تم کیا جواب دو گے؟ تمہارے سامنے قبر میں وہ گاہک دکھائی دیں گے جنہیں کم تول کر، کم ماپ کر دیتے تھے۔ شے کا نقص نہیں بتاتے تھے؟ ٹیکس چوری کرتے تھے، حاجی صاحب کہلواتے تھے۔ آئے دن دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے میت اتاری جا رہی ہے اور مٹی ڈالی جا رہی ہے مگر کبھی نہ سوچا کہ یہ کل ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟ یہ گھاٹی اکیلے پار کرنا ہوگی۔ آج مکان تعمیر کرتے وقت، بچے کی شادی کرتے وقت، بیرون ملک سدھارتے وقت، سب ساتھ دیتے ہیں، ہاتھ بٹاتے ہیں، ڈیوٹیاں تقسیم کرلیتے ہیں مگر موت والا کام اکیلے کرنا ہوگا۔ نوکروں کی فوج ظفر موج۔ دوست احباب کے ہجوم! کوئی کام نہیں آتا۔ کچھ ایک دن روتے ہیں، کچھ ایک ہفتہ، کچھ ایک ماہ، کچھ ایک سال۔ اس کے بعد یوں لگتا ہے جیسے یہاں کوئی کبھی تھا ہی نہیں ؎ نہ گور سکندر نہ ہے قصر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے اور کرنا کیا ہے؟ کسی کو دفن ہوتے دیکھ کر؟ پلان کیا بنانا ہے کسی کی قبر پر مٹی ڈالتے وقت؟ یہ واحد مہم ہے جس کو سرکرنے کے لیے سامان نہیں خریدنا۔ جیکٹ نہ سلیپنگ بیگ، مال نہیں جمع کرنا، قرض نہیں لینا، صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے آپ کو سیدھا کرنا ہے، اپنی ٹیڑھ نکالنی ہے۔ اس منظر کو یاد رکھنا ہے، بس! اور کچھ نہیں۔ ملازمت کا معاہدہ آپ نے یہ کیا ہے کہ آٹھ بجے سے پانچ بجے تک کام کریں گے۔ جب اس معاہدے کو توڑتے ہیں تو توڑتے وقت صرف یہ یاد رکھنا ہے کہ کل آپ کو قبر میں اتارا جائے گا۔ وقت پر جائیے، پورا کام کیجئے، نماز یا ظہرانے کے بہانے بھگوڑے نہ بنیے۔ اس لیے کہ آپ کے اوپر مٹی ڈالی جانی ہے۔ وعدہ پورا کیجئے۔ ایک ایک وعدہ شکنی کا پوچھا جائے گا۔ سلوں پر مٹی ڈالے جانے کے بعد جواب دینا ہوگا؟ کیا کہیں گے اس وقت؟ آج انا پہاڑ بنی ہوئی ہے۔ رشتہ دار روٹھا ہے تو روٹھا ہے۔ پہلے وہ آئے۔ پہلے وہ معذرت کرے، میری تو غلطی ہی نہیں تھی، یہ انا، یہ تکبر، یہ غرور اس وقت کہاں ہوگا جب تمہارے جسم کے گرد دو پٹکے ڈالے جائیں گے۔ دونوں کو کناروں سے پکڑ کر لحد میں اتارا جائے گا، کیا قابل رحم حالت ہوگی۔ صرف وہ افراد لحد میں اتریں گے جو جسمانی لحاظ سے تنومند اور قوی ہوں گے۔ اپنے شاید نہ ہوں۔ ایک فٹ زمین، مکان بناتے وقت، تم نے سرکاری گلی کی مارلی۔ ایک فٹ پڑوس کی ساتھ ملالی، اس لیے کہ وہ بیوہ ہے اور تم سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ جگہ تمہارے کس کام آئے گی؟ جو مٹی سلوں کے اوپر ڈالی جانی ہے وہ تو کہیں اور سے آنی ہے۔ پھر اس ایک فٹ کے لیے کیوں مرے جا رہے ہو؟ یہ کالم نگار ایک ایسے متمول شخص کو جانتا ہے جس نے کوٹھی تعمیر کی۔ ایک مربع فٹ جگہ ایک فٹ چوڑی، ایک فٹ لمبی کا پڑوس کی کوٹھی والے سے جھگڑا پڑ گیا۔ مقدمہ بازی چلی، لوگوں نے ہاتھ جوڑے۔ کوئی ایک ہی چھوڑ دو۔ وہ نہیں چھوڑ رہا تو تم چھوڑ دو۔ ایک مربع فٹ، صرف ایک، مربع فٹ۔ آخری سانس تک اس ’’مقصد جلیلہ‘‘ کے لیے لڑا۔ پھر سانس اکھڑ گئی۔ کوچ کا نقارہ بجا۔ وارثوں نے کبھی دعا تک نہیں کی۔ یاد تک نہیں کیا۔ ہم نظیر اکبر آبادی کو پڑھتے ہیں، الفاظ، قافیے، ردیف، تراکیب اور مضمون سے حظ اٹھاتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ بابے کا پیغام کیا تھا۔ یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنی اب کوئی گھڑی، پل، ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کھپنی کیا تھال کٹورے چاندی کے کیا پیتل کی ڈبیا دھپنی کیا برتن سونے روپے کے کیا مٹی کی ہنڈیا دھپنی سب ٹاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ جب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا کوئی ناز سمیٹے گا تیرے کوئی گون سیے اور ٹانکے گا ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گا اس جنگل میں پھرآہ نظیر! اک بھنگا آن نہ جھانکے گا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ کچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل زمرد سیم اور زر جو پونجی ہاتھ میں بکھرے گی پھر آن بنے گی جاں اوپر نقارے نوبت بان نشاں دولت حشمت فوجیں لشکر کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ ہمارے تصورات عجیب و غریب ہیں۔ ہم نے خود ہی فیصلہ کرلیا ہے کہ غریب نیک ہوتے ہیں اور امیر گنہگار۔ ہم نے یہ بھی طے کرلیا ہے کہ غریب ہی جنت میں جائیں گے۔ یہ صرف مالک روز جزا کو معلوم ہے کہ کون کہاں بھیجا جائے گا۔ ریڑھی والا، جو گاہک کی نظر بچا کر، شاپنگ بیگ ہی بدل ڈالتا ہے، مستری جو مزدوری لے کر غائب ہو جاتا ہے، نوکر جو مالک کا نمک کھا کر، تنخواہ لے کر اس کے مال کے ساتھ بددیانتی کرتا ہے، ٹرک ڈرائیور جو ٹریفک میں دھاندلی اور غنڈہ گردی سے دوسروں کو اذیت پہنچاتا ہے، یہ سب عرف عام میں غریب ہی تو ہیں۔ لاکھوں کروڑوں کی خیرات کرنے والے، مسجدیں اور ہسپتال بنوانے والے امیر ہیں، کس کی چھوٹی سی نیکی کام آ جائے، کیا معلوم۔ اپنی فکر کرو، صرف اپنی، دوسروں کا معاملہ ان کے پروردگار پر چھوڑو، جو تمہارا بھی پروردگار ہے، دنیا سے چھپا لیتے ہو، اس سے کیا چھپائو گے۔ آخری بات میاں محمد بخش صاحب کہہ کر مسئلہ ہی حل کر چکے ہیں ع دشمن مرے تو خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *